بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رمضان 1442ھ 18 اپریل 2021 ء

بینات

 
 

بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات

بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات

 

نائن الیون کے بعد امریکہ نے دہشت گردی ختم کرنے کے عنوان پر افغانستان پر چڑھائی کی، اس کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے باوجود ابھی تک طالبان کو فتح نہ کرسکا، اب اس کے آگے جھک کر طالبان کی شرائط پر اُن سے مذاکرات کررہا ہے، لیکن افغانستان سے پھیلنے والی آگ ہمارے ملک میں بھی در آئی، جس کی بناپر علماء، طلبہ، عوام اور ہماری فورسز اور جوان شہید ہوئے۔ بڑی قربانیوں کے بعد دہشت گردی کی آگ تھمی تھی، لیکن ۲۷ دسمبر ۲۰۲۰ء کو بلوچستان ضلع ہرنائی میں ایف سی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کرکے ایک بار پھر ۷ جوانوں کو موت کے گھاٹ اُتاردیا، إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون۔
ایک عرصہ سے ہندوستان‘ پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ ان کے کئی اعلیٰ پوسٹوں پر براجمان لوگ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے لوگوں کو اُکساتے ہوئے پائے گئے۔ افغانستان میں اس نے اپنے بیس کیمپ بنارکھے ہیں، جس سے اپنے ایجنٹوں اور دہشت گردوں کے ذریعہ پاکستان میں مختلف عنوانوں سے دہشت گردی کرائی جاتی ہے۔ کلبھوشن یادیو جس کو ہماری سیکورٹی ایجنسی نے پکڑا ہے، وہ اس کا واضح ثبوت ہے۔ اس کی گرفتاری کے بعد کافی حد تک دہشت گردی رک گئی تھی، اور اب وہ پھر نئے سرے سے سر اُٹھارہی ہے۔ فورسز کے جوانوں کو شہید کرنے کے چند دن بعد ۳ جنوری ۲۰۲۱ء کو بلوچستان ہی کے علاقہ مچھ میں ہزارہ برادری کے ۱۱؍ مزدوروں کو دہشت گردوں نے اغواء کیا اور اس کے بعد ان کو گولیوں اور تیزدھار آلے سے ان کے گلے کاٹ دیئے۔ دہشت گردی کے پے درپے واقعات ہونے کی بناپر ان مقتولین کے ورثاء نے ان کی میتوں سمیت احتجاج کیا، ان کا مطالبہ تھا کہ وزیراعظم خود آکر ہمیں یقین دہانی کرائیں کہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں گے۔ اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان بھی ان کے پاس اظہارِ افسوس اور ہمدردی کے لیے گئے، جنہوں نے لواحقین سے میتوں کو دفن کرنے کی اپیل کی، لیکن وزیراعظم نے لواحقین سے کہا کہ پہلے ان کی تدفین کریں، پھر میں آؤں گا، اس کشمکش میں تقریباً چھ دن گزرگئے، ان مقتولین کے ورثاء کی ہمدردی اور اظہارِ یکجہتی کی بناپر پورے ملک میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا، گویا پورا ملک اس کی لپیٹ میں آگیا۔ بالآخر لواحقین مان گئے اور انہوں نے ساتویں روز ان میتوں کی تدفین کی، پھر وزیراعظم بھی ان کے پاس پہنچ گئے، حالانکہ وزیراعظم پہلے دن ہی چلے جاتے تو یہ احتجاج کا سلسلہ اتنا دراز نہ ہوتا۔
حکومت سے ہماری گزارش ہے کہ ملک میں امن وامان پر خصوصی توجہ دیں، کیونکہ بھارت میں مختلف تحریکوں کے علاوہ کسان تحریک ایک مہینہ سے زیادہ وقت سے سڑکوں پر احتجاج کررہی ہے، جس کی وجہ سے مودی سرکار پریشان ہے، اس سے توجہ ہٹانے کے لیے وہ یہ ساری دہشت گردی کرارہا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے، اسے اندرونی وبیرونی دشمنوں کے ناپاک عزائم سے محفوظ رکھے اور سرحدات اور ملکی امن وامان پر مأمور وموجود ہماری فوج کے جوانوں کو مزید قوت وہمت کی توفیق سے نوازے، جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ملک اور قوم کی حفاظت کررہے ہیں، آمین

وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد و علٰی آلہٖ و صحبہٖ أجمعین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے