بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1441ھ- 14 دسمبر 2019 ء

بینات

 
 

اعضاء کی پیوند کاری اور عطیۂ خون کے حکم میں فرق!


اعضاء کی پیوند کاری اور عطیۂ خون کے حکم میں فرق!

 

کیا فرماتے ہیںمفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ جب اعضاء انسانی کی پیوند کاری جائز نہیں تو ایک انسان کا دوسرے انسان کو خون دینا کیسے جائز ہے؟ براہِ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔                                        مستفتی:عباد اللہ دیروی
الجواب باسمہٖ تعالٰی
واضح رہے کہ انسان کے اعضاء اور خون میں مندرجہ ذیل وجوہات سے فرق ہے:
۱:… خون انسان کے اجزاء میں سے ضرور ہے، لیکن اعضاء میں سے نہیں، انسان کے اندر اخلاطِ اربعہ: صفرائ، سودائ، خون، بلغم، یہ چیزیں سیال ہوتی ہیں اور یہ چیزیں انسان کے اجزاء ہیں، اعضاء مستحکم نہیں، کیونکہ انسان جب مرجاتا ہے اس کے تمام اعضاء پہلے جس طرح موجود تھے مرنے کے بعد بھی تمام اعضاء موجود رہتے ہیں، اگرچہ حیات نہ ہونے کی وجہ سے کام نہیں کرتے، جبکہ خون جزوِ مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے پانی بن جاتاہے۔
۲:… فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ حمل جب تک خون کا لوتھڑا ہو وہ انسان اور اعضاء کے حکم میں نہیں، ایسی صورت میں اگر اسقاطِ حمل ہوجائے تو اس اسقاط کے بعد جو خون نکلے گا شرعاً وہ نفاس کا خون نہیں، کیونکہ یہ حمل خون کے لوتھڑے کی صورت میں تھا اور اگر حمل میں اعضاء انسانی پیدا ہونے کے بعد حمل ساقط ہوجائے تو اس کے بعد نکلا ہوا خون نفاس کے حکم میں ہے، جیساکہ ’’بدائع الصنائع‘‘ میں ہے:
’’والسقط إذا استبان بعض خلقہٖ فہو مثل الولد التام یتعلق بہٖ أحکام الولادۃ من انقضاء العدۃ وصیرورۃ المرء ۃ نفساء لحصول العلم بکونہٖ ولدًا مخلوقًا عن الذکر والأنثٰی، بخلاف ما إذا لم یکن استبان من خلقہٖ شیء ، لأنا لاندری ذاک ہو المخلوق من مائہما أو دم جامد أو شیء من الأخلاط الردیۃ استحال إلٰی صورۃ لحمٍ ، فلایتعلق بہٖ شیء من أحکام الولادۃ۔‘‘ (ج:۱،ص:۴۳، کتاب الطہارۃ، فصل فی تفسیر الحیض والنفاس، الخ، ط:سعید)
۳:…حمل جب تک خون کی شکل میں ہو تو ضرورتِ شدیدہ کے وقت اُسے گرایا جاسکتا ہے، لیکن اگر اس کے اعضاء بن گئے تو اس کا گرانا جائز نہیں ہے، جیساکہ فتاویٰ شامی میں ہے۔ 
                                         (راجع: ج:۶، ص:۳۷۴، کتاب الحظر والاباحۃ، ط:سعید)
۴:…اخلاطِ اربعہ مثلاً: صفرائ، سودائ، بلغم، خون، انسانی زندگی کے لیے ممد ومعاون ضرور ہیں، بالفعل اعضاء میں شامل نہیں، اللہ تعالیٰ نے تخلیقِ انسان کی ترتیب بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ: انسان کو نطفہ سے پیدا کیا، پھر اُسے خون کا لوتھڑا بنایا، پھر گوشت کا ٹکڑا، پھر ہڈیاں بنائی ہیں، پھر ہڈیوں کے اوپر گوشت اور چمڑا چڑھایا۔
اس ترتیب سے حقیقت بالکل عیاں ہوجاتی ہے کہ جس طرح نطفہ وخون کے جوہر وحقیقت میں فرق ہے، اسی طرح گوشت اور خون کی حقیقت میں بھی فرق ہے۔ ان مختلف فروق اور اوصافِ مفارقہ کی وجہ سے خون کو دیگر اعضاء انسانی میں شمار کرکے دونوں پر یکساں حکم لاگو کرنا کسی طرح درست نہیں۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: کتاب ’’انسانی اعضاء کی پیوندکاری اور اُس کے شرعی احکام‘‘ مؤلفہ: حضرت مولانا مفتی محمد عبد السلام چاٹگامی مدظلہ العالی۔   فقط واللہ تعالیٰ اعلم
    الجواب صحیح              الجواب صحیح                            کتبہ
ابوبکر سعید الرحمن          محمد شفیق عارف                    عزیر محمود دین پوری
                                 دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے