بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

مدارس میں پیشگی تنخواہ دینے کا حکم!

مدارس میں پیشگی تنخواہ دینے کا حکم!

    کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:     ۱:- مہتمم مدرسہ کا ملازمین ادارہ کو قبل از وقت مشاہرہ ادا کردینے کا کیا حکم ہے؟ جبکہ رقم امانت ہے اور پیشگی ادائیگی قرض ہے؟     ۲:- کیا مہتمم‘ مدرسہ کی وقتی ضرورت سے زائد رقم سے کاروبار کرسکتا ہے یا کاروبار میں لگاسکتا ہے؟ جبکہ ۱:- نفع خود لے، ۲:- نفع مدرسہ کو دے، ۳:- نفع اپنے اور مدرسہ کے درمیان برابر تقسیم کرے۔     ۳:-مہتمم مدرسہ کی ملک میں مدرسہ کے فائدہ کی غرض سے تصرف کرسکتا ہے؟ مثلاً: بکرا فروخت کرکے مدرسہ کے لیے کوئی اور چیز لے لے یا گندم بیچ کر خورد ونوش کا اورسامان لے لے۔محترم مفتی صاحب! ان مسائل میں شرعی راہنمائی فرمائیں، جزاکم اللہ الجواب حامدًا ومصلیًا     ۱:…مدرسہ کے ملازمین کو قبل ازوقت مشاہرہ دینا قرض نہیں، بلکہ پیشگی اجرت ہے اور شرعاً مالِ وقف سے پیشگی اجرت دینا جائز ہے، لہٰذا مہتمم مدرسہ کا ملازمین مدرسہ کو قبل از وقت مشاہرہ ادا کرنا جائز ہے، چنانچہ شرح المجلۃ میں ہے: ’’لاتلزم الأجرۃ بالعقد المطلق، یعنی لایلزم تسلیم بدل الإجارۃ بمجرد انعقادہا حالاً۔ والمراد بالعقد المطلق : الذی لم یذکر فیہ اشتراط تعجیل الأجرۃ، وإنما لایلزم تسلیم الأجرۃ حینئذ لأن العقد وقع علی المنفعۃ، وہی تحدث شیئاً فشیئاً۔ وشأن البدل أن یکون مقابلاً للمبدل بحیث لایمکن استیفاء ہ حالاً لایلزم بدلہا حالاً إلا إذا شرطہ ولوحکمًا بأن عجلہ لأنہ صار ملتزمًا بنفسہ حینئذ، وأبطل المساواۃ التی اقتضاہا العقد فصح‘‘۔                              (شرح المجلۃ:۲/۵۴۹،ط:رشیدیہ)     ۲:…مہتمم مدرسہ کا مدرسہ کے لیے جمع شدہ رقم میں سے وقتی ضرورت سے زائد رقم کو کاروبار میں لگانا جائز نہیں، اگرچہ اس میں مدرسہ کا فائدہ ہی کیوں نہ ہو، چنانچہ البحر الرائق میں ہے: ’’ولایجوز للقیّم شراء شیئ من مال المسجد لنفسہ ۔۔۔۔۔ولا البیع لہ وإن کان فیہ منفعۃ ظاہرۃ للمسجد‘‘۔                         (کتاب الوقف:۵/۴۰۱،ط:رشیدیہ)     ۳:…صورتِ مسئولہ میں مہتمم مدرسہ کا مدرسہ کی ایسی ملک کو فروخت کرنا جو وقف ہونے کی بنا پر ناقابل فروخت ہو اور اس کی جگہ کوئی اور چیز مدرسہ کے لیے خریدنا جائز نہیں، کیونکہ جب ایک مرتبہ کوئی چیز مدرسہ کے لیے وقف کردی جاتی ہے تو اس میں اللہ تعالیٰ کی ملک آجاتی ہے اور اس میں اب کسی اور کا مملوک بننے کی صلاحیت نہیں رہتی۔     البتہ اگر واقعی مدرسہ کو کسی دوسری چیز کی ضرورت ہو اور وہ ضرورت مدرسہ کا بکرا فروخت کرکے ہی پوری کی جاسکتی ہو، اگر بکرا زکوٰۃ یا صدقہ واجبہ کا ہے تو بکرے کی تملیک کروالی جائے، پھر اس بکرے کو فروخت کرنا جائز ہوجائے گا، مگر اس طریقہ کو مستقل معمول بنالینا شرعاً درست نہ ہوگا، چنانچہ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ’’وعندہما حبس العین علی حکم ملک اللّٰہ تعالٰی علی وجہ تعود منفعتہ علی العباد، فیلزم ولایباع، ولایوہب، ولایورث‘‘۔            (عالمگیری:۲/۲۵۰،ط:رشیدیہ)        الجواب صحیح           الجواب صحیح          الجواب صحیح                 کتبہ     ابوبکرسعید الرحمن           محمد انعام الحق         شعیب عالم               ذوالقرنین                                        تخصص فقہ اسلامی                                                               جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن

٭٭٭

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے