بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جمادى الاخرى 1443ھ 18 جنوری 2022 ء

بینات

 
 

تبصرہ وتعارف : اشاعت خاص ماہنامہ ’’الحق‘‘، اشاعتِ خاص مجلہ صفدر، تحقیقِ حدیث سبعہ احرُف، الأماني شرح متن الکافي

تبصرہ وتعارف 

اشاعت خاص ماہنامہ ’’الحق‘‘، اشاعتِ خاص مجلہ صفدر، تحقیقِ حدیث سبعہ احرُف، الأماني شرح متن الکافي


ماہنامہ ’’الحق‘‘ کی اشاعت خاص بیاد : حضرت مولانا سمیع الحق شہید رحمہ اللہ

مرتب: مولانا راشدالحق سمیع صاحب و مولانا عبد القیوم حقانی صاحب ۔ کل صفحات :۲۲۰۰۔ قیمت : درج نہیں۔ طباعت : اعلیٰ۔ کاغذ : اعلیٰ ۔ ناشر :مؤتمر المصنفین، جامعہ دارالعلوم حقانیہ ، اکوڑہ خٹک، خیبرپختون خوا۔
 پیش نظر اشاعتِ خاص دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم و شیخ الحدیث، جمعیت علمائے اسلام (س) کے امیر، سابق رکن سینیٹ، ہزاروں فضلائے حقانیہ ومجاہدینِ افغانستان کے محبوب استاذ، مربی وسرپرست،حضرت مولانا سمیع الحق شہید  رحمۃ اللہ علیہ  کے تذکرہ وسوانح ،دینی و ملّی خدمات ، علمی اور عملی کارناموں کی ایک دستاویز ہے۔ حضرت مولانا سمیع الحق شہید رحمۃ اللہ علیہ  کی شخصیت ہمہ جہت تھی، انہوں نے تن تنہا کئی ایسی ذمہ داریاں نبھائیں جو ایک مستقل جماعت اور شاید حکومت بھی نہ کرسکتی، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان خدمات کی بناپر ہر اعتبار سے ان کو سہولیات اور ان کی سیکورٹی کا خاطر خواہ انتظام کیا جاتا، لیکنحضرت مولانا موصوفؒ کو ۲۳؍ صفر ۱۴۴۰ھ مطابق ۲؍ نومبر ۲۰۱۸ء کو دن دہاڑے ان کے گھر میں راولپنڈی میں بے دردی سے شہید کردیا گیا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت شہیدؒ کی شہادت کو قبول فرمائے اور ان کے درجات کو جنت الفردوس میں بلند فرمائے، آمین ثم آمین۔ 
داد دینے کو جی چاہتا ہے مرتبین کی پوری جماعت خصوصاً حضرت مولانا عبدالقیوم حقانی دامت برکاتہم العالیہ کو کہ اپنی مادرِ علمی دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک اور اپنے استاذ حضرت مولانا سمیع الحق شہید رحمۃ اللہ علیہ  کے حقِ رفاقت اور وفا کا استعارہ ہیں، اور تین سال کے مختصر عرصہ میں چار ضخیم جلدوں پر مشتمل اشاعتِ خاص مرتب فرماکر منظرِ عام پر لائے ہیں۔ اس سے پہلے حضرت مولانا سمیع الحق  ؒ کی حیات وخدمات دو جلدوں میں حضرت شہیدؒ کی زندگی میں ہی منصہ شہود پر لانے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ 
اس اشاعتِ خاص کے کل صفحات ۲۲۰۰ ہیں۔ حضرت مولانا سمیع الحق شہید  رحمۃ اللہ علیہ  سے متعلق تقریباً تمام مطبوعہ اور غیر مطبوعہ مواد کو یکجا کردیا گیا ہے، گویا یہ حضرت کی شخصیت سے متعلق ایک انسائیکلو پیڈیا ہے۔ ۴؍ جلدوں پر مشتمل یہ ضخیم اشاعت مندرجہ ذیل ۱۵ ؍ابواب پر مشتمل ہے : 
پہلی جلد چار ابواب پر مشتمل ہے :پہلا باب : نقوشِ حیات۔ دوسرا باب : سیرت وکردار، اوصاف وکمالات۔ تیسرا باب : علمی جامعیت، فضل وکمال اورتقدس وعظمت۔ چوتھا باب : اہلِ قلم واربابِ صحافت کی نظر میں۔دوسری جلد تین ابواب پر مشتمل ہے : پانچواں باب : اہلِ علم ودانش کی نظر میں۔ چھٹاباب : قومی ، ملی، سماجی ، سیاسی وپارلیمانی خدمات۔ ساتواں باب: سفرِآخرت ۔ تیسری جلد بھی تین ابواب پر مشتمل ہے: آٹھواں باب : جہادِ افغانستان ،تحریکِ طالبان اور حضرت شہیدؒ کا مجاہدانہ کردار۔ نواں باب: تصنیفی ،تالیفی اور ادبی خدمات۔ دسواں باب : ملاقاتیں ، مشاہدات وتأثرات۔ چوتھی جلد پانچ ابواب پر مشتمل ہے : گیارھواں باب : زعمائے ملک وملت کے تاثرات ، مکتوبات، خطبات اور پیغامات۔ بارھواں باب : خانوادۂ حقانی کی نظر میں۔ تیرھواں باب : چند یادگار تحریرات، تاریخی انٹرویوز، مشاہیر کے اہم خطبات ومکاتیب بنام مولانا سمیع الحق شہیدؒ۔ چودھواں باب: عربی مضامین وتاثرات۔ پندرھواں باب: منظوم تأثرات ۔
کتاب کا کاغذ اور طباعت عمدہ اور اعلیٰ ہے ۔ ترتیب اور سیٹنگ بھی بہترین اور ٹائٹل دیدہ زیب ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائے ، مولانا مرحوم کی دینی ، علمی اور ملی خدمات کو قبول فرمائے اور بعد والوں کو ان کی سوانح اور خدمات کو نقوشِ راہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ۔

اشاعتِ خاص مجلہ صفدر بیاد: علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ (دو جلد) [شمارہ: جنوری تا ستمبر ۲۰۲۱ء]

مرتب: مولانا حمزہ احسانی صاحب۔ صفحات جلد اول: ۸۳۲۔ صفحات جلد دوم: ۸۴۰۔ قیمت: ۱۴۰۰ (کیش) علاوہ ڈاک خرچ۔ ناشر: مظہریہ دارالمطالعہ۔ اسٹاکسٹ: مکتبۃ الفرقان، اردو بازار، لاہور۔ ملنے کا پتہ: مجلہ صفدر، مکان نمبر:۴، گلی نمبر:۸۲، محمود سٹریٹ، محلہ سردار پورہ، اچھرہ، لاہور۔
حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمۃ اللہ علیہ   (ولادت:۱۹۲۵ء - وفات: ۲۰۲۰ء) کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ دارالعلوم دیوبند کے قدیم فاضل، علومِ عقلیہ ونقلیہ کے جامع، مؤلفِ کتبِ کثیرہ، پختہ مناظر، مسلکِ حقہ کے ترجمان ، ہمہ جہت متبحر اور زیرک عالمِ دین تھے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بےمثال ذہانت وفطانت سے نوازا تھا۔ ایک طویل عرصہ دین وعلم کی اشاعت وخدمت میں مصروف رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے ہر شعبہ میں اپنے دین کی ممتاز خدمت لی ہے۔ آپ کی سوانح ، آپ کی علمی اور دینی خدمات اس قابل ہیں کہ ان سے رہنمائی لی جائے، اسی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے پیش نظر اشاعتِ خاص مرتب کی گئی ہے ۔ 
اشاعتِ خاص کی دو جلدیں ہیں، پہلی جلد سات ابواب اور دوسری جلد پانچ ابواب پر مشتمل ہے، ابواب کے عنوانات درج ذیل ہیں: بابِ اول: آغازِ سخن، فہرست، اشاریہ، وغیرہ۔ بابِ دوم: علامہ صاحبؒ اکابر کی نظر میں۔ بابِ سوم: ہم عصر علماء ومشائخ کے ساتھ باہمی تعلقات۔ بابِ چہارم: تأثرات وتعزیتی پیغامات۔ بابِ پنجم: سوانح۔ بابِ ششم: تصنیفات۔ بابِ ہفتم: رسائل وجرائد کا خراجِ تحسین۔ بابِ ہشتم: اہلِ علم وقلم کے مقالات ومضامین۔ بابِ نہم: افادات (حصہ اول، حصہ دوم، حصہ سوم)۔ بابِ دہم: منظوم خراجِ عقیدت۔ بابِ یازدہم: آئینۂ تحریرات۔ بابِ دوازدہم: آئینۂ تصاویر۔
مواد کی ضخامت اور ترتیب کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کافی محنت کی گئی ہے۔ کتاب کا کاغذ درمیانہ ہے اور طباعت بہتر ہے۔ فنِ مناظرہ سے شغف رکھنے والے علمائے کرام اور طلبہ عظام کے لیے یہ ایک بیش قیمت تحفہ اور نعمتِ غیر مترقبہ ہے۔ اُمید ہے کہ باذوق حضرات ضرور اس کی قدر افزائی فرمائیں گے۔

تحقیقِ حدیث سبعہ احرُف

تالیف: مولانا اسد اللہ خان پشاوری صاحب۔ صفحات:۲۶۴۔ رعایتی قیمت: ۲۲۰۔ کاغذ: عمدہ۔ طباعت: عمدہ۔ ناشر: مکتبۃ الاسد العلمیۃ، شیخ آباد، پشاور
 مسئلہ اختلافِ قراءات مشہور علمی مسئلہ ہے، جمہور علمائے امت کا موقف ہے کہ قرآن کریم کی مشہور قراءت کے علاوہ دیگر نازل شدہ قراءتیں بھی ہیں، جن کا مقصد عرب قبائل کے لہجے مختلف ہونے کی بنا پر ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے، اور امتِ مسلمہ نے علمِ قراءات کی صورت میں ایک مستقل علم کے ذریعے ان قراءتوں کی حفاظت کا اہتمام کیا ہے۔ لیکن بعض لوگ اپنی کم فہمی کی بنا پر اس مسئلہ کو بنیاد بناکر قرآن کریم میں تحریف ثابت کرنے کی کوشش کرتے اور طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔ علوم وتدوینِ قرآن کے موضوع پر لکھی گئی کتابوں میں علمائے امت نے ایسے اعتراضات کے کافی شافی جوابات دیئے ہیں۔ لیکن اس نوع کے اعتراضات کے ردِ عمل میں بعض متجددین نے اختلافِ قراءات کا ہی انکار کردیا، جن میں جاوید احمد غامدی صاحب پیش پیش ہیں، یہ رویہ بھی جمہورِ امت کے موقف کے خلاف ہے۔ پیشِ نظر کتاب میں اس موضوع کا مختلف پہلؤوں سے تجزیہ کیا گیا ہے، کتاب کے مؤلف مولانا اسد اللہ خان، جامعہ کے متخصص فی علوم الحدیث والفقہ الاسلامی ہیں۔ تخصص فی الفقہ کے دوران ایک استفتا کی بنا پر ان کے ذمہ لگا کہ اس مسئلہ پر تحقیقی فتویٰ لکھیں، موصوف نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر موضوع سے متعلق کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد مفصل مقالہ قلم بند کیا، جو جامعہ کے دارالافتاء کے مفتیانِ کرام کی نظر سے بھی گزرا، اب انہوں نے اس مقالہ پر نظرِ ثانی کے بعد اسے کتابی صورت میں شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں حدیثِ سبعۃ احرف کی مفصل تخریج اور اس حدیث کی تشریح کے حوالے سے مذاہبِ ائمہ کی تحقیق کی گئی ہے۔ ابتداء میں استشراق کی مختصر تاریخ اور علمِ قراءات کا قدرے تعارف پیش کیا گیا ہے، اس کے بعد اصل کتاب چھ اہم مباحث پر مشتمل ہے، مآخذ ومصادر کے تنوع سے مؤلف کی محنت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسلوبِ بیان سنجیدہ ، تحقیقی اور زبان علمی ہے۔ کتاب کے بیک ٹائٹل پر مؤلف کے قلم سے مختصر تعارف ملاحظہ فرمائیے: 
’’جس میں حدیث ’’أنزل القرآن علی سبعۃ أحرف‘‘ کی تحقیق، تشریح اور قرآن مجید کی قراءات کے بارے میں مستشرقین اور بعض متجددین کے شبہات کے جوابات دیئے گئے ہیں۔ ضمن میں جاوید احمد غامدی صاحب کے افکار ونظریات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔‘‘ 
علومِ قرآن وحدیث کے شیدائیوں سے اس مفید کتاب کے مطالعہ کی سفارش کی جاتی ہے۔

الأماني شرح متن الکافي

تالیف: مولانا محمد بشیر مسرور صاحب۔ صفحات: ۴۱۰۔ قیمت: درج نہیں۔ سائز: متوسط۔ کاغذ وطباعت: عمدہ۔ ناشر: دار الفوز، کراچی
عربی زبان کے منظوم کلام کو پرکھنے کی کسوٹی اور معیارکے لیے ذوقِ سلیم کے ساتھ ساتھ ’’علمِ عروض و قوافی‘‘ سے متعارف ہونا ضروری ہے، اس لیے کہ اس فن میں اہلِ علم نے مخصوص اوزان پر مشتمل ’’بحور‘‘ اور دیگر اہم قواعد ترتیب دیئے ہیں، جن کی مدد سے کسی شعر کو فنی اعتبار سے جانچا اور پرکھا جاتا ہے۔ علومِ عربیہ میں یہ علم اہم حیثیت کا حامل ہے، اس بنا پر ہمارے دینی مدارس میں اس فن سے متعلق رسالہ ’’متن الکافي‘‘ پڑھایا جاتا ہے، لیکن یہ رسالہ مفید ہونے کے باوجود انتہائی مختصر ہے۔ نیز اس فن کے ماہرین بھی اب زیادہ نہیں رہے، اس لیے عمومی طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ طلبہ کرام کو اس فن سے کما حقہ مناسبت نہیں ہو پاتی۔ 
پیشِ نظر کتاب میں ہماری جامعہ کے فاضل مولانا محمد بشیر مسرور زید مجدہٗ نے ’’متن الکافي‘‘ کو حل کرنے کی عمدہ کوشش کی ہے۔ اس کتاب میں متن کے ترجمہ کے ساتھ مثالوں کے ذریعے توضیح وتشریح، کتاب میں مذکور تمام اشعار کی تقطیع اور علمِ عروض کے پہلو سے زحاف وعلل وغیرہ کی نشان دہی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اسی طرح ابتدا میں قیمتی معلومات پر مشتمل ’’مقدمۃ العلم‘‘ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اُمید ہے کہ یہ کتاب علمِ عروض وقوافی کے اساتذ ہ وطلبہ کے لیے مفید ثابت ہوگی۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے