بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1441ھ- 14 دسمبر 2019 ء

بینات

 
 

مدارسِ دینیہ میں مدرسین کے ساتھ معاہدۂ تقرر کی شرعی حیثیت

مدارسِ دینیہ میں مدرسین کے ساتھ معاہدۂ تقرر کی شرعی حیثیت

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک ادارے کے مہتمم صاحب نے سالانہ امتحان سے ایک ماہ قبل ایک نیا ضابطہ بناکر یہ اعلان کیا کہ آئندہ ہر مدرس کے تقرر کا معاہدہ شوال سے شعبان تک ہوگا، ہرسال معاہدے کی تجدید کی جائے گی اور درمیان کے دوماہ (شعبان ورمضان) کی تنخواہ نہیں دی جائے گی۔ ضابطہ بنانے کے بعد اس کا اطلاق سابق (موجودہ) مدرسین پر بھی کردیا گیا ہے، جو گزشتہ کئی سال سے وہاں تدریس کررہے ہیں اور اُنہیں سالہائے گزشتہ میں شعبان ورمضان کی تنخواہیں ادا کی جاتی رہی ہیں، لیکن اِمسال اُنہیں بھی دوماہ کی تنخواہ سے محروم ہونا پڑے گا۔ اس تفصیل کی روشنی میں چند سوالات کا حل مطلوب ہے: ۱:…مدارس کے مدرسین سے معاہدہ شوال سے شوال مسانہۃً ہوگا یا شوال سے رجب تک؟ ۲:…اس ضمن میں ہمارے اکابر کے فتاویٰ کیا ہیں؟ اکابر کے فتاویٰ کے حوالہ جات بھی تحریر فرمادیں تو نوازش ہوگی۔ ۳:…جن مدرسین سے پہلے عمومی معاہدہ ہوا اور گزشتہ سالوں میں بارہ ماہ کی تنخواہ اُنہیں دی جاتی رہی، کیا ایک ماہ قبل بلاوجہ اُنہیں منع کرکے دوماہ (شعبان ورمضان) کی تنخواہ سے محروم کیا جاسکتا ہے؟ جبکہ اُنہیں مدرسین کو دوماہ بعد ازسرِ نومعاہدے کے تحت مدرس مقرر کیا جائے گا؟ ازراہِ کرم سوالاتِ مذکورہ کے مدلل ومفصل جوابات عنایت فرماکر عند اللہ ماجورہوں، وأجرکم علی اللّٰہ۔                                                     مستفتی:محمد زبیر، کراچی الجواب باسمہٖ تعالٰی ۱،۲:… واضح رہے کہ مدارس کے مدرسین کے ساتھ تدریس کا جو معاہدہ ہوتا ہے، اس کی تین ممکنہ صورتیں ہیں: الف:… معاہدہ میں یہ طے ہو کہ مدرسین کے ساتھ یہ عقد سالانہ بنیادوں پر ہے، ایسی صورت میں حکم واضح ہے کہ انہیں ایامِ تعطیلات یعنی شعبان ورمضان کی تنخواہ بھی ملے گی، کیونکہ ایامِ تعطیلات‘ ایامِ پڑھائی کے تابع ہیں۔ مدرسین کو اُن میں آرام کا موقع دیاجاتاہے، تاکہ اگلے سال پورے نشاط کے ساتھ تعلیم وتدریس کا سلسلہ برقرار رکھ سکیں۔ ب:… معاہدہ میں کسی بات کی وضاحت نہ ہو کہ اس عقد کی مدت کتنی ہے! تو ایسی صورت میں عرف کا اعتبار کرتے ہوئے اس معاہدہ کو مسانہۃً شمار کیا جائے گا، کیونکہ مدارس کے عرف میں تدریس کا معاہدہ مسانہۃً ہوتا ہے۔ ج:… معاہدہ میں اس بات کی شرط ہو کہ یہ معاملہ شوال سے رجب تک ہوگا، اگلے سال معاہدہ کی تجدید ہوگی، اور مدرسین بھی اس بات پر راضی ہوں تو ایسی صورت میں یہ معاملہ مسانہۃً نہیں ہوگا، بلکہ تصریح کے مطابق شوال سے رجب تک شمار ہوگا اور مذکورہ مدرسین شعبان ورمضان کی تنخواہ کے مستحق نہ ہوں گے۔الاشباہ والنظائر میں ہے: ’’ ومنہا البطالۃ فی المدارس کأیام الأعیاد ویوم عاشوراء وشہر رمضان فی درس الفقہ لم أرہا صریحۃ فی کلامہم ۔ والمسألۃ علٰی وجہین: فإن کانت مشروطۃ لم یسقط من المعلوم شیئ وإلا فینبغی أن یلحق ببطالۃ القاضی وقد اختلفوا فی أخذ القاضی مارتب لہٗ من بیت المال فی یوم بطالتہ ، فقال فی المحیط: إنہٗ یأخذ یوم البطالۃ لأنہٗ یستریح للیوم الثانی ، وقیل: لایأخذ، انتہی۔ وفی المنیۃ: القاضی یستحق الکفایۃ من بیت المال فی یوم البطالۃ فی الأصح واختارہٗ فی منظومۃ ابن وہبان وقال: إنہ الأظہر، فینبغی أن یکون کذٰلک فی المدارس ، لأن یوم البطالۃ للاستراحۃ وفی الحقیقۃ یکون للمطالعۃ والتحریر عند ذی المہمۃ۔‘‘ (الاشباہ والنظائر، الفن الأول، القاعدۃ السادسۃ: العادۃ محکمۃ، ص:۹۶،ط:قدیمی) اکابرین کے فتاویٰ بھی اس بات کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ مدرسین کے ساتھ تدریس کے معاہدے عرف کی وجہ سے مسانہۃً شمار ہوںگے، اگر عقد میں اس معاہدہ کی تحدید بیان کی جائے تو اسی کے مطابق عمل ہوگا۔ فتاویٰ مفتی محمود میں ہے: ’’اگر دارالعلوم اسلامیہ کا ابتداہی سے یہ قاعدہ ہو کہ رمضان المبارک کی تنخواہ کسی مدرس کو نہیں دی جائے گی اور اس کے بعد مدرس کو اس ضابطے کا علم بھی ہے اور دارالعلوم میں ملازمت اختیار کرتا ہے تو پھر مدرس کے لیے رمضان المبارک کی تنخواہ کا مطالبہ کرنا جائز نہیں، لیکن اگر دارالعلوم اسلامیہ کا پہلے سے یہ ضابطہ نہ ہو اور مدرسین پورا سال اس میں خدمت انجام دیتے رہے اور ادارہ شعبان میں یہ فیصلہ کرے کہ رمضان المبارک کی تنخواہ کسی مدرس کو نہیں دی جائے گی تو دارالعلوم اسلامیہ کا یہ فیصلہ اس وقت عرفِ مدارس کے خلاف غلط ہے، اس لیے مدرس کو دیگر مدارس کے عرف کی بنا پر رمضان المبارک کی تنخواہ کا مطالبہ جائز وصحیح ہوگا، شرعاً بھی اُنہیں یہ حق حاصل ہوگا۔‘‘                                      (فتاویٰ مفتی محمود، اجارہ کا بیان،ج:۹، ص:۳۶۴،ط:جمعیت پبلی کیشنز) نیز فرماتے ہیں: ’’اس کے متعلق واضح رہے کہ اگر مدرس رکھتے وقت مدرس کے ساتھ ایامِ عطلہ کی تنخواہ کے متعلق کچھ طے کیاگیا ہو تب اسی کے مطابق عمل کیا جائے گا اور اگر کچھ بھی اس کے بارہ میں پہلے سے طے نہ کیاگیا تھا تب عام مدارس کے اصول کے مطابق عمل کیا جائے گا۔‘‘                                                               (ایضاً،ج: ۹،ص:۳۶۵،ط:جمعیت پبلیکشنز) امدادُالفتاویٰ میں ہے: ’’اصل یہ ہے کہ ایسے اموال میں کسی تصرف کا جواز وعدمِ جواز معطینِ اموال کی اذن ورضا پر موقوف ہے ،اور مہتممِ مدرسہ ان معطین کا وکیل ہوتا ہے، پس وکیل کو جس تصرف کا اذن دیاگیا ہے، وہ تصرف اس وکیل کو جائز ہے۔ جس مہتمم نے مدرسین کو مقرر کیا ہے، اگر اس مہتمم کومعطین نے اس صورت کے متعلق کچھ اختیارات دیئے ہیں اور مہتمم نے ان مدرسین سے اس اختیارات کے موافق کچھ شرائط کر لیے ہیں، تب تو ان شرائط کے موافق  تنخواہ لینا جائز ہے، اسی طرح جو اختیارات وظیفہ کے متعلق مہتمم کو دیئے گئے ہیں، اس کے موافق اس کا دینا لینا بھی جائز ہوگا اور اگر تصریحاً اختیارات وشرائط نہیں ہوئے، لیکن مدرسہ کے قواعد مدوَّن ومعروف ہیں تو وہ بھی مثلِ مشروط کے ہوںگے اور اگر نہ مصرح ہوں اور نہ معروف تو دوسرے مدارسِ اسلامیہ میں جو معروف ہیں ان کا اتباع کیا جائے گا۔‘‘                            (امدادالفتاویٰ، کتاب الاجارۃ،ج:۳،ص:۳۴۸-۳۴۷، ط:دارالعلوم) احسن الفتاویٰ میں ہے: ’’اس معاملہ کا مسانہۃً ہونا چونکہ معروف ہے، لہٰذا بصورتِ عدمِ اشتراط بھی رمضان کی تنخواہ واجب ہے:’’ لأن المعروف کالمشروط‘‘ البتہ اگر بوقتِ عقد اس کی تصریح کردی گئی تھی کہ یہ تعاقد آخر شعبان تک ہے، تو رمضان کی تنخواہ کا استحقاق نہیں۔‘‘                                      (احسن الفتاویٰ، کتاب الاجارۃ، ج:۷، ص:۲۸۶، ط:سعید) لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ ادارے کے مہتمم نے جب یہ اعلان کیا کہ آئندہ ہر مدرس کے تقرر کا معاہدہ شوال سے شعبان تک ہوگا، ہرسال معاہدہ کی تجدید ہوگی اور یہ مدرسین اس پر راضی بھی ہوں تو ایسی صورت میں مذکورہ ادارے کے مدرسین کا معاہدہ شوال سے شوال تک مسانہۃً نہیں ہوتا، بلکہ حسبِ تصریح شوال سے شعبان تک ہوگا، جس کی وجہ سے مذکورہ ادارے کے مدرسین آئندہ سال سے شعبان ورمضان کی تنخواہوں کے مستحق نہ ہوںگے۔ ۳:… جن مدرسین سے پہلے عمومی معاہدہ ہواتھا اُن کا یہ معاہدہ چوں کہ شوال میں ختم ہوگا، اس سال کے متعلق یہ قاعدہ تھا، لہٰذا اِمسال شعبان ورمضان کی تنخواہ ان مدرسین کو عام مدارس کے عرف کے لحاظ سے دی جائیںگی، اس معاہدہ کا اجراء اگر وہ کرنا چاہیں تو اگلے تعلیمی سال کی ابتداء یعنی شوال سے کرسکیںگے۔ فقط واللہ اعلم    الجواب صحیح               الجواب صحیح          الجواب صحیح               کتبہ ابوبکرسعید الرحمن           محمدانعام الحق       محمد شفیق عارف          محمد عمران ممتاز                                                                    تخصصِ فقہِ اسلامی                                                        جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی ۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے