بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ذو الحجة 1443ھ 02 جولائی 2022 ء

بینات

 
 

شرحِ حدیث کے قدیم ومعاصر مناہج کا تعارف

شرحِ حدیث کے قدیم ومعاصر مناہج کا تعارف

شرحِ حدیث فروعاتِ علم حدیث میں سے ہے، علمِ شرح الحدیث وہ علم ہے جس میں قواعدِ عربیہ اور اصولِ شرعیہ کی روشنی میں بقدر طاقت ِبشریہ احادیثِ شریفہ سے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی مراد معلوم کرنے کی تحقیق وجستجو کی جاتی ہے۔ 
حدیث شریف کے طلباء، مدرسین اور علم شرح الحدیث پر تحقیق کرنے والے محققین کے لیے شروحِ حدیث کو سمجھنے اور ان سے استفادہ کرنے کے لیے ان مناہج کی معرفت ضروری ہے، جن کی بنیاد پر شروحاتِ حدیث کو لکھا اور بطور فن آگے بڑھایا گیا ہے۔ متقدمین اور معاصر شراحِ حدیث نے اس سلسلہ میں جن مناہج کو اختیار کیا ہے انہیں فلسطین کے نامور عالم دین ڈاکٹر بسام خلیل صفدی صاحب حفظہ اللہ نے اپنی کتاب ’’علم شرح الحديث ‘‘ کے بحث رابع میں مفصل بیان کیا، ہم نے علومِ حدیث کے شائقین کی سہولت کے لیے اس بحث کو بعض مفید اضافہ جات کے ساتھ اردو کے قالب میں ڈھالا ہے، اس کے علاوہ علومِ حدیث کے نامور محقق وماہر استاذ محترم سیدی شیخ الحدیث حضرت مولانا نور البشر صاحب حفظہ اللہ (مدیر معہد عثمان بن عفانؓ کراچی) کے منہج کو بطور خاص مفصل بیان کیا ہے۔

شرحِ حدیث کے تین مناہج

ڈاکٹر بسام صفدی صاحب حفظہ اللہ نے لکھا ہے کہ بعض شروحاتِ حدیث اور ان کے مناہج پر لکھی گئی کتابوں میں غور وفکر کرنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شارحینِ حدیث نے اس سلسلہ میں تین مناہج وطرق اختیار کیے ہیں۔ (۱)

پہلا طریقہ: موضوعاتی شرح

اس طریقہ کے مطابق مطلوبہ حدیث کی اسناد ومتن ہر دو اعتبار سے شرح کی جاتی ہے، تحقیق کو مختلف اصطلاحی عنوانات یا مباحث یا مسائل یا فوائد وغیرہ میں تقسیم کیا جاتا ہے اور ہر موضوع سے متعلق حدیث کی شرح بیان کی جاتی ہے، ایسا کرنے والے تعداد میں نہ کم ہیں نہ ہی زیادہ، ان میں سے بعض شارحین نے حدیث کے متن اور اسنادی مباحث کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور بعض نے اختصار سے کام لیا ہے اور صرف ان مباحث کو بیان کیا ہے جو ان کی نگاہ میں ضروری تھے اور جن کو بیان کرنے کی ضرورت وحاجت تھی۔

موضوعاتی شرح کا طریقہ کار

موضوعاتی طریقے پر شرح کرنے والا شارح حدیث مصنف یا جامع وماتن کی ترتیب کے مطابق شرح کا التزام نہیں کرتا، بلکہ اپنے ترتیب دئیے ہوئے مباحث کے مطابق چلتا ہے، مثال کے طور پر امام بخاریؒ رواتِ حدیث اور اسنادی مسائل کو نفسِ حدیث سے مؤخر فرماتے ہیں، چنانچہ جو شارح بھی مذکورہ طریقہ کے مطابق صحیح بخاری کی شرح کرتا ہے، وہ روات اور اسناد سے متعلق گفتگو کو متن پر مقدم کرتا ہے، وہ شروحات جن میں موضوعاتی طریقہ کے مطابق شرح کی گئی ہے، ان میں ابن العربیؒ کی کتاب ’’ عارضۃ الأحوذي بشرح صحيح الترمذي‘‘، ابن دقیق العیدؒ کی کتاب ’’ شرح الإلمام بأحاديث الأحکام‘‘، ابن الملقنؒ کی کتاب ’’ التوضيح لشرح الجامع الصحيح‘‘ اور ’’ الإعلام بفوائد الأحکام‘‘ وغیرہ شامل ہیں، جن کا مطالعہ کر کے محقق انہیں مذکورہ طریقہ پر پاتا ہے۔

اولین موضوعاتی شارح

اس طریقہ کار کے مطابق شرح کرنے والے اولین شارح امام کبیر ابو حاتم ابن حبان بستی  ؒ ہیں، ان کی کتابوں اور ان کی نافعیت کے حوالہ سے خطیب بغدادیؒ کی گفتگو سے یہی ظاہر ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ: ابن حبانؒ نے آخری کتاب ’’ الہدايۃ إلی علم السنن‘‘ لکھی اور اس میں علمِ حدیث اور فقہ دونوں علوم کےاظہار کا قصد فرمایا، اس کتاب میں اُن کا منہج یہ ہے کہ پہلے ایک حدیث ذکر کرکے اس پر ترجمہ قائم کرتے ہیں، پھر یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث کس راوی کا تفرد ہے اور اس راوی کا تعلق کس شہر سے ہے، پھر سند میں مذکور اپنے شیخ سے لے کر صحابیؓ تک تمام روات کے حالات نام، نسبت، تاریخِ پیدائش اور وفات، کنیت، قبیلہ، اور اس راوی کی فضیلت وبیدار مغزی وغیرہ بیان کرتے ہیں، اس کے بعد اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے اس کے معانی، احکام اور اس سے مستنبط شدہ حکمتوں کو ذکر کرتے ہیں، اگر زیرِ بحث روایت کے معارض کوئی اور روایت موجود ہو تو اسے بیان کر کے دونوں روایتوں میں جمع فرماتے ہیں، اسی طرح دیگر کسی روایت میں اس حدیث کے الفاظ باہم متضاد وارد ہوئے ہوں تو انتہائی باریکی سے ان متضاد لفظوں کو باہم جمع فرماتے ہیں کہ تضاد ختم ہونے کی ساتھ ہر روایت کے فقہی اور حدیثی مباحث بھی معلوم ہوجاتے ہیں، ابن حبانؒ کی کتابوں میں سے مذکورہ کتاب انتہائی عمدہ، شاندار اور عزیز تر ہے۔ (۲)

ابن العربیؒ کا طریقہ ومنہج :

ابن العربی  ؒ نے اپنی کتاب ’’ عارضۃ الأحوذي‘‘ کے مقدمہ میں موضوعاتی شرح کے حوالہ سے اپنے طرزِ عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی شرح کی ترتیب کے مطابق: اسناد، رجال، غریب الحدیث، فنِ نحو کے کچھ مباحث، توحید، احکام، آداب، حکمتوں پر مبنی نکتے اور مصالح کی طرف اشارہ جیسے موضوعات پر کلام کریں گے۔ (۳)

ابن الملقنؒ کا طریقہ ومنہج :

ابن الملقنؒ نے ابن العربی ؒ سے زیادہ تفصیل اور وضاحت سے یہ بات کی ہے، انہوں نے ’’التوضیح‘‘ کے مقدمہ میں شرح کے حوالہ سے اپنا جو مسلک بیان کیا ہے، اس کی اہمیت کے پیشِ نظر میں اسے یہاں مکمل نقل کررہا ہوں، ابن الملقنؒ نے فرمایا کہ: میں مقصود کو (مندرجہ ذیل) دس اقسام میں بیان کروں گا:
۱: ـ پہلی قسم اسناد کے دقائق ولطائف کے بیان میں۔
۲: ـ دوسری قسم میں رجالِ اسناد، متنِ حدیث کے مشکل الفاظ اور لغت وغریب الحدیث کو ضبط کیا جائے گا۔
۳: ـ قسمِ ثالث ان روات کے اسامی کے بیان پر مشتمل ہوگی جو کنیت یا آباء وامہات (ابن فلاں یا ابن فلانہ) کی نسبت کے حامل ہوتے ہیں۔
۴: ـ قسمِ رابع میں مختلف ومؤتلف (یعنی مختلف ومتحد علوم حدیث کی اصطلاحات) کو بیان کیا جائے گا۔
۵: ـ پانچویں قسم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین اور تبع تابعین کے تعارف، ضبطِ انساب اور ان کی پیدائش اور وفات کے بیان پر مشتمل ہوگی۔
۶: ـ چھٹی قسم میں مرسل، منقطع، مقطوع، معضل، غریب، متواتر، آحاد، مدرج اور معلل روایات کی وضاحت کی جائے گی اور جن احادیث پر ارسال یا وقف وغیرہ کی وجہ سے کلام کیا گیا ہو تو ان کا جواب دیا جائے گا۔
۷ ـ: ساتویں قسم میں غیر واضح اور پوشیدہ فقہی مسائل، ان کے استنباط اور تراجمِ ابواب کو بیان کیا جائے گا، اس لیے کہ بعض مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں مطالعہ کرنے والا نہ سمجھنے کی وجہ سےحیران رہ جاتا ہے، نیز اصلِ حدیث اور اس کی تخریج کرنے والے کی نشاندہی وغیرہ کا بیان بھی ہوگا، جیسا کہ عنقریب آپ دیکھیں گے۔
۸: ـ آٹھویں قسم تعلیقات، مراسیل اور مقطوع روایات کی سند کے بیان پر مشتمل ہوگی۔
۹ ـ: نویں قسم میں مبہمات اور احادیث میں مذکور اَماکن کو بیان کیا جائے گا۔
۱۰ ـ : دسویں قسم میں احادیث سے مستنبط کردہ بعض اصول وفروع، آداب اور زہد وغیرہ کی طرف اشارہ کیا جائے گااور مختلف روایات کے درمیان جمع کے ساتھ ساتھ ناسخ ومنسوخ، عام وخاص اور مجمل و مبین کو ذکر کیا جائے گا اور اس میں واقع مذاہب کو بھی واضح کیا جائے گا، میں ان شاء اللہ حدیث کے ظاہری اور مخفی معانی وغیرہ اقسام کو بھی بیان کروں گا، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہم پر ان علوم کا فیضان فرمائے، (آمین)۔ (۴)
قارئین یہاں یہ بخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ ابن الملقنؒ نے سند اور متن سے متعلق کسی بحث کو ترک نہیں کیا، بلکہ تمام ہی مباحث سے تعرُّض فرمایا اور ان کی طرف اشارہ فرمایا اور جتنے مباحث انہوں نے ذکر کیے ان کا کافی حد تک التزام بھی کیا ہے۔ 

ڈاکٹر نزار ریانؒ کا منہج وطریقہ :

شرحِ حدیث کا موضوعاتی طریقہ ومنہج اختیار کرنے والوں میں عالم عرب کے ڈاکٹر نزار ریان بھی ہیں، جو زمانہ قریب ہی میں فوت ہوئے ہیں، انہوں نے حدیث کے مباحث اور مسائل کو وسعت دی اور درج ذیل انیس مباحث کو ذکر کیا ہے (۵) :
۱: ـ تخریجِ حدیث۔                ۲ ـ :اسناد کا شجرہ (نقشہ)۔
۳ ـ :رجالِ سند کی تحقیق اور اسناد پر حکم لگانا۔        ۴ ـ :الفاظِ تلقیِ حدیث اور ادا کا بیان۔
۵ ـ :لطائفِ سند، یعنی سند کے نکتے۔        ۶ ـ :حدیث کی خاطر سفر کا بیان۔
۷ ـ :مصطلح الحدیث سے متعلق مسائل کا بیان۔
۸ ـ :محدث کے مناہجِ حدیث، یعنی جس محدث کی کتاب کی شرح لکھی جارہی ہے، اس کے منہج کا بیان۔
۹ ـ :حدیث سے متعلق محدث کی شرائط کا وقوع وثبوت۔    ۱۰ ـ :حدیث کے وارد ہونے کا سبب۔
۱۱ ـ :محدث کا زیرِ بحث باب یا ترجمہ میں حدیث لانے کا سبب۔
۱۲ ـ :ترجمۃ الباب اور حدیث کے درمیان مطابقت۔
۱۳ ـ :حدیث کا جامع متن اور الفاظِ حدیث کے درمیان مقارنہ۔
۱۴ ـ :لغت اور غریب الحدیث کا بیان۔    ۱۵ ـ :حدیث کا معنی وشرح۔
۱۶ ـ :موضوعاتی مباحث۔        ۱۷ ـ :مشکل الحدیث اور مختلف الحدیث کا بیان۔
۱۸ ـ :حدیث سے مستنبط شدہ احکام۔
۱۹ ـ :حدیث سے مستفاد دعوتی اور تربیتی نکات واشارات۔ 

ڈاکٹر نزار ریانؒ کی شرح صحیح مسلم

ڈاکٹر نزار ریانؒ اپنے اختیار کردہ منہج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور اس سے حاصل ہونے والےفوائد، توانائی اورثمرات کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: انہوں نے اپنی شرح ’’ إمداد المنعم شرح صحيح الإمام مسلم‘‘ میں ایسے منہج کو اختیار کیا ہے جس کی بنیادیں انہوں نے ایک طویل عرصہ معتبر جامعات جیسے جامعہ امام محمد بن سعود الاسلامیہ ریاض، جامعہ اردنیہ کی کلیۃ الشریعہ اور امِ درمان کی جامعۃ القرآن الکریم والعلوم الإسلامیۃ کے کلیہ اصول الدین میں بڑے عظیم اساتذہ کرام کے اِشراف میں حدیث شریف کی تحقیق کرتے ہوئے رکھی ہیں، چنانچہ انہوں نے ان بڑے وعظیم اساتذہ سے خوب علمی سیرابی حاصل کی، پھر اس کے بعد جامعہ اسلامیہ فلسطین میں کلیہ اصول الدین کے درجہ عالیہ کے پہلے اور دوسرے مرحلہ کے طلباء کو حدیثِ نبوی شریف کے مناہج کی مسلسل تدریس کی، اس دوران مختلف ابواب کی احادیثِ کثیرہ کی تشریح کی، احادیث اور شروحاتِ حدیث کی کثرتِ مراجعت کے نتیجہ میں ایک ایسے وسیع منہج کو منتخب کیا جس کی بنا پر نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے کلام میں پوشیدہ فوائد کا استخراج کیا اور عمدہ معانی اور لطیف حکمتوں کو سامنے لائے، جب کہ متقدمین اہلِ علم نے حدیث کی روایت ودرایت اور اسانید ومتون کی مکمل تحقیق کے اعتبار سے خدمت کے جو قواعد مضبوط بنیادوں پر قائم فرمائے ہیں ان سے غافل ہوئے بغیر اس عمل کو انجام دیا، یعنی متقدمین کے ان مضبوط وبنیادی قواعد سے بھی استفادہ کیا۔
ڈاکٹر نزارؒ یہ سمجھتے ہیں کہ: شرحِ حدیث سے متعلق ان کا منہج شرحِ حدیث کے بارے میں متعدد جگہوں میں منتشر کلام کو یکجا کرے گا، اس لیے کہ اس منہج میں سند کی مکمل تحلیل وتجزیہ اور شرح ووضاحت ہوتی ہے تو متن کے ایک ایک کلمہ اور ایک ایک چیز کی تحقیق کی جاتی ہےاور ہر مشکل لفظ اور معاملہ کی وضاحت کی جاتی ہے۔(۶)
ڈاکٹر بسام خلیل صفدی صاحب فرماتے ہیں کہ: ہمارے زمانہ میں شرحِ حدیث کا یہ والا منہج زیادہ مناسب ہے، طالب علم دیگر مناہج کے مقابلہ میں اسے زیادہ قبول کرتے ہیں، اس منہج کے ذریعہ قاری کے لیے شرحِ حدیث کا استیعاب بھی آسان ہوتا ہے۔(۷)

استاذ محترم سیدی حضرت مولانا نور البشر صاحب حفظہ اللہ کا منہج

ہمارے شیخ ومرشد سیدی حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہ کے درسی افادات پر مشتمل صحیح البخاری کی شہرہ آفاق شرح ’’ کشف الباري عما في صحيح البخاري‘‘ کی ترتیب وتحقیق کے لیے ہمیں استاذنا وشیخنا حضرت مولانا نور البشر صاحب حفظہ اللہ نے درج ذیل منہج کا پابند بنایا تھا : 
۱: ـ ترجمۃ الباب کے مقصد یا مقاصد کی وضاحت اور تراجمِ ابواب پر سیر حاصل بحث۔
۲: ـ ربطِ ابواب وذکر ِ مناسبت۔
۳: ـ حدیثِ باب کا ترجمہ۔
۴: ـ حدیثِ باب کی امہات ِ ستہ سے تخریج۔
۵: ـ رواۃِ حدیث کا جامع تعارف، خاص طور پر ان کی توثیقات وتعدیلات کا ذکر، اسی طرح اگر ان پر ائمہ کا کلام ہو تو اس کا تذکرہ، اگر بلا تکلف وتعسُّف دفاع ہوسکے تو دفاع، ورنہ کم از کم صحیح بخاری میں ایسے متکلم فیہ راوی کے مندرج ہونے کا عذر۔
۶: ـ سندِ حدیث پر محدثانہ کلام۔
۷: ـ متنِ حدیث پر محدثانہ گفتگو۔
۸: ـ شرحِ حدیث میں ملحوظ امور: دیگر طرقِ حدیث میں وارد الفاظِ مختلفہ لا کر تشریح کریں۔
۹: ـ نحوی، صرفی، بلاغی اور اعرابی حیثیت سے تحقیق وتشریح کریں۔
۱۰: ـ فقہی مذاہب کی ( اصحابِ مذاہب کی کتب سے) تنقیح اور حوالہ۔
۱۱: ـ دلائلِ فقہیہ کا التزام۔
۱۲: ـ حنفی مذہب کو مدلل اور مبرہن کرنا اور وجوہِ ترجیح مذہبِ حنفیہ کا التزام کرنا۔
۱۳: ـ حدیث شریف کی ترجمۃ الباب سے مطابقت۔
۱۴: ـ متابعات وشواہدِ بخاری کی تخریجات۔
۱۵: ـ واضح رہے کہ حوالہ جات وتعلیقات میں ان امور کو خاص طور پر ملحوظ رکھا جائے: کتبِ حدیث کا حوالہ جہاں جلد، صفحات کے ساتھ دیا جائے وہاں کتاب، باب اور رقم الحدیث ضرور ذکر کیے جائیں۔
۱۶: ـ حدیث باب کی تخریج امہاتِ ستہ سے خاص طور پر کی جائے، اگر امام بخاریؒ اس حدیث میں متفرد ہوں تو کسی معتمد مصنف کا ضرور حوالہ دیا جائے اور اس سلسلہ میں فتح الباري اور عمدۃ القاري کے ساتھ ساتھ تحفۃ الأشراف سے مدد لی جائے۔
۱۷: ـ متن میں جس کتابِ حدیث کا حوالہ آجائے اور وہ کتاب دار التصنیف میں موجود ہو اور آسانی سے مل سکتی ہو تو اس کی مراجعت کر کے حوالہ ثبت کیا جائے، ورنہ بدرجہ مجبوری ثانوی مراجع مثلا ً: فتح الباريوغیرہ کا حوالہ دیا جائے۔
۱۸: ـ تعلیقاتِ بخاری کے سلسلہ میں ’’ تغلیق التعلیق‘‘ سے ضرور استفادہ کیا جائے۔
۱۹: ـ روات کے سلسلہ میں عام شروحِ حدیث کے حوالہ کے بجائے اسماء الرجال کی معتبر کتابوں کا حوالہ دیا جائے۔
۲۰: ـ لغوی تحقیقات کے لیےلغاتِ حدیث اور عام بڑی لغت کی کتابوں مثلاً : تاج العروس، لسان العرب، المصباح المنیر اور المغرب وغیرہ کو ترجیح دی جائے۔
۲۱:ـ اعرابی، نحوی وصرفی تحقیقات کے لیے کتبِ نحو وصرف اور خاص طور سے شروحِ حدیث سے استفادہ کیا جائے۔
۲۲: ـ فقہی مذاہب ودلائل کے لیے ہر مکتبِ فکر کی اپنی کتابوں کو ملحوظ رکھا جائے۔
۲۳ ـ :حدیثی مباحث اور محدثانہ کلام کے لیے شروحات کے ساتھ ساتھ عللِ حدیث پر لکھی گئی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے۔
۲۴: ـ معاصر تقاریر پر سرسری استفادہ کی حد تک تو اعتماد ہو، لیکن حوالہ جاتی اعتماد ہرگز نہ کیا جائے۔
۲۵ ـ :ما یستفاد من الحدیث کا شراحِ حدیث کے کلام کی روشنی میں تذکرہ کیا جائے۔
۲۶: ـ اسی طرح کسی حدیث پر فقہی وکلامی مباحث کو بھی مکرر نہ لکھا جائے، الا یہ کہ کسی جگہ ناگزیر ہو تو پہلی جگہ کا حوالہ بھی ذکر کریں۔
۲۷ ـ :حدیث شریف سے متعلق کون سے مباحث ذکر کرنے ہیں، ان کی تعیین اکابر کی شروحات وتقاریر کو سامنے رکھ کر کی جاسکتی ہے۔ (۸)
ہمارے خیال میں ڈاکٹر نزار ریان صاحب رحمہ اللہ کے منہج کی اہمیت وافادیت اپنی جگہ مسلم ہے، جب کہ اس کے ساتھ استاذ محترم سیدی حضرت مولانا نور البشر صاحب حفظہ اللہ کا منہج بھی انتہائی اہم اور مفید ہے، بلکہ بعض مباحث کے اعتبار سے اول الذکر کے مقابلہ میں جامع اور اوسع ہے، حدیث شریف کے مدرسین اور شرحِ حديث کے عنوانات پر تحقیقی کام کرنے والے محققین ان دونوں مناہج کو پیش نظر رکھیں تو مفید رہے گا۔

دوسرا طریقہ : مقاماتی یا ’’قولہ‘‘ کے عنوان سے شرح :

اس طریقے کے مطابق شارح سندِحدیث یا متنِ حدیث کی معین جگہوں سے شرح کرتا ہے اور تشریح سے پہلے ’’ قولہ‘‘ لکھ کر سند یا متن کا کچھ حصہ ذکر کرتا ہے، پھر مذکورہ لفظ یا عبارت کی مختلف جوانب سے شرح کرتا ہے، اگرچہ موضوعات مختلف ہی کیوں نہ ہوں، اس سے یہ طریقہ سابق میں مذکورہ طریقہ (یعنی موضوعاتی شرح ) سے جدا ہوجاتا ہے، کیوں کہ اس موضوعاتی طریقہ میں شرح کے موضوعاتی مباحث کی رعایت رکھی جاتی ہے، جب کہ اس طریقہ میں ایسا نہیں کیا جاتا ہے۔(۹)
جن شروحات میں یہ منہج وطریقہ اختیار کیا گیا ہے ان میں خطابی  ؒ کی ’’ معالم السنن في شرح أبي داوٗد‘‘، مازریؒ کی ’’ المعلم بفوائد مسلم‘‘، قاضی عیاضؒ کی ’’ إکمال المعلم‘‘ اور حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی ’’ فتح الباري‘‘ ودیگر بہت ساری شروحات شامل ہیں۔
عام طور سے متقدمین اور متاخرین کی شروحات میں اسی منہج کو اختیار کیا گیا ہے۔(۱۰) اس طریقہ میں مکمل متن کے لکھنے کا التزام نہیں کیا جاتا ہے، جن مقامات کی شرح مقصود ہوتی ہے ان کو ذکر کیا جاتا ہے، کبھی بعض ناسخ وکاتب لائن دار یا حاشیہ میں مکمل متن کو لکھتے ہیں، اس کے مفید ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ (۱۱) پہلے والے طریقہ یعنی موضوعاتی شرح میں بھی متن کے لکھنے کا التزام نہیں کیا جاتا ہے، اگرچہ شروحات میں عام طور سے اس کا التزام کیا گیا ہے۔

تیسرا طریقہ : شرحِ مزجی یعنی متن اور شرح کو باہم ملا کر شرح کرنا 

اس طریقۂ شرح میں حدیث کے متن اور سند کو ان کی شرح کے ساتھ باہم ملا کر ذکر کیا جاتا ہے، تفصیل اس کی یہ ہے کہ شارح‘ حدیث کی سند یا متن کا کچھ حصہ بایں طور ذکر کرتا ہے کہ اس سے پہلے یا بعد میں اپنا کلام یعنی شرح ذکر کرتا ہے، اسے جب متن کے ساتھ ملا کر پڑھا جاتا ہے تو معنی واضح ہوجاتا ہے، خواہ شارح کا کلام جسے وہ متن سے پہلے یا بعد میں ذکر کرے کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، اس لیے کہ شارح اس بات کی پوری کوشش کرتا ہے کہ متن کی عبارت سے پہلے یا بعد میں جو شرح ذکر کی جائے، وہ ایک ہی سیاق میں متن کی عبارت سے مربوط ہو۔(۱۲)
متن اور شرح کے درمیان تمیز کےلیے حرف ’’ م‘‘ سے متن اور حرف ’’ش‘‘ سے شرح کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، یا متن کو قوسین کے درمیان لکھا جاتا ہے، یا متن کو شرح کی بنسبت بڑے خط میں لکھا جاتا ہے، یا متن اور شرح دونوں کو الگ الگ رنگوں میں لکھا جاتا ہے، یا اس کے علاوہ شراح جس طریقہ کو متن اور شرح میں تمیز کے لیے استعمال کریں، یہ طریقہ متن اور شرح میں خلط اور غلطی سے محفوظ نہیں۔ (۱۳)
جن شروحات میں مذکورہ طریقہ ومنہج اختیار کیا گیا ہے، ان میں علامہ قسطلانی  ؒ کی شرح ’’إرشاد الساري إلٰی شرح صحيح البخاري‘‘ بھی ہے۔

حواشی وحوالہ جات

۱: ـدیکھے : کشف الظنون: ۱/۲۹، ان سے پھر علامہ صدیق حسن خانؒ نے ’’ أبجد العلوم‘‘ : ۱/۱۹۱ میں، علامہ مبارک پوریؒ نے ’’تحفۃ الأحوذي‘‘ کے مقدمہ، ص : ۱۷۱ میں اور شیخ احمد معبد نے ابن سید الناس کی کتاب ’’ النفع الشذي في شرح جامع الترمذي‘‘ کے مقدمہ : ۱/۸۶ ـ -۹۲ میں نقل کیا ہے، ان میں آخری کتاب میں اس حوالہ سے جامع اور بہترین گفتگو کی گئی، اس لیے کہ کشف الظنون میں اگرچہ اسے شروحِ حدیث کے بعض اقسام کی مثال کے طور پر بیان کیا ہے، لیکن شیخ احمد معبد نے اس سے عمومی طور پر تمام مناہج مراد لیے ہیں اور اس سے ابتدائی شرح مراد نہیں لی، اگرچہ ان دونوں کے درمیان ایک گونہ مشابہت پائی جاتی ہے، کشف الظنون سے نقل کرنے والوں نے اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھا ہے۔
۲: الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع: ۲/۳۰۳ ۔ اس کلام کو ڈاکٹر نزار ریان رحمہ اللہ نے صحیح مسلم پر اپنی شرح ’’إمداد المنعم شرح صحيح الإمام مسلم‘‘ کے اوائل : ۱/۵۱ میں نقل کیا ہے، انہوں نے اس اسلوب کو پسند کر کے اور بنیاد بنا کر مقدمہ کی شرح مکمل کرلی ہے۔ 
۳:دیکھیے مذکورہ کتاب: ۱/۶                ۴: التوضيح: ۱/۳۳۶- ۳۳۷ 
۵: دیکھیے: إمداد المنعم: ۱/۱۵، اور اس کے بعد کے صفحات، ڈاکٹر نزارؒ اور دیگر معاصرین نے اس انداز ومنہج کو تجزیاتی گفتگو سے تعبیر کیا ہے، اس میں اور ہماری ذکر کردہ موضوعاتی شرح میں صرف بعض اسنادی ومتنی مباحث میں توسع اوربعض ایسی چیزوں کے اضافہ کے علاوہ کچھ فرق نہیں جن کا اصل شرح سے کوئی تعلق نہیں، ڈاکٹر نزار ریانؒ پہلے ان مباحث کی پندرہ (۱۵) اقسام بیان کیا کرتے تھے، جیساکہ ان کی کتاب ’’الحديث الشريف دراسۃ في الفقہ وفقہ الدعوۃ والسياسۃ الشرعيۃ‘‘ میں آپ ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
۶: إمداد المنعم، ص : ۵۰                 ۷: مقدمۃ النفح الشذي: ۱/ ۹۱ 
۸:دیکھیے : کشف الباري عما في صحيح البخاري، کتاب الغسل، سخن ہائے گفتنی، ص : ۱۰
۹: مقدمۃ النفح الشذي: ۱/ ۹۱ 
۱۰: کشف الظنون:۱/۲۸ کی نوعِ ثالث میں (شرح مزجی )کے بارے میں لکھا ہے کہ اکثر متاخر محقق شراح کا یہ طریقہ ہے، ان سے ’’ أبجد العلوم‘‘ (۱/۱۹۲) اور ’’ تحفۃ الأحوذي‘‘ (ص : ۱۷۱) کے مصنفین نے یہی بات نقل کی ہے، لیکن یہ بات محلِ نظر ہے، اکثر شروحات کا منہج وہی ہے جو ہم نے متن میں بیان کردیا ہے۔ 
۱۱: کشف الظنون:۱/۲۹             ۱۲: مقدمۃ النفح الشذي، ص : ۹۲ 
۱۳: کشف الظنون:۱/۲۹ 

....................
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین