بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

بینات

 
 

سیلاب زدگان کی خوفناک صورت حال!

سیلاب زدگان کی خوفناک صورت حال!

الحمد للہ و سلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی

گزشتہ جولائی، اگست، ستمبر ۲۰۲۲ء میں پاکستان کی تاریخ کا شدید ترین سیلاب آیا، جس سے تین کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہوئے، چشم زدن میں شہروں کے شہر اور بستیوں کی بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ پندرہ سو کے قریب لوگ زندگیاں ہار گئے۔ آٹھ لاکھ سے زائد جانور سیلاب میں ڈوب گئے۔ گیارہ لاکھ سے زائد مکانات سیلاب کی وجہ سے گرچکے ہیں اور اتنی ہی مقدار میں پانی رکنے کی وجہ سے خستہ حال ہوچکے ہیں۔ بتلایا جارہا ہے کہ صوبہ سندھ میں چودہ لاکھ ایکڑ، جنوبی پنجاب میں نولاکھ ایکڑاور بلوچستان میں دو لاکھ ایکڑ سے زائد کھڑی فصلیں اور سبزیاں وغیرہ خراب ہوچکی ہیں۔ محکمۂ صحت کے اعداد وشمار کے مطابق صرف جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد افراد مختلف وبائی امراض کا شکار ہوچکے ہیں، جبکہ سندھ، بلوچستان اور کے پی کے‘ کے سیلابی علاقوں کی صورت حال اس سے بھی بدتر ہے۔
پاکستان کی اس خوفناک سیلابی صورت حال کو قریب سے دیکھنے کے لیے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیرس پاکستان آئے، جنوبی پنجاب، بلوچستان اور سندھ کی سیلابی صورت حال کا فضائی جائزہ لیا اور لاڑکانہ میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں سے بھی ملے اور بات چیت کی۔ انہوں نے جمعہ کو نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سنٹر (این ایف آر سی سی) کے دورہ کے موقع پر وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کے ہمراہ مشترکہ پریس ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ: دنیاآگے آئے اور پاکستان کی مددکرے، اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے قرضوں کی واپسی میں پاکستان کی مددکا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ: سیلاب سے پاکستان کا ابتدائی نقصان ۳۰؍ ارب ڈالر ہوگیا اور یہ مسلسل بڑھ رہاہے،یہ یکجہتی کا نہیں‘ انصاف کا تقاضا ہے۔ عالمی برادری اپنی ذمہ داری پوری کرے، خاص طورپر وہ ممالک جنہوں نے درجۂ حرارت بڑھا کر زمین کو نقصان پہنچایا،ہم نے فطرت کے خلاف جنگ کی،فطرت نے تباہ کن اندازمیں ہم پر پلٹ کر وار کیا، لیکن زیادہ نقصان اسے پہنچا جس کا قصور نہیں۔آج جہاں پاکستان ہے کل وہاں آپ کا ملک بھی ہوسکتا ہے، ہمیں اسے فوری روکنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت بہت بڑے قدرتی المیے کا سامنا ہے، انہوں نے اس قدر بڑے حجم کی قدرتی آفت نہیں دیکھی۔ پاکستان کو اس بڑی قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے بڑے وسائل درکار ہوں گے، سیلاب متاثرین کی امداد کے ساتھ ساتھ پاکستان کے معاشی استحکام سمیت ان بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے قرضوں کی شکل میں بھی مدد کی ضرورت ہے۔     (ہفتہ، ۱۳؍صفر المظفر ۱۴۴۴ھ، ۱۰؍ ستمبر۲۰۲۲ء، روزنامہ جنگ، کراچی)
وزیراعظم میاں شہباز شریف صاحب نے بھی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ۷۷ ویں اجلاس سے خطاب میں کہا کہ: آج جب میں اپنے ملک پاکستان کا احوال سنانے کے لیے یہاں کھڑا ہوں، لیکن میرا دل و دماغ اس وقت بھی میرے ملک میں ہے،ہم جس صدمے سے گزر رہے ہیں، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں موسمیاتی آفت سے آنے والی تباہی کے بارے میں دنیا کو اصل حقائق سے آگاہ کرنے یہاں آیا ہوں، جس سے میرے ملک کا ایک تہائی حصہ زیرِ آب آگیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ: ۴۰ دن اور ۴۰ راتوں تک ایک تباہ کن سیلاب ہم پر مسلط رہا، جس نے صدیوں کا موسمیاتی ریکارڈ توڑ دیا ہے، آج بھی ملک کا بڑا حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے، خواتین اور بچوں سمیت ۳۳؍ ملین افراد اب صحت کے خطرات سے دوچار ہیں، جن میں ساڑھے ۶؍ لاکھ حاملہ خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ: سیلاب کے باعث ۱۵۰۰ سے زائد لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں ۴۰۰ سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں، بہت سے بیماری اور غذائی قلت کے خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے لوگوں کو جانی نقصان اُٹھانا پڑا، ۳۷۰؍ پل تباہ، ۱۰؍ لاکھ مویشی ہلاک ہوئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ابتدائی تخمینے بتاتے ہیں کہ سیلاب کے باعث ۱۳؍ ہزار کلومیٹر سے زیادہ سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے، چار ملین ایکڑ فصلیں بہہ گئیں، لاکھوں بے گھر افراد اب بھی اپنے خاندانوں، مستقبل اور ان کے ذریعۂ معاش کو پہنچنے والے نقصانات کے ساتھ اپنے خیمے لگانے کے لیے خشک زمین کی تلاش میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے پاکستان متاثر ہورہا ہے، پاکستان میں اس طرح کی قدرتی آفت کو نہیں دیکھا،،ہمیں پہلے بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت اور اب سیلاب کا سامنا ہے، حالانکہ دنیا میں جو کاربن فضا میں بھیجی جارہی ہے، پاکستان کا اس میں ایک فیصد سے بھی کم ہے، ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے اس کی وجہ ہم نہیں ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ: پاکستان نے گلوبل وارمنگ کے اثرات کی اس سے بڑی اور تباہ کن مثال کبھی نہیں دیکھی، جہاں زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آفت کے دوران میں نے اپنے تباہ حال ملک کے ہر کونے کا دورہ کیا اور وقت گزارا، پاکستان میں لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ ناقابلِ تردید اور تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ یہ آفت ہماری وجہ سے نہیں آئی، بلکہ ہمارے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جنگلات جل رہے ہیں اور گرمی کی لہر ۵۳؍ ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکی ہے، جو اُسے کرۂ ارض کا گرم ترین مقام بنا رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم تباہ کن مون سون سے گزر رہے ہیں، جیسا کہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسے انتہائی مناسب طریقے سے بیان کیا ہے، ایک بات بہت واضح ہے کہ جو کچھ پاکستان میں رونما ہوا ہے، وہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی قوم کی طرف سے مشکل وقت میں مدد کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا پاکستان کے دورے پر شکرگزار ہوں، سیکرٹری جنرل نے اپنی آنکھوں سے سیلاب متاثرین کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی فنڈ کا حصہ بھی ریسکیو اور ریلیف کے کاموں پر خرچ کر رہے ہیں،سیلاب متاثرین میں ۷۰؍ارب کی رقم تقسیم کی گئی۔‘‘
بہرحال پاکستانی قوم اس وقت سیلاب کی تباہ کاریوں سے نبردآزما ہے۔ پاکستانی قوم نے اس مشکل وقت میں جس طرح جذبۂ ایثار، ہمدردی اور تعاون وتناصر کا مظاہرہ کیا، اس کی مثال دنیا بھر میں کم ملے گی۔ خصوصاً دین دار مسلمان، اہلِ ثروت، اربابِ مدارس، دینی طلبہ اور علماء نے دینی بھائیوں کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا نے بھی برملا اعتراف کیا کہ پاکستان کی دینی تنظیموں، دین دار طبقہ، علماء اور اربابِ مدارس نے اس موقع پر بے مثال قربانی اور خدمت وتعاون کے جذبے کا ثبوت دیا۔
دوسرے مدارس کے علاوہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن جس کی دینی، علمی، اصلاحی اور تبلیغی خدمات کے علاوہ سماجی اور رفاہی خدمات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں، اس موقع پر بھی جامعہ کے رئیس اور نائب رئیس کے حکم اور سرپرستی سے جامعہ کے فضلاء، طلبہ اور جواں سال، جواں ہمت اساتذہ نے بے مثال خدمات انجام دیں اور اپنے متاثرہ بھائیوں کی خدمت میں براہِ راست پہنچ کر ان کی ہر طرح مدد کی۔ نقد، غذائی اجناس، لباس وخوراک وغیرہ سے ہر ممکن مدد کی کوشش کی، دور دراز علاقوں کا دورہ کیا، اپنے بھائیوں کے دکھ درد میں شریک ہوئے اور جذبۂ نصح وخیرخواہی کی مثالی تاریخ رقم کی۔ 
اللہ تبارک وتعالیٰ ان مساعیِ حسنہ کو قبول فرمائے، سیلاب سے متاثرہ بھائیوں کی مدد ونصرت فرمائے، ہمارے ملک کو ہر قسم کی آفات، بلیات، آزمائشوں اور فتنوں سے محفوظ فرمائے، اور ہمارے اس ملک پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت فرمائے، دین دشمنوں اور ملک دشمنوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نصیب فرمائے، اگر ان کے مقدر میں ہدایت نہیں ہے تو ان کو تباہ وبرباد کرے اور عبرت کا نشان بنائے، آمین یارب العالمین!

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین