بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1442ھ 21 جون 2021 ء

بینات

 
 

اخلاق و معاشرت پرزبان اور لباس کا اثر 

اخلاق و معاشرت پرزبان اور لباس کا اثر 


اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں جتنی چیزیں پیدا کی ہیں، وہ سب کی سب انسانوں کے کسی نہ کسی فائدے کے لیے ہیں، چنانچہ جس طرح ہر ہر جماد و نبات میں اور جڑی بوٹیوں میں حق تعالیٰ نے خاص خاص آثار رکھے ہیں، جن میں سے کچھ انسانی طبیعت کے لیے مفید جبکہ بعض مضر سمجھے جاتے ہیں اور دوا وعلاج اور پرہیز میں اُن کا لحاظ رکھا جاتا ہے، اسی طرح انسانی افعال واعمال میں بھی ہر عمل کی کچھ خاصیات ہیں جو قرآن وحدیث میں بیان کی گئیں اور بعض مشاہدات وتجربات سے ثابت ہیں۔
زبان اور لباس اسی سلسلے کی دو کڑیاں ہیں کہ ان میں حق تعالیٰ نے خاص خاص آثار رکھے ہیں اور اکثر احکامِ اسلام میں اُن کا لحاظ رکھا گیا ہے ۔
صدیوں کے تجربہ اور ہزاروں مشاہدات سے یہ امر درجۂ یقین کو پہنچ جاتاہے کہ انسان جس قوم کی زبان اور لباس اختیار کرتا ہے‘ اس کے خیالات اور اخلاقیات نہایت تیزی سے اس کے دل ودماغ پر چھاجاتے ہیں، اس باریک ربط کی حقیقت کوئی سمجھ سکے یا نہ سمجھ سکے، مگر اس کے نتائج اس قدر کھلے ہو ئے ہیں کہ ان کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
ہمارے اسلاف اس گُر سے خوب واقف تھے۔ انہوں نے جب جزیرۃ العرب سے ہدایت کا جھنڈا لے کر عجم کی طرف قدم نکالا تو ہر جگہ اس کا خیال رکھا اور جس طرح اسلام کی اشاعت وتبلیغ کو تمام عالمِ اسلام پر عام کرنے کی کوشش کی، اسی طرح عربی زبان اور عرب کی وضع قطع ولباس کو بھی عام کرنے کی بھرپور سعی فرمائی اور تھوڑے ہی عرصے میں وہ حیرت انگیز کامیابی حاصل کی کہ پوری دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ایک طرف اگر دنیا کا جغرافیہ بدل ڈالا تو دوسری طرف مختلف ممالک وطبقات کی زبانیں بدل ڈالیں۔ اس سے پہلے مصر میں قبطی زبان، شام میں رومی زبان، عراق وخراسان میں فارسی، یورپی ممالک میں بربری زبانیں رائج تھیں۔ اسلام ان ممالک میں پہنچا تو تھوڑے ہی عرصہ میں ان ممالک کی زبانیں اس طرح بدل گئیں کہ لوگ مادری زبانوں کو بالکل بھول گئے اور ملکی زبانوں کانام ونشان باقی نہ رہا۔
عربی زبان کے اتنے بڑے پھیلاؤ میں خود اس زبان کی شیرینی اور وسعت وسہولت کو بھی بڑا دخل ضرور ہے، لیکن ساتھ ہی اس میں بھی شبہ نہیں کہ حضرات صحابہ کرامؓ وتابعینؒ کی حکمت عملی اور اہتمامِ خاص کے بغیر یہ کایا پلٹنا محال نہیں تو مشکل ضرور تھا۔
اسی حکمت عملی کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ یہ اکابرِ اُمت واساطینِ ملت جس خطۂ ارضی میں اُترے، جب خطبہ دیا تو عربی زبان میں دیا، حالانکہ مخاطب اس زبان سے بالکل ناواقف تھے اور یہ حضرات اس پر قادر تھے کہ خود یا کسی ترجمان کے ذریعے خطبہ کو ملکی زبان میں منتقل کرکے مخاطبین تک پہنچائیں، لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا اور ضروری احکام کو مخاطبین کی ملکی زبان میں پہنچانے کے لیے دوسرے انتظامات کرکے خطبوں کو صرف عربی زبان میں منحصر رکھا، تاکہ مخاطب کو خود اس طرف رغبت ہو کہ امام وامیر کی تقریرکا مفہوم سمجھنے کے لیے عربی زبان سے آشنا ہونا لازم ہے۔

اسلامی اعتدال کی ایک مثال

لیکن اس حکمت عملی میں بھی مسلمانوں نے اپنی امتیازی شان یعنی اعتدا ل اور حدود کی حفاظت کا ایسا خیال رکھا ہے کہ دوسری قوموں میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔ وہ چاہتے تھے کہ جلدسے جلد عربی زبان عام ہوجائے، لیکن اس مقصد کو ترغیب کی حد سے آگے نہیں بڑھایاکہ جبر واِکراہ کی نوبت آجائے۔ اقوامِ عالم کی کسی ایسی ضرورت کو عربی زبان پر موقوف نہیں رکھا، جس کے بغیر گزارہ مشکل ہو اور انسانی زندگی حرج اور تنگی میں پڑجائے۔
خطبہ کا سمجھنا کوئی فرض یا واجب نہیں کہ اس کے نہ سمجھنے سے انسان گنہگار ہو، البتہ ترغیب کا ایک بہترین اور معتدل ذریعہ ضرور تھا ، کیونکہ فطری طور پر مخاطب کو اس کی رغبت ہوتی ہے کہ امیر کی تقریر کو سمجھے، بخلاف عیسائی اقوام کے کہ جب ان کو اس گُر کی خبر ہوئی اور انہوں نے اپنی زبان کو عام کرنے کی ناکام کوشش شروع کی تو اس مقصد کے لیے مخلوقِ خدا کی زندگی تنگ کردی، اُن کا سفر وحضر اور معاملاتِ بیع وشراء اور رزق وروزی کو اپنی زبان جاننے پر موقوف کردیا۔اگر ان کی ازلی محرومی اور زبان کی تنگی وسختی درمیان میں نہ ہوتی تو بلا شبہ آج دنیا میں انگریزی کے سوا اور کسی دوسری زبان کا نام ونشان نہ ہوتا۔ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اسلام اور اسلامی زبان ہی کو خصوصی فضیلت عطا فرمائی ہے کہ وہ جس ملک میں داخل ہوئی ساری زبانیں منسوخ کرکے اُن سب کی جگہ لے لی۔(۱)
یورپ کا مشہور ڈاکٹر گستادلی بان عربی زبان کی اس ہمہ گیری پر حیران ہوکر لکھتاہے کہ:
’’زبانِ عربی کی نسبت ہم کو وہی کہناہے جو ہم نے مذہبِ عرب کی نسبت کہاہے، یعنی جہاں پہلے ملک گیر اپنی زبان کو مفتوحہ ممالک میں جاری نہ کرسکے تھے، عربوں نے اس میں کامیابی حاصل کی اور مفتوحہ اقوام نے ان کی زبان کوبھی اختیار کیا۔ یہ زبان ممالکِ اسلامیہ میں اس درجہ پھیل گئی کہ اس نے یہاں کی قدیم زبانوں یعنی سریانی ، قبطی ، یونانی، بربری وغیرہ کی جگہ لے لی۔ ایران میں بھی ایک مدت تک عربی زبان رائج رہی اور اگرچہ اس کے بعد فارسی زبان کی تجدید ہوئی، لیکن اس وقت تک علماء کی تحریریں اسی زبان میں ہوتی تھیں۔ ایران کے سارے علوم ومذاہب کی کتابیں عربی ہی میں لکھی گئی ہیں۔ ایشیاء کے اس خطہ میں عربی زبان کی وہی حالت ہے جو قرونِ وسطیٰ میں یورپ میں لاطینی زبان کی تھی۔ ترکوں نے بھی انہی کی طرزِ تحریر اختیار کرلی اور اس وقت تک ترکوں کے ملک میں کم استعداد کے لوگ بھی قرآن کو بخوبی سمجھ لیتے ہیں ۔
البتہ یورپ کی لا طینی اقوام کی مثال ہے جہاں عربی زبان نے ان کی قدیم زبانوں کی جگہ نہیں لی ، لیکن یہاں بھی انہوں نے اپنے تسلُّط کے کھلے آثار چھوڑے ہیں ۔ موسیو ڈوزی اور موسیو انگلمین نے مل کر زبانِ اندلس اور پرتگال کے ان الفاظ کی جو عربی سے مشتق ہیں ایک لغت (ڈکشنری)  تیار کرلی ہے، فرانس میں بھی عربی زبان نے بڑا اثر چھوڑا ہے ۔ موسیوسدی یو نے کیا خوب لکھاہے کہ: 
’’ادورن اور شوزمین کی زبانیں بھی عربی الفاظ سے زیادہ معمور ہوگئی ہیں اور ان کے ناموں کی صورت بھی بالکل عربی ہے۔‘‘
 فرانسیسی زبان کے ایک لغت نویس جنہوں نے عربی الفاظ کا اشتقاق دیا ہے، لکھتے ہیں: 
’’فرانس میں عربوں کے قیام کا اثر نہ محاورات پر رہاہے، نہ زبان پر ۔‘‘(۲)
مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ اس رائے کی کس قدر وقعت ہے۔ بڑی حیرت کی بات ہے، اب بھی ایسے تعلیم یا فتہ لوگ موجود ہیں جو اس قسم کے مہمل اقوال دہراتے نہیں تھکتے۔ اس فرانسیسی لُغوی کی لَغو بیانی کو تو خود یورپ کے فاضل گستادلی بان نے واضح کرکے محتاجِ تردید نہیں چھوڑا، لیکن ہم مزید اتنا کہیں گے کہ یہ بیچارہ یا تو یورپ کی گزشتہ تاریخ سے بالکل واقف نہیں، یا محض قومی تعصب کی وجہ سے لوگوں کو مغالطہ میں ڈالنا چاہتاہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ یورپ کے ممالک میں اسلام کو داخل ہوئے نصف صدی نہیں گزری تھی کہ وہاں کے عام باشندگان نے بربری ولاطینی زبانوں کو دفن کردیا کہ ان ممالک میں نصاریٰ کے پادری اس پر مجبور ہوگئے تھے کہ اپنے مذہب کی نماز وعبادت کا ترجمہ عربی زبان میں کرکے مسیحی قوم کے سامنے پیش کریں، تاکہ وہ اُسے سمجھ سکیں۔(۳)
الغرض امراء اسلام نے اشاعتِ زبان کے اہم مقصد کے ساتھ رعایا کی سہولت وآسانی کا بھی خاص خیال رکھا ہے، یورپی قوموں کی طرح دنیا کو اس پر مجبور نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح اسلام ناسخ الادیان ٹھہرا، اسی طرح عربی زبان بھی تمام زبانوں کے لیے ناسخ ثابت ہوئی۔
آپ غور کیجئے کہ اکابرینِ اسلام نے عربی زبان کی اشاعت میں یہ کوشش کیوں کی؟ اس کا ایک سیاسی مقصد تو ظاہر اور عام ہے کہ حاکم ومحکوم اور سلطان ورعیت میں تعلق اور رابطہ بڑھے۔ دوسرا مقصد یہ بھی تھا کہ ان حضرات کا مطمحِ نظر یہ تھا کہ جب قرآنی زبان لوگوں میں رائج ہوگی تو قرآنی اخلاق ومعاشرت بھی ان میں بآسانی پیدا ہوسکیں گے، چنانچہ عربی زبان کے رائج ہوتے ہی یہ دونوں مقاصد حاصل ہوئے۔ آج کل یورپ کو اپنی دنیا وی ترقی پر بڑا ناز ہے، وہ اپنے آپ کو تہذیب وتمدن اور سیاست کا مالک سمجھتاہے، اس کو سمجھنے کے لیے ایک مثال ملاحظہ فرمالیجئے۔

یورپ میں عربی زبان اور اسلامی تمدن ومعاشرت

اسلام جب مغربی ممالک میں فاتح بن کر داخل ہوا، اور اندلس و پرتگال اس کے ٹھکانے ٹھہرے، تو نصف صدی گزرنے سے پہلے ہی یہاں کی بربری زبان رخصت ہوئی۔ اس کے بعد گویاکہ یہ ملکِ عرب کا ایک خطہ بن گیا ، اور نہ صرف زبان بلکہ یورپ کی ساری اقوام‘ وضع قطع اور تمدن ومعاشرت میں مسلمانوں کی نقل اُتارنے کو فخر سمجھنے لگے اور صرف یہی نہیں، بلکہ آس پاس کے دوسرے ممالک فرانس وغیرہ اس محبوبانہ اثر سے خالی نہ رہے۔ چنانچہ شیخ محمد کردعلی مصری جو مصر میں مجمع علمی کے صدر رہ چکے ہیں، وہ اپنے سفرنامۂ اندلس میں اندلس اور پرتگال کے چشم دید واقعات اور اس کے ماضی وحال کا موازنہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’نہ صرف وہ یورپی ممالک جو اسلام کے زیر نگیں آچکے تھے، اسلامی زبان واسلامی معاشرت کے دلدادہ ہوگئے، بلکہ یورپ کے آس پاس کے ممالک بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ جلالقہ، لیوتیون ،نارفاریون کے سمجھ دار لوگ عربی زبان سیکھتے تھے، وہ مسلمانوں کے تمدن ومعاشرت پر ایسے فریفتہ تھے کہ اپنے مذہبی اصول کو چھوڑ کر مسلمانوں کی وضع قطع، مسلمانوں کی عادات واخلاق اور مسلمانوں کی طرح اپنی عورتوں کو پردہ میں رکھنے کے عادی ہوگئے تھے۔‘‘ (۴)
افسوس کہ ہم کیا سے کیا ہوئے؟ کہاں سے کہاں جا پہنچے؟ سلف کی اولاد نے کس طرح ان کی عزت کے نشانات کو مٹایا اور غیروں کی غلامی کا طوق اپنے ہاتھوں سے اپنی گردن میں ڈال دیا ، اُن کی قائم کی ہوئی بنیادوں کی ایک ایک اینٹ اور لگائے ہوئے چمن کا ایک ایک درخت جڑ سے اُکھیڑدیا ۔ صد افسوس کہ جو قومیں ہماری نقالی پر بجاطور پر فخرکرتی تھیں، آج ہم بے جا طور پر اُن کی نقالی کے دلدادہ ہو گئے، وضع قطع ان کی اختیار کرلی ، زبان ان کی لے لی ، بے ضرورت انگریزی لفظ بولنے کو فخر سمجھنے لگے۔ صحیح لفظ نہ بھی آتاہو تو غلط ہی سہی ، تب بھی انگریز کی مشابہت تو حاصل ہو ہی جائے گی۔ عورتوں کو پردے سے نکالا اور مردوں کے دوش بدوش لا کھڑا کیا، إنا للّٰہ وإلیہ المشتکٰی۔
ہم نے اول صرف اُن کی زبان اور وضع قطع اختیار کی اور سمجھا کہ ایمان واسلام کاتعلق دل سے ہے، ظاہری وضع قطع کو اس میں کیا دخل ہے؟! لیکن تجربات نے بتلادیا کہ یہی ایک بجلی کی لہر تھی جو دل ودماغ پر چھاگئی اور انگریزیت ونصرانیت ہمارے دلوں میں رچ بس گئی۔
ایک شخص ابتداء میں صرف انگریزی جوتا استعمال کرتاہے اور سمجھتا ہے کہ اس سے ہم انگریز نہیں بن گئے ، لیکن تھوڑے ہی عرصہ میں وہ دیکھ لے گا کہ یہ انگریزی جوتا اس کے بدن سے اسلامی پاجامہ اُترواکر ٹخنوں سے نیچا پاجامہ پہننے پر مجبور کردے گا ۔ پھر یہ پاجامہ اس کا اسلامی لباس وکرتہ اُتروائے گا ، اور جب اعضاء وجوارح اور بدنِ انسانی کے سب ارکان مغربی رنگ کے ہوگئے تو اس کے سلطان سرتاج کو مجبور ہوکر اُن کا تابع بننا پڑے گا اورانگریزی ٹوپی مسنون پگڑی کی جگہ لے لے گی اور جب خود سر تا پا صاحب بہادر بن گئے تو سمجھ لیجئے کہ اب گھر کے قدیم اصول ورواج کی خیر نہیں؛ کیونکہ یہ صاحب اب کسی مسند پر بیٹھ نہیں سکتے، دسترخوان پرکھانا تناول نہیں فرماسکتے، نماز کے لیے باربار وضو نہیں کرسکتے، رکوع وسجدہ میں جھکتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے، الغرض گھر کا پرانا فرنیچر رخصت ، پرانی وضع قطع رخصت، قدیم روایات رخصت، طہارت وعبادت رخصت۔
اس مثال سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ ایک انگریزی جوتے کی آفت نے کہاں سے کہاں پہنچایا اور کس طرح اس نے مسلمان کے دین ودنیا کو تباہ کرڈالا۔
حافظ ابن القیمؒ اپنے رسالہ ’’الدواء الشافي‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: حقیقت میں گناہوں کا ایک سلسلہ ہے، کیونکہ انسان جب ایک گناہ کرتاہے تو دوسرا خود بخود اس کے ساتھ لگ جاتا ہے، ایک حدیث میں ہے کہ نیکی کی فوری جزاء یہ ہے کہ اس کے بعد دوسری نیکی کی توفیق مل جاتی ہے او رگناہ کی فوری سزا یہ ہے کہ اس کے بعد انسان دوسرے گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ (۵)
آج ہم انگریز کے مظالم اور تکبر آمیز معاملات سے تو بڑے تنگ آچکے ہیں اور اُن کو برا بھی سمجھتے اور کہتے ہیں ، مخالفت کا اظہار بھی کرتے ہیں، لیکن افسوس کہ انگریز جن کردار وعادات اور اخلاق ومعاشرت کی وجہ سے قابلِ نفرت ہیں، وہ ہمارے رگ وریشہ میں سرایت کرچکے ہیں۔ انگریزوں کو برصغیر سے نکالنے کے لیے تو بہت سارے لوگ مختلف تنظیموں اورپارٹیوں کی شکل میں سرگرم نظر آتے ہیں، لیکن انگریزیت کو دل ودماغ اور اس کی غلامی کے طوق وزنجیر کو اپنی زندگی سے نکالنے کے لیے کوئی تیار نہیں، حالانکہ انگریز کو برِصغیر پاک و ہند سے نکالنا غیر اختیاری ہے اور اس کے راستے میں بہت ساری مشکلات بھی ہیں، جبکہ اُن کی طرزِ زندگی کو چھوڑدینا اختیاری امر ہے، اس میں کوئی مشکل نہیں۔
اگر حقیقت میں نصاریٰ اور انگریزوں سے نفرت ہے تو ہمارا پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ آج ہی اُن کی وضع قطع اور طرزِ معاشرت کو یکلخت چھوڑدیں، اور زبان کا استعمال بھی بقدرِ ضرورت ومجبوری کریں اور بغیر شدید ضرورت کے انگریزی الفاظ کا استعمال نہ کریں اور جن مواقع میں انگریزوں کی پالیسی نے ہمیں انگریزی کے لیے مجبور کر رکھاہے، ان میں اس بات کی کوشش کریں کہ برصغیر کا کوئی شخص اس پر مجبور نہ رہے کہ ڈاک اور ریل کے ٹکٹ اور تمام کاروبار ہماری ملکی زبان میں ہوں، پاکستانی عدالتوں کے فیصلے ملکی زبان میں ہوں، تاکہ ہمارے قلوب ودماغ نصاریٰ کے تسلط سے پاک ہوں؛ کیونکہ ہر زبان میں اچھی بری خاصیات ہواکرتی ہیں، جن کا اثر براہِ راست بولنے والے کے دل ودماغ پر پڑتا ہے، جیسا کہ حافظ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:
’’واعلم أنَّ اعتیاد اللغۃ یؤثِّر في العقل والخُلُق والدین تأثیرًا قویًّا بیِّنًا، ویؤثِّر أیضًا في مشابہۃ صدر ہٰذہ الأمۃ من الصحابۃؓ والتابعینؒ، ومشابہتُہم تَزید العقلَ والدینَ والخُلُقَ۔‘‘(۶)
ترجمہ: ’’ جان لیں کہ کسی قوم کی زبان کا عادی ہونا اس کی عقل ، اخلاق اور دین میں کھلی ہوئی تاثیر رکھتا ہے، اوراس اُمت کے ابتدائی دور (کے اکابر صحابہؓ وتابعینؒ) کے ساتھ مشابہت کا ذریعہ (زبان) بھی ہے، اور مزید یہ کہ اُن کی مشابہت عقل ، دین اور اخلاق میں اضافہ کا ذریعہ ہے۔‘‘
افسوس ہے کہ آج کل مسلمانوں کی نظر اس قدر سطحی ہوگئی ہے کہ اپنے بزرگوں کے مجرب اصول اور ان کے بتلائے ہوئے گُر اُن کی سمجھ میں نہیں آتے۔ سلفِ صالحین کے حکمت آموز کلمات و اُصول بتلائے جاتے ہیں تو وہ اُن کی نظر میں نہیں آتے۔ وہ علماء کو یہ رائے دیتے ہیں کہ عربی زبان کے باقی ماندہ آثار بھی مٹادیں۔ خطبے اُردو زبان میں پڑھیں، عربی کا نام نہ لیں؛ کیونکہ یہ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی، اس لیے آخر میں ہم اس قوم کے چند واقعات پیش کرتے ہیں، جس کی کورانہ تقلید نے ہمارے مسلمان بھائیوں کو مصائب وذلت کا شکار بنا رکھا ہے۔
ہندوستان اور پاکستان میں با وجود اس اشاعت وعموم کے کتنے فیصد آدمی ہوںگے جو انگریزی جانتے ہوں، لیکن انگریزوں نے اپنی سیاسی حکمت عملی کی بنا پر سارے دفتروں کے کاغذات، تمام کاروباری معاملات واُمور انگریزی میں رکھے ہیں۔ اپنی ملکی زبان میں تمام علوم وفنون کا ماہر اوردین کا عالم وماہر جو اس پاک سرزمین کا اصل سرما یہ ہے، اپنے ہی ملک کے دفتروں، نادرا آفسوں اور دیگر سرکاری اداروں میں ایسا پھرتاہے، جیسے کوئی اندھا پھرا کرتاہے ۔
ذرا غور کیجئے کہ آخر انگریزوں نے یہ طرز کیوں اختیار کیا؟! اور ہمیں انگریزی سیکھنے پر مجبور کرنے سے اُن کا کیا مقصد ہے؟! غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ برصغیر کے عوام عام طور پر مذہبی فطرت رکھتے ہیں اورمذہب کبھی بھی یہ اجازت نہیں دیتا کہ مسلمان کسی کافر کا غلام بن جائے، بلکہ مسلمان براہِ راست اس کے لیے بھی اجازت نہیں دیتا کہ کسی کافر کی وضع قطع اور اس کی معاشرت اختیار کرے۔

 اُندلس میں عربی زبان ومعاشرت کے خلاف نصاریٰ کی سازشیں

یورپی نصاریٰ کی یہ پالیسی آج کی نہیں، بلکہ زوالِ اندلس کے وقت جبکہ ممالکِ یورپ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل کر نصاریٰ کے زیرِ تسلط آگئے اور انہوں نے ہر طرح کے جبر واکراہ سے یہ چاہا کہ رعیت کو اپنا ہم رنگ وہمنوا بنالیں، مگر صدیوں کی مسلسل جدوجہد کے باوجود اس میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوئی تو وہاں کے تجربہ کار اس تفتیش میں لگے کہ اس کا سبب کیا ہے؟ چنانچہ اس کے لیے ایک کمیشن بنایا گیا۔ اس کمیشن نے یہ رپورٹ پیش کی کہ ہم نے اگرچہ مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکال دیا ہے، لیکن اسلامی زبان (عربی) کے مدارس اور اس کی تعلیم وتعلُّم ابھی تک ہمارے ملک میں عام ہے، اسلامی معاشرت وتمدن رائج ہے۔ اسی نے سب کے دلوں کو مسخر کیا ہوا ہے اور ہم سے ان کا رشتہ نہیں جڑنے دیتا، جب تک اسلامی زبان، اسلامی کتب اور اسلامی معاشرت کو ممالکِ یورپ سے ختم نہ کردیا جائے، ہم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔
۱۵۰۱ء میں اُن لوگوں کی یہ رپورٹ ہے، اسی وقت سے حکومتوں نے اپنی پوری توانائی اس پر خرچ کی کہ اسلامی نشانات وآثار ممالکِ یورپ سے یکسر ختم کردیئے جائیں، چنانچہ اس سال قشتالہ وغرناطہ سے ایسے پکے مسلمانوں کو بے سروسامان نکل جانے پر مجبور کردیا گیا،جن کے متعلق حکومت کو یقین تھا کہ یہ اپنی زبان و معاشرت کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔
۱۵۱۱ء میں کردنیا کسیمنس نے اسلامی قلمی کتابوں کو اطراف وجوانب سے جمع کرکے غرناطہ کے میدان میں ایک عظیم الشان انبار لگایا، جو عالم انسان کے منتخب افراد کی صدیوں کی عرق ریزی ومحنت کے نتائج اور شریعت وحکمت اور فلسفہ وریاضی کا علمی خزانہ تھا۔ اس ظالم وجابرِ وقت نے یہ عظیم الشان انبار نذر آتش کردیا اور اسی پر بس نہیں کی، بلکہ کوئی بھی اسلامی کتاب رکھنے کو قانونی جرم قراردیا اور جس جگہ کوئی کتاب ہاتھ لگی اس کوضبط کرنے اور جلادینے کا حکم عام کردیا ۔ مؤرخین کا بیان ہے کہ پچاس سال تک حکومت کی یہ کوشش جاری رہی، تب جاکر یورپ سے اسلامی کتابوں کو مٹایا جاسکا ۔
 اس سے ایک طرف تو اسلامی علوم کی ہمہ گیری اورجاذبیت کا اندازہ لگایا جاسکتاہے، اور دوسری طرف یورپین نصاریٰ کی اوندھی ذہنیت، اور کمینہ طبیعت اور اسلام دشمنی کا پتہ چلتاہے کہ یہ علوم ومعارف کے خزائن جو ہر قوم کے لیے کام آنے والی چیز تھی اور ہزاروں فاضل علماء کی عمر بھر کی کمائی اور یکتا موتیوں سے زیاہ قیمتی خزائن تھے ، ان درندوں نے اس کے ساتھ کیا وحشیانہ سلوک کیا ۔ خود یورپ کے غیر متعصب عیسائی ان کے ظلم وستم پر ماتم کررہے تھے، اس لیے نہیں کہ وہ مسلمانوں پر رحم کھاتے ہیں، بلکہ اس وجہ سے کہ وہ خود ان کتابوں اور علوم کے محتاج تھے۔(۷)
۱۵۲۶ء میں فیلپ امیر ہسپانیہ نے اپنی قلمرو میں یہ حکم جاری کیا کہ کوئی شخص کوئی عربی جملہ نہ بول سکے۔ جن لوگوں کے نام عربی ترکیب پر مشتمل ہیں، ان کے نام بدل دئیے جائیں اور جو اسے منظور نہ کرے وہ اُس کی قلمرو سے نکل جائے، چنانچہ لا کھوں مسلمانوں کو اسی قانون کے ماتحت بے سروسامان جلاوطن کردیا گیا۔(۸)
الغرض نصاریٰ اور مغربی اقوام نے یہ گُر مسلمانوں سے حاصل کرکے اس کے ذریعہ اپنی زبان اور تہذیب مسلمانوں پر مسلط کرنے کے لیے آخری حد تک گئے اور کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا، اوراپنی کامیابی کا راز وہ اس میں سمجھتے تھے کہ اسلامی آثار وشعائراور زبان ومعاشرت کو ختم کردیں۔ 
یہ وہی اسرار وتجربات تھے جس کی بدولت ہمارے سلف صالحین نے اسلام اور عربی زبان کا سکہ لوگوں کے دلوں میں بٹھادیا تھا ۔لیکن افسوس کہ آج اسلام کا نام لینے والے بھی اس کو نہیں سمجھتے، بلکہ جوکام فیلپ نے بزورِ قانون اپنی رعیت سے کرایا تھا ، ہمارے سادہ لوح مسلمان وہ کام خود اپنے ہاتھوں سے بڑی خوشی اور فخر کے ساتھ انجام دے رہے ہیں اور یہی نہیں کہ وہ اس کام میں اتفاقاً پھنس گئے ہوں ، بلکہ اس زہرِ قاتل کو کامیابی اور ترقی کانام دے رہے ہیں ۔
ہماری غرض ہرگز یہ نہیں کہ سارے لوگ سردست انگریزی زبان بولنا چھوڑدیں، اور جو عہدے اور مناصب اس پر موقوف کردئیے گئے ہیں ان سے علیحدگی اختیار کی جائے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ سخت ضرورت اور مجبوری کے بغیر اس زبان کا استعمال اپنے کاروبار ومعاملات میں بالکل نہ کیا جائے۔ 
دوسری بات یہ کہ اپنے سیاسی مطالبات میں یہ شامل کیا جائے کہ ملک کے اندر سارے کاروبار ملکی زبان میں ہوں۔ اگریہ ہمیں حاصل ہوں تو ربِ ذولجلال سے قوی اُمید ہے کہ یہ ہمارے ملک کے لیے کامیابی کا پہلا قدم ثابت ہوگا، جس کے بعد اگلا قدم آسان ہوجائے گا ۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔


عربی زبان سیکھنے کی ضرورت واہمیت

یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ عربی زبان دینِ متین کا ایک اہم باب ہے، بلکہ اگر یوں کہاجائے کہ عربی زبان پر دینِ اسلام کی بنیاد قائم ہے تو بے جانہ ہوگا۔ قرآن عربی زبان میں ہے، لہٰذا قرآن کی قراء ت پر ثواب بھی تب ہوگا جب وہ عربی زبان میں ہو اورقراء ت نماز کااہم رکن ہے، اور نماز اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ہے۔ اذکار وادعیہ یعنی پوری نماز اول سے آخر تک عربی میں ہے، عیدین وجمعہ کے خطبے عربی زبان میں ہیں ، حضرت رسالت پناہ فداہ ابی وامی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تمام تعلیمات وارشادات کا عظیم الشان ذخیرہ یعنی احادیث عربی میں ہے، حضرت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذاتِ گرامی نسبتاً عربی قریشی ہاشمی ہیں، بعض روایات میں عربی زبان سے محبت کرنے کے لیے یہ ارشاد فرما یا گیا ہے کہ:
’’أَحِبُّوْا الْعَرَبَ لِثَلاَثٍ: لِأَنِّیْ عَرَبِيٌّ وَالْقُرْآنَ عَرَبِيٌّ وَکَلَامَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ عَرَبِيٌّ۔‘‘(۹)
’’عربوں سے محبت کرو، کیونکہ میں بھی عربی اللسان ہوں ، قرآن بھی عربی میں ہے، اور اہلِ جنت کی زبان بھی عربی ہے۔‘‘ 
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کو شعائر اللہ کی ادائیگی اورقرآن وحدیث سمجھنے کے لیے عربی زبان سیکھنے،بولنے پر زور دیا ہے اوراس کی اہمیت وترغیب بیان کی ہے، جیسا کہ حافظ الحدیث علّامہ ابن تیمیہؒ رقم طراز ہیں:
ظاہر ہے کہ عربی زبان سیکھنا ،سکھانا فرضِ کفایہ ہے۔ اسلافِ امت اپنی اولاد کو عربی میں لحن پر سخت سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ کیا کرتے، اسی وجہ سے ہمیں عربی قواعد وقوانین کو وجوبی یا استحبابی طورپر یا د کرنے اوراس سے ہٹی ہوئی زبانوں کی اصلاح کا حکم ہے، جس کی وجہ سے کتاب وسنت آسانی سے محفوظ ہوگا اور بات چیت کرنے میں عرب کی اقتداء کا طرز معلوم ہوگا ۔ لہٰذا اگر لوگوں کی غلطیوں کو رہنے دیا جائے اور اس کی اصلاح کی فکرنہ کی جائے تو یہ اُمت کی کمزوری اورعیب کا باعث ہوگی۔ پھر جب دوسرے لوگ خالص عربی زبان اور سالم اوزان کی طرف متوجہ ہوں تو وہ اس زبان کے غلط استعمال اور اسے خراب کرنے والے اوزان سے مزید اس لغت کو تباہ کرکے اُسے خالص صاف عربی سے ہٹاکرفضول زبان بنادیں گے جو عجم کے گونگے اندھے لوگ بھی نہیں بولتے۔(۱۰)
ہمارے اسلاف کرام کے علمی وفنی ذخائر، علم ومعارف کی حیرت انگیز ذخیرے تمام کے تمام عربی زبان میں ہیں، عالم اسلام اور عالم عربی کے اتحاد کے لیے عربی زبان ایک قومی رابطہ ثابت ہوسکتی ہے، ہمارے حکمران دین کے لیے نہیں، اپنی سیا سی ودنیوی اغراض کے لیے ہی عربی زبان پر توجہ دیتے تو آج پاکستان اور عالمِ اسلام کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا ۔
اسلام میں داخل ہونے والے نو مسلم عجمیوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد عربی سیکھنی چاہیے، تاکہ اسلامی تعلیمات اورشعائر کی ادائیگی میں مشقت نہ ہو؛ ایک موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے ایک شخص کو طواف کے دوران فارسی میں گفتگو کرتے سنا تو اس کے دو نوں بازو پکڑ کر فرمایا: ’’ابْتَغِ إِلَی الْعَرَبِیَّۃِ سَبِیْلاً‘‘(۱۱) ۔۔۔۔۔۔ ’’عربی زبان سیکھنے کی راہ تلاش کر۔ ‘‘
حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کے اس عمل سے واضح طور پر اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ صحابہ  رضی اللہ عنہم  کو کس قدر عربی میں بات چیت اور تکلم کو اپنی حالت پر باقی رکھنے کی فکر تھی۔ اور ان کا یہ خیال تھا عربی زبان عام معاشرے اور عام آدمی کی زندگی کا حصہ بن جائے، تاکہ اس کا اثر انسان کے دل ودماغ پر پڑے اور اس سے اس کا تعلق دین کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوجائے۔
علّامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: دین سمجھنے کے لیے عربی زبان سیکھنا واجب ہے؛ اور مطلق عربی زبان بھی دین کا حصہ ہے اور اس کا سمجھنا فرض یا واجب کے درجہ میں ہے؛ اس لیے کہ قرآن وحدیث کو سمجھنا فرض ہے، اوران دونوں کا فہم عربی زبان سیکھے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ اصول یہ ہے کہ جس امر کے بغیر کوئی واجب نامکمل ہو تو وہ امر واجب کے درجہ میں ہوجاتاہے، لہٰذا عربی سیکھنا واجب ہوا۔ پھر واجب بھی دو قسم پر ہے: واجب علی العین ، واجب علی الکفایۃ۔ حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری  رضی اللہ عنہ  کو خط لکھا اور اس میں تحریر فرمایا کہ: 
’’أما بعد، فتفقَّہوا في السنَّۃ وتفقَّہوا في العربیَّۃ، وأَعرِبوا القرآنَ فإنَّہٗ عربيٌّ۔‘‘
’’حمدوصلاۃ کے بعد سنت میں فقاہت حاصل کرو، عربی زبان کی سمجھ حاصل کرو، اورقرآن کو واضح کرکے پڑھو، کیونکہ وہ عربی میں ہے۔‘‘
حضرت عمر رضی اللہ عنہ  سے ہی ایک دوسری روایت ہے کہ :عربی سیکھو؛ کیونکہ وہ تمہارے دین کا حصہ ہے ، اور علمِ میراث سیکھو، وہ بھی دین کا حصہ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو کہا ہے کہ عربی اور شریعت کا فہم حاصل کرو، بڑی جامع بات ہے، کیونکہ وہ دینی ضرورت کو شامل ہے؛ اس لیے کہ دین میں اقوال واعمال کی سمجھ ہوتی ہے۔ تو عربی زبان سمجھنا دین کے اقوال سمجھنے کا ذریعہ ہے اور سنت کی سمجھ اعمال سمجھنے کا ذریعہ ہے۔(۱۲)
اس سے بڑھ کر یہ کہاجاسکتاہے کہ عربی زبان انسانی عقل کو مضبوط کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ :
 ’’تعلَّموا العربیَّۃ ؛ فإنَّہا تُثَبِّت العقلَ وتزید في المروء ۃ۔‘‘(۱۳)
’’عربی زبان سیکھو، کیونکہ وہ عقل کو پختہ کردیتی ہے اور مروت کوبڑھاتی ہے۔‘‘
 کیونکہ عربی زبا ن کی قواعد وضوابط کی کثرت متکلم کو قواعد میں غور وفکر پر مجبور کرتی ہے؛ کیونکہ کلامِ عرب کا کوئی بھی کلمہ اور جملہ محلِ اعراب وترکیب کے بغیر نہیں ہوا کرتا اور یہ ایک مستقل عمل ہے جس سے انسانی عقل کی سطح بلند ہوتی ہے۔

بلا ضرورت غیر عربی میں تکلُّم کی ممانعت

سلفِ صالحین کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر سخت ضرورت ومجبوری کے عربی زبان کے علاوہ دیگر زبانوں میں بات کرنا نفاق کے اسباب میں سے ہے، جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے:
 ’’من أحسَنَ منکم أن یتکلَّم بالعربیَّۃ فلا یتکلَّمنَّ بالفارسیَّۃ، فإنَّہ یُورِثُ النفاقَ۔‘‘(۱۴)
’تم میںسے جو اچھی عربی بول سکتا ہے تو وہ ہرگز فارسی زبان میں گفتگو نہ کرے، کیونکہ وہ نفاق پیدا کرتی ہے۔‘‘
حافظ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ: 
’’امام شافعیؒ نے فرمایا:اللہ تبارک وتعالیٰ نے خرید وفروخت کے ذریعے فضلِ خداوندی (مال وغیرہ) تلاش کرنے والوں کو تجار (یعنی تجارت کرنے والے لوگ) کہا ہے، اور عرب مسلسل انہیں تجار کہتے رہے۔ پھر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی انہیں عرب کی زبان میں تجارت کے ساتھ ذکر کیا۔ اور سَماسرہ (سمسار کی جمع بمعنی دلال) عجمیوں کا نام ہے، لہٰذا ہم نہیں چاہتے کہ عربی سے واقف کوئی شخص کسی تاجر کو تاجر کے علاوہ دوسرے نام سے پکارے، یا عربی چھوڑ کر عجمی زبان میں بات کرے اور جو زبان اللہ تبارک وتعالیٰ نے پسند فرمائی ہے وہ عرب کی زبان ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم عربی زبان میں نازل فرمایا اور اسے خاتم الانبیاء  صلی اللہ علیہ وسلم  کی زبان قراردیا ۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں : کہ جو شخص عربی زبان سیکھنے کی قدرت رکھتاہو اسے چاہیے کہ اسے سیکھے، کیونکہ یہ قابلِ رغبت زبان ہے، البتہ کسی کو عجمی زبان سے بالکلیہ نہ روکا جائے اور اس پر تکلم کو حرام نہ کہا جائے، چنانچہ امام شافعیؒ کے زمانے میں جو شخص عربی جانتا اس کے باوجود غیر عربی میں پکارتا یا عربی کو عجمی کے ساتھ خلط کرکے استعمال کرتا تو امام شافعیؒ اُسے نا پسند فرماتے۔ (حافظ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:) یہ تفصیل ائمہ نے ذکر کی ہے اور یہی صحابہؓ اور تابعینؒ سے بھی منقول ہے۔‘‘(۱۵)

حوالہ جات

۱:-ثمرات الاوراق: مفتی شفیع عثمانی ؒ:۸۴-۸۶  

    ۲:-حوالہ بالا
۳:-غابر الأندلس: ۳۸ 

   ۴:-غابر الأندلس: ۳۹
۵:-الجواب الکافی لمن سأل عن الدواء الشافی 

۶:-اقتضاء الصراط المستقیم بتصرف بسیط، ص: ۱۷۶و۱۷۷
۷:-غابر الأندلس وحاضرہا: ۱۵۵-۱۵۶۔ 

 ۸:-حوالہ بالا.
۹:-المستدرک علی الصحیحین، فضائل قبائل العرب، فضل کافۃ العرب، ج: ۴، ص:۹۷، ط: دار الکتب العلمیۃ.
۱۰:-مجموعۃ فتاوی ابن تیمیۃ: ۲۵۲/۳۲.

 ۱۱:-أخبار النحویین لعبد الواحد ابن عمر: ۲۵.
۱۲:- اقتضاء الصراط المستقیم: ۱۷۷.

   ۱۳:-معجم الأدباء : ۱/۲۲.
۱۴:-المستدرک علی الصحیحین للحاکم: ۴/۹۸.

 ۱۵:-اقتضاء الصراط المستقیم: ۱۷۵.
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے