بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 شوال 1443ھ 26 مئی 2022 ء

بینات

 
 

زکوٰۃ کے نصاب کا معیار سونا یا چاندی؟ اور چاندی کے معیار کی وضاحت!


زکوٰۃ کے نصاب کا معیار سونا یا چاندی؟ اور چاندی کے معیار کی وضاحت!

 

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
زکوٰۃ کے دونوں نصاب کی وضاحت کر کے بتائیں کہ یہ دونوں معیار کیوں مقرر کیے گئے ہیں؟ دونوں کو فالو کیسے کیا جائے گا؟ اگر کسی گھر میں صرف سونا تو موجود ہو تقریباً ایک ڈیڑھ تولہ، اور چاندی بالکل نہ ہو تو کیا وہ گھر بھی صاحبِ نصاب ہوگا؟ آج کل ایک بات چلی ہوئی ہے کہ چاندی کو ہی معیار مانا جائے تو پھر سونے کا معیار کیوں مقرر کیا گیا ہے؟

مستفتی:محمد عامر

الجواب حامدًا ومصلیًا

واضح رہے کہ اموالِ باطنہ کی زکوٰۃ کے نصاب میں سونا اور چاندی دونوں ہی معیار ہیں، کیوں کہ دونوں ثمن ہیں، ہاں! اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو اور کوئی مالِ زکوٰۃ نہ ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا نصاب ہے، اور اگر اس سے کم ہوگا تو نصاب پورا نہیںہوگا۔اور اگر صرف چاندی ہو تو ساڑھے باون تولہ چاندی یعنی 612.41 گرام چاندی نصاب ہے، لیکن اگر مخلوط نصاب ہو یعنی کچھ سونا اور کچھ چاندی یا نقدی یا مالِ تجارت ہو تو اس صورت میں نصاب کا معیار سونے کو بنایا جائے گا؟ یا چاندی کو؟ اس بارے میں فقہاء کے اقوال مختلف ہیں۔ البتہ راجح اور مفتی بہ قول یہی ہے کہ اس میں چاندی کے نصاب کو معیار بنایا جائے گا، کیوں کہ نصاب میں اصل چاندی ہے اور حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانے میں سونے کو چاندی کے تابع کیا گیا تھا کہ ایک دینار ، ۱۰ دراہم کے برابر تھا تو ۲۰ دینار ۲۰۰ درہم کے برابر ہوگئے، اس لیے سونے کا نصاب ۲۰ مثقال مقرر کیا گیا۔ لہٰذا جب مال مخلوط ہو تو چاندی ہی کو نصاب بنایا جائے گا اور اس میں آج کل فقیروں کا نفع بھی زیادہ ہے۔ ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ میں ہے: 
’’الذھب محمول علی الفضۃ، وکان في ذٰلک الزمان صرف دينار بعشرۃ دراہم، فصار نصابہٗ عشرين مثقالا۔‘‘ ( مقادير الزکوٰۃ، ج:۲،ص:۱۳۰،زمزم پبلشر)
’’بدائع الصنائع‘‘ میں ہے:
’’فإن کان لہٗ فضۃ مفردۃ فلا زکاۃ فيہا حتی تبلغ مائتي درہم وزنا وزن سبعۃ، فإذا بلغت ففيہا خمسۃ دراہم لما روي أن رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - لما کتب کتاب الصدقات لعمرو بن حزم ذکر فيہ الفضۃ ليس فيہا صدقۃ حتی تبلغ مائتي درہم، فإذا بلغت مائتين ففيہا خمسۃ دراہم۔‘‘ (بدائع الصنائع، کتاب الزکٰوۃ، فصل: وأما الأثمان المطلقۃ، ج:۲، ص:۱۶، ط: سعید)
’’بدائع الصنائع‘‘ میں ہے: 
’’فأما إذا کان لہ ذہب مفرد فلا شيء فيہ حتی يبلغ عشرين مثقالا، فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيہ نصف مثقال، لما روي في حديث عمرو بن حزم ’’والذہب ما لم يبلغ قيمتہ مائتي درہم فلا صدقۃ فيہ، فإذا بلغ قيمتہ مائتي درہم ففیہ ربع العشر۔‘‘ وکان الدينار علٰی عہد رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - مقومًا بعشرۃ دراہم. ‘‘ (بدائع الصنائع، فصل: وأما صفۃ نصاب الذہب، کتاب الزکوٰۃ، ج: ۲، ص: ۱۸، ط: سعید)
’’بدائع الصنائع‘‘ میں ہے:
’’وإذا کان تقدير النصاب من أموال التجارۃ بقيمتہا من الذہب والفضۃ وہو أن تبلغ قيمتہا مقدار نصاب من الذہب والفضۃ، فلا بد من التقويم حتی يعرف مقدار النصاب، ثم بماذا تقوم؟ ذکر القدوري في شرحہ مختصر الکرخي أنہ يقوم بأولی القيمتين من الدراہم والدنانير حتی إنہا إذا بلغت بالتقويم بالدراہم نصابا ولم تبلغ بالدنانيرقومت بما تبلغ بہ النصاب. وکذا روي عن أبي حنيفۃؒ في الأمالي أنہ يقومہا بأنفع النقدين للفقراء. وعن أبي يوسفؒ أنہ يقومہا بما اشتراہا بہ، فإن اشتراہا بالدراہم قومہا بالدراہم وإن اشتراہا بالدنانير قومھا بالدنانير وإن اشتراہا بغيرہما من العروض أو لم يکن اشتراہا بأن کان وہب لہ فقبلہ ينوي بہ التجارۃ قومہا بالنقد الغالب في ذٰلک الموضع. وعند محمدؒ یقومھا بالنقد الغالب علٰی کل حال وذکر في کتاب الزکاۃ أنہ یقومھا یوم حال الحول إن شاء بالدراھم وإن شاء بالدنانیر۔‘‘ (بدائع الصنائع ، کتاب الزکوۃ، فصل: صفۃ الواجب في أموال التجارۃ ، ج: ۲، ص: ۲۱،  ط: سعید)
 

  

فقط واللہ اعلم

الجواب صحیح

الجواب صحیح

کتبہ

ابوبکر سعیدالرحمن  

محمد شفیق عارف

عبداللہ خدا بخش

  

تخصص فقہ اسلامی

  

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن 

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین