بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

بینات

 
 

آسمانی آفات و مصائب  ... اُترنے کے اَسباب اور اُن کا حل 

آسمانی آفات و مصائب  ... اُترنے کے اَسباب اور اُن کا حل 

 

 عام طور پر ماہِ صفرالمظفر کے بارے میں یہ غلط گمان کیا جاتا ہے کہ اِس مہینے میں آسمان سے آفات ، مصائب اور بلائیں اُترتی ہیں، جب کہ شریعت کی روشنی میں ہمیں اِس کے برعکس یہ نظر آتا ہے کہ آسمان سے مصائب اور بلائیں وآفات اُترنے کا سبب اِنسان کے اپنے گناہ اور اُس کی بد اعمالیاں ہیں، قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: 
’’ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ‘‘  (الروم:۴۱)
ترجمہ: ’’خشکی اور تری میں فساد اُن (گناہوں)کے باعث پھیل گیا ہے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کما رکھے ہیں ،تاکہ (اﷲ)اُنہیں بعض (برے)اَعمال کا مزہ چکھا دے جو اُنہوں نے کیے ہیں، تاکہ وہ باز آجائیں۔ ‘‘
’’خشکی سے مراد‘‘ انسانی آبادیاں اور ’’تری سے مراد‘‘ سمندر، سمندری راستے اور ساحلی آبادیاں ہیں۔ ’’فساد‘‘ سے مراد ہر وہ بگاڑ ہے جس سے اِنسانوں کے معاشرے اور آبادیوں میں امن و سکون تہ و بالا ہو جاتا ہو، اور اُن کے عیش و آرام میں خلل واقع ہو، اِس لیے اِس (فساد)کا اِطلاق معاصی وسیئات پر بھی صحیح ہے کہ انسان ایک دوسرے پر ظلم کر رہے ہیں، اللہ کی حدوو کو پامال اور اَخلاقی ضابطوں کو توڑ رہے ہیں اور قتل وخونریزی عام ہوگئی ہے اور اُن ارضی وسماوی آفات پر بھی اِس (فساد)کا اِطلاق صحیح ہے جو اللہ کی طرف سے بطور سزا و تنبیہ نازل ہوتی ہیں، جیسے: قحط، کثرتِ موت، خوف،وبائیں اور سیلاب وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ جب اِنسان اللہ کی نافرمانیوں کو اپنا وطیرہ بنالیں تو پھر مکافاتِ عمل کے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے اَعمال و کردار کا رُخ برائیوں کی جانب پھر جاتا ہے اور زمین فساد سے بھر جاتی ہے، اَمن و سکون ختم اور اُس کی جگہ خوف و دہشت، لوٹ ماراور قتل وغارت گری عام ہو جاتی ہے ، اِس کے ساتھ ساتھ بعض دفعہ آفاتِ ارضی و سماوی کا بھی نزول ہوتا ہے۔ مقصد اِس سے یہی ہوتا ہے کہ اِس عام بگاڑ یا آفاتِ الٰہیہ کو دیکھ کر شاید لوگ گناہوں سے باز آجائیں، توبہ کرلیں اور اُن کا رجوع اللہ کی طرف ہوجائے۔ اِس کے برعکس جس معاشرے کا نظام اطاعتِ الٰہی پر قائم ہو اور اللہ کی حدیں نافذ ہوں، ظلم کی جگہ عدل کا دور دورہ ہو، وہاں اَمن و سکون اور اللہ کی طرف سے خیر وبرکت کا نزول ہوتا ہے۔ 
جس طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  کی حدیث میں آتا ہے کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: 
’’حَدٌّ یُعْمَلُ بِہٖ فِي الْاَرْضِ خَیْرٌ لِاَہْلِ الْاَرْضِ مِنْ اَنْ یُمْطَرُوْا اَرْبَعِیْنَ صَبَاحًا۔‘‘                                                 (سنن ابن ماجہ، الرقم: ۲۵۳۱) 
’’زمین میں اللہ کی ایک حد کو قائم کرنا وہاں کے انسانوں کے لیے چالیس روز کی بارش سے بہتر ہے۔‘‘ 
اسی طرح یہ حدیث ہے: 
’’والْعَبْدُ الفَاجِرُ یَسْتَرِیْحُ منہُ الْعِبَادُ والْبِلَادُ، وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ۔ُّ‘‘    (صحیح البخاری، الرقم: ۶۵۱۲)
’’ جب ایک بدکار آدمی فوت ہو جاتا ہے تو بندے ہی اس سے راحت محسوس نہیں کرتے، شہر بھی اور درخت اور جانور بھی آرام پاتے ہیں۔‘‘
آیتِ مبارکہ کے خلاصے کو سامنے رکھتے ہوئے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ موجودہ صورتِ حال پر غور کر لے کہ فی زمانہ بے حیائی عام ہونا،ناپ تول میں کمی کرنا ، لوگوں کے اَموال پر جبری قبضے کرنا،زکوٰۃ نہ دینا،جوا اورسود خوری وغیرہ، الغرض وہ کونسا گناہ ہے جو ہم میں عام نہیں ،اور شاید اُنہی اَعمال کا نتیجہ ہے کہ آج کل لوگ اَیڈز، کینسر اور دیگر جان لیوا اَمراض میں مبتلا ہیں، ظالم حکمران اُن پرمقرر ہیں، بارش رُک جانے یا حد سے زیادہ آنے کی آفت کا یہ شکار ہیں، دشمن اُن پر مُسلَّط ہوتے جارہے ہیں، قتل و غارت گری اُن میں عام ہو چکی ہے، زلزلوں، طوفانوں اور سیلاب کی مصیبتوں میں یہ پھنسے ہوئے ہیں، تجارتی خسارے اور ہر چیز میں بے برکتی کا رونا یہ رو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عقلِ سلیم عطا کرے اور اپنی بگڑی عملی حالت سدھارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
یہاں بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کافروں کے ممالک جہاں کفر و شرک اور زنا و گناہ سب کچھ عام ہے، وہاں فساد کیوں نہیں ہے؟ تو اِس کے دو جواب ہیں :
 اول یہ کہ کفار کو دنیا میں کئی اعتبار سے مہلت ملی ہوئی ہے، لہٰذا وہ اُس مہلت سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔
اور دوسرا جواب یہ ہے کہ فساد اور بربادی صرف مال کے اعتبار سے ہی نہیں ہوتی، بلکہ بیماریوں اور ذہنی پریشانیوں بلکہ اور بھی ہزاروں اعتبار سے ہوتی ہے، اب ذرا کفارکے ممالک میں جنم لینے والی اور پھیلنے والی نئی نئی بیماریوں کی معلومات جمع کرلیں، یونہی یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ پاگل خانے، ذہنی مریض، دماغی سکون کی دواؤں کااستعمال، دماغی اَمراض کے مُعا لِجین، ذہنی مریضوں کے اِدارے اور نفسیاتی ہسپتال بھی اُنہی کفار کے ممالک میں ہیں اور اِسی طرح دنیا میں سب سے زیادہ طلاقیں ، ناجائز اولادیں، بوڑھے والدین کو اَولڈ ہومز میں پھینک کر بھول جانے کے واقعات ،یونہی دنیا میں سب سے زیادہ خودکشیاں بھی اُنہی ممالک میں ہیں ، جو ظاہرا ًتو بڑے خوشحال نظر آتے ہیں ،لیکن اندر سے گل سڑ رہے ہیں۔
اسی طرح احادیث مبارکہ میں انسانوں کی بداعمالیوں کے سبب حالات بگڑنے کا تذکرہ بہت تفصیل سے سامنے آتا ہے، ذیل میں احادیث کی روشنی میں بلائیں اُترنے کے اسباب اور احادیث کی روشنی میں ہی ان آفات کو دور کرنے کے حل ذکر کیے جاتے ہیں:
خیانت : 1-   ’’إِذَا اتُّخِذَ الْفَیْئُ دِوَلًا‘‘ جب مالِ غنیمت کو اپنی ذاتی دولت سمجھا جانے لگے۔
2-    ’’ وَالْاَمَانَۃُ مَغْنَمًا‘‘ امانت کو مالِ غنیمت سمجھا جانے لگے، یعنی: امانت کو ادا کرنے کی بجائے خود استعمال کر لیا جائے۔
عبادت میں حیلے بہانے: 3-   ’’ وَالزَّکَاۃُ مَغْرَمًا‘‘ زکوٰۃ کو تاوان سمجھا جانے لگے، یعنی: خوشی سے دینے کی بجائے ناگواری سے دیا جائے۔
4-   ’’ وَتُعُلِّمَ لِغَیْرِ الدِّینِ‘‘علم‘ دین کے لیے نہیں بلکہ دنیا کے لیے حاصل کیا جانے لگے۔
قطع رحمی وقطع تعلقی: 5-   ’’ وَاَطَاعَ الرَّجُلُ امْرَاَتَہُ‘‘آدمی اپنی بیوی کی فرماں برداری ، 6-’’وَعَقَّ اُمَّہُ‘‘ اور اپنی ماں کی نافرمانی کرنے لگے۔ 7-   ’’ وَاَدْنٰی صَدِیْقَہُ‘‘،دوست کو قریب ،  8-’’وَاَقْصٰی اَبَاہُ‘‘ اور باپ کو دور کرنے لگے۔
شعائر اللہ کی توہین: 9-   ’’ وَظَہَرَتِ الْاَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ‘‘ مسجدوں میں کھلم کھلا شور ہونے لگے۔
عہدوں اور مناصب میں بے دینی :  11-   ’’وَسَادَ الْقَبِیْلَۃَ فَاسِقُہُمْ‘‘قوم کی سرداری فاسق کرنے لگے۔
12-   ’’ وَکَانَ زَعِیمُ الْقَوْمِ اَرْذَلَہُمْ‘‘ قوم کا سربراہ‘ قوم کا سب سے ذلیل آدمی بن جائے۔
13-  ’’ وَاُکْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَۃَ شَرِّہٖ‘‘ آدمی کا اکرام اس کے شر سے بچنے کے لیے کیا جانے لگے۔
بے حیائی، فحاشی وعریانی: 14-    ’’ وَظَہَرَتِ الْقَیْنَاتُ وَالْمَـعَازِفُ‘‘ گانے والی عورتوں اور ساز وباجے کا رواج ہونے لگے۔
15-   ’’ وَشُرِبَتِ الْخَمْرُ‘‘ شراب کھلے عام پی جانے لگے۔
عجب وعدمِ اعتماد : 16-   ’’ وَلَعَنَ آخِرُ ہٰذِہِ الْاُمَّۃِ اَوَّلَہَا‘‘ اُمت کے بعد والے لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کو برا بھلا کہنے لگیں۔
’’ فَارْتَقِبُوا عِنْدَ ذٰلِکَ‘‘(یعنی: جب یہ پندرہ کام ہونے لگ جائیں تو)اُس وقت انتظار کرو، ’’رِیحًا حَمْرَاءَ‘‘ سرخ آندھی کا، ’’وَزَلْزَلَۃً‘‘ زلزلے کا، ’’وَخَسْفًا‘‘ زمین میں دھنس جانے کا، ’’وَمَسْخًا‘‘ آدمیوں کی صورت بگڑ جانے کا، ’’وَقَذْفًا‘‘ اور آسمان سے پتھروں کے برسنے کا، ’’وَآیَاتٍ تَتَابَعُ کَنِظَامٍ قُطِعَ سِلْکُہُ فَتَتَابَعَ‘‘، اور ایسے ہی مسلسل آفات اور بلاؤں کے آنے کا انتظار کرو جس طرح کسی ہار کا دھاگا ٹوٹ جائے اور اس کے موتی پے در پے جلدی جلدی گرنے لگیں۔
زنا کی کثرت :  16-    ’’لَمْ تَظْہَرِ الْفَاحِشَۃُ فِی قَوْمٍ قَطُّ حَتّٰی یُعْلِنُوا بِہَا إِلَّا فَشَا فِیْہِمُ الطَّاعُوْنُ وَالْاَوْجَاعُ الَّتِیْ لَمْ تَکُنْ مَضَتْ فِیْ اَسْلاَفِہِمُ الَّذِیْنَ مَضَوْا‘‘ جب کسی قوم میں علی الاعلان بے حیائی ہونے لگے، تو ان میں طاعون پھیل جاتا ہے، اور ایسی بیماریاں جن کا پہلے نام ونشان نہ تھا۔ (سنن ابن ماجہ)
ناپ تول میں کمی: 17-   ’’وَلَمْ یَنْقُصُوْا الْمِکْیَالَ وَالْـمِیْزَانَ إِلَّا اُخِذُوْا بِالسِّنِیْنَ وَشِدَّۃِ الْمَـؤُنَۃِ وَجَوْرِ السُّلْطَانِ عَلَیْہِمْ‘‘ جب قوم ناپ تول میں کمی کرنے لگے تو ان کے درمیان قحط سالی، حالات کی سختیاں اور بادشاہوں کے ظلم وستم عام ہو جاتے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ)
زکاۃ نہ دینا:18-   ’’وَلَمْ یَمْنَعُوْا زَکَاۃَ اَمْوَالِہِمْ إِلَّا مُنِعُوا الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ وَلَوْلاَ الْبَہَائِمُ لَمْ یُمْطَرُوْا‘‘، جب کوئی قوم زکاۃ دینا چھوڑ دیتی ہے تو ان سے بارشیں روک لی جاتی ہیں، اگر زمین پر چوپائے /جانور نہ ہوں تو بارش کا ایک قطرہ بھی زمین پر نہ برستا۔ (سنن ابن ماجہ)
بدعہدی :19-   ’’وَلَمْ یَنْقُضُوْا عَہْدَ اللہِ وَعَہْدَ رَسُولِہِ إِلَّا سَلَّطَ اللہُ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا مِنْ غَیْرِہِمْ فَاَخَذُوْا بَعْضَ مَا فِیْ اَیْدِیہِمْ‘‘، جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کے عہد وپیمان کو توڑ دیتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے علاوہ لوگوں میں سے کسی دشمن کو مسلط کردیتا ہے، وہ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے ان سے چھین لیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ)
رشوت:20-    ’’مَا مِنْ قَوْمٍ یَظْھَرُ فِیْھِمُ الرُّشَا إِلَّا اُخِذُوْا بِالرُّعْبِ‘‘ جس قوم میں رشوت کی وبا عام ہو جاتی ہے اس پر رعب مسلط کر دیا جاتا ہے۔(مسند احمد)
 قرآن وسنت کے خلاف فیصلے ہونا :21-    ’’وَمَا لَمْ تَحْکُمْ اَئِمَّتُہُمْ بِکِتَابِ اللہِ وَیَتَخَیَّرُوا مِمَّا اَنْزَلَ اللہُ إِلَّا جَعَلَ اللہُ بَاْسَہُمْ بَیْنَہُمْ‘‘ جس قوم کے حکمران اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور جواللہ نے نازل کیا ہے، اُسے اختیار نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ اُن میں پھوٹ اور اختلا ف ڈال دیتاہے۔ (سنن ابن ماجہ)
دنیا کی وقعت وعظمت: 22-   ’’إِذَا عَظَّمَتْ اُمَّتِيْ الدُّنْیَا نُزِعَ مِنْھَا ھَیْبَۃُ الْإِسْلَامِ‘‘ جب اُمت دنیا کو بڑی چیز سمجھنے لگے گی تو اسلام کی ہیبت اس کے دلوں سے نکل جائے گی۔ (جامع الصغیر)
امر بالمعروف کا ترک :23-   ’’ وَإِذَا تَرَکَتِ الْاَمْرَ بِالْمَـعْرُوْفِ وَالنَّھْيَ عَنِ الْمُـنْکَرِ حُرِمَتْ بَرَکَۃُ الْوَحْيِ‘‘ جب امت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو چھوڑ بیٹھے گی تو وحی کی برکات سے محروم ہو جائے گی۔ (جامع الصغیر)
گالی گلوچ کی کثرت: 24-    ’’وَإِذَا تَسَابَّتْ اُمَّتِيْ سَقَطَتْ مِنْ عَیْنِ اللہِ‘‘ جب امت آپس میں گالی گلوچ اختیار کرے گی تو اللہ کی نگاہ سے گر جائے گی۔ (جامع الصغیر)
قرآن وحدیث میں ان بلاؤں اور آفات کو دور کرنے کے اعمال واَسباب بھی مذکور ہیں، ذیل میں اشارۃً ان کا ذکر کیا جاتا ہے:

1-توبہ واستغفار کرنا

حضرت عبد اللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 
’’مَنْ لَزِمَ الاِسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللہُ لَہٗ مِنْ کُلِّ ضِیْقٍ مَخْرَجًا، وَمِنْ کُلِّ ہَمٍّ فَرَجًا، وَرَزَقَہٗ مِنْ حَیْثُ لاَ یَحْتَسِبُ۔‘‘     (سنن ابی داؤد، الرقم: ۱۵۱۸) 
ترجمہ: ’’جو شخص پابندی سے استغفار کرتا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتے ہیں، ہر غم سے اُسے نجات عطا فرماتے ہیںاور اُسے ایسی جگہ سے روزی عطا فرماتے ہیں جہاں سے اُس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔‘‘

2-تقویٰ اختیار کرنا 

قرآن مجید میں تقویٰ اختیار کرنے والے کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 
’’وَمَنْ یَّـتَّـقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہ مَخْرَجًا، وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ، وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ‘‘    (الطلاق: ۲،۳) 
ترجمہ: ’’جوکوئی اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا اور اس کو ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ اس (کا کام بنانے) کے لیے کافی ہے۔‘‘

3-صدقہ دینا

حضرت انس  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: 
’’بَاکِرُوْا بِالصَّدَقَۃِ فَإِنَّ الْبَلَآءَ لَا یَخْطَاھَا۔‘‘  (المعجم الاوسط، الرقم: ۵۶۳۹) 
ترجمہ: ’’صبح سویرے صدقہ نکالا کرو، کیونکہ بلائیں اس سے آگے قدم نہیں بڑھا سکتیں۔‘‘
اسی طرح حضرت انس  رضی اللہ عنہ  سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: 
’’اَلصَّدَقَۃُ تَمْنَعُ سَبْعِیْنَ نَوْعًا مِنْ اَنْوَاعِ الْبَلَآءِ؛ اَھْوَنُھَا اَلْجُذَامُ وَالْبَرَصُ‘‘ (تاریخ بغداد، الرقم: ۴۳۲۶)
 ترجمہ: ’’صدقہ ستر بلاؤں کو روکتا ہے جن میں سے سب سے چھوٹی بلا کوڑھ اور برص ہے۔‘‘

4- ’’لا حول ولاقوۃ إلا باللہ‘‘ کی کثرت

حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ جناب نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مجھے ارشاد فرمایا : 
’’اَکْثِرْ مِنْ قَوْلِ: لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلَّا بِاللہِ، فَإِنَّہَا مِنْ کَنْزِ الْجَنَّۃِ۔‘‘ 
ترجمہ: ’’لاحول ولاقوۃ إلا باللہ‘‘ کثرت سے کہا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔‘‘
حضرت مکحول ؒ (تابعی) نے فرمایا : ’’فَمَنْ قَالَ: ’’لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلَّا بِاللہِ، وَلاَ مَنْجَاَ مِنَ اللہِ إِلَّا إِلَیْہِ‘‘،کَشَفَ عَنْہُ سَبْعِیْنَ بَابًا مِنَ الضُّرِّ اَدْنَاہُنَّ الفَقْرُ۔‘‘ (سنن الترمذي: ۳۶۰۱)کہ جو شخص یہ کہے ’’لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلَّا بِاللہِ وَلاَ مَنْجَاَ مِنَ اللہِ إِلَّا إِلَیْہِ‘‘ یعنی: ضرر و نقصان کو (دفع کرنے کی)قوت اور نفع حاصل کرنے کی طاقت ،اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات اسی (کی رضا ورحمت کی توجہ)پر منحصر ہے، تو اللہ تعالیٰ اس سے ضرر و نقصان کی ستر قسمیں دور کردیتا ہے، جس میں ادنیٰ قسم فقر ومحتاجگی ہے۔
ایک اور حدیث میں حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: 
’’مَنْ قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللہِ، کَانَ دَوَاءً مِنْ تِسْعَۃٍ وَتِسْعِینَ دَاءً اَیْسَرُہَا الْہَمُّ۔‘‘  (المستدرک علی الصحیحین، الرقم: ۱۹۹۰) 
ترجمہ: ’’جو شخص ’’لا حول ولا قوۃ الا باللہ‘‘ پڑھے تو یہ ننانوے (دنیاوی واُخروی) بیماریوں کی دوا ہے جن میں سے ادنیٰ بیماری (دنیوی واخروی ) غم ہے۔ ‘‘

5-آیتِ کریمہ کو کثرت سے پڑھنا

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:
’’دَعْوَۃُ ذِی النُّوْنِ إِذْ دَعَا وَہُوَ فِیْ بَطْنِ الْحُوْتِ: لَا إِلٰہَ إِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّيْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ، فَإِنَّہٗ لَمْ یَدْعُ بِہَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِيْ شَیْئٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ اللہُ لَہٗ۔‘‘  (سنن الترمذی، الرقم: ۳۵۰۵) 
ترجمہ: ’’حضرت ذوالنون (اللہ کے پیغمبر حضرت یونس  علیہ السلام ) جب سمندر کی ایک مچھلی کا لقمہ بن کر اس کے پیٹ میں پہنچ گئے تھے تو اس وقت اللہ کے حضور میں اُن کی دعا یہ تھی: ’’لاَ إِلٰہَ إِلَّا اَنْتَ سُبْحٰنَکَ إِنِّيْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ جو بھی مسلمان بندہ اپنے کسی معاملہ اور مشکل میں اللہ تعالیٰ سے ان کلمات کے ذریعہ دعا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو قبول ہی فرمائے گا۔‘‘
قرآن وحدیث میں کہیں ان کلمات کو مخصوص تعداد میں پڑھنے کا تذکرہ نہیں، البتہ بزرگوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں مختلف اعداد (۳۱۳ وغیرہ) بتائے ہیں، اُن میں سے کسی بھی عدد کو اختیار کیا جاسکتا ہے، لیکن قرآن وحدیث سے ثبوت کے بغیر کسی عدد کو مستحب نہیں کہا جاسکتا۔

6-درود شریف کی کثرت کرنا

درود شریف کی کثرت پر ارشادِ نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ساری فکروں کو ختم فرما دیں گے اور تمہارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے:
’’عَنِ الطُّفَیْلِ بْنِ اُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ، عَنْ اَبِیہِ، قَالَ:کَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا ذَہَبَ ثُلُثَا اللَّیْلِ قَامَ، فَقَالَ: یَآ اَیُّہَا النَّاسُ! اُذْکُرُوْا اللہَ، اُذْکُرُوْا اللہَ جَاءَتِ الرَّاجِفَۃُ، تَتْبَعُہَا الرَّادِفَۃُ، جَاءَ الْمَــوْتُ بِمَا فِیْہِ، جَاءَ الْمَــوْتُ بِمَا فِیْہِ، قَالَ اُبَيٌّ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللہِ! إِنِّيْ اُکْثِرُ الصَّلَاۃَ عَلَیْکَ، فَکَمْ اَجْعَلُ لَکَ مِنْ صَلَاتِيْ؟ فَقَالَ: مَا شِئْتَ۔ قَالَ: قُلْتُ: الرُّبُعَ، قَالَ: مَا شِئْتَ، فَإِنْ زِدْتَّ فَہُوَ خَیْرٌ لَکَ، قُلْتُ: النِّصْفَ، قَالَ: مَا شِئْتَ، فَإِنْ زِدْتَّ فَہُوَ خَیْرٌ لَکَ، قَالَ: قُلْتُ: فَالثُّلُثَیْنِ، قَالَ: مَا شِئْتَ، فَإِنْ زِدْتَّ فَہُوَ خَیْرٌ لَکَ، قُلْتُ: اَجْعَلُ لَکَ صَلَاتِيْ کُلَّہَا، قَالَ: إِذًا تُکْفٰی ہَمَّکَ، وَیُغْفَرُ لَکَ ذَنْبُکَ۔‘‘ (سنن الترمذی، الرقم: ۲۴۵۷)

7-دعاؤں کا اہتمام کرنا

حضرت عبد اللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: 
’’مَنْ فُتِحَ لَہٗ مِنْکُمْ بَابُ الدُّعَاءِ فُتِحَتْ لَہٗ اَبْوَابُ الرَّحْمَۃِ، وَمَا سُئِلَ اللہُ شَیْئًا یَعْنِيْ اَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ اَنْ یُسْاَلَ العَافِیَۃَ۔‘‘
ترجمہ: ’’تم میں سے جس کے لیے دعا کا دروازہ کھول دیا گیا تو اُس کے لیے رحمت کے دروازے کھول دئیے گئے، اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند یہ ہے کہ اس سے عافیت کا سوال کیا جائے۔‘‘
اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: 
’’إِنَّ الدُّعَاءَ یَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ یَنْزِلْ، فَعَلَیْکُمْ عِبَادَ اللہِ بِالدُّعَاءِ۔‘‘ (سنن الترمذی، الرقم: ۳۵۴۸)
ترجمہ: ’’دعا کارآمد اور نفع مند ہوتی ہے ان حوادث میں بھی جو نازل ہو چکے ہوں اور ان میں بھی جو ابھی نازل نہیں ہوئے، پس اے خدا کے بندو! دعا کا اہتمام کیا کرو۔‘‘
’’وَاَیُّوْبَ اِذْ نَادٰی رَبَّہٓ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۔ فَاسْتَجَبْنَا لَہ فَکَشَفْنَا مَا بِہٖ مِنْ ضُرٍّ وَّاٰتَیْنٰہُ اَہْلَہٗ وَمِثْلَہُمْ مَّعَہُمْ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا وَذِکْرٰی لِلْعٰبِدِیْنَ‘‘ (الانبیاء: ۷۸، ۷۹)
ترجمہ: ’’اور ایوب ( علیہ السلام )کی اس حالت کو یاد کرو، جبکہ اُنہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والاہے، تو ہم نے اُن کی دعا قبول کرلی اور جو اُن کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور اُن کو بال بچے بھی عطا فرمائے اور اپنی مہربانی کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے)، تاکہ سچے بندوں کے لیے سببِ نصیحت ہو۔‘‘
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:
 ’’اَلَا اَدُلُّکُمْ عَلَی مَا یُنْجِیْکُمْ مِنْ عَدُوِّکُمْ، وَیَدِرُّ لَکُمْ اَرْزَاقَکُمْ؟ تَدْعُونَ اللہَ فِيْ لَیْلِکُمْ وَنَہَارِکُمْ، فَإِنَّ الدُّعَآءَ سِلَاحُ الْمُـؤْمِنِ۔‘‘         (مسند ابی یعلی، الرقم: ۱۸۱۲)
 ترجمہ: ’’کیا میں تمہیں وہ علم بتاؤں جو تمہارے دشمنوں سے تمہارا بچاؤ کرے، اور تمہیں بھرپور روزی دلائے، وہ یہ ہے کہ اپنے اللہ سے دعا کیاکرو، رات میں اور دن میں، کیونکہ دعا مؤمن کا خاص ہتھیار یعنی: اس کی خاص طاقت ہے۔‘‘ 

8- اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’ مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ إِنْ شَکَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ وَکَانَ اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیْمًا‘‘      (النساء: ۱۴۷) 
ترجمہ :’’اگر تم شکر گزار بنو اور (صحیح معنی میں) ایمان لے آؤ تو اللہ تمہیں عذاب دے کر آخر کیا کرے گا؟ اللہ بڑا قدر دان ہے، اور سب کے حالات کا پوری طرح علم رکھتا ہے۔‘‘
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین