بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 محرم 1446ھ 21 جولائی 2024 ء

بینات

 
 

آسمانی کتب اور مقدسات کا احترام!

آسمانی کتب اور مقدسات کا احترام!

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی

جس طرح سانپ اور بچھو کی سرشت اور فطرت میں انسان کو ڈسنا اور ڈنگ مارنا شامل ہے، خواہ ان کے ساتھ کتنا بھی ہمدردی اور اچھا سلوک کرلیا جائے، مگر یہ اپنی عادت سے باز نہیں آتے، اسی طرح دینِ اسلام کے دشمنوں کی جِبلّت میں اسلام ، پیغمبرِ اسلام  صلی اللہ علیہ وسلم  اور مسلمانوں کو اذیت دینا اور تکلیف پہنچانا شامل ہے، اور ان کے ساتھ خواہ جس قدر بھی رواداری کا مظاہرہ کرلیا جائے، یہ اپنے خبثِ باطن کے اظہار سے کبھی باز نہیں آتے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’إِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ لَعَنَہُمُ اللہُ فِی الدُّنْیَاوَالْاٰخِرَۃِ وَأَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُّہِیْنًا وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَیْرِ مَااکْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُہْتَانًا وَّإِثْمًا مُّبِیْنًا۔‘‘ (الاحزابـ: ۵۷،۵۸)
ترجمہ: ’’جو لوگ ستاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو، اُن کو پھٹکارا اللہ نے دنیا میں اور آخرت میں، اور تیار رکھا ہے اُن کے واسطے ذلت کا عذاب، اور جو لوگ تہمت لگاتے ہیں مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو بدون گناہ کیے تو اُٹھایا انہوں نے بوجھ جھوٹ کا اور صریح گناہ کا۔‘‘(ترجمہ از حضرت شیخ الہندؒ)
چنانچہ آئے روز کبھی آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی شانِ اقدس میں گستاخی اور کبھی قرآن کریم کی توہین وتنقیص کے واقعات کا مغرب میں پیش آنا معمول بن چکا ہے، ہر چھ ماہ یا سال بعد کسی نہ کسی ایسے گھناؤنے فعل کا ارتکاب کردیا جاتا ہے جو اربوں مسلمانوں کے دلوں کو چھلنی کردیتا ہے۔  آئے دن اشتعال انگیز بیانات، دھمکیاں اور تشدد مغربی اقوام کا معمول بن چکا ہے۔ 
سالِ رواں کے آغاز میں بھی سوئیڈن و ہالینڈ میں توہینِ قرآن کے واقعات پیش آئے تھے، اور اب ۲۹؍ جون ۲۰۲۳ء کو جب پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں عید الاضحیٰ منائی جا رہی تھی تو سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہومز کی مرکزی مسجد کے باہر، مسلمانوں کے اجتماع کے سامنے، ریاستی پولیس کی حفاظت میں، باقاعدہ عدالتی اجازت نامہ کے تحت قرآن کریم کو جلاکر انہوں نے اسلام دشمنی کے تسلسل کو ٹوٹنے نہ دیا اور ثابت کردیا کہ یہ وہ سانپ اور بچھو ہیں جو ڈسنے اور ڈنک مارنے سے کبھی باز نہیں آسکتے۔ 
خبروں میں بتایا گیا ہے کہ یہ شخص عراق کا شہری اور ملحد ذہنیت کا حامل ہے اور اس نے سوئیڈن جاکر وہاں کی عدالت سے اس عملِ بد کی اجازت کے لیے رجوع کر رکھا تھا، عدالت کے استفسار پر سوئیڈن پولیس نے بدنیتی سے کام لیتے ہوئے رپورٹ جمع کرائی کہ ایسے واقعے پر کوئی ردِ عمل نہیں آئے گا، جو ظاہر ہے کہ سراسر خلافِ حقیقت تھی، کیونکہ توہینِ قرآن کے اس واقعے کے بعد سوئیڈن سمیت پوری دنیا کے مسلمان سراپا احتجاج بن گئے، اسلامی ممالک کی عالمی تنظیم او آئی سی نے ہنگامی اجلاس طلب کرکے اس سانحے کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا۔ عراق، کویت، عرب امارات اور مراکش نے سوئیڈن کے سفیروں کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا، ترکیہ، لبنان، اردن، فلسطین، سعودی عرب اور پاکستان نے سوئیڈن سے مجرم کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان کے وزیر اعظم جناب میاں محمد شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ سے اس دل سوز سانحے پر اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ، اور ۷؍جولائی بروز جمعہ ملک بھر میں سرکاری سطح پر یومِ تقدیسِ قرآن منانے کا اعلان کیا، جب کہ حکومتی اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی اپیل پر جمعیت علمائے اسلام سمیت تمام دینی وسیاسی جماعتوں نے جمعہ کے روز احتجاجی ریلیاں نکالیں، مساجد میں احتجاجی قراردادیں منظور کی گئیں ، اور مدارس میں قرآن کریم کی تلاوت کی گئی۔ 
عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے تحت ملک کے تمام بڑے شہروں میں احتجاج کیا گیا، اور کراچی پریس کلب کے سامنے ایک احتجاج ریکارڈ کرایا گیا جس میں دوسرے علماء کے ساتھ ساتھ راقم الحروف نے بھی بیان کیا، جس میں بڑی تعداد میں عوام الناس نے شرکت کی۔ تاجر برادری،وکلاء برادری نے بھی احتجاجی ریلیاں نکالیں، بار کونسلوں میں مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں ، اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا۔ یوں قرآن دشمن طبقے کو پوری امتِ مسلمہ نے متفقہ ردِ عمل سے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ۔ 
چنانچہ سوئیڈن حکومت جس نے پہلے تو یہ بیان جاری کیا تھا کہ ہمارا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے، حالانکہ یہ سب سوئیڈن ہی کی عدالت کی اجازت سے ہوا تھا ، اب وہ یہ اعلان کررہی ہے کہ توہینِ قرآن کے مجرم کو سزا دی جائے گی اور آئندہ اس قسم کے واقعات کو روکنے کے لیے قانون سازی ہوگی۔ یقیناً یہ اہلِ اسلام کی بڑی کامیابی ہے ، جو اتحاد و اتفاق کا ثمرہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں پر کچھ اہم ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں :  
1- قرآن کریم کی تلاوت کا معمول شب و روز حرزِ جاں بنائیں اورکبھی اس میں ناغہ نہ ہونے دیں۔
2-قرآن کریم کا ترجمہ و تفسیر علمائے کرام سے سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوں، اور دنیا میں جہاں جائیں ، جس شعبے میں کام کریں ، تو اپنے کردار سے قرآن کریم کا پیغام عام کریں۔
3-خصوصاً غیر مسلم ممالک میں مقیم مسلمان، جن پر ہر وقت غیر مسلموں کی نظر رہتی ہے اور بعض اعمال میں مسلمانوں کو کمزور اور کوتاہ دیکھ کر اُن کی یہ رائے قائم ہوجاتی ہے کہ یہ بھی ہمارے ہی جیسے ہیں ، انہیں چاہیے کہ اپنے مضبوط ایمانی اور اسلامی کردار اور عملی زندگی سے دینِ اسلام کی دعوت و تبلیغ کا فریضہ ادا کریں اور کبھی اس میں کوتاہی نہ ہونے دیں۔
4-اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے آسمانی الہامی کتب اور انبیائے کرام o کی توہین و تنقیص کے سدِباب کے لیے بین الاقوامی معاہدہ و قانون سازی کی جائے اور کسی بھی مذہب کے مقدسات کی توہین کے مرتکب کو بلاامتیاز سزا دی جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے، اس کی دعوت کو دنیا بھر میں عام کرنے ،اور اس کی حفاظت کے لیے عملی کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!

وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد و علٰی آلہٖ و صحبہٖ أجمعین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین