بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1442ھ- 01 دسمبر 2020 ء

بینات

 
 

’’اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء‘‘ کے اصل مضمرات  اور منفی اثرات

’’اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء‘‘ کے اصل مضمرات  اور منفی اثرات


۲۷/ستمبر ۲۰۲۰ء کو ملک کے قانون ساز فورم پر ایوانِ زیریں اور ایوانِ بالا کا مشترکہ پارلیمانی اجلاس ہوا، جس میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے قومی نمائندگی کرتے ہوئے قانون سازی کے عمل میں اپنا کردار ادا کیا اور ایک قانون سازی عمل میں آئی، جو صدرِ مملکت کے دستخطوں سے آخری منظوری کا شرف پانے میں بھی سرخرو رہی۔ اس قانون سازی میں جس عجلت، تحکُّم اور دھاندلی سے کام لیا گیا، اس پر اپوزیشن کے تحفظات میڈیا کے ریکارڈ پر موجود ہیں، ان سے بحث کرنا ہمارا موضوع نہیں ہے۔ لیکن اتنا ضرور محسوس ہورہا تھا کہ یہ قانون سازی یا ترمیمی بل معمول کی قانون سازی اور روایتی طریقے سے ہٹ کر کسی زبردست دباؤ کے نتیجے اور افراتفری کے ماحول میں پاس کرایا گیا ہے۔ جب یہ بل منظوری کے تقاضے پورے ہونے کے بعد منظر عام پر آیا تو اس سے اُن خدشات کو تقویت ملی کہ فی الواقع یہ بل معمول کی قانون سازی کی بجائے خالص بیرونی دباؤ کے نتیجے میں منظور ہوا ہے۔ اس بل میں پاکستانی عوام اور اُن کے مذہبی رجحانات کی بے ہنگم پامالی کی گئی ہے اور یہ بل کئی شرعی احکام کے منافی ہونے کی بنا پر قانون سازی کے عمل سے آئینی طور پر گزرہی نہیں سکتا تھا، اس لیے ضروری بحث وتمحیص کی بجائے کشیدہ حالات اور ہنگامی صورتِ حال پیدا کرکے جلدی سے اُسے منظور کرنا مقصود تھا، اس بل کا متن اور اس کی توضیحات سے متعلق باخبر احباب کی طرف سے حاصل شدہ دستاویزات کے مطابق اس بل کے تین بنیادی اجزاء ہیں:
۱:- اینٹی منی لانڈرنگ ۔۔۔۔۔۔ رقوم کی منتقلی میں دستاویزی عمل اور عالمی قوانین کی شفافیت کے ساتھ عمل درآمد کرنا اور ان قوانین کے برخلاف رقوم کی منتقلی کو روکنا)۔
۲:- اینٹی ٹیررازم ۔۔۔۔۔۔ عالمی دنیا کی تعریفات کے مطابق دہشت گردی کی روک تھام اور دہشت گردانہ مقاصد کے لیے رقوم کی جمع بندی اور منتقلی سے متعلق عالمی خطوط کے مطابق سدِّباب کرنا۔
۳:-اوقاف کنٹرول پالیسی ۔۔۔۔۔۔ بل میں اس پالیسی کا دائرہ کار ’’اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء‘‘ کے عنوان سے اسلام آباد میں واقع مذہبی عبادت گاہوں اور تعلیم گاہوں تک ظاہر کیا گیا ہے۔ بل کے تینوں اجزاء پر شرعی نقطۂ نگاہ سے بحث وتمحیص کی گنجائش ہے۔ منی لانڈرنگ اور ٹیررازم سے متعلق ملک کے دو اداروں شریعت ایپلینٹ بنچ اور اسلامی نظریاتی کونسل کو متوجہ ہونا چاہیے کہ وہ جائزہ لیں کہ منی لانڈرنگ سے متعلق مغربی معاشی استحصالی بالادستی کا عنصر کتنا پایا جاتاہے اور اس میں شرعی قباحت کیا ہے؟ مجاز اتھارٹیز کو شرعی علم وتحقیق کے آئینے میں یہ دیکھنا چاہیے کہ ایک مالک انسان اپنی جائز ملکیت اور جائز رقوم کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل کرنا چاہے تو وہ شرعی لحاظ سے کتنا پابند اور کتنا آزاد ہے؟ 
اگر ایسا شخص مسلمان ہو اور اسلامی شریعت‘ اس کی جائز ملکیت کی منتقلی میں رکاوٹ نہ ڈالتی ہو تو اس کے ’’جائز حق‘‘ کے خلاف ’’قانون سازی‘‘ شریعتِ اسلامیہ سے کیسے ہم آہنگ ہوگی؟! متعلقہ ادارے، اس امر کا حقیقت پسندانہ شرعی جائزہ لے کر پارلیمنٹ کی رہنمائی کریں۔ 
اہلِ علم بخوبی جانتے ہیں کہ منی لانڈرنگ کی مبینہ صورت اور اس سے متعلق قانون میں بحث کے امکانات بالکل روشن ہیں۔ نیز ٹیرر ازم کیا ہے؟ اس کا تعلق کسی طاقت ور کے سامنے دفاعی عمل سے کتنا ہے اور کسی کمزور کے خلاف طاقت ور کے اقدامی عمل سے کتنا ہے؟ مزید یہ کہ ٹیررازم اور ٹیررسٹ کا مورِد و مصداق بنانے کے لیے مغربی دنیا کے معیارات کیا ہیں؟ اسلامی نقطۂ نظر سے اس کی صحیح تشخیص کے بغیر اس موضوع کو پارلیمنٹ میں گھسیٹنا ملک میں قرآن وسنت کی آئینی بالادستی سے صرفِ نظر کی آئینی بغاوت کے زمرے میں آسکتاہے، اس لیے اس موضوع پر قانون سازی سے قبل متعلقہ اداروں کی طرف سے منی لانڈرنگ اور ٹیررازم کی شرعی اسکروٹنی ضروری ہے۔
جبکہ اوقاف کنٹرول پالیسی، جس کا اطلاق اور نفاذ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع مساجد، مدارس اور امام بارگاہوں کے لیے وقف زمینوں کے انتظام وانصرام پر ہوگا۔ ’’اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء ‘‘کی رو سے وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں میں مساجد ، مدارس، امام بارگاہوں کے لیے وقف زمین کے جملہ تصرفات کا انتظام وانصرام حکومتی نگرانی میں چلے گا۔ اس بل کے اہم مندرجات اور اُن پر مختصر شرعی و فقہی تبصرے ملاحظہ فرمایئے! نئے قواعد میں شامل ’’اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء‘‘ کے مطابق:
۱:- ’’وفاق کے زیرِانتظام علاقوں میں مساجد، امام بارگاہوں کے لیے وقف زمین چیف کمشنر کے پاس رجسٹرڈ ہوگی۔‘‘ جبکہ شرعی لحاظ سے وقف کی صحت و تمامیت کسی رجسٹریشن پر موقوف نہیں ہے۔
۲:-’’ اس کا انتظام و انصرام حکومتی نگرانی میں چلے گا۔‘‘ حالانکہ اوقاف کا غالب حصہ پرائیویٹ سطح پر ہی ہوتا ہے، وقف کے انتظام وانصرام کو سرکار تک محدود کرنا وقف کے روایتی احکام کے منافی ہے۔
۳:-’’ بل کے مطابق حکومت کو وقف املاک پر قائم تعمیرات کی منی ٹریل معلوم کرنے اور آڈٹ کا اختیار ہوگا۔‘‘ وقف ایک عبادت ہے، بالخصوص مساجد ومدارس کی مد میں وقف کرنا عبادت ہے، اس قسم کی مالی عبادت میں اخفاء (رازداری) کا شرعی پہلو منی ٹریل دینے کا پابند نہیں ٹھہراتا۔
۴:-’’ وقف کی زمینوں پر قائم تمام مساجد، امام بارگاہیں، مدارس وغیرہ وفاق کے کنڑول میں آجائیں گی۔‘‘ دنیا سے اسلامی اقتدار کے غروب کے بعد یہ انگریزی حسرت تھی کہ دینی مراکز بھی سرکاری تحویل میں لیے جائیں، جو مذہبی آزادی اور مذہبی رسومات وعبادات کی آزادانہ ادائیگی پر قدغن کے مترادف ہے۔ دین اور دینی رسوم سے ناآشنا انتظامیہ کو دینی مراکز پر تسلُّط دینا درحقیقت ان دینی مراکز کی تباہی اور ویرانی کا ذریعہ ہے، اس لیے مدارس ومساجد کا سرکاری کنٹرول میں آنا شرعاً درست نہیں ہے۔
۵:-’’ وقف املاک پر قائم عمارت کے منتظم منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے تو حکومت ان کا انتظام سنبھال سکے گی۔‘‘ جبکہ منی لانڈرنگ کا مبینہ مفہوم مساجد ومدارس پر مالی معاونت کی صورت میں کی جانے والی عبادت پر صادق نہیں آتا، اس کے باوجود ایسی املاک کو ناروا بہانے سے سرکاری تحویل میں لینا اسلامی ملک میں مذہبی آزادی سلب کرنے کی ناجائز کوشش ہے۔
۶:-’’ بل کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ اور ۵ سال تک سزا ہو سکے گی۔‘‘ حالانکہ اسلامی شریعت میں مالی جرمانہ حرام کے درجہ میں ہے۔
۷:-’’ حکومت چیف کمشنر کے ذریعے وقف املاک کے لیے منتظمِ اعلیٰ تعینات کرے گی۔‘‘ جبکہ جن وقف املاک کا منتظم ومتولی خود واقف (وقف کنندہ) نے متعین کردیا ہو، اُسے سرکار معزول نہیں کرسکتی۔
۸:-’’ منتظمِ اعلیٰ کسی خطاب، خطبے یا لیکچر کو روکنے کی ہدایات دے سکتا ہے۔‘‘ یہ تو مذہبی آزادی کے عالمی قانون اور دینی نصیحت کی خلاف ورزی ہے۔
۹:-’’ منتظمِ اعلیٰ قومی خود مختاری اور وحدانیت کو نقصان پہنچانے والے کسی معاملے کو بھی روک سکے گا۔ نئے قوانین میں انسدادِ دہشت گردی ترمیمی ایکٹ 2020 ئبھی شامل ہے۔‘‘ بلاشبہ قومی وحدت اور خود مختاری پر قدغن جرم ہے، مگر اُسے دہشت گردی نہیں کہاجاسکتا، فقہی لحاظ سے دہشت گردی کے لیے ’’بغي‘‘ کا ضابطہ لاگو ہوسکتا ہے، جس کا یہاں انطباق مشکل ہے۔ 
۱۰:-’’ ایڈمنسٹریٹر کے کسی حکم کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔‘‘کسی بھی حکم کا نان چیلنج ایبل ہونا یہ شریعتِ اسلامیہ اور عالمی قوانین سے متصادم ہے۔ 
۱۱:-’’ وقف فرد کے نام ہوگا ، ادارہ کے نام پر نہیں ہوگا، یعنی مسجد یا مدرسہ کو رقم نہیں دی جاسکتی، بلکہ نیچر پرسن (اصلی شخص) کو دیں گے۔‘‘ جبکہ شریعت کی رو سے وقف میں یہ پابندی ہرگز نہیں ہے۔ وقف اداروں کے نام بھی ہوسکتا ہے اور افراد کے نام بھی صحیح ہے۔
۱۲:-’’ مسجد ومدرسہ کو رقم دینے والے اپنے منی ٹریل دینے کے پابندہوں گے۔‘‘ جبکہ یہ شخصی مالی عبادت پر قدغن ہے، اور کارِ خیر کے انسداد کا باعث ہے جو شرعاً ظلم بھی ہے۔
۱۳:-’’ مسجد ومدرسہ کے اخراجات کی فنڈنگ کی تفصیلات یا منی ٹریل نہ ہونے پر عمارت سرکاری تحویل میں منتقل ہوجائے گی۔‘‘جبکہ شرعی لحاظ سے یہ ایسی بنیاد نہیں ہے، جس کے باعث خاص اوقاف سرکاری تحویل میں منتقل ہوسکیں۔
۱۴:-’’ وقف ادارے کے تمام عہدیداروں کا مکمل ڈیٹا اور ٹیکس ریکارڈ حکومت چیک کرے گی۔‘‘ اوقاف کی ایسی چیکنگ یا دخل اندازی جو اوقاف کے مطلوبہ مقاصد کی نفی یا تعطل کو مستلزم ہوں جائز نہیں، حکومتی پڑتال کا مبیَّنہ مقصد اور ضرر یہی معلوم ہورہا ہے۔
۱۵:-’’ وقف کی رقم کو منتظمِ اعلیٰ اپنی صوابدید پر کسی بھی مصرف میں استعمال کرسکتا ہے۔‘‘ حالانکہ جہتِ وقف کا لحاظ رکھنا شرعاً لازم ہے۔
۱۶:-’’ ادارے کے منتظم کو ذرا سی شکایت پر وارنٹ اور وارننگ کے بغیر ۶ ماہ کے لیے اُٹھایا جاسکتا ہے۔‘‘ جبکہ شریعت کی رو سے کسی ملزم کو جرم کے شرعی ثبوت کے بغیر قید کرنا جائز نہیں ہے، چہ جائیکہ معمولی سی شکایت پر ۶ ماہ کے لیے لاپتہ کیا جائے، یہ عمل بذاتِ خود شرعی جرم ہے۔
مذکورہ بل کے مندرجات سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ اس بل کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اولِ وہلہ میں وفاقی دارالحکومت میں واقع مذہبی عبادت گاہوں اور دینی تعلیم گاہوں کو سرکاری تحویل میں لیا جائے گا، اس تجربہ کے بعد ملک بھر میں موجود عبادت گاہوں اور دینی تعلیم گاہوں کو سرکاری تحویل میں لایا جائے گا۔ اس حوالے سے یہ کوئی نئی واردات نہیں ہے، اس سے پہلے بھی یہ کوششیں ہوتی رہیں، مگر اس کوشش کے حاملین ایسی حسرتوں کے ہمراہ مدفون ہوگئے اور یہ مساجد ومدارس اسی طرح مصروفِ کار ہیں۔
اصل قضیہ یہ ہے کہ ۲۰۰۰ء کے بعد سے مساجد ومدارس کو دہشت گردی سے جوڑ کر بدنام کرنے کے لیے اندرونی اور بیرونی طاقتوں نے مشترکہ طور پر سارے جتن آزمائے ، مگر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اب F.A.T.F کے مطالبات کی آڑ میں مساجد ومدارس کے لیے پرانے مداری نیا جال لے کر میدان میں اُترے ہیں اور وطنِ عزیز کے سرکاری مناصب پر قابض مغربی گماشتے اپنے آقاؤں کی خدمت اُن کے خطوط پر کر رہے ہیں اور مغربی آقاؤں کی ہر طرح کی بلیک میلنگ کا شکارہیں۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ایف-اے-ٹی-ایف کا تعارف اور پاکستان میں اس کے اہداف کا سرسری جائزہ سامنے رکھتے چلیں۔یہ تعارف جناب محمد عمران صاحب کی ایک اقتباسی تحریر سے لیا گیا ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورم 

دستیاب دستاویزات کے مطابق ایف-اے-ٹی-ایف (Force Task Action Financial) ایک بین الحکومتی یعنی انٹرگورنمنٹل ادارہ ہے، جسے ۱۹۸۹ء میں جی سیون ممالک (G-7) امریکا، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، اٹلی، جرمنی اور جاپان) نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی سے منسلک مالی معاونت کی روک تھام اور بین الاقوامی مالیاتی نظام کو اس سلسلے میں درپیش خطرات سے بچانے لیے قائم کیا تھا۔شروع میں اس کا بنیادی مقصد صرف منی لانڈرنگ کو روکنا تھا، مگر امریکی ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد دہشت گردی کی مالی معاونت (ٹیرر فنانسنگ) کو روکنا بھی اس کے مقاصد میں شامل کردیا گیا۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان کی تعداد ابتدا میں ۱۶ تھی، جسے بڑھا کر ۳۹کردیا گیا ۔ اس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت اور ترکی سمیت ۲۵ ممالک، خلیج تعاون کونسل اور یورپی کمیشن شامل ہیں۔
 ریجنل گروپس اور۲۸ آبزرور باڈیز ہیں۔ ان آبزورباڈیز میں اقوامِ متحدہ، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف ، یورپی یونین وغیرہ شامل ہیں۔ یو این سیکیورٹی کونسل کی ریزولیوشن ۲۴۶۲ پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک پر لازم کرتا ہے کہ وہ ’’فیٹف‘‘(F.A.T.F) کی بات مانیں۔ اس کے ممبرز سال میں تین مرتبہ فیصلہ کن اجلاس میں شامل ہوتے ہیں۔ اس کا ہیڈ کوارٹر فرانس کے دارالحکومت پیرس کے ڈسٹرکٹ ۱۶ میں واقع آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈولپمنٹ (او ای سی ڈی) کی عمارت کے اندر قائم ہے۔ ’’فیٹیف‘‘ (F.A.T.F) مختلف گروپس کے ذریعہ اپنا کام کرتا ہے۔ ایشیا میں یہ ایشیا پسیفک گروپ کہلاتا ہے۔ تنظیم کی بنیادی ذمہ داریاں عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔ یہ بین الحکومتی ادارہ جنگلی حیات کی غیرقانونی تجارت میں استعمال ہونے والی رقوم کو روکنے کے لیے بھی اقدامات تجویز کرتا ہے۔ دنیا کے امیر اور تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک کے اجلاس جی۲۰ میں بھی ایف-اے-ٹی-ایف اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے۔ G-20 میں انڈیا بھی شامل ہے۔ ایف-اے-ٹی-ایف کی واچ لسٹ میں شامل ممالک کو دو کیٹیگریز میں رکھا جاتا ہے: گرے لسٹ اور بلیک لسٹ۔ گرے لسٹ سے مراد (ICRG Group Review Corperation International) ہے۔ گرے لسٹ میں شامل ممالک کے لیے بھی بیرونی ممالک سے قرض لینا اورسرمایہ کاری کرنا مشکل اور ٹریڈ محدود ہوجاتا ہے۔ ایف-اے-ٹی-ایف کا بنیادی مقصد مغربی ممالک کے مفادات کے خلاف کام کرنے والے ممالک کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے اور ان کو معاشی طور پر کمزور رکھنا ہے۔ http://www.fatf-gafi.org/home/

پاکستان میں F.A.T.F کے مقاصد

ایف-اے-ٹی-ایف(F.A.T.F) کا کہنا ہے کہ پاکستان مئی۲۰۱۹ء گرے لسٹ سے نکلنے کی ڈیڈلائن پوری کرنے میں ناکام رہا۔ دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اکتوبر تک پلان پر تیزی سے عمل کریں، ورنہ اگلے مرحلے کا فیصلہ کریں گے ۔ پاکستان کو ان اُمور پر عملدرآمد کا پابند بنایا گیا ہے:
۱:- کالعدم تنظیموں کے اَثاثے ضبط کرے۔
۲:- کوریئر کے ذریعے ہونے والی ٹیرر فنانسنگ روکیں۔ 
۳:- ’’فیٹف‘‘ (F.A.T.F) کے۱۰ نکاتی پلان پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ 
۴:- روپیہ کی تقسیم و ترسیل پر مامور بینکنگ، نان بینکنگ سیکٹر اور ویلیو ٹرانسفر سروسز کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کی جائے اور اُن کی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جائے ۔ 
۵:- کالعدم تنظیموں اور اُن سے وابستہ افراد کی سخت مانیٹرنگ کی جائے اور ان کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے انٹر ایجنسی تعاون کا فریم ورک لاگو کیا جائے۔
۶:- جو افراد پکڑے جائیں، اُن کے خلاف سخت کیس بناکر عالمی معیار کے مطابق پراسیکیوشن کا انتظام کیا جائے۔ اس ضمن میں پراسیکیوشن اور عدلیہ کی بھرپور استعدادِ کار میں اضافہ کیا جائے۔
۷:- ۱۲۷۶ کالعدم تنظیموں اور ان سے وابستہ ۱۳۷۳ افراد کو منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے قوانین کے تحت سزا دی جائے ۔
۸:- حساس نوعیت کے کیسز کی نگرانی بڑھائی جائے ۔ 
۹:- ٹیرر فنانسنگ روکنے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر ہم آہنگی پیدا کی جائے ۔
۱۰:- کیش کوریئرز کے ذریعے دہشت گردوں تک پیسے کی رسائی کو روکا جائے۔
۱۱:- دہشت گروں کی مالی معاونت میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے، دہشت گردوں کی منقولہ ،غیر منقولہ جائیداد ضبط کی جائے۔ اگر پاکستان ایف- اے-ٹی - ایف کے یہ مقاصد ومطالبات پورے نہ کرپائے تو اُسے ایسا ملک قرار دیا جائے گا جہاں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت ہوتی ہے اور پاکستان پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
پاکستان اگر گرے لسٹ سے باہر نہ آسکا تو اس کی معیشت کا بٹہ بٹھانے کے لیے ملک کے تمام بینکنگ سسٹم ، ٹرانزیکشن اور ٹریڈ کو ایسا جکڑا جائے گا کہ اس سے ملک کی معیشت بری طرح متأثر ہوگی، اگر پاکستان گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں چلا گیا تو ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی وہی قدر ہوگی جو ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی ہے۔ 
بہرکیف ایف- اے-ٹی - ایف کی طرف سے بلیک میلنگ کی اس تلوار کے سائے میں جو مطالبات کیے گئے ہیں ، ان میں دہشت گردی کا انسداد ہر دفعہ کا اولین ہدف ہے۔ لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دہشت گردی کا اطلاق کن اُمور پر ہوتا ہے؟ اگر کالعدم تنظیموں پر ہوتا ہے تو اُن کے عدم سے وجود اور بقا کی تاریخ کا سوال بھی ایک بہت بڑی حقیقت ہے۔ اگر اس کا اطلاق ریاست کے خلاف ہر قسم کی شدت پسندی کی روک تھام سے ہے تو اس مقصد کے لیے جنوری ۲۰۱۵ء میں ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور معاونت سے نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں قانون سازی ہوچکی ہے، مزید کسی اضافہ یا ترمیم کی ضرورت بظاہر نہیں تھی، اس لیے دہشت گردی کے عنوان سے حالیہ قانون سازی کی ضرورت نہیں تھی، اگر کسی پیمانے پر ضرورت محسوس کی جارہی ہے تو اس ضرورت کے ساتھ ’’اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء‘‘ کے نام سے مساجد ومدارس کی فکری وعملی حریت کا گلا گھونٹنے والے بل کی کیا ضرورت تھی؟ درحقیقت اصل معاملہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ایف- اے-ٹی - ایف کے مطالبات کی تکمیل میں بنیادی طور پر مساجد ومدارس کا کنٹرول ہی شامل ہے۔ بل کے متن میں صاف اور واضح لکھا ہوا ہے کہ اوقاف کے منتظم کے عدمِ تعاون پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ متحرک ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء‘‘ کے عنوان سے قانون سازی کا مطلب اس کے پیچھے چھپے ہوئے مقاصد میں مساجد ومدارس کے خلاف منفی عزائم کی تکمیل ہے۔ یہ محض اندازہ نہیں ہے، بلکہ امرِواقعی ہے اور باخبراحباب جانتے ہیں کہ ایف- اے-ٹی-ایف (F.A.T.F) کی طرف سے پاکستان کو ۱۵۰ سوالات پر مشتمل سوال نامہ بھیجا گیاہے ، جس میں مدارس سے متعلق کیے گئے قانونی اقدامات کی تفصیلات پوچھی گئی ہیں۔
مدارس کے بارے میں مطلوبہ قانونی اقدامات کے حوالے سے ایف-اے-ٹی-ایف (F.A.T.F) کو اطمینان دلانے کے لیے ’’اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء ‘‘سے آغاز کیا جارہا ہے۔
ایف-اے-ٹی-ایف (F.A.T.F) نے اپنے مطالبات پورے نہ ہونے پر پاکستان کو دو طرح سے بلیک میل کر رکھا ہے: ایک یہ کہ پاکستان گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں چلا جائے گا، وطن عزیز اس کے نتیجے میں اقتصادی پابندیوں کا شکار ہوکر بدترین معاشی بحران سے دوچار ہوجائے گا۔ دوسرا یہ کہ پاکستان ٹیرریسٹ ڈیکلئیر ہوجائے گا، حالانکہ ہم ٹیررازم کے خلاف عالمی تقاضوں کے عین مطابق قانون سازی کے عمل سے گزرچکے ہیں۔
 اس بلیک میلنگ کے ذریعہ ایک تو پاکستان کی معاشی پالیسی کو مغربی مفادات کے زیرِ اثر رکھنا اور دوسرا مذہبی خدمات کے روایتی طریقے کو سرکاری شکنجہ میں کسنا ہے۔ ملک کی معاشی تباہی تو عوام وخواص کے سامنے ہے۔ ایف- اے-ٹی - ایف کے سارے مطالبات تسلیم کرنے کے باوجود ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدروقیمت کی تیزی سے گراوٹ سے اندازہ ہورہا ہے کہ پاکستان کو عملاً بلیک لسٹ میں دھکیلا جاچکا ہے۔ ہوش ربا مہنگائی نے عام انسانوں کی زندگی اجیرن بنارکھی ہے۔ ملک کی معاشی تباہی کا یہ تسلسل ایف- اے-ٹی - ایف کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کے باوجود نہیں رُک رہا۔ دوسری طرف گورنر اسٹیٹ بینک،وزیرخزانہ، مشیرخزانہ سے لے کر مالیاتی شعبے کے پالیسی سازوں میں مغربی گماشتے براجمان ہیں۔ پاکستان کے تمام بینکنگ سسٹم ، ٹرانزیکشن اور ٹریڈرز کو مکمل طور پر ایف- اے-ٹی - ایف کے شکنجے میں کستے ہوئے ہمیں پاکستان میں اسلامک بینکنگ کے منظم اجراء اور فروغ کے لولی پاپ بھی دیئے گئے اور اس کے لیے قومی سطح پر کمیٹیاں بھی تشکیل دی جارہی ہیں اور ہمارے کچھ علماء کو یہاں مصروف کیا جارہا ہے۔
ایف- اے-ٹی - ایف کی طرف سے پورے بینکنگ سسٹم پر لٹکتی تلوار کے سائے میں نام نہاد اسلامک بینکنگ کے فروغ کی گنجائش موجود ہونے پر ہماری سادگی تو قابلِ رحم ہے ہی، نام نہاد اسلامک بینکنگ کی اسلامیت کا شک بھی پختہ یقین میں بدل رہا ہے۔ ہمارے خیال میں یہ دونوں باتیں اپنی جگہ درست ہیں۔اور ایف- اے- ٹی - ایف کے معاشی شکنجے کی مضبوط گرفت میں اسلامک بینکنگ کے روشن امکانات بتانے سے ان علماء کرام کے موقف کی بھرپور تائید ہورہی ہے، جن کی رائے میں اسلامک بینکنگ درحقیقت بینکنگ سسٹم میں مغربی ساہوکاری کی پیروکاری ہے، بلکہ سچ کہا گیا ہے کہ :’’اسلامی بینکاری سے سرمایہ دارانہ بینکاری کو جو اخلاقی سپورٹ ملی ہے، وہ سرمایہ داروں کے ان پیسوں اور ڈالروں سے بھی زیادہ اہم ہے۔ ‘‘
اس لیے ہمارے علماء کرام کو چاہیے کہ وہ ایف- اے-ٹی - ایف کے منحوس سائے میں اسلامی بینکاری کے خواب دیکھنے کے بجائے ’’اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء‘‘ کی طرف متوجہ ہوں۔ بلاشبہ ایف- اے- ٹی- ایف کے مطالبات ملک کے خلاف معاشی شکنجہ ہے، مگر اس سے زیادہ خطرناک پھندا مذہبی عبادات ورسومات کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس بل میں شرعی لحاظ سے چار بنیادی سقم ہیں، جن کی رو سے یہ بل قرآن وسنت کی بالادستی کے آئینی تقاضے سے کھلا انحراف ہے:
۱:- وقف ایک عبادت ہے، اس کی حدود اور ہیئت کا تعلق شریعت میں واضح طور پر موجود ہے۔ وقفِ خاص اور وقفِ عام کے احکام کی تفریق اور تفصیل بھی شریعت میں موجود ہے۔ حالیہ بل میں وقف کے عباداتی پہلو کو پس پشت ڈال کر چیف کمشنر کے زیرِتصرف دینا شرعی احکام کی عدمِ رعایت کو مستلزم ہے۔ 
۲:- مساجد ومدارس کے لیے فنڈنگ کے عمل کو مسدود کرنے کے لیے معاونین کو ذرائع آمدن کی منی ٹریل کا پابند بنانا درحقیقت مساجد و مدارس کے معاونین کی انفرادی ذاتی مالی عبادت میں دخل اندازی کا ارتکاب ہے۔ 
۳:-دنیا کے تمام مذاہب میں یہ مسلَّم ہے کہ مذہبی مراکز سے وابستہ مذہبی پیشواؤوں اور کارکنوں سے تعرُّض نہیں کیا جائے گا، یہاں امتیازی سلوک برتنے کا عمل ہورہاہے،جو خلافِ شرع ہے۔ 
۴:- مدارس، مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کے انتظام وانصرام کی اہلیت مذہب سے وابستہ لوگوں میں منحصر ہے، وہی اس ذمہ داری کو نبھا سکتے ہیں۔ سرکاری کارندوں کو ان مناصب پر فائز کرنا ان مناصب اور اوقاف املاک کے ضیاع کے مترادف ہے اور حکومت کے لیے ایسے اقدامات کرنا حرام ہوتا ہے، کیوںکہ یہ خیانت ہے، اس لیے ان مقاصد کی برآری شریعتِ اسلامیہ اور ملکی آئین سے متصادم ہے، اس میں وقف کے منصوص ومصرح احکام کی پامالی بھی ہے۔
جبکہ ملکی آئین کہتا ہے کہ کوئی بھی قانون سازی قرآن وسنت کے خلاف نہیں ہوسکتی۔
بہرحال ’’اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء‘‘ یہ ایک ایسا قانون ہے جو بلاامتیاز تمام مذاہب اور مسالک کے لیے خطرناک پھندا ہے۔ اگر اس کی گرفت سے بچنے کے اجتماعی اقدامات نہ کیے گئے تو نہ تو کوئی سنی بچے گا نہ شیعہ، مقلد بچے گا نہ غیرمقلد اور نہ ہی دیوبندی بچے گا نہ بریلوی۔ تمام مکاتبِ فکر کے سنجیدہ اہلِ علم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ یہ قانون اس وقت پاس کیا گیا، جب بعض شرپسندوں کے ذریعہ مذہبی حلقوں کو سڑکوں پر آمنے سامنے کھڑا کیا جاچکا تھا، جس طرح بعض مقدس ہستیوں کی گستاخی کا ارتکاب کروایا گیا اور ان کو سرکاری سرپرستی میں مکمل تحفظ اور فرار کے مواقع دیئے گئے۔ یہ سب کچھ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سرکاری حلقوں کی طرف سے حالیہ مذہبی انتشار کے ذریعہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کی گئی ہے۔ ہر طبقے کے سنجیدہ اہلِ علم ان توہین آمیز واقعات سے پہلے بھی آپس میں بیٹھا کرتے تھے اور ان واقعات کے بعد بھی بیٹھنے پر آمادہ تھے اور بیٹھے بھی ہیں۔ صرف درمیان کے چند ایام میں، اس قدر کشیدگی کا مقصد یہی تھا کہ مذہبی حلقے آپس میں اُلجھے رہیں، دوسری طرف ان کے مذہبی اقدار کی بیخ کنی کا بل پاس کرالیا جائے اور متحدہ مجلسِ عمل، اتحادِ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ اور ملی یکجہتی کونسل جیسے کسی بھی پلیٹ فارم سے کوئی زوردار آواز یا ردِ عمل نہ آئے۔ اب ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ مذہبی انتشار مذہبی لوگوں سے زیادہ سرکاری لوگوں کی ضرورت ہوا کرتا ہے۔

وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد و علٰی آلہٖ و صحبہٖ أجمعین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے