بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 شوال 1443ھ 26 مئی 2022 ء

بینات

 
 

اوزار، بازار اور ہتھیار

اوزار، بازار اور ہتھیار

تاریخ کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ قومیں ہمیشہ اپنے ہی پیروں پر کھڑی ہوتی ہیں نہ کہ دوسروں کے پیروں پر، اگرچہ وہ کئی بار گر بھی جائیں، مگر جب بھی کھڑی ہوں گی تو اپنے ہی پیروں پر کھڑی ہوں گی۔ اور جن قوموں کو اس بات کا احساس ہوتا ہے ، وہ دوسروں کی زبان، وسائل اور قرضوں پر انحصار کرنے کے بجائے جلد از جلد ہر معاملے میں خود کفیل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنی مذہبی، معاشرتی اور ثقافتی اقدار کو اہم جانتے ہوئے ناصرف یہ کہ اُن کا دفاع کرتے ہیں، بلکہ ان کی ترویج کے لیے مؤثر اقدامات بھی عمل میں لاتے ہیں۔ پچھلی کئی صدیوں کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس قوم نے بھی سر اُٹھایا ہے اور اپنے مقام اور مرتبے کو تسلیم کروا کر اقوامِ عالم میں عزت پائی ہے، اس نے یہ تین کام ضرور کیے ہیں۔

۱:-اوزار (Tools) 

کامیاب قومیں اوزاروں کے استعمال میں مہارت رکھتی ہیں۔اپنی قوم کو ہنرمند بنا کر اوزاروں سے ان کا تعلق جوڑنا، اپنی عوام میں ہنرمندی کو فروغ دینا اور اپنی معیشت کو ہنر مند عوام کے ذریعے کھڑا کرنا اور تجارت اور کاروبار کو وسعت دے کر ہنر مند ہاتھوں سے بنی مصنوعات کی برآمدات کو بڑھانا اور درآمدات کو کم سے کم کرنا عروج پانے والی اقوام کا معمول رہا۔
اس کی ایک مثال دوسری جنگ عظیم کے بعد تباہ حال جاپان کے متعلق ایک اہم دستاویز میں ہمیں ملتی ہے، جس کا نام Japan’s Economic Miracle: Underlying Factors and Strategies for the Growthاس میں بتایا گیا ہے کہ:  ’’جاپان میں 1950ء کی دہائی کے آغاز سے 1970ء کے اوائل تک کی تیز رفتار معاشی ترقی صرف حکومت کی انقلابی پالیسیوں کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ جاپانی عوام کی مجموعی کاوشوں اور محنت کا نتیجہ تھی۔ جاپانی لوگوں میں نئے فنون سیکھنے اور ان میں بہتری لانے اور پھر ان کو اپنے نظام میں استعمال کرنے کی صلاحیت ان کی کامیابی کا سب سے اہم عنصر تھا۔‘‘

۲:- بازار (Markets)

کامیاب قومیں اپنے بازاروں پر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں۔ اپنے بازاروں اور منڈیوں میں اپنی مقامی مصنوعات کو فروغ دے کر غیر اقوام کی مصنوعات کو وہاں سے نکال باہر کرنا اور اپنی مصنوعات کو اتنا بہتر بنانا کہ وہ دوسرے ملکوں میں جا کر اپنے اعلیٰ معیار کو منواسکیں، یعنی معیشت کے میدان کی جنگ کو پہلے اس طرح سے جیتا کہ دوسرے ملکوں کی معیشت بھی ان سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔اس کی بڑی مثال ہمارے پاس جرمنی کی ہے جو کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا اور ایک موقع پر وہ پاکستان کا مقروض بھی رہا، مگر آج وہ امریکہ اور چائنا کے بعد برآمدات کے اعتبار سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ اس وقت جرمنی کی دس بڑی درآمدات میں گاڑیاں، مشینری، کیمیائی سامان، الیکٹرانک مصنوعات، بجلی کا سامان، ادویات، نقل و حمل کا سامان، دھاتیں، کھانے کی مصنوعات، اور ربڑ اور پلاسٹک شامل ہیں۔

۳:-ہتھیار (Weapons)

کامیاب قومیں اپنے ہتھیاروں پر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں۔ پہلے دو میدان سر کرنے اور ان میں کامیاب ہونےسے حاصل ہونے والے فوائد کو اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرنا، اور اپنی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی اپنی صنعت کو استعمال کر کے اسلحہ سازی اور دیگر ضروریات کو پورا کرنا اورخودکفالت کے اصول کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنی دفاعی مصنوعات کی اضافی پیداوار کو برآمد کرکے مزید فائدہ حاصل کرنا۔
اس کی ایک اہم مثال یہ ہے کہ پاکستان بننے کے کئی سال بعد تک بھی غربت کا شکار رہنے والا چین آج امریکہ اور روس کے بعد دنیا کی تیسری بڑی فوجی قوت ہے۔ ہنر مند قوم کے ذریعے پوری دنیا کے بازاروں پر تسلُّط حاصل کرنے کے بعد اب فوجی قوت کے طور پر بھی مانا جا رہا ہے۔
اوپر ذکر کی گئی تینوں مثالیں جو جاپان، جرمنی اور چین کی تھیں، ان میں یہ مماثلت نظر آئے گی کہ انہوں نے پہلے اوزاروں پھر بازاروں اور پھر ہتھیاروں پر اپنی گرفت مضبوط کی ہے۔ اس کے لیے نہ انہوں نے اپنا مذہب بدلا، نہ زبان اور نہ ہی اپنی معاشرتی اقدار کو قربان کیا، اور اس راستے میں رکاوٹ بننے والے بدعنوان عناصر اور کرپشن کے کینسر کو سختی کے ساتھ اُکھاڑ پھینکا ہے۔ مگر تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ احساسِ کمتری کا شکار ذہنی طور پر معذور، غیر ہنر مند اقوام ناصرف یہ کہ اپنی عزت اور خودداری سے محروم ہو جاتی ہیں، بلکہ خود اعتمادی کی کمی اور ناکامی کے خوف کی وجہ سے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے بجائے دوسروں کے سہارے تلاش کرتی رہتی ہیں، یہاں تک کہ ان کا بچہ بچہ قرض کے بوجھ کے نیچے دب جاتا ہے، ان کی معیشت اور صنعت تباہ ہو جاتی ہے،وہ سود کے جال میں پھنس کر ایک بند گلی میں آ کھڑے ہوتے ہیں۔ جو قومیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش نہیں کرتیں تو ذلت و رسوائی اُن کا مقدر بنتی ہے،ان کے اندر کی خودی مر جاتی ہے اور ان میں عزت اور ذلت کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ ان کے قانونی ادارے ناقص، ان کے تعلیمی ادارے فرسودہ، اوران کے انتظامی امور غیر منظم اور غیر مؤثر ہوتے ہیں۔ ان کے دفتروں کے چپڑاسی سے لے کر سیاست دان اور افسران تک سب کرپٹ اور بدعنوان ہوتے ہیں۔ان کے ہاں انصاف پیسے سے خریدا جاتا ہے اور ظالم آزاد اور غریب محکوم ہوتا ہے۔ دوسری اقوام ان میں موجود کرپٹ عناصر کے ذریعے ان کے وسائل کو لوٹتے رہتے ہیں، اقوامِ عالم اُن کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
اگر کہیں آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ناکامی کے یہ تذکرے ہماری قوم کی کہانی ہیں،تو ایسا نہیں ہے، یہ ہر اُس قوم کی کہانی ہے جو اپنے آپ کو بھلا بیٹھے ہیں، جو احساسِ کمتری میں مبتلا، احساسِ محرومی کا شکار، اور اپنے روشن ماضی اور اپنے اسلاف کی تاریخ کو بھولے ہوئے ہیں، جیسے اگر کسی شخص کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے جائیں تو وہ معذور ہو جاتا ہے، ایسے ہی قوموں کو معذور کرنے کے لیے ان کی سوچ اور فکر کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے جاتے ہیں۔
بلاشبہ اللہ رب العزت نے اُمتِ مسلمہ کو تمام نعمتوں سے نوازا ہے، مگر ہر راستے میں جو رکاوٹ نظر آتی ہے، وہ یہی ’’سوچ اور فکر‘‘ کی معذوری ہے۔


اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین