بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 جنوری 2020 ء

بینات

 
 

لہو ہمارا بھلا نہ دینا

لہو ہمارا بھلا نہ دینا

سمجھ سکو تو ضرورت نہیں سنانے کی کہ دل کا خون ہے سرخی مرے فسانے کی عیسوی سال کے پہلے مہینے کی آخری تاریخ یعنی ۳۱؍ جنوری ۲۰۱۳ء کو سندھ اسمبلی کی جدید تعمیر میں کچھ احباب کے ساتھ ایک پروگرام میں حاضر ہونے کا اتفاق ہوا، وہاں پہنچے ہی تھے کہ کچھ لمحوں بعد برادرم مفتی محمد الیاس صاحب کے موبائل پر جامعہ درویشیہ کے مہتمم مولانا لیاقت علی شاہ صاحب مدظلہ ایک دردناک خبر کی اطلاع دے رہے تھے۔ دوران گفتگو مفتی صاحب کے حد درجہ اضطراب اور بے چینی کو دیکھ کر دل کھٹکا اور پھر انہوں نے گم سمی کی حالت میں یہ الفاظ ادا کر ہی دیئے کہ ’’بڑے مفتی صاحب پر حملہ ہوا ہے اور وہ شہید ہوچکے ہیں‘‘ اس دوران مزید اطلاعات آتی رہیں، مفتی صالح محمد کاروڑی اور طالب علم حسان علی شاہ کی شہادت کی خبر ناگہانی بھی پورے ملک میں جنگل کی آگ طرح پھیل گئی۔ دینِ اسلام کی خدمت وحفاظت اور اس کی آبیاری اپنے خون اور جان ومال سے کرتے اور شہادتوں کی داستان رقم کرتے ہوئے یہ تینوں حضرات سرخ لباس اوڑھے اس فانی قفسِ زندگی کی مختصر سی قید سے ہمیشہ کے لئے آزاد ہوکر بزبانِ حال یہ شعرجو حضرت مفتی دین پوری شہیدؒ اکثر سناتے تھے کہتے ہوئے راہئی خلد بریں ہوگئے: ہمارا خون بھی شامل ہے تزئینِ گلستاں میں ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے بلاشک وشبہ یہ عظیم ترحادثہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے لئے بہت ہی عظیم سانحہ ہے، اس سے قبل بھی جامعہ کو اس جیسے عظیم کمر توڑ حادثات وسانحات سے دو چار ہونا پڑا ہے، جس کے زخم ابھی ہرے ہیں، وہ خلائیں پُر ہونا مشکل نظر آتی ہیں۔ حضرت مولانا حبیب اللہ مختار شہیدؒ سے لے کر مولانا سعید احمد جلال پوری شہیدؒ اور دیگر اساتذۂ جامعہ کو اسی طرح بے دردی سے سرراہ برلب سڑک خاک وخون میں تڑپایا گیا ہے، جو وقت کے مبلغین، واعظین، مجاہدین ، محدثین اور مفسرین وقابل ترین مدرسین تھے اور چلتے پھرتے کتب خانے کہلانے کے حقدار تھے۔ ہر ایک اپنی ذات میں ایک انجمن اور ادارہ تھا، جنہوں نے اس مایوس اور مشکل ترین دور میں جہاں موت کی سوداگری کا بول بالا ہے، حق بات کرنا موت کو دعوت دینا ہے، دین اسلام کی سربلندی کے لئے دن رات ایک کرکے جہالت کی اندھیر نگریوں میں علم وعمل کی تابناک مشعلیں جلائیں اور للہیت وخشیت اور تواضع وتقویٰ کے چراغ روشن کئے، نہ جان کی پرواہ، نہ مال کی فکر، بس اسی دین حق کی خاطر جد وجہد کرتے ہوئے جان‘ جان آفریں کے سپرد کر چلے۔ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے اس ملک میں اسلام اور مسلمانوں کی حالت زار کسی سے مخفی نہیں، پورے ملک میں بالعموم اور شہر کراچی میں بالخصوص مسلمان طبقہ خاص کر سنی دیوبندی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے عوام وخواص سب کو ہر طرح سے کچلاجارہا ہے۔ استعماری قوتوں کے ’’ٹارگٹ کلنگ‘‘ کا عفریتِ پلید مکمل آزاد اور ریاستی وملکی محافظوں کا ’’پدیوں‘‘ سے بنا ’’دستۂ امن وحفاظت‘‘ بالکل بے بس ولاچار، روزانہ بلاناغہ موسم خزاں کے درختوں کے پتوں کی طرح بے حساب مظلوموں کی لاشیں گررہی ہیں، مگر کوئی پرسان حال نہیں۔ اغواء برائے تاوان کا بازار گرما گرم، چھینا جھپٹی عروج پر، انسانی اسمگلنگ، منشیات فروشی، بھتہ خوری، بدمعاشی اور دیگر انسانیت کش کاموں کا دھندا سرعام جاری وساری، غنڈہ گردی، چوری، ڈکیتیاں روز کا معمول، مگر ان مظلوموں کی آہ وپکار سننے والا کوئی نہیں۔ وڈیروں، جاگیرداروں، چوہدریوں اور ان کی بگڑی اولاد کو کھلی چھوٹ کہ جو جی میں آئے کر گزرو، کسی کا گھراُجاڑدو، کسی کا سہاگ اُجاڑدو، کسی کے بڑھاپے کا سہارا چھین لو،خرمستی میں مست ان بدمست ہاتھیوں کو لگام دینے والا کوئی نہیں، ان کے ظلم وستم کے شکار مظلوموں کی شنوائی کرنے والا کوئی نہیں، یتیموں کی سسکتی آہیں، بیواؤں کی پُرنم حسرت بھری آنکھیں، اجڑتے سہاگ اور کچلتے معصوم ارمان، جلتے گھر، اجڑتے آنگن، گھر کا واحد سہارا اور کفیل سے محروم ان ضعیفوں اور مسکینوں کی اشک شوئی کرنے والا کوئی نہیں۔ جس کی لاش گری اس کا خون رائیگاں۔ آخر وہ کونسی آفت وپریشانی ہے جو یہاں پائی نہیں جاتی، مگر آفرین ہے ان نام نہاد حکمرانوں پر کہ ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اپنی سیاست چمکانے اور اقتدار حاصل کرنے کی خاطر عوام کی جان ومال، گھر بار، مال ومتاع کو آگ لگا کر اس پر ہاتھ تاپنے والے اقتدار کے نشہ میں مدہوش ان حکمرانوں کو وہ دن بھی یادکر لینا چاہئے کہ جب انصاف کی کرسی پر اس قہار وجبار کی ذات ہوگی جس کے ہاں انصاف ہی انصاف ہے، ظلم کا تصور نہیں، اس دن کہاں بھاگو گے؟ أین المفر؟ آج ہمارا پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، اس حوالے سے اگر صرف شہر کراچی کا جائزہ لیا جائے تو صرف پانچ سالوں میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کی تعداد تقریباً ۶۶۰۱ بنتی ہے۔ سال ۲۰۱۰ء میں ۱۳۱۰ افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی ، ۲۰۰۹ء میں ۱۱۰۰ افراد، ۲۰۰۸ء میں ۷۷۷ افراد کو ناحق قتل کیاگیا۔ اخبارات وجرائد کے اعداد وشمار کے مطابق اگر ۱۹۹۸ء سے ۲۰۰۷ء تک دیکھا جائے تو ان دس سالوں میں ۲۰۲۰ افراد کو دہشت گردوں نے موت کی نیند سلایا۔ ۲۰۰۷ء میں ۳۴۴، ۲۰۰۶ء میں ۲۷۸، ۲۰۰۱ء میں ۱۰۷، ۲۰۰۰ء میں ۸۴، ۱۹۹۹ء میں ۸۴، اور ۱۹۹۸ء میں ۶۶۷ افراد دہشت گردوں کے ہاتھوں جان کی بازی ہار گئے، جبکہ اس ناحق قتل وغارت گری میں ۲۰۰۸ء کے بعد سے بہت تیزی آئی، یہی وجہ ہے کہ ۲۰۱۲ء کے آخر میں کراچی کو دنیا کا سب سے خطرناک ترین شہر قرار دیاگیا۔ سال نو ۲۰۱۳ء کے پہلے مہینہ میں ۴۸۶ افراد کو ٹارگٹ کیا گیا، جن میں ہمارے استاذ محترم حضرت مفتی عبد المجید دین پوری شہیدؒ اور مفتی صالح محمد کاروڑی شہیدؒ (رفیق دار الافتائ) بھی شامل ہیں، جنہیں دن دَہاڑے ابلیس کی ذریت نے ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں نشانہ بنایا اور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ حضرت بڑے مفتی صاحب اور ان کے رفیق کار مفتی صالح محمد دار الافتاء کے بنیادی ستونوں میں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے غضب کا حافظہ عطا فرمایا تھا، گویا کلیات وجزئیات بمع دلائل وحوالہ جات مستحضر تھے، اور یہی وجہ تھی کہ ان کا وجود مسعود دار الافتاء کے لئے ایک نعمتِ عظمیٰ تھی۔ ہمیں حضرت بڑے مفتی صاحب سے درجہ سابعہ میں ہدایہ ثالث پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔یوں کہئے کہ پوری ہدایہ ازبر تھی۔ تواضع وملنساری کی اعلیٰ مثال تھے، نمازوں کے حد درجہ پابند تھے۔ آخری وقت میں جب گھٹنوں کی تکلیف بڑھ گئی تو جمشید روڈ میں موجود اپنی مسجد تشریف نہیں لے جاتے تھے، بلکہ جامعہ ہی میں نماز باجماعت ادا فرماتے، باوجود یکہ گھٹنوں کی تکلیف کافی تھی۔ فجر کی نماز کے بعد بیٹھ کر اپنے اذکار پورے فرماتے۔ حضرت کا اس دوران ایک خاص معمول یہ تھا کہ کچھ پڑھ کر چاروں اطراف پھونکتے اور سیدھی ہاتھ کی ہتھیلی کو تقریباً تین مرتبہ زمین پر ہلکا ہلکا مارتے، معلوم نہیں کہ استاذ جی کیا پڑھتے۔ شہادت والے دن اتفاق سے بندہ استاذ محترم سے نماز فجر میں دو ، تین صف پیچھے بیٹھا تھا، ان کے اٹھنے سے پہلے اٹھا، مزارات کی طرف سیڑھیوں پر حضرت کی سرمئی رنگ کی ایروسوفٹ چپل کو سیدھا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی اور اس خوف سے کہ استاذ جی کہیں اس پر ناگواری کا اظہار نہ فرما دیں جلدی سے ایک طرف نکل لیا۔ استاذ محترم فجر کے بعد بلاناغہ حضرت علامہ بنوری ؒ، حضرت مفتی احمد الرحمنؒ، مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختارشہیدؒ اور مولانا محمد بنوریؒ کے مزارات پر فاتحہ پڑھتے، اس دن بھی فاتحہ پڑھی (جیساکہ میں ان کو ابھی بھی اس حال میں دیکھ رہا ہوں کہ عصا کو سیدھے ران کے سہارے چھوڑ کر سیدھے ہاتھ کی انگلیوں پر کچھ پڑھ رہے ہوں) اس کے بعد دار الافتاء تشریف لے جاتے، دورۂ حدیث میں ترمذی شریف کا پہلا گھنٹہ تھا، اس سے فارغ ہوکر گھر تشریف لے جاتے اور ناشتہ تناول فرماکر واپس دارالافتاء تشریف لے آتے اور دفتر محاسب کے سامنے سے ہی گزر ہوتا تو اندر کی طرف دیکھ کر مخصوص انداز میں سر ہلا کرسلام فرماتے، اکثر اندر بھی تشریف لے آتے، بے شمار یادیں ہیں جو دل ودماغ پر نقش ہیں۔ استاذ جی کی شہادت کا دوسرا مہینہ شروع ہوچکا ہے ،مگر دل ودماغ میں ہلچل ہے، دل مضطرب ہے اور ایسا کیوں نہ ہو کہ جس بے دردی سے دن دہاڑے سرعام ہمارے استاذ محترم کو ہم سے جدا کیاگیا اور ان کا معصوم جسم گولیوں سے چھلنی کیا گیا ،اس پر ہمیشہ دل اداس وغمگین رہے گا۔ حضرت کے صاحبزادے مولوی محمد زبیر نے بتایا کہ آخری دنوں میں ہم نے نوٹ کیا تھا کہ گھر سے نکلتے نکلتے کچھ رک سے جاتے تھے، جیساکہ کچھ بولنا چاہ رہے ہوں اور بول نہیں پاتے۔ اور تقریباً یہی صورت حال ہمارے والد (مفتی محمدولی درویشؒ) کے ساتھ بھی ہوگئی تھی کہ وفات سے قبل گھنٹوں گھنٹوں گہری سوچ میں ڈوبے ہوتے، تخصص کی کلاس میں مغرب کے بعد بیٹھتے تو باہر کیا ریوں کی طرف دیکھتے ہوئے سوچوں میں گم ہوتے، قیلولہ کے حد درجہ پابند تھے، مگر قیلولہ کے وقت بھی چھت کو تک رہے ہوتے، پنکھا بند کرنا یاد نہ رہتا، طبیعت میں ایک دم سے خاموشی چھاچکی تھی اور ایک واضح تبدیلی ہم نے محسوس کی تھی، پھر اچانک ۱۷؍ اگست ۱۹۹۹ء کو آپ کا افغانستان جانے کا ارادہ ہوا، اور ۱۹؍ اگست کو آپ نے داعئی اجل کو لبیک کہا۔ وفات کے کئی دنوں بعد والدہ ماجدہ حفظہا اللہ نے خواب دیکھا کہ والد صاحب فرمارہے ہیں کہ :’’میں نے خواب دیکھا تھا کہ ایک بزرگ میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ آپ کا سب کچھ معاف کردیا گیا ہے اور مجھے ایک تھیلی دی جس میں سفید کپڑا تھا، اس دن کے بعد سے میرا دل گھر میں نہیں لگتا تھا‘‘، واﷲ أعلم بالسرائر۔ بہرحال! اللہ کے دربار میں یہ اکابر ین حاضر ہوگئے،اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے مبارک خون سے اسلام کی نشأۃ ثانیہ فرمائے۔  آخر میں ’’ختامہ مسک‘‘ کے طور پر حضرت مفتی عبد المجید دین پوری شہیدؒ کی ایک مختصر سی تحریر جو انہوں نے اپنی والدہ ماجدہ کی وفات پر آج سے تقریباً (۴۲)بیالیس سال قبل قلم بندکی تھی پیش خدمت ہے۔ اس وقت حضرت مفتی صاحبؒ جامعہ ہذا میں دورۂ حدیث کے طالب علم تھے اور یہ تحریرحضرت مفتی صاحبؒ کی ترمذی شریف کی اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی کاپی کے بالکل آخری صفحہ پر درج ہے، اور اتفاق سے والدہ ماجدہ کی تاریخ وفات بھی ۳۱؍ ہے،وہ تحریر یہ ہے: ’’(ہو العظیم) باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ   یلوح الخط فی القرطاس دہراً وکاتبہ رمیم فی التراب بروز منگل بتاریخ ۸؍رجب ۱۳۹۱ھ بمطابق ۳۱؍اگست ۱۹۷۱ء کو والدہ ماجدہ رحیم یار خان ہسپتال میں جگر کی خرابی کے سبب بوقت دس بجے صبح اپنے محبوب حقیقی سے جاملیں، إنا ﷲ وإنا إلیہ راجعون۔ اور اسی دن شام کو دین پور شریف میں حضرت دین پوریؒ کے جوار اور والدہ ماجدہ کے دادا کے قدموں میں سپرد خاک کردیا گیا۔ بندہ کو ٹھیک ۲۴ گھنٹے بعد کراچی میں اطلاع ملی اور اسی وقت بذریعہ تیزرو، رات کو گیارہ بجے گھر پہنچ گیا، گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا، والد ماجد أطال اﷲ ظلہ علینا سارے دن کے تھکے ماندے تھوڑی دیر پہلے سو چکے تھے، محترم چچا علامہ صاحب جاگ رہے تھے، گھر اور سب تھے، لیکن مہمان نواز میزبان کسی طرف نظرنہیں آتی تھی۔ چونکہ سالانہ امتحان میں باقی چند یوم تھے، اس لئے صرف چھ دن گھر رہ کر دوبارہ کراچی آنا پڑا۔ اگرچہ وہاں سے تعلیم کے لئے جلدی آگیا ہوں، لیکن یہ حالت ہوچکی ہے کہ دل کسی کام میں نہیں لگتا، امتحان بالکل سر پر آپہنچا، خدا جانے کیا ہوگا، خداوند قدوس سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کامیاب فرمادے اور والدہ ماجدہ کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمادیں، آمین ثم آمین۔ نوشتہ بماند سیاہی بر سفید نویسندہ را نیست فردا امید                  کتبہ العبد محمد عبد المجید دین پوری عفی عنہ           شریک دورۂ حدیث مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیوٹاؤن کراچی (۵)                   ۸؍رجب ۱۳۹۱ھ بروز جمعہ بوقت گیارہ بجے رات‘‘  جبکہ اس کے متصل ہی کسی نے یوں لکھا ہے: ’’بارگاہِ رب العزت میں دست بدعا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جناب مفتی عبد المجید صاحب کی والدہ کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عنایت فرماویں، آمین بندہ جمشید علی عفی عنہ‘‘۔ اللہ تعالیٰ حضرت استاذنا المکرم مفتی صاحب اور ان کے رفقاء کرام کی شہادت عظمیٰ کو قبول فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے طفیل ہم سب کو کامیاب وکامران فرمائے۔ ایں دعا از من واز جملہ جہاں آمین باد

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے