بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

بینات

 
 

حج: عشقِ حقیقی کا مظہر اور انسانیت کی بقا کا ضامن!


حج: عشقِ حقیقی کا مظہر اور انسانیت کی بقا کا ضامن!


الحمد للہ وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی

عاشقوں کے قافلے دیارِ محبوب کی طرف رواں دواں ہیں، جوں جوں ایامِ وصل قریب آرہے ہیں‘ اضطراب بڑھ رہا ہے اور دھڑکنیں تیز ہورہی ہیں۔ دنیا کے ہرخطے، رنگ ونسل اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے اہلِ ایمان‘ نداءِ ابراہیمی پر لبیک کہتے ہوئے مرکزِ وحدت کی طرف والہانہ دوڑ رہے ہیں، کچھ پیدل ہیں تو کچھ لاغر سواریوں پر، کوئی براستہ سمندر پہنچنے کی سعی میں ہے تو کوئی بذریعہ ہوائی جہاز، کسی نے پیٹ کاٹ کر آنہ آنہ جمع کرکے رختِ سفر کا انتظام کیا ہے تو کسی نے خون پسینہ بہاکر مطلوب تک پہنچنے کا تہیہ کر رکھا ہے، دل بیت اللہ اور شعائر اللہ کی تعظیم سے لب ریز ہیں تو زبانوں پر ’’لبیک اللّٰہم لبیک‘‘ کی صدائیں ہیں۔ معمارِ کعبہ‘ ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر تاحال اس گھر اور اس سے متعلقہ اشیاء اور کرداروں میں عشق کی خوشبو ایسی بسی ہے کہ دیگر عناصر پر غالب محسوس ہوتی ہے۔
آزر کے گھر توحید کے علم بردار کو پیدا کرکے حق تعالیٰ شانہ نے اس کے دل میں اپنا ایسا عشق بسایا کہ زندگی کے جس موڑ پر جو حکم دیا آنکھ بند کر کے اس پر سرِتسلیم خم کیا اور دل کی توجہ لمحے بھر کے لیے بھی کسی دوسری جانب نہ گئی، بے آب و گیاہ صحرا میں لختِ جگر اور رفیقِ حیات کو تنہا چھوڑنا ہو یا جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنا، ترکِ وطن اور طویل اسفار ہوں یا سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان مادی اسباب کے بغیر اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان گھر کی تعمیر، بادشاہِ وقت سے مناظرے ہوں یا وقت کے طاغوت کی بھڑکائی ہوئی محیر العقول آگ میں جانا، عقلِ انسانی اس کے پیمانۂ عشق کا اندازہ لگانے سے عاجز ہے: 

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

اس عاشقِ صادق سے بیت اللہ کی تعمیر کرواکر حکم دیا گیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کرے، یہ حکم بجائے خود عشق و عقل کا امتحان تھا، موقع پر نہ تو انسانوں کا مجمع تھا نہ ذرائعِ مواصلات، لیکن جب حکمِ اَذاں ہوا تو اللہ کے خلیل نے فوراً تعمیل کی، اس پاکیزہ وپُرخلوص پکار کی تاثیر کچھ ایسی تھی کہ تاحال عشاق اس کی طرف وارفتہ دوڑ رہے ہیں، اور ان شاء اللہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ 
الغرض بیت اللہ کے گوشے گوشے اور اِرد گرد کے علاقے میں اس پاکیزہ گھرانے کے جذبۂ عشق کی یادگاریں رکھ دی گئی ہیں، مقامِ ابراہیم ہو یا صفا و مروہ کے درمیان سعی، جمرات کی رمی ہو یا اس کے قریب مذبحِ اسماعیل، عرفات کا میدان ہو یا منیٰ کی وادی، سب اس عاشق گھرانے کے جذبۂ عشق کی ایسی یادگاریں ہیں جنہیں دیکھنا بھی عبادت قرار دے دیا گیا۔
حج کی عبادت‘ عشقِ الٰہی کی اِن یادگاروں سے جڑی ایک عاشقانہ عبادت ہے، دینِ اسلام دینِ فطرت ہے، اس نے فطرت کے ہر تقاضے کو اعتدال کے ساتھ پورا کرنے کا سامان بہم پہنچایا ہے، انسانی سرشت میں عشق و محبت کا جذبہ بھی رکھاگیا ہے، اگر اسے خالقِ انسانیت کی مرضیات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے فانی دنیا میں لگادیا جائے تو یہ ناجائز عشق ٹھہرتا ہے، اور یہی جذبہ جب اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کے حکم کی اتباع میں ہو تو عشقِ حقیقی اور باعثِ ثواب ٹھہرتا ہے، ارشادِ خداوندی ہے:
’’وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلہِ‘‘ (البقرۃ: ۱۶۵)
ترجمہ: ’’اور جو مؤمن ہیں ان کو (صرف) اللہ تعالیٰ کے ساتھ نہایت قوی محبت ہے۔ ‘‘(بیان القرآن: ۱/۱۱۵، ط: مکتبہ رحمانیہ، لاہور)
بیت اللہ سے محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کا ہی تقاضا ہے، کامل مسلمان وہ ہے جس کے دل میں اللہ تعالیٰ اور دین کی یادگاروں کی تعظیم اور محبت ہو، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰہِ فَإِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ‘‘ (الحج:۳۲)
ترجمہ: ’’اور سن لو کہ جو شخص دینِ خداوندی کی ان (مذکورہ) یادگاروں کا پورا لحاظ رکھے گا، تو ان کا یہ لحاظ رکھنا خدا تعالیٰ سے دل کے ساتھ ڈرنے سے ہوتا ہے۔‘‘ (بیان القرآن: ۲/۵۲۰، ط: مکتبہ رحمانیہ، لاہور)
اصل مطلوب تو اللہ تعالیٰ کی محبت ہے، یہ درو دیوار اور حجر و مقام مطلوبِ اصلی نہیں، لیکن ہم انسان فانی، ناقص اور محدود ہیں، اپنے جذبات کے اظہار میں محسوسات کے محتاج ہیں، انسان کو کسی سے عشق ہو تو وہ چاہتا ہے اسے دیکھے، اس کے پاس جائے، اس سے گفتگو کرے، اس کے درو دیوار کو چومے، اس کے گھر کے چکر لگائے، کوچہ و بازار گھومے، اور وصل نصیب ہوجائے تو اس سے لپٹ کر روئے، اس کے قدم اور ہاتھ چومے:

أمرّ علی الدیارِ دیارِ لیلی

أقبّل ذا الجدار و ذا الجدار

و ما حبّ الدیار شغفن قلبي

و لٰکن حبّ من سکن الدیار

انسان کو جب اللہ تعالیٰ سے محبت کا حکم دیا گیا تو انسانی فطرت کا تقاضا تھا کہ اسے عشقِ خداوندی کی کچھ یادگاریں بھی دی جاتیں، جن کی طرف سفر کرکے، ان کے چکر لگاکر، وہاں کے درو دیوار کو چوم کر، ان سے لپٹ کر اپنے جذبۂ عشق کی تسکین کرتا، اور ان مقاصد کے حصول کے دوران سچے عاشق کی طرح، شاہانہ طمطراق اور رئیسانہ وضع کو ترک کرتا، سفر کی مشقتیں برداشت کرکے پراگندہ ہیئت محبوب کے در پر جاپہنچتا کہ اس کی قربانیاں دیکھ کر محبوب کو رحم آجائے، اللہ تعالیٰ نے ان کیفیات کے حصول اور محبت کے جذبات کی تسکین کے لیے حج کی عاشقانہ عبادت اور بیت اللہ اور اس کے اِردگرد عشقِ الٰہی کی یہ یادگاریں مقرر فرمادیں۔
دُور اُفتادہ علاقوں سے بیت اللہ تک سفر، فاخرانہ لباس چھوڑ کر دو چادریں زیبِ تن کرنا، خوشبو کے استعمال سے گریز، میلاکچیلا بدن، پراگندہ حالت، بال ناخن نہ کاٹنا، سخت سردی و گرمی کے باوجود سر نہ ڈھانپنا، اپنی سپردگی کا اظہار بآوازِ بلند تلبیہ کی صداؤں سے کرنا، دیارِ محبوب میں دیوانہ وار چکر لگانا، کبھی دوڑنا، کبھی سربسجود ہوکر محبوب کو منانے کی کوشش کرنا، کبھی منیٰ کی وادی میں پڑاؤ ڈالنا تو کبھی سخت گرمی میں عرفہ کے میدان میں محبوب کی معرفت کی راہیں تلاش کرنا، مزدلفہ میں سخت سردی میں کھلے آسمان تلے رات گزارنا اور محبوب کے دشمن کو کنکریاں مارنا یہ سب عاشقانہ ادائیں ہی تو ہیں، یوں تسکین نہیں ہوتی تو بالآخر اپنی جان کی قربانی کے جذبے سے سرشار ہوکر جانور کی قربانی کے لیے تیار ہوجاتا ہے، سر کے بال منڈوا کر دوبارہ محبوب کے گھر پہنچ کر چکر لگانا شروع کرتا ہے، درِ محبوب سے جاچمٹا ہے، بابِ کعبہ پر گریہ و زاری کرتا ہے، حجرِ اسود کو بوسہ دیتا ہے اور ملتزم سے سینہ چمٹا کر بلک بلک کر روتا ہے، یہاں اللہ تعالیٰ اُسے محبوب کی دست بوسی و قدم بوسی کی لذت و لطف عطا فرماتا ہے۔ الغرض حاجی اس پاکیزہ سر زمین پر پہلا قدم رکھتے ہی بے خودی کے عالم میں محو ہوجاتا ہے، پھر اپنی ذات اور شان کی فکر سے بھی اسے کراہت محسوس ہوتی ہے، درویش ہو یا بادشاہ، وقت کا ولی ہو یا گناہ گار، اس مقام پر جتنی فنائیت بڑھتی ہے اتنا قرب بڑھتا جاتا ہے۔

عشق کا پہلا درس: فنائیت اور اطاعتِ کامل 

حج کی پوری عبادت میں قدم قدم پر عقل کے بت توڑے گئے ہیں، فنائیت اور اطاعتِ کامل کا درس دیا گیا ہے، یہ سکھایا گیا کہ عاشقِ صادق وہی ہوتا ہے جو محبوب کی چاہت اور اشارۂ ابرو پر جان قربان کرنے کے لیے تیار رہے، خواہ اس کا حکم سمجھ میں آئے یا نہیں۔ حرم شریف میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر قرار دیا گیا ہے، لیکن جب اسے حکم ہوتا ہے کہ بیت اللہ کو چھوڑ کر میدانِ عرفات میں نمازیں ادا کرنی ہیں تو سخت گرمی میں وہاں پہنچ جاتاہے، جہاں سال کے بقیہ ۳۵۳ دنوں میں کوئی عبادت انجام نہیں دی جاتی۔ شیطان جو نظر نہیں آتا اسے چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے مارنے کا حکم دیا گیا، اسی میں شیطان کے لیے شدید تکلیف اور رسوائی ہے۔ منیٰ میں قربانی کا خون بہانے میں بظاہر حاجی کا فائدہ نہیں ہے، لیکن افضل حج اسے قرار دیا گیا جس میں قربانی بھی ہو، اور جتنی زیادہ ہو اتنی فضیلت ہے۔ عقل کے پیمانے پر یہ احکام نہیں اُترتے، ہاں! عشق کے پیمانے پر پورے اُترتے ہیں کہ اسلام نام ہی سرِتسلیم خم کرنے کا ہے:

سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے

عشق کا دوسرا درس: قربانی اور اس کی حقیقت

حج میں دوسرا اہم پہلو قربانی ہے، پورے سفر میں قدم قدم پر قربانیاں ہیں، کہیں مال کی قربانی، کہیں خواہش کی قربانی، کہیں نفس اور اَنا کی قربانی، رفقاءِ سفر کی خاطر اپنی رائے اور راحت کی قربانی، اور انجامِ کار ’’یوم النحر‘‘ میں اپنی جان قربان کرنے کے جذبے کے پیشِ نظر جانور کی قربانی! قربانی حج کی ہو یا عید الاضحیٰ کی، اس میں جذبۂ ایثار اور سپردگی کے کمال کی تربیت دی گئی ہے۔ جانور کی قربانی درحقیقت انسانی جان کی قربانی کا بدل ہے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی قربانی قبول فرماکر جانور کی قربانی کو اس کا بدل قرار دے دیا: 
’’وَفَدَيْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ‘‘  (الصّٰفّٰت:۱۰۷)
ترجمہ: ’’اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا ۔‘‘ (بیان القرآن: ۳/۲۵۸، ط: مکتبہ رحمانیہ، لاہور)
لہٰذا قربانی کی رُوح اور حقیقت جان نثاری و جاں سپاری کا جذبہ ہے، انسان ہر وقت یہ سوچے کہ یہ جان اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، مجھے ہر وقت اس کی قربانی کے لیے تیار رہنا ہے، یہ تو اللہ تعالیٰ کا کرم ہوا کہ اس نے اپنی رحمت سے اسے جانور کی قربانی سے تبدیل فرمادیا، اسی جذبے کی تجدید کے لیے اللہ تعالیٰ نے سنتِ ابراہیمی کو ہمارے لیے سالانہ عبادت قرار دے دیا۔

جذبۂ عشق کا نتیجہ

حج کی عبادت میں جذبۂ عشق و فنائیت اور ایثار و قربانی کا نتیجہ عالم گیر اتحاد و یگانگت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، پوری دنیا سے مختلف طبقات اور رنگ و نسل کے لوگ اپنے درمیان فرق مٹاکر جمع ہوتے ہیں، بادشاہ ہو یا فقیر، گناہ گار ہو یا اللہ کا ولی، ہر ایک کا لباس یکساں ہے، ہر ایک نے میدانوں، وادیوں اور اللہ کے گھر کے چکر لگانے ہیں، اس کی برکت سے ہر ایک کے دل میں دوسرے کے لیے برداشت اور احترام کے جذبات پیدا ہوتے ہیں، بسا اوقات عفو و درگزر کے وہ مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ کہیں اور ان کا تصور بھی مشکل ہوتا ہے، یہ اسی جذبۂ عشق ومحبت وفنائیت کے نتائج ہیں۔ دوسروں کو معاف کرنے اور تواضع اختیار کرنے میں اللہ تعالیٰ نے عجیب تاثیر رکھی ہے، بندہ خدا کی خاطر جتنا جھکتا ہے، اتنا ہی بلند ہوتا جاتا ہے، صحیح مسلم میں ہے: 
’’ما زاد اللہ عبدًا بعفو إلا عزًّا، و ما تواضع أحد للہ إلا رفعہ اللہ۔‘‘ 
یعنی ’’اللہ تعالیٰ دوسروں کو معاف کرنے کے نتیجے میں بندے کی عزت ہی بڑھاتے ہیں، اور جو اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرے اللہ تعالیٰ اسے ضرور بلند فرماتے ہیں۔‘‘
یہ حقیقت ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے لیے خود کو فنا کردیتا ہے، اسے اللہ تعالیٰ بقا عطا فرمادیتے ہیں:

فنا فی اللہ کی تہ میں بقا کا راز مضمر ہے
جسے مرنا نہیں آتا اسے جینا نہیں آتا

’’بیت اللہ‘‘ انسانیت کی بقا کا ضامن

فنائیت کی تہ میں انسانیت کی بقا کے راز کا درس‘ سالانہ بنیاد پر اُس گھر میں جمع کرکے دیا جاتا ہے، جس کے مبارک وجود میں انسانیت کی بقا اور اس کا قیام مضمر رکھا گیا ہے، قرآنِ مجید میں ہے:
’’جَعَلَ اللہُ الْکَعْبَۃَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ‘‘ (المائدۃ:۹۷)
ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو جو کہ ادب کا مکان ہے لوگوں کے لیے قائم رہنے کا سبب قرار دے دیا۔‘‘  (بیان القرآن:۱/۵۱۷، ط: مکتبہ رحمانیہ، لاہور)
 یعنی یہ گھر انسانوں اور ان کے دینی و دنیاوی منافع کی بقا اور قیام کا ذریعہ ہے، دوسری جگہ ارشاد ہے:
’’إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَکَّۃَ مُبَارَکًا وَّہُدًی لِّلْعٰلَمِيْنَ‘‘    (آل عمران:۹۶)
ترجمہ: ’’یقیناً وہ مکان جو سب سے پہلے لوگوں کے واسطے مقرر کیا گیا وہ مکان ہے جو مکہ میں ہے، جس کی حالت یہ ہے کہ وہ برکت والا ہے اور جہاں بھر کے لوگوں کا راہنما ہے۔‘‘(بیان القرآن: ۱/۲۶۲، ط: مکتبہ رحمانیہ، لاہور)
 یعنی انسانوں کی ہدایت کے لیے سب سے پہلے یہ بابرکت گھر بنایا گیا، جب کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی تخلیق کے وقت سب سے پہلے وجود میں آنے والا حصہ یہی بقعۂ مبارکہ ہے، پھر انسان کے دنیا میں بسنے سے پہلے ہی فرشتوں کے ذریعے اس گھر کی تعمیر اور بنیاد رکھوائی گئی، حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  تک انبیاءِ کرام علیہم السلام کو اس کے حج اور اس کی طرف رخ کرکے عبادت کا حکم دیا گیا، انسانیت کی ابتدا سے تاقیامت انسانوں کی روحانی ضروریات کا سامان بھی یہاں سے ہوتا رہے گا اور دنیاوی ضروریات کا بھی، فرمانِ خداوندی ہے:
’’أَوَلَمْ نُمَکِّنْ لَّہُمْ حَرَمًا ءَامِنًا يُّجْبَیٰٓ إِلَيْہِ ثَمَـرَٰتُ کُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّن لَّدُنَّا وَلٰکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ‘‘ (القصص: ۵۷)
 ترجمہ: ’’کیا ہم نے ان کو امن و امان والے حرم میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل کھچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس (یعنی ہماری قدرت اور خدائی) سے کھانے کو ملتے ہیں، لیکن ان میں اکثر لوگ (اس کو) نہیں جانتے۔‘‘        (بیان القرآن:۳/۹۶، ط: مکتبہ رحمانیہ، لاہور)
دوسری جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا‘‘  (البقرۃ: ۱۲۵)
ترجمہ: ’’اور وہ وقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ جس وقت ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کا معبد اور (مقام) امن (ہمیشہ سے) مقرر رکھا۔‘‘
چناں چہ اس گھر میں ایسی مقناطیسی کشش رکھ دی گئی ہے کہ پورا سال تسلسل کے ساتھ اطرافِ عالم کے لوگ، دنیا جہاں کا کاروبار اور ہر نوع کی مصنوعات اس کی طرف کھچی چلی آتی ہیں، بالخصوص اشہرِ حُرم کی اِن پاکیزہ ساعتوں میں یہ مقام منتخب قدسی نفوس کی جلوہ گاہ ہوتا ہے، ان کی برکت سے اُمت کی مغفرت کے فیصلے ہوتے ہیں، اور خدائے دوجہاں کی رحمتیں متوجہ ہوتی ہیں، اس گھر کی یہ رونقیں اور ذکراللہ کی یہ فضا روئے زمین کی بقا کی ضامن ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بیت اللہ کی تخریب و ویرانی کو قیامت کی آخری علامت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، گویا بیت اللہ کی بقا ذکر اللہ کی بقا کا ذریعہ اور ذکر اللہ انسانیت کی بقا کا ذریعہ ہے:

دنیا کے بت کدے میں پہلا وہ گھر خدا کا
ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا

حج کا پیغام اُمتِ مسلمہ کے نام

ہر سال عشق و محبت کے پروانوں کا بیت اللہ میں اجتماع رکھ کر جہاں انہیں اپنی بقا و قیام کے ذریعے سے جوڑا جاتا ہے، وہیں حج کے اس عظیم الشان عالم گیر اجتماع میں اُمتِ مسلمہ کی عشق و فنائیت اور ایثارو قربانی کے پہلو سے تربیت کی جاتی ہے کہ جیسے حاجی عشقِ حقیقی کے جذبے میں خود کو فنا کردیتا ہے، اور حج میں قدم قدم پر ایک دوسرے کے لیے ایثار اور قربانی دلوائی جاتی ہے، اسی طرح پوری اُمتِ مسلمہ اگر ہر وقت اللہ تعالیٰ کے عشقِ حقیقی میں ڈوب کر خود کو فنا کردے، ہر وقت دلوں میں ایک دوسرے کے لیے ایثار و قربانی کا جذبہ بیدار رہے، دوسروں کے ساتھ تواضع کا برتاؤ ہو، مختلف طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کا ہنر پیدا ہو، رفقاء و شرکاء کی رائے سننے، سمجھنے اور ضرورت ہو تو قبول کرنے کا ملکہ پیدا ہو، تو آپس کی رنجشیں اور مشکلات ختم ہوجائیں اور زندگی کے مراحل آسان ہوجائیں، دنیا کی ترقیات بھی ہوں، اور روحانیت کے مدارج بھی طے ہوں، کیا ہی اچھا ہوکہ مسلمانانِ عالم حج کی عبادت سے یہ دروسِ عبرت حاصل کریں، اور انفرادی و اجتماعی زندگی کو ان خطوط پر استوار کرلیں۔ 
خصوصاً ہمارا ملک اِس وقت جن مخاصمات و مجادلات اور داخلی انتشار سے گزر رہا ہے، حج کی عبادت ان دونوں پہلوؤں سے ہمیں متوجہ کررہی ہے کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور مختلف فریق ملک و ملت کے مفاد میں ایک درست مقصد پر جمع ہوجائیں، اپنی اَنا، شہرت، رائے اور مفادات کی قربانی دیں، دوسروں کے ساتھ چلنے اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا ظرف پیدا کریں، جہاں حق کے لیے جان کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے، وہاں کم از کم اپنی رائے اور ذاتی یا وقتی مفادات کی قربانی کوئی بڑی چیز نہیں ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ اسی میں ملک وملت کا مفاد ہے، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اُمید ہے کہ اس میں ملک کی ترقی و استحکام بھی مضمر ہے۔ 
اپنی معروضات اس پر تاثیر دعا پر ختم کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے عرفہ کی شام میں مانگی تھی اور حجاجِ کرام میدانِ عرفہ میں اس میں مشغول ہوں گے:
’’اَللّٰہُمَّ ‌إِنَّکَ ‌تَسْمَعُ کَلَامِيْ وَ تَرٰی مَکَانِيْ وَ تَعْلَمُ سِرِّيْ وَ عَلَانِيَتِيْ لَايَخْفٰی عَلَيْکَ شَيْءٌ مِّنْ اَمْرِيْ وَ اَنَا الْبَائِسُ الْفَقِيْرُ الْمُـسْتَغِيْثُ الْمُـسْتَجِيْرُ الْوَجِلُ الْمُـشْفِقُ الْمُـقِرُّ الْمُـعْتَرِفُ بِذَنْبِہٖ، اَسْألُکَ مَسْاَلَـۃَ الْمِسْکِيْنِ و اَبْتَہِلُ إِلَيْکَ ابْتِہَالَ الْمُـذْنِبِ الذَّلِيْلِ وَ اَدْعُوْکَ دُعَاءَ الْخَائِفِ الضَّرِيْرِ وَ دُعَاءَ مَنْ خَضَعَتْ لَکَ رَقَـبَـتُہٗ وَ فَاضَتْ لَکَ عَبْرَتُہٗ وَ ذَلَّ جَسَدُہٗ وَ رَغِمَ لَکَ اَنْفُہٗ ، اَللّٰہُمَّ لَاتَجْعَلْنِيْ بِدُعائِکَ شَقِيًّا وَّ کُنْ بِيْ رَؤوْفًا رَّحِيْمًا يَّا خَيْرَ الْمَـسْئُوْلِيْنَ وَ يَا خَيْرَ الْمُـعْطِيْنَ!‘‘
ترجمہ: ’’اے اللہ! تو میری بات سنتا ہے اور میں جہاں جس حال میں ہوں تو اس کو دیکھتا ہے، اور میرے ظاہر و باطن سے تو باخبر ہے، تجھ سے میری کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں، میں دکھی ہوں، محتاج ہوں، فریادی ہوں، پناہ جو ہوں، ترساں ہوں، ہراساں ہوں، اپنے گناہوں کا اقراری ہوں، تجھ سے سوال کرتا ہوں، جیسے کوئی عاجز مسکین بندہ سوال کرتا ہے، تیرے آگے گڑگڑاتا ہوں، جیسے گناہ گار ذلیل و خوار گڑگڑاتا ہے اور تجھ سے دعا کرتا ہوں، جیسے کوئی خوف زدہ آفت رسیدہ دعا کرتا ہے، اور اس بندے کی طرح مانگتا ہوں جس کی گردن تیرے سامنے جھکی ہوئی ہو اور آنسو بہہ رہے ہوں اور تن بدن سے وہ تیرے آگے فروتنی کیے ہوئے ہو اور اپنی ناک تیرے سامنے رگڑ رہا ہو۔ اے اللہ! تو مجھے اس دعا مانگنے میں ناکام و نامراد نہ رکھ اور میرے حق میں بڑا مہربان اور رحیم ہوجا، اے ان سب سے بہتر و برتر جن سے مانگنے والے مانگتے ہیں اور جو مانگنے والوں کو دیتے ہیں!۔‘‘

وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد و علٰی آلہٖ و صحبہٖ أجمعین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین