بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

بینات

 
 

تصویر کی حرمت قرآن وسنت کی روشنی میں (آخری قسط )

تصویر کی حرمت قرآن وسنت کی روشنی میں          (آخری قسط )

تصویر کے مجوزین کے دلائل کے جوابات بعض لوگ جو مغرب سے متأثر ہیں، خصوصاً مصر کے ڈاڑھی منڈے برائے نام علماء تصویر کے جواز کے قائل ہیں، وہ اس پر چند دلائل پیش کرتے ہیں۔ اب ان کے دلائل کے جوابات دیئے جاتے ہیں: مجوزین کی پہلی دلیل: ان کی ایک دلیل یہ آیت ہے:  ’’یَعْمَلُوْنَ لَہٗ مَا یَشَآئُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَتَمَاثِیْلَ وَجِفَانٍٍ کَالْجَوَابِ وَقُدُوْرٍ رَّاسِیَاتٍ‘‘۔                                                       (السبأ:۱۳) ترجمہ:…’’وہ (جنات) ان (حضرت سلیمان علیہ السلام)کے لئے ان کی خواہش کے مطابق قلعے، تصویریں، تالاب جیسے لگن اور بڑی بڑی ہانڈیاں جو ایک جگہ جمی رہتی تھیں، بنایا کرتے تھے‘‘۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں یہ بتایا ہے کہ وہ جنات سے تصویریں بنواتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تصویر سازی جائز ہے، اگر ناجائز ہوتی تو حضرت سلیمان علیہ السلام ہرگز یہ کام جنات سے نہ کرواتے۔ جواب: اس آیت میں لفظ ’’تماثیل‘‘ آیا ہے اور’’ تماثیل‘‘ جمع ہے ’’تمثال‘‘ کی اور ’’تمثال‘‘ ہر وہ چیز ہے جو کسی دوسری شئے کے مشابہ بنائی جائے، خواہ حیوان ہو یا غیر حیوان تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنات سے جو تصویریں بنوائی ہیں، وہ بے جان چیزوں کی تھیں، نہ کہ جاندار کی۔ اگر بالفرض ان سے جاندار اشیاء کی تصاویر ہی مراد ہوں، تب بھی اس سے تصویر کا جواز ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے کا ذکر ہے اور اُصولِ فقہ کا مسلمہ قاعدہ یہ ہے کہ جب قرآن وحدیث میں پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات مذکور ہوں،ان سے شریعت محمدیہ میں کسی مسئلہ پر اس وقت استدلال کیا جاسکتا ہے جب قرآن وحدیث میں اس کے خلاف کوئی حکم موجود نہ ہو، یہاںچونکہ تصویر کی حرمت پر صحیح احادیث موجود ہیں، اس لئے حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعہ سے استدلال کرنا درست نہیں ہے، یہی تفصیل تفسیر قرطبی میں ہے: ’’تماثیل جمع تمثال ہو کل ما صور علی مثل صورۃمن حیوان أو غیر حیوان قیل کانت… من أشیاء غیر حیوان وذکر أنہا صور الأنبیاء والعلمائ… وہذا یدل علی أن التصویر کان مباحا فی ذلک الزمان ونسخ ذلک بشرع محمد ا‘‘۔                         (قرطبی،ج:۱۴،ص:۱۷۴) دوسری دلیل: ان لوگوں کی ایک دلیل ایک حدیث ہے، جس کا ترجمہ یوں ہے: ’’بسر بن سعید روایت کرتے ہیں زید بن خالد سے اور وہ روایت کرتے ہیں حضرت ابو طلحہؓ سے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا : بے شک فرشتے داخل نہیں ہوتے ہیں اس گھر میں جس میں تصویر ہو۔ بسر کہتے ہیں کہ اس کے بعد ایک دفعہ زید بن خالد بیمار ہوئے، ہم اس کی بیمار پرسی کے لئے ان کے گھر گئے، وہاں دروازے پر ایک پردہ دیکھا جس میں تصویریں تھیں تو میں نے عبید اللہ سے عرض کیا کہ کیا زید بن خالد نے پہلے دن وہ حدیث بیان نہیں کی؟ (جس میں تصویر کی حرمت کا بیان تھا) عبید اللہ نے کہا : آپ نے ان سے یہ نہیں سنا جو انہوں نے اس حدیث میں کہا ’’إلا رقم فی ثوب‘‘ یعنی اگر کپڑے میں کوئی نقش ہو، وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہے‘‘۔            (بخاری ص:۸۸۱،مسلم ج:۲،ص:۲۰۰) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ا نے کپڑے پر بنی ہوئی تصویر کو دوسری تصویروں کے حکم سے مستثنیٰ کرکے جائز قرار دیا ہے تو صرف وہ تصویریں ناجائز ہیں جو مجسموں کی شکل میں ہوں۔ جواب: زید بن خالد کے دروازے کے پردے پر بے جان چیزوں کے نقشے تھے، مگر بسر نے ان کو بھی جاندار تصویروں کے حکم میں شمار کیا تھا ، لیکن عبید اللہ نے ان کو آگاہ کیا کہ کپڑے کا نقش ونگار جاندار تصویر کے حکم سے مستثنیٰ ہے اور یہ استثناء خود اسی حدیث میں ’’إلا رقم فی ثوب‘‘ کے جملہ میں موجود ہے۔ ’’رقم‘‘ کے معنی نقش کے ہیں، جیسے کہ ابن اثیرؒ نے لکھا ہے:’’ الرقم النقش‘‘ تو اس حدیث سے بے جان اشیاء کی تصویروں، جیسے: کپڑے پر بنی ہوئی دھاریوں، پھول، پتیوں ،وغیرہ کا جواز ثابت ہوتا ہے۔جاندار چیزوں کی تصویر کی اجازت قطعاً نہیں ملتی ، چنانچہ علامہ نوویؒ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے: ’’وجواب الجمہور عنہ أنہ محمول علی رقم علی صورۃ الشجر وغیرہ ممالیس بحیوان وقدمنا أن ہذا جائز‘‘۔              (شرح المسلم ج:۲،ص:۲۰۰) تیسری دلیل: احادیث میں تصویر کی ممانعت در اصل ان تصاویر کے ساتھ مخصوص ہے، جنہیں بت پرستی کے لئے بنایا گیاہو یا وہ بت پرستی میں استعمال ہوتی ہوں اور جو تصویریں مشرکانہ نوعیت کی نہ ہوں، وہ ممنوع نہیں ہیں۔ جواب: یہ نظریہ خالص نفسانی خواہشات پر مبنی ہے۔ دین اسلام میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے، کیونکہ تصویر کی ممانعت کی دو درجن سے زائد احادیث آئی ہیں، ان تمام احادیث میں ممانعت کا حکم مطلق آیا ہے، ان میں اس طرف کوئی خفیف سا اشارہ بھی نہیں ہے۔ اگر رسول اللہ ا کا مقصد یہ ہوتا کہ تصویر صرف وہ ناجائز ہے جو پرستش کی غرض سے بنائی گئی ہو، تو آپ ا کم از کم کسی ایک موقع پر ممانعت کو اس شرط کے ساتھ ضرور مشروط فرماتے۔ مگر آپ ا نے تصویر کا حکم بارہا سنا یا، لیکن ایک مرتبہ بھی کوئی ایسا اشارہ نہیں دیا، جس سے اس حکم کی علت شرک یا بت پرستی معلوم ہوتی ہو۔ بلکہ اس کے بجائے آپ ا نے متعدد احادیث میں ممانعت کی وجہ یہ فرمائی کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے۔ ملاحظہ ہو: حدیث نمبر: ۳، ۴، ۵، ۶، ۷ اور یہ علت مطلق تصویر میں موجود ہے۔ چوتھی دلیل: ایک نقطۂ نظر یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ جن احادیث میں تصویر کی ممانعت آئی ہے، وہ ابتدائے اسلام سے متعلق ہیں، چونکہ اہل عرب بت پرستی کے عادی رہے تھے، اس لئے شروع میں یہ خطرہ تھا کہ اسلام لانے کے بعد بھی تصویروں کا وجود رفتہ رفتہ پھر اُنہیں پرانے مشغلے تک نہ لے جائے، اس لئے تصویروں کی ممانعت کردی گئی تھی، لیکن جب اسلامی مزاج اور مذاق لوگوں کے رگ وپے میں سرایت کرگیا اور بت پرستی کا کوئی خطرہ نہ رہا تو تصویرکی حرمت کا حکم بھی نہ رہا۔ جواب: بے شک اسلام کے بہت سے احکام ایسے ہیں جو ابتدائی دور کے لئے تھے، بعد میں باقی نہ رہے، لیکن یہ بات اس وقت کہی جاسکتی ہے جب ابتدائی دور کے احکام کو منسوخ کرنے کے لئے اسی وقت کے ساتھ دوسرے احکام قرآن کریم یا احادیث میں آگئے ہوں، جن کو پہلے احکام کا ناسخ قرار دیا جاسکے، مثلاً رسول اللہ ا نے ابتدائے اسلام میں قبروں پر جانے سے منع فرمایا تھا، لیکن کچھ عرصہ کے بعد وضاحت کے ساتھ ارشاد فرمایا: ’’کنت نہیتکم عن زیارۃ القبور ألا فزوروہا‘‘۔         (مسلم، ج:۱،ص:۳۱۴) ترجمہ:…’’ میں نے تم کو پہلے قبروں پر جانے سے منع کیا تھا، لیکن اب خوب سن لو! تم قبروں پر جاسکتے ہو‘‘۔  نیز آپ ا نے ابتداء میں شراب کی نفرت دل میں بٹھانے کے لئے ان تمام برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا تھا جو شراب نوشی میں استعمال ہوتے تھے، لیکن بعد میں جب شراب کی نفرت دلوں میں پیوست ہوگئی تو آپ ا نے وضاحت کے ساتھ فرمایا : ’’کنت نہیتکم عن الأشربۃ فی ظروف الأدم فاشربوا فی کل وعاء غیر أن لاتشربوا مسکرا‘‘۔                                 (مسلم،ج:۲،ص:۱۶۷) ترجمہ:…’’میں نے تم کو چمڑوں کے برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا، اب تم ہر برتن میں پی سکتے ہو، البتہ کو ئی نشہ آور چیز نہ پیو‘‘۔ لیکن تصویر کے معاملے میں نبی کریم ا نے ایسی کوئی بات کبھی ارشاد نہیں فرمائی جو سابقہ ممانعت کو منسوخ کرنے پر دلالت کرتی ہو۔ اگر تصویر کی ممانعت کا حکم بھی صرف ابتدائی دور کے ساتھ مخصوص ہوتا تو آپ ا یقینا کسی مرحلے پر واضح طور پر اس ممانعت کے خاتمے کااسی طرح وضاحت سے اعلان فرماتے، جس وضاحت کے ساتھ شراب کے برتنوں وغیرہ کے معاملے میں اعلان فرمایا، لیکن کوئی حدیث بھی ایسی نہیں ملتی، جس میں تصویر کو جائز قرار دیا ہو۔ اور یہ بھی ایک طے شدہ مسئلہ ہے کہ قرآن کریم یا سنت کا کوئی حکم محض قیاس ومفروضہ سے منسوخ نہیں ہوسکتا، ورنہ قرآن وسنت کے ہرحکم کے بارے میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس حکم کا اصل فلسفہ یہ تھا، اب یہ منسوخ ہے، مثلاً کہا جاسکتا ہے کہ خنزیر کی حرمت اس لئے تھی کہ اس دور کے خنزیر میلے کچیلے تھے اور آج چونکہ ان کو صاف رکھنے کا انتظام کیا جا تاہے، اس لئے اب یہ حکم باقی نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے قیاس سے قرآن وسنت کے کسی حکم کو منسوخ کرنا باطل ہے تو تصویر کی حرمت کو بھی محض قیاس سے منسوخ کرنا باطل ہے۔ پانچویں دلیل: بعض حضرات اس بات کو دوسرے اسلوب میں اس طرح کہتے ہیں کہ یہاں کسی حکم کا منسوخ ہونے کا سوال نہیں، بلکہ تصویر کی ممانعت کی علت بت پرستی کا خطرہ تھی، جب یہ ممانعت ختم ہوگئی تو حکم خود بخود ختم ہوگیا۔ جواب: یہ بات بھی کئی وجوہ سے باطل ہے، اول تو اس لئے کہ بالفرض یہ علت تسلیم بھی کرلی جائے تو یہ کون کہہ سکتا ہے کہ بت پرستی کا خطرہ دنیا سے ختم ہوچکا ہے؟ کیا اب بھی دنیا کی آبادی کا شاید اکثر حصہ بت پرستی میں مبتلا نہیں ہے؟دوسری یہ کہ قرآن وحدیث کے کسی حکم کی علت نکالنے کے لئے کوئی بنیاد خود قرآن وحدیث ہی میں ہونی چاہئے اور یہاں یہ بنیاد نہ صرف مفقود ہے، بلکہ اس کے خلاف حدیث میں دوسری علت بیان کی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ تخلیق کے ساتھ مشابہت ہے۔ تیسری یہ کہ تصویر کی حرمت کی علت بت پرستی کا خطرہ ہوتی تو یہ علت اس دن ختم ہوگئی، جب رسول اللہ ا نے مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست قائم فرمادی۔ اور اس کا اعتراف غیر مسلم بھی کرتے تھے کہ جو شخص ایک مرتبہ کلمۂ توحید پڑھ لیتا ہے، وہ آگ میں کودنا گوارہ کر لیتا ہے، لیکن واپس بت پرستی کی طرف لوٹنا گوارہ نہیں کرتا۔ اس کے باوجود آپ ا نے مرض وفات تک تصویروں کے استعمال کی اجازت نہیں دی تو اب وہ کونسا دور ہوگا جن کے لوگ صحابہ کرامؓ سے بھی زیادہ موحد اور مخلص ہوں گے؟ اور رسول اللہ ا کے بعد وہ کونسی اتھارٹی ہوگی ،جو یہ فیصلہ کرسکے کہ اب بت پرستی کا کوئی خطرہ باقی نہیں رہا ،لہٰذا اب یہ حکم باقی نہیں؟ تو مذکورہ وجوہات کی بنا پر یہ نظریہ بھی باطل ہے۔

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے