بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1442ھ 29 جولائی 2021 ء

بینات

 
 

فتویٰ و قضاء میں فرق اور مسئلہ طلاق میں بے احتیاطی


فتویٰ و قضاء میں فرق اور مسئلہ طلاق میں بے احتیاطی

مفتیانِ کرام کی خدمت میں ایک گزارش

 

اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کو تاقیامت انسانوں کی رہنمائی کے لیے برپا کیا ہے، اس کے انفرادی، خاندانی، معاشرتی، ملکی اور سیاسی زندگی میں دائمی و آفاقی انتہائی منظم ومستحکم اصول موجود ہیں، لیکن بہت سی مرتبہ ہمارے ان اُصولوں کے صحیح انطباق نہ کرسکنے کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور بہت سی خرابیاں رونما ہوتی ہیں، خصوصاً رہنمایانِ دین وشریعت کی ذرا سی چوک اُمت میں سخت تباہی وبربادی کا ذریعہ بنتی ہے۔ 
دنیا کے اندر صدیوں تک اسلامی حکومت برپا رہی ہے اور مسلم حکام اپنی کوتاہیوں کے باوجود اپنے عدالتی نظام کو اسلامی آئین وضوابط کے تحت چلاتے رہے ہیں، خلافتِ راشدہ، خلافتِ بنو امیہ اور خلافتِ عباسیہ وفاطمیہ ہر دور میں دارالقضاء کا مضبوط نظام قائم رہا ہے، یہاں تک کہ یہ سلسلہ خلافتِ عثمانیہ کے سنہرے دور کے بعد ختم ہوگیا۔ جب خلافت ختم ہوئی تو دارالقضاء کا اسلامی نظام بھی جاتا رہا، چنانچہ حضرات مفتیانِ کرام نے قاضیوں کی ذمے داریاں بھی سنبھالنی شروع کردیں، جس کی وجہ سے ’’فتوی و قضاء کا فرق‘‘ جاتا رہا اور فقہی کتابوں میں جو مسائل قضاء کے لیے لکھے گئے تھے، حضرات مفتیان کرام نے ان کے مطابق فتویٰ دینا شروع کردیا۔حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’والمفتونَ الیوم غافلون عنہ، فإن أکثرہم یفتونَ بأحکامِ القضاء. ووجہ الابتلاء فیہ: أن المذکور في کتب الفقہ عامۃً ہو مسائل القضاء، وقَلَّما تُذکرُ فیہا مسائلُ الدِّیانۃ. نعم، تذکر تلک في المبسوطات، ولا تُنَال إلا بعد تدرُّبٍ تامٍ، ولعل وجہتہ أن القاضي في السلطنۃ العثمانیۃ لم یکن ینصبُ إلا حنفیًا، بخلاف المفتیین فإنہم کانوا من المذاہب الأربعۃ، وکان القاضي الحنفي یُنَفِّذُ ما أفتوا بہ، فشرع المُفتُونَ تحریرَ حکم القضاء لینفِّذ القاضي، فاشتہرت مسائل القضاء في الکتب، وخملت مسائل الدیانۃ، ثم لا یجبُ أن تتفقَ الدیانۃ والقضاء في الحکم بل قد یختلفان۔‘‘ (فیض الباری علی صحیح الباری، ج: ۱، ص:۲۷۲) 
’’آج کے مفتی حضرات اس (فتوی و قضاء کے فرق)سے غافل ہیں، چنانچہ اکثر مفتیان‘ احکامِ قضاء کے مطابق فتویٰ دے رہے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ متوسط فقہی کتابوں میں عام طور سے قضائی احکام لکھے ہوئے ہیں اور بہت کم دیانت (فتوی) کے مسائل کا ذکر ہے، ہاں! مبسوطات میں دیانت کے مسائل کا ذکر ہے، لیکن ان (کتابوں کے مسائل دیانت) کو مکمل مشق وتمرین سے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ (قضاء کے مطابق فتوی کے چلن کے عام ہوجانے کی) وجہ شاید یہ ہے کہ عثمانی سلطنت میں قاضی کے عہدے پر صرف حنفی مامور ہوا کرتے تھے، جب کہ مفتیان مذاہبِ اربعہ کے تھے، اس لیے حنفی قضاۃ اُن مفتیوں کے فتوے کے مطابق فیصلہ کردیا کرتے تھے، چنانچہ مفتیوں نے قضاء کے احکام لکھنا شروع کردیئے، تاکہ قاضی اس حکمِ قضائی کو نافذ کریں۔ اس طرح کتابوں میں قضاء کے مسائل عام ہوتے چلے گئے اور دیانت (فتوی) کے مسائل ختم ہوتے چلے گئے، جب کہ ہمیشہ قضاء اور دیانت کا حکمِ شرعی یکساں نہیں ہوتا، بہت سی مرتبہ دونوں کے احکام مختلف ہوتے ہیں۔‘‘ 
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ متاخرین کے دور میں قاضیوں کا علمی معیار گرگیا تھا، قضاۃ کی تقرریاں علمی بنیاد پر کم اور قرابت داری کی بنیاد پر زیادہ ہونے لگی تھیں، اس لیے متاخرین نے قاضی کے فیصلے کو فتوی کے تابع کردیا، تاکہ قاضی اپنی کم علمی کی وجہ سے کچھ غلط فیصلہ نہ کردے ۔ شامی نے لکھا ہے : ’’القضاء تابع للفتوٰی في زماننا لجہلِ القضاۃ‘‘ کہ قاضیوں کی جہالت کی وجہ سے اس زمانے میں قضاء فتوی کے تابع ہے، یعنی مفتی قضائی حکم لکھ دیتا تھا اور قاضی اس حکم کی تنفیذکرتا تھا۔ یہ چلن اتنا عام ہوگیا تھا اور دھڑلے سے مفتیان قضائی حکم فتوی میں لکھنے لگے تھے کہ شامی کو فتاویٰ شامی میں کئی بار توجہ دلانی پڑی کہ عام لوگ جب مسئلہ دریافت کرنے آ ئے تو مفتی کے لیے ضروی ہے کہ دیانت کے مطابق فتوی دے ؛ البتہ اس فتوی میں’’لا یصدق قضاء ‘‘ کی صراحت کردے کہ دارالقضاء میں اس فتوے کا اعتبار نہ کیا جائے، تاکہ قاضی اس فتوی کی روشنی میں غلط فیصلہ نہ کردے:
 ’’(و إذا کتب المفتی یدین) أي کتب ہٰذا اللفظ بأن سئل مثلا عمن حلف واستثنی ولم یسمع أحدا یجیب أي لا یحنث فیما بینہ وبین ربہ ولکن یکتبہ بعدہ ’’ولا یصدق قضاء‘‘ لأن القضاء تابع للفتوی في زماننا لجہل القضاۃ، فربما ظن القاضي أنہ یصدق قضاءً أیضا۔‘‘ (فتاویٰ شامی،ج: ۶، ص:۴۲۱)
تتبُّع وتلاش سے ایسے ڈھیر سارے مسائل ہمارے سامنے آئیں گے، جن میں قضاء ودیانت کا فرق نہیں کیا جا رہا ہے اور اس بات کے قائل علامہ کشمیریؒ جیسی شخصیت ہیں، لیکن آج ہم معاشرہ کی بیخ کنی کرتے انتہائی سنگین وحساس مسئلہ یعنی طلاق کے حوالے سے قضاء ودیانت کا فرق نہ کرنے کی وجہ سے ہورہی بے احتیاطیوں پر گفتگو کریں گے۔
آئیے! سب سے پہلے ہم دیانت وقضاء میں فرق سمجھتے ہیں۔
فتویٰ احکام شرعیہ کے متعلق اِخبارِ محض کا نام ہے۔ علامہ قرافی ؒ لکھتے ہیں: 
’’الفتوی محض إخبار عن اللہ تعالٰی في إلزام أو إباحۃ۔‘‘ (انوار البروق فی انواء الفروق، ج:۴، ص:۸۹) 
لہٰٰذا مفتی کی ذمے داری بس'صورتِ مسئولہ کے مطابق حکم شرعی بتادینا ہے، قطع نظر اس کے کہ صورتِ مسؤلہ نفس الامر کے مطابق ہے یا خلاف۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی لکھتے ہیں: 
’’یقول المفتي ’’الحکم في الصورۃ المسؤل عنہا کذا‘‘ ولا یلزم منہ أن تکون الصورۃ المسؤل عنہا موافقۃ للواقع في نفس الامر۔ ‘‘ (اصول الافتاء وآدابہ:۱۲) 
قاضی نفس الامر اور وجودِ خارجی کو جاننے کا مکلف ہے، جب کہ مفتی کا یہ کام قطعی نہیں ہے۔ علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے:
’’القاضي الحاکم یحتاج إلی معرفۃ المسائل والوقائع أیضا بخلاف المفتي۔‘‘ (العرف الشذی شرح سنن الترمذی، ج:۳، ص:۶۹)
اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ قضاء کا اپنا میدان ہے اور دیانت یعنی فتویٰ کا اپنا میدان ہے، دونوں کو اپنے حدود میں رہنا اور ان کی پاسداری کرنا چاہیے۔ متعدد فقہاء نے لکھا ہے کہ قاضی کے لیے فتویٰ دینا جائز نہیں ہے اور اس پر تقریباً تمام اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ جو معاملہ قاضی کے زیرِ سماعت ہو، اس مسئلہ میں قاضی کے لیے فتویٰ دینا جائز نہیں ہے۔ ایسے ہی مفتی حضرات کے لیے قضاء کے میدان میں جانا اور دیانت سے بڑھ کر قضائی احکامات کے مطابق فتویٰ دینا درست نہیں ہے۔ اصل مسئلہ پر جانے سے پہلے بطور تمہیدچند باتوں کا سمجھ لینا ضروری ہے۔ 
ایک مجلس میں ایک سے زائد طلاق کی دو شکلیں ہیں: 
اول:     کوئی یوں کہے: ’’میں نے تم کو تین طلاق دی‘‘ یا ’’ایک طلا ق دو طلا ق تین طلاق‘‘
دوم:     تین مرتبہ’’طلاق طلاق طلاق‘‘ کہہ دے۔
اول الذکر سے تین طلاق واقع ہوجائیں گی، اس پر ائمہ اربعہؒ کا اتفاق ہے، اس میں کوئی کلام نہیں۔ ثانی الذکر کی تین شکلیں ہیں:
اول:    ’’طلاق طلاق طلاق‘‘ کہے اور تاسیس/استیناف کی نیت کرے، یعنی ہر مرتبۂ طلاق میں نئی طلاق کی نیت کرے۔
ثانی:     ’’طلاق طلاق طلاق‘‘ کہے اور تاکید کی نیت کرے، یعنی اس کی نیت تو ایک ہی طلاق کی ہے، البتہ دوسری اور تیسری طلاق کے تکرار سے طلاق کو مؤکد کرنا مقصد ہے۔
ثالث:    ’’ طلاق طلاق طلاق‘‘ کہے اور اس کی نیت تاسیس یا تاکید میں سے کچھ بھی نہ تھی۔
اس میں بھی شکلِ اول میں تین طلاق واقع ہوجائے گی، ہماری گفتگو آخری شکل میں مذکوردوسری اور تیسری شکل پر ہوگی،یعنی تین مرتبہ ''طلاق طلاق طلاق '' کہے اور نیت ایک طلاق کی تھی یا نیت کچھ بھی نہ تھی۔ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت کے ابتدائی دو سالوں تک ایسی طلاق جو تین مرتبہ ’’طلاق طلاق طلاق‘‘ کہہ دی جاتی تھی‘ ایک طلاق سمجھی جاتی تھی، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چلن بدل جانے اور دیانت کے کم ہوجانے کی وجہ سے اس پر بندش لگادی اور فرمایا کہ: تین مرتبہ کہی ہوئی طلاق تین طلاق شمار ہوگی۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نقل کیا ہے: 
’’کان الطلاق علٰی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، وأبي بکر، وسنتین من خلافۃ عمرؓ، طلاق الثلاث واحدۃ، فقال عمر بن الخطاب: إن الناس قد استعجلوا في أمر قد کانت لہم فیہ أناۃ، فلو أمضیناہ علیہم، فأمضاہ علیہم۔‘‘ (صحیح مسلم،ج:۲، ص:۱۰۹۹)
معروف شارح مسلم امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
 ’’فالأصح أن معناہ أنہ کان في أول الأمر إذا قال لہا: أنت طالق أنت طالق أنت طالق ولم ینو تأکیدا ولا استئنافا یحکم بوقوع طلقۃ لقلۃ إرادتہم الاستئناف بذٰلک، فحمل علی الغالب الذي ہو إرادۃ التأکید، فلما کان في زمن عمر رضي اللہ عنہ وکثر استعمال الناس بہٰذہ الصیغۃ وغلب منہم إرادۃ الاستئناف بہا حملت عند الإطلاق علی الثلاث عملا بالغالب السابق إلی الفہم منہا في ذٰلک العصر، وقیل: المراد أن المعتاد في الزمن الأول کان طلقۃ واحدۃ وصار الناس في زمن عمرؓ یوقعون الثلاث دفعۃ، فنفذہ عمر۔‘‘ (شرح النووی علی مسلم، ج: ۱۰، ص: ۷۲)
’’اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ شروع زمانے میں جب کوئی ’’أنت طالق، أنت طالق، أنت طالق‘‘ (تمہیں طلاق ہے، تمہیں طلاق ہے، تمہیں طلاق ہے) کہہ کر طلاق دیتا اور تاکید واستیناف(نئی طلاق کے وقوع) کسی بھی چیز کی نیت نہ کرتا تو ایک طلاق کے وقوع کا حکم لگتا تھا، کیوں کہ لوگ ان الفاظ سے بہت کم استیناف (نئی طلاق کے ایقاع) کا ارادہ کرتے تھے، لہٰذا ان الفاظ کو ان عام معمول پر محمول کیا جاتا، جسے تاکید کہا جاتا ہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور طلاق کے لیے ان الفاظ کا استعمال بکثرت ہونے لگا اور عام طور سے ان کی نیت استیناف کی ہوتی تھی، چنانچہ مطلق تین مرتبہ (طلاق طلاق طلاق کہنے) کو تین طلاق پر محمول کیا گیا، اسی سابقہ غالب معمول پر عمل کرتے ہوئے۔‘‘ 
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ قضائی معاملہ کے لیے تھا، دیانت کے لیے قطعاً نہیں تھا، چوں کہ قاضی کا کام ظاہر کے مطابق حکم شرعی لگانا ہے، اور اس نے تین مرتبہ ’’طلاق طلاق طلاق‘‘ کہہ دی ہے تو ظاہر یہی ہے کہ اس نے تین طلاق دی ہوگی، لیکن مفتی کاکام دیانت کے مطابق فتویٰ دینا ہے، وہ قضائی حکم کے مطابق فتویٰ نہیں دے سکتا، اس لیے اگر کسی نے تین مرتبہ ’’طلاق طلاق طلاق‘‘ کہہ دی تو مفتی کے لیے مطلق تین طلاق کا فتویٰ لکھ دینا درست نہیں ہے۔
بالخصوص ہندوستانی وپاکستانی معاشرے میں جہالت کی بناپر تین سے کم طلاقوں کو طلاق سمجھا ہی نہیں جاتا۔
شاید ہی کہیں ایسا ہوتا ہے کہ نارمل حالت میں طلاق دی گئی ہو، ورنہ عام طور سے غصہ کے عالم میں ہی طلاق کی نوبت آتی ہے، ایسے میں انسان بس ’’طلاق طلاق طلاق‘‘ کہہ دیتا ہے، اس کی نیت استیناف یا تاکید کی نہیں ہوتی ہے۔ 
اس صورت حال کو جاننے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچتا ہوں:
۱:-      اگر کوئی تین مرتبہ ’’طلاق طلاق طلاق‘‘ کہہ دے اور معاملہ دارالقضاء آئے تو قاضی ثبوت وشواہد کی روشنی میں صورتِ حال کا جائزہ لے کر اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کرے،اگر فیصلہ میں خطا ہوبھی گئی تو وہ ایک اجر سے محروم نہیں ہو گا۔
 ۲:-      اگر معاملہ دارالافتاء آئے اور وہ بصراحت کہے کہ میری نیت ایک کی تھی تو ایک طلاق واقع ہوگی۔
 ۳:-      اگر معاملہ دارالافتاء آئے اور استفتاء میں اپنی نیت استیناف/تاکید کی صراحت نہ ہو تومفتی اس نیت کی وضاحت طلب کرے اور مستفتی کی وضاحت کے مطابق فتوی دے، یعنی اگر وہ تاکید کی نیت بتائے تو تاکید اور استیناف کی نیت بتائے تو استیناف۔
 ۴:-      اگر معاملہ دارالافتاء آئے اور وضاحت طلب کرنے پر جواب آئے کہ ’’میری کوئی نیت نہ تھی، بس تین بار طلاق طلاق طلاق کہہ دی‘‘ تو اسے معاشرہ کی صورت حال کی وجہ سے ایک طلاق سمجھی جائے اور ایک طلاق کا فتویٰ دیا جائے، جیسا زمانۂ نبوی، خلافتِ صدیقی اورخلافتِ فاروقی کے ابتدائی دو سالوں میں ہوتا رہا ہے۔

پیدا ہونے والے اشکالات کے جوابات

نمبر ایک پر یہ اشکال ہوسکتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ اگر قضائی تھا تو پھر موجودہ وقت کے قضاۃ حضرات کو اپنی صوابدید کے مطابق وقوع اور عدم وقوع طلاق کے فیصلہ کا اختیار کیسے دیا جاسکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو وقوع طلاق کا فیصلہ کیا تھا اس کی دو وجہ تھی ۔ 
۱:-     چلن کا بدل جانا         ۲:-     دیانت کا کم ہوجانا
موجودہ حالات میں دیانت کی کمی تو دورِ عمری سے ہزار گنا زائد ہے، لیکن ہمارے یہاں دینی شعور کی کمی اور جہالت کی وجہ سے چلن پھر سے بدل چکا ہے اور چلن بدل جانے کی وجہ سے قاضی رواج کے مطابق فیصلہ کرسکتا ہے۔ ’’مجموعہ قوانینِ اسلامی‘‘ میں ہے:
’’اور اگر طلاق دینے والا یہ کہتا ہے کہ اس کی نیت ایک ہی طلاق کی تھی اور ا س نے محض زور پیدا کرنے کے لیے الفاظِ طلاق دہرائے ہیں، اس کا مقصد ایک سے زائد طلاق دینا نہیں تھا تو اس کا یہ بیان حلف کے ساتھ تسلیم کیا جائے گا اور ایک ہی طلاق واقع ہوگی اور اگر طلاق دینے والا یہ کہتا ہے کہ اس کی کچھ بھی نیت نہیں تھی، نہ ایک کی اور دو یا تین کی، دیکھا جائے گاکہ عرف میں ایسے مواقع پر تاکیداً الفاظ دُہرانے کا رواج ہے یا نہیں؟ اگر عرفِ غالب یہ ہوکہ ایسے مواقع پر لوگ محض کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے بار بار اُسی لفظ کو دہراتے ہیں تو عرف کے تقاضوں کی رعایت کرتے ہوئے الفاظ کی تکرار کو تاکید پر محمول کرکے ایک ہی طلاق واقع کی جائے گی۔‘‘ (مجموعہ قوانینِ اسلامی، ص: ۱۹۴)
چنانچہ بینہ وثبوت اور عرف کو ملحوظ رکھ کر قاضی ایک یا تین کا فیصلہ کرسکتے ہیں، اگر وہ مصیب ہوئے تو دو اَجر کے مستحق ہوں گے اور اگر مخطی ہوئے تو ایک اَجر کے۔ ارشادِ نبوی ہے : 
’’إذا حکم الحاکم فاجتہد فأصاب، فلہ أجران، وإذا حکم فأخطأ، فلہ أجرٌ واحدٌ۔‘‘ (سنن الترمذی: ۱۳۲۶) 
نمبر دو اور تین پر حضرات مفتیانِ کرام کی طرف سے یہ اشکال ہوتا ہے کہ اس طرح لوگ تین کی نیت سے طلاق دیں گے اور ایک کا فتویٰ حاصل کرلیں گے۔ 
جواب بڑا سادہ اور سیدھا ہے کہ ہمارا تو کام ہی’’اِخبارِ محض‘‘ ہے، اس نے زبان یا تحریر سے جیسا بتایا ہمارا کام اس کے مطابق فتویٰ دے دینا ہے، اب معاملہ ’’فیما بینہ وبین اللہ‘‘ ہے۔ اگر اس نے جھوٹ بول کر آپ سے فتویٰ حاصل کیا ہے، یعنی اس کی نیت استیناف کی تھی اور ’’تاکید کی نیت یا بلا نیت‘‘ کہہ کر ایک طلاق کا فتویٰ حاصل کر لیا تو یقیناً اس کا مؤاخذہ آپ سے نہیں ہوگا، عنداللہ اس کا جوابدہ وہ خود ہوگا، لیکن اگر اس کی نیت وہی تھی جو وہ زبان سے کہہ رہا ہے، یعنی تاکید کی تھی یا بلا نیت تھی اور آپ نے تین طلاق کا فتویٰ لکھ کر اس کے گھر کو توڑ دیا، اس کے بچوں کو بکھیردیا اور طلاق کی وجہ سے جو انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہ ان کی زندگی پر ہوئے تو یقیناً کہیں نہ کہیں اس جرم میں آپ کا شمار ہوگا اور اس طلاق کی وجہ سے ہونے والے تمام تر برے اثرات کے آپ ذمہ دار ہوں گے اوراس کے لیے عنداللہ جوابدہ ہونا پڑے گا۔ جان لیجیے! اسے ’’اجتہادی خطا‘‘ کہہ کر بھی نہیں ٹالا جاسکے گا۔
 حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے حدیث: ’’ إذا حکم الحاکم فاجتہد فأصاب، فلہ أجران، وإذا حکم فأخطأ، فلہ أجر واحد. ‘‘(ترمذی: ۱۳۲۶) کے متعلق ’’عقد الجید‘‘ شاہ ولی اللہ محدث ہلویؒ کے حوالے سے حاشیہ لکھا ہے: 
’’إن حدیث الباب في حق القاضي لا في حق المفتي أو المجتہد، والقاضي الحاکم یحتاج إلٰی معرفۃ المسائل والوقائع أیضا بخلاف المفتي۔‘‘ (العرف الشذی شرح سنن الترمذی، ج:۳، ص:۶۹) 
 ’’حدیثِ مذکور قاضی کے حق میں ہے نہ کہ مفتی یا مجتہدکے حق میں (کہ اگر وہ مصیب رہا تو دوگنا اَجر اور اگر مخطی رہا تو ایک گونا اَجر) چوں کہ قاضی مسائل جاننے کے ساتھ تحقیقِ واقعہ کا بھی مکلف ہے، برخلاف مفتی کے (کہ انھیں تحقیقی واقعہ کی ضرورت نہیں، ان کے لیے مسائل کا علم کافی ہے)۔‘‘
نمبر دو والی شکل کو اگر آپ بغور دیکھیے تواس مسئلہ کو لے کر دارالافتاء آنے والے ہر شخص کو آپ جھوٹا اور فریبی فرض کرکے فتویٰ لکھتے ہیں، یعنی جس بھی آدمی کے ساتھ یہ حادثہ پیش آئے اور وہ آپ سے فتویٰ طلب کرے، گوکہ وہ سچااور دین دارآدمی ہے ، خوفِ خدا کی وجہ سے دارالافتاء آیا ہے، لیکن آپ بلا کسی دلیل کے اسے جھوٹا مان لیتے ہیں کہ یقیناً یہ جھوٹ بول رہا ہے اور پھر قضاء کے مطابق تین طلاق کا فتویٰ لکھ دیتے ہیں، ظاہر ہے کہ یہ اُصولِ فتویٰ اور اُصولِ شریعت دونوں کے خلاف ہے ۔
نمبر دو پر ہونے والے اعتراض کا واضح جواب یہ بھی ہے کہ اس اندیشہ کو تمام اہلِ مراجع نے محسوس نہیں کیا، بلکہ انہوں نے بصراحت لکھا کہ اگرمستفتی اقرار کرتا ہے کہ اس نے تین مرتبہ ’’طلاق طلاق طلا ق‘‘ کہی ہے، لیکن نیت ایک کی تھی تو مفتی ایک طلاق کے وقوع کا ہی فتویٰ دے گا۔
نمبر چار پر یہ اشکال ہو سکتا ہے کہ زمانۂ نبوی اور خلافتِ صدیقی میں چوں کہ تین مرتبہ ’’طلاق طلاق طلاق‘‘ کہنے کے باوجود ایک کی نیت کا ہی چلن تھا، جیسا کہ امام نوویؒ کی عبارت سے واضح ہے، لیکن اب ایسی صورت حال نہیں ہے۔ اس کا جواب اوپر دیا جا چکا ہے کہ زمانہ اب بھی وہی ہے، اب بھی لوگ تین مرتبہ ’’طلا ق طلاق طلاق‘‘ کہہ کرایک طلاق واقع ہونا ہی سمجھتے ہیں، بس ایسا سمجھنے کی وجہ میں فرق ہے، قرنِ اول میں ایمان کی پختگی، شرعی علوم سے گہری واقفیت اور عنداللہ جوابدہی کے خوف سے ایسا چلن تھا، اب جہالت، شرعی علوم سے ناواقفیت اور فلم وسیریل بینی کے اثر سے ایسا چلن ہے۔ بہرحال نتیجہ کے اعتبار سے دونوں کی صورت حال برابر ہے، اس لیے حکم شرعی بھی برابر لگنا چاہیے، یعنی جو حکم پہلے لگتا تھا، وہی حکم اب بھی لگنا چاہیے۔مجموعہ قوانینِ اسلامی کا حوالہ گزر چکا ہے۔ 
اسی قبیل سے جھوٹی طلاق کے اقرار کا مسئلہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے اس ارادے کے ساتھ کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے کہہ دے کہ ’’میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں‘‘ یا کسی نے اس کی بیوی کو زبردستی طلاق دلانے یا طلاق نامہ پر دستخط کرانے کی کوشش کی اور اس نے جھوٹ کہہ دیا کہ وہ اپنی بیوی کو پہلے ہی طلاق دے چکا ہے تو دیانۃً اس کی بیوی پر طلاق واقع نہ ہوگی، یعنی مفتی حضرات وقوعِ طلاق کا فتویٰ نہیں دے سکتے، البتہ اگر معاملہ دارالقضاء جاتا ہے تو ثبوت وشواہد کی روشنی میں قاضی طلاق واقع کردے گا۔ فتاویٰ شامی میں ہے:
’’ المفتی یفتي بالدیانۃ) مثلا إذا قال رجل: قلت لزوجتي أنت طالق قاصدا بذلک الإخبار کاذبا فإن المفتي یفتیہ بعدم الوقوع والقاضي یحکم علیہ بالوقوع۔‘‘ (رد المحتار،ج:۵، ص:۳۶۵ )
مفتی کا کام دیانت کے مطابق فتویٰ دینا ہے، چنانچہ اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا: ’’أنت طالق‘‘ (تم مطلقہ ہو/ تم کو طلاق دے چکا ہوں) اس ارادے کے ساتھ کہ وہ جھوٹی خبر دے رہا ہے تو مفتی عدمِ وقوعِ طلاق کا فتویٰ دے گا اور (اگر معاملہ دارالقضاء جاتا ہے تب) قاضی وقوعِ طلاق کا فیصلہ کرے گا۔ 
کسی نے اپنی بیوی کو ہنسی مذاق میں کہہ دیا کہ ’’میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں‘‘ یا اپنے دوستوں کی مجلس میں تفریحاً اقرار کیا کہ میں تو بیوی کو طلاق دے چکا ہوں، تب بھی اس پر دیانۃً (فتوی کی رو سے) طلاق واقع نہ ہوگی: 
’’ولو أقر بالطلاق کاذبًا أو ہازلًا وقع قضاءً لا دیانۃً۔‘‘ (رد المحتار،ج: ۳، ص: ۲۳۶)
مذکورہ بالا دونوں مسائل میں بھی دارالافتاء سے وقوعِ طلاق کے فتاویٰ صادر ہوتے ہیں اور ان کی مضبوط دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ’’ثلاث جدہن جد، وہزلہن جد: النکاح، والطلاق، والرجعۃ۔ ‘‘ (ابوداود: ۲۱۹۴) ہوتی ہے، جب کہ اس روایت کے حوالے سے’’ انشاء طلاق اور اخبارِ طلاق میں فرق‘‘ اور اس کی وجہ سے قضاء ودیانت کا فرق کرنا بھول جاتے ہیں ، یعنی اگر انشاء طلاق ہنسی مذاق میں بھی واقع ہوجاتی ہے، مثلاً ہنسی مذاق میں یوں کہہ دے کہ ـ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوںـ‘‘ تو طلاق واقع ہوجائے گی، لیکن اگر ہنسی مذاق میں اقرارِ طلاق کرلے کہ میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں تو فتوی کی رو سے طلاق واقع نہ ہوگی،البتہ قضاء کی رو سے طلاق واقع ہوجائے گی۔ (حوالہ سابق دیکھیں) 
چوں کہ اگر ہنسی مذاق میں بھی کیے گئے اقرار کی بناء پر نکاح، طلاق اور رجعت کے احکام قضاکے اعتبار سے نافذ نہ کیے گئے تو معاملات خراب ہوجائیں گے اور قاضی کے لیے فیصلہ کرنا دشوار ہوجائے گا، کیوں کہ وہ ظاہر کے مطابق حکم لگانے کا مکلف ہے، اس کا مقصد ہزل تھا یا جِد، اپنے قول میں وہ سچا تھا یا جھوٹا، اس سے قاضی کو کوئی مطلب نہیں، چنانچہ اگر کسی شخص نے دو آدمیوں کو پہلے سے گواہ بنا دیا کہ میں اپنی بیوی کو جھوٹی طلاق کی خبر دوں گا، تم گواہ رہو اور بیوی کو جھوٹی طلاق کی خبر دے دی کہ ’’میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں /تم مطلقہ ہو‘‘ اب اگر یہ معاملہ دارالقضاء جاتا ہے تب بھی قاضی وقوعِ طلاق کا فیصلہ نہیں کرے گا۔ درِ مختار میںہے:
’’قال: أنت طالق أو أنت حر وعنی الإخبار کذبًا وقع قضاء، إلا إذا أشہد علٰی ذٰلک۔ ‘‘ (الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین،ج:۳، ص:۲۹۳)
اس سے صاف واضح ہے کہ حدیث مذکور کا اطلاق عمومی نہیں ہے، بلکہ یہ امورِ قضا کے ساتھ مخصوص ہے، اگر حکم عمومی ہوتا تو جھوٹی طلاق سے پہلے گواہ بنانے یا نہ بنانے سے کچھ فرق نہ پڑتا اور بتقاضۂ عموم بہرحال اس پر طلاق واقع ہوجاتی۔
بہرحال! ان سب کے باوجود دارالافتاؤں کا چلن یہی ہے کہ ان سب مسائل میں وہ حکم قضاء کے مطابق فتویٰ لکھتے ہیں اور ان مقامات میں جہاں طلاق واقع نہیں ہونی چاہیے، وہاں بھی بے پروا ہوکر طلاق واقع کردیتے ہیں، اس کی اصل وجہ علامہ کشمیریؒ کے بقول ’’دیانت وقضاء میں فرق سے غفلت ہے اور متداول کتبِ فقہ میں جہاں بیشتر مسئلے قضاء کے لکھے ہوئے ہیں، ان کے مطابق فتوے لکھنا ہے۔ ‘‘
میرے تخمینہ کے مطابق دارالافتاؤں میں ستر اسی فیصد سوالات طلاق یا میراث کے آتے ہیں، جن میں چالیس سے پچاس فیصد سوالات طلاق کے ہوتے ہیں، یعنی معاشرہ طلاق کی آگ میں بری طرح جھلس رہا ہے، طلاق کی وجہ سے صرف میاں بیوی جدا نہیں ہوتے، بلکہ دو خاندان ٹوٹ جاتے ہیں، بچوں پر جو سنگین اثرات پڑتے ہیں، وہ اتنے خطرناک ہیں کہ انھیں بیان کرنے کے لیے مستقل ایک مقالہ چاہیے۔ 
میرا خیال ہے کہ اگر ان مسائل پر توجہ دی گئی تو یقیناً طلاق کی شرح معاشرہ سے کم ہوجائے گی اور اس لعنت کی وجہ سے برپا ہونے والے فساد جس سے قوم تباہ ہورہی ہے اور ان کا مستقبل خاکستر ہو رہا ہے، ان سے کسی حد تک بچ پانا ممکن ہوگا۔ اللہ کرے کہ اربابِ فتاویٰ ،سنجیدہ علمی شخصیات اور درد مند اہلِ علم اس سنگین مسئلہ میںغور کریںاور امت جس مسئلہ سے بری طرح جھلس رہی ہے، اس سے انھیں نجات دلانے میں فقہی مشاورتی عمل کے مقررہ اصولوں کے مطابق لاعلم عوام کی مدد کریں اور ان کی دینی راہنمائی کریں، اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے۔ وہو المصیب

ایک درخواست
 

یہ میرے ناقص فکر ومطالعہ اور علمی وعوامی تجربہ کا حاصل ہے، کوئی انسان لغزش وخطا سے خالی نہیں، اس لیے اگر اہلِ علم ونظر قارئین کو اس تحریر میں کوئی قابلِ اشکال پہلو یا لائقِ اصلاح بات نظر آئے تو نشان دہی فرمادیں، بے حد شکر گزار ہوں گا۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے