زکوٰة کے مسائل
زکوٰة کی رقم سے شادی کروانے کاحکم!
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
مفتی صاحب کوئی فیملی ہے ( 6 لوگوں کی یہ سب بہن بھائی ہیں یعنی ان کے والدین حیات نہیں ہیں) ان کی ماہانہ آمدنی تقریباً 80،000 ہے جس میں 20،000 ان کے گھر کا کرایہ ہے اور 60،000 کے ان کے دوسرے اخراجات ہیں۔ ان کے پاس فی الحال کسی بھی طرح کا کچھ اثاثہ نہیں ہے یعنی نہ ان کے پاس گاڑی ہے نہ گھر میں کوئی چیز ہے حتیٰ کے ان کے پاس صوفہ وغیرہ تک نہیں ہے۔
مفتی صاحب اس صورت میں کیا ایسی فیملی میں کسی فیملی میمبرکی اگر شادی ہورہی ہو( اوران کے پاس شادی کرنے کے لیے بظاہر پیسے نہ ہوں) تو کیا زکوٰة دی جاسکتی ہے ؟
کیونکہ اس فیملی میں سے ایک لڑکی کی شادی ہے وہ اگرچہ خودبھی ملازمت کرتی ہے، مگرشادی کے اخراجات بہرحال فی الحال ان کے بس سے باہر ہیں تو ایسی صورت میں اس لڑکی کی شادی پر کیا زکوٰة کا پیسہ لگ سکتاہے؟ اورکیا یہ فیملی زکوٰة کی مستحق ہے ؟
اگر زکوٰة کی رقم دی جاسکتی ہے تو کیاان کو بتانا لازمی ہے؟ یا ان کے ہاتھ میں دینا لازمی ہے یا کوئی انتظام کرنے والا زکوٰة کے پیسوں سے اس شادی کے اخراجات ادا کردے ؟
شادی میں جو لوگ شریک ہوں گے تو کیا اگرکھانے وغیرہ کا انتظام کیا جاتاہے تووہ سب زکوٰة کے پیسوں کا کھا رہے ہوں گے ؟
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جس لڑکے سے شادی ہورہی ہے اس کی آمدنی تقریباً 30،000 ہے تو لڑکی کو جہیز میں یا شادی میں اخراجات پر جوزکوٰة کی رقم دی جائےگی تو کیا اس سے لڑکے کو کوئی فرق پڑے گا؟ ( یعنی بظاہر تووہ لڑکا مستحق زکوٰة نہیں ہے)اگر زکوٰة کی رقم سے مدد نہیں کی جاسکتی ہے تو اور کیا طریقہ ہے ؟
زکوٰة کے پیسوں سے کسی کی شادی کروائی جاسکتی ہے ؟ یا اس کو شادی کے لیے سامان مثلاً جہیز میں جو لازمی چیزیں ہوتی ہیں وہ دی جاسکتی ہیں ؟
السلام علیکم !
مفتی صاحب کوئی فیملی ہے ( 6 لوگوں کی یہ سب بہن بھائی ہیں یعنی ان کے والدین حیات نہیں ہیں) ان کی ماہانہ آمدنی تقریباً 80،000 ہے جس میں 20،000 ان کے گھر کا کرایہ ہے اور 60،000 کے ان کے دوسرے اخراجات ہیں۔ ان کے پاس فی الحال کسی بھی طرح کا کچھ اثاثہ نہیں ہے یعنی نہ ان کے پاس گاڑی ہے نہ گھر میں کوئی چیز ہے حتیٰ کے ان کے پاس صوفہ وغیرہ تک نہیں ہے۔
مفتی صاحب اس صورت میں کیا ایسی فیملی میں کسی فیملی میمبرکی اگر شادی ہورہی ہو( اوران کے پاس شادی کرنے کے لیے بظاہر پیسے نہ ہوں) تو کیا زکوٰة دی جاسکتی ہے ؟
کیونکہ اس فیملی میں سے ایک لڑکی کی شادی ہے وہ اگرچہ خودبھی ملازمت کرتی ہے، مگرشادی کے اخراجات بہرحال فی الحال ان کے بس سے باہر ہیں تو ایسی صورت میں اس لڑکی کی شادی پر کیا زکوٰة کا پیسہ لگ سکتاہے؟ اورکیا یہ فیملی زکوٰة کی مستحق ہے ؟
اگر زکوٰة کی رقم دی جاسکتی ہے تو کیاان کو بتانا لازمی ہے؟ یا ان کے ہاتھ میں دینا لازمی ہے یا کوئی انتظام کرنے والا زکوٰة کے پیسوں سے اس شادی کے اخراجات ادا کردے ؟
شادی میں جو لوگ شریک ہوں گے تو کیا اگرکھانے وغیرہ کا انتظام کیا جاتاہے تووہ سب زکوٰة کے پیسوں کا کھا رہے ہوں گے ؟
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جس لڑکے سے شادی ہورہی ہے اس کی آمدنی تقریباً 30،000 ہے تو لڑکی کو جہیز میں یا شادی میں اخراجات پر جوزکوٰة کی رقم دی جائےگی تو کیا اس سے لڑکے کو کوئی فرق پڑے گا؟ ( یعنی بظاہر تووہ لڑکا مستحق زکوٰة نہیں ہے)اگر زکوٰة کی رقم سے مدد نہیں کی جاسکتی ہے تو اور کیا طریقہ ہے ؟
زکوٰة کے پیسوں سے کسی کی شادی کروائی جاسکتی ہے ؟ یا اس کو شادی کے لیے سامان مثلاً جہیز میں جو لازمی چیزیں ہوتی ہیں وہ دی جاسکتی ہیں ؟
جزاک اللہ
سائل : راحيل
دفتری اخراجات اورملازمین کی تنخواہ میں زکوٰة کی مد استعمال کرنے کاحکم!
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
آپ سے یہ فتویٰ معلوم کرنا تھا کہ کیا ہم لوگوں سے زکوٰة کے پیسے وصول کرکے درج ذیل کاموں میں خرچ کرسکتے ہیں ۔
1۔ زکوٰة کے پیسوں میں سے ٪83 غریب بچوں (زکوٰة کے مستحق خاندان سے تعلق رکھنے والے) کو تعلیم اور کھانے پینے کے لیے نقد دئیے جائیں گے۔ پیسے بچوں کے والدین یا رکھوالے کو دئیے جائیں گے اوریہ کہا جائے گا کہ یہ پیسے صرف بچے کی پڑھائی اور کھانے پینے کے اخراجات کے لیے ہیں باقی ٪17 ان ملازمین کی تنخواہوں اور دفتری اخراجات میں استعمال ہوں گے جو ان بچوں تک پیسے پہنچارہے ہوں گے اوراس بات کا خیال رکھیں گے کہ بچے کی پڑھائی پہلے سے بہتر ہورہی ہے۔
2۔ کیا زکوٰة کی رقم سے ہم مدرسے میں پڑھنے والے بچوں کو عصری تعلیم دینے کے لیے استاد رکھ سکتے ہیں اور ان اساتذہ کی تنخواہ زکوٰة کے پیسوں سے دی جائے گی۔
3۔کیا ہم اسکول بیگ، یونیفارم اور کتابیں زکوٰة کے پیسوں سے خرید کر مدرسے کے بچوں کو دے سکتے ہیں ؟
یہ چیزیں ان کی ملکیت میں دیدی جائیں گی اور واپس نہیں لی جائیں گی۔
السلام علیکم !
آپ سے یہ فتویٰ معلوم کرنا تھا کہ کیا ہم لوگوں سے زکوٰة کے پیسے وصول کرکے درج ذیل کاموں میں خرچ کرسکتے ہیں ۔
1۔ زکوٰة کے پیسوں میں سے ٪83 غریب بچوں (زکوٰة کے مستحق خاندان سے تعلق رکھنے والے) کو تعلیم اور کھانے پینے کے لیے نقد دئیے جائیں گے۔ پیسے بچوں کے والدین یا رکھوالے کو دئیے جائیں گے اوریہ کہا جائے گا کہ یہ پیسے صرف بچے کی پڑھائی اور کھانے پینے کے اخراجات کے لیے ہیں باقی ٪17 ان ملازمین کی تنخواہوں اور دفتری اخراجات میں استعمال ہوں گے جو ان بچوں تک پیسے پہنچارہے ہوں گے اوراس بات کا خیال رکھیں گے کہ بچے کی پڑھائی پہلے سے بہتر ہورہی ہے۔
2۔ کیا زکوٰة کی رقم سے ہم مدرسے میں پڑھنے والے بچوں کو عصری تعلیم دینے کے لیے استاد رکھ سکتے ہیں اور ان اساتذہ کی تنخواہ زکوٰة کے پیسوں سے دی جائے گی۔
3۔کیا ہم اسکول بیگ، یونیفارم اور کتابیں زکوٰة کے پیسوں سے خرید کر مدرسے کے بچوں کو دے سکتے ہیں ؟
یہ چیزیں ان کی ملکیت میں دیدی جائیں گی اور واپس نہیں لی جائیں گی۔
جزاک اللہ
سائل : محمد نعمان
کمپنی کے حصص کی شرعی حیثیت اوران پر زکوٰة کا حکم !
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
گورنمنٹ کی ایک پالیسی کے مطابق سرکاری اورنجی کمپنی کو اس بات کی جانب راغب کیاگیا کہ وہ اپنے ملازمین میں شئیر تقسیم کریں۔شئیر کی تقسیم کے ساتھ چند پابندیاں لگائی گئیں۔
1۔شئیر ملنے کے بعد 5سال تک ملازمت کرنا لازمی ہے ( یہ اس لیے کیا گیا تاکہ لوگ کمپنی چھوڑ نہ دیں )۔
2۔5سال کے بعد استعفیٰ دینے کی صورت میں کمپنی شئیر کی جو قیمت اس وقت بازارمیں ہوگی وہی ملازمین کو اداکرکے شئیر اس سے خریدلے گی۔ 3۔ایک ٹرسٹ بھی قائم کیاگیا ہے،شئیرپرجومنافع ملےگااس کا نصف ملازم کو اور نصف ٹرسٹ کو جائے گا۔
4۔اگرکسی شخص کا انتقال 5سال سے قبل ہوجاتا ہے یا بیماری کی وجہ سے وہ ریٹائرمنٹ لے لیتا ہے یا مدت رٹائرمنٹ کی عمر پوری ہونے کی وجہ سے ریٹائر ہوجاتاہے، ان تمام صورتوں میں اس کو شئیر ملیں گے۔
5۔شئیر کی تقسیم ملازمت کی مدت کے مطابق کی گئی ہے، جیسے جس کی 20سال سروس ہے اس کو20 سال کے حساب سے اور 10سال والے کو 10سال کے حساب سے شئیر ملیں گے۔
1۔ان تمام حالات کے بعد پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ شئیر جائز ہیں۔
2۔ یہ شئیر نہ ملازم دورانِ ملازمت بیچ سکتا ہے اور نہ ان پر کوئی کاروبارکرسکتاہے۔ صرف منافع ملے گااور نوکری چھوڑنے کے بعد کمپنی وہ شئیر اس سے بازار کی قیمت پر خرید لے گی۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کیا صرف منافع پر ہوگی یا پورے شئیر پر؟
اوراگر پورے شئیر پر ہوگی توکیا زکوٰۃ ہر سال ادا کی جائے گی یا جب نوکری کے ختم ہونے پررقم ملے گی تب ادا کی جائے گی؟
اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ،جواب اگر مجھے میل پر بھی ارسال کردیں تونوازش ہوگی ۔
السلام علیکم !
گورنمنٹ کی ایک پالیسی کے مطابق سرکاری اورنجی کمپنی کو اس بات کی جانب راغب کیاگیا کہ وہ اپنے ملازمین میں شئیر تقسیم کریں۔شئیر کی تقسیم کے ساتھ چند پابندیاں لگائی گئیں۔
1۔شئیر ملنے کے بعد 5سال تک ملازمت کرنا لازمی ہے ( یہ اس لیے کیا گیا تاکہ لوگ کمپنی چھوڑ نہ دیں )۔
2۔5سال کے بعد استعفیٰ دینے کی صورت میں کمپنی شئیر کی جو قیمت اس وقت بازارمیں ہوگی وہی ملازمین کو اداکرکے شئیر اس سے خریدلے گی۔ 3۔ایک ٹرسٹ بھی قائم کیاگیا ہے،شئیرپرجومنافع ملےگااس کا نصف ملازم کو اور نصف ٹرسٹ کو جائے گا۔
4۔اگرکسی شخص کا انتقال 5سال سے قبل ہوجاتا ہے یا بیماری کی وجہ سے وہ ریٹائرمنٹ لے لیتا ہے یا مدت رٹائرمنٹ کی عمر پوری ہونے کی وجہ سے ریٹائر ہوجاتاہے، ان تمام صورتوں میں اس کو شئیر ملیں گے۔
5۔شئیر کی تقسیم ملازمت کی مدت کے مطابق کی گئی ہے، جیسے جس کی 20سال سروس ہے اس کو20 سال کے حساب سے اور 10سال والے کو 10سال کے حساب سے شئیر ملیں گے۔
1۔ان تمام حالات کے بعد پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ شئیر جائز ہیں۔
2۔ یہ شئیر نہ ملازم دورانِ ملازمت بیچ سکتا ہے اور نہ ان پر کوئی کاروبارکرسکتاہے۔ صرف منافع ملے گااور نوکری چھوڑنے کے بعد کمپنی وہ شئیر اس سے بازار کی قیمت پر خرید لے گی۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کیا صرف منافع پر ہوگی یا پورے شئیر پر؟
اوراگر پورے شئیر پر ہوگی توکیا زکوٰۃ ہر سال ادا کی جائے گی یا جب نوکری کے ختم ہونے پررقم ملے گی تب ادا کی جائے گی؟
اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ،جواب اگر مجھے میل پر بھی ارسال کردیں تونوازش ہوگی ۔
جزاک اللہ
سائل : منیر احمد
تجارتی بلیوں پر زکوٰة !
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
بعد ازسلام عرض یہ ہے کہ میرے پاس 4 فارسی النسل بلیاں ہیں جو کہ میں نے پہلے تو صرف پالتو جانور کے طور پر رکھی تھیں مگر اب نیت یہ ہے کہ ان سےکاروبارکروں گایعنی جوبلی کے بچے پیداہوں گے انہیں فروخت کردوں گا،اب پوچھنا یہ ہےکہ کیا ان بلیوں پرزکوٰةۃ واجب ہے ؟
میری ایک بلی 4 سال سے میرے پاس ہے 2 بلیوں کو ڈیڑھ سال ہوگیا ہے اور ایک بلی کو چار مہینے پہلے خریدا ہے ان سب کی مالیت اندازاً 50،000 روپے بنتی ہے۔
السلام علیکم !
بعد ازسلام عرض یہ ہے کہ میرے پاس 4 فارسی النسل بلیاں ہیں جو کہ میں نے پہلے تو صرف پالتو جانور کے طور پر رکھی تھیں مگر اب نیت یہ ہے کہ ان سےکاروبارکروں گایعنی جوبلی کے بچے پیداہوں گے انہیں فروخت کردوں گا،اب پوچھنا یہ ہےکہ کیا ان بلیوں پرزکوٰةۃ واجب ہے ؟
میری ایک بلی 4 سال سے میرے پاس ہے 2 بلیوں کو ڈیڑھ سال ہوگیا ہے اور ایک بلی کو چار مہینے پہلے خریدا ہے ان سب کی مالیت اندازاً 50،000 روپے بنتی ہے۔
جزاک اللہ
سائل : نبیل الدین
کیا صدقہ بتاکر دینا چاہئے !
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
اگر کوئی شخص کسی کوصدقہ دیتا ہےاوراس کو نہیں بتاتا کہ میں نے آپ کو صدقہ دیا ہے توکیا اس کا صدقہ ادا ہوجائے گا؟
اگر صدقہ جس شخص کو دیا ہےاگروہ صدقہ نہیں کھاتا لیکن اس کو پتہ نہیں ہے کے یہ صدقہ ہے اوروہ کھا گیاہے توکیا اس کا ثواب ملے گایا نہیں اور دینے والے کو کیا گناہ ہوگا کیونکہ اس نے صدقہ نہ کھانے والے شخص کو صدقہ کھلایا ہے ؟
السلام علیکم !
اگر کوئی شخص کسی کوصدقہ دیتا ہےاوراس کو نہیں بتاتا کہ میں نے آپ کو صدقہ دیا ہے توکیا اس کا صدقہ ادا ہوجائے گا؟
اگر صدقہ جس شخص کو دیا ہےاگروہ صدقہ نہیں کھاتا لیکن اس کو پتہ نہیں ہے کے یہ صدقہ ہے اوروہ کھا گیاہے توکیا اس کا ثواب ملے گایا نہیں اور دینے والے کو کیا گناہ ہوگا کیونکہ اس نے صدقہ نہ کھانے والے شخص کو صدقہ کھلایا ہے ؟
جزاک اللہ
سائل :ناصر ایم عارف
مالِ تجارت پر زکوٰة کا حکم!
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
1۔ مالِ تجارت پرزکوٰة مالِ خرید پر دیجائے گی یا متوقع مال فروخت پردیجائے گی ؟
2۔کچھ مال ادھارپر لیا ہواہے جس کی ادائیگی کرنی ہے جسے حرفِ عام میں کریڈٹ(ادھار) کہتے ہیں اس مال پر بھی زکوٰة ہوگی یا نہیں؟
3۔کچھ مال ادھار پر یعنی کریڈٹ پر دیا ہواہے جس کی رقم آنی ہےاس پرزکوٰة دینی ہوگی اگرہاں کیسے ؟
4۔ کچھ لوگوں پر کئی سالوں سے رقم واجب الاداء ہے مگر وہ ادا نہیں کررہے ہیں اور نہ ہی انکار کرتے ہیں اس پرزکوٰة دینی ہوگی، اور کیسے ؟
السلام علیکم !
1۔ مالِ تجارت پرزکوٰة مالِ خرید پر دیجائے گی یا متوقع مال فروخت پردیجائے گی ؟
2۔کچھ مال ادھارپر لیا ہواہے جس کی ادائیگی کرنی ہے جسے حرفِ عام میں کریڈٹ(ادھار) کہتے ہیں اس مال پر بھی زکوٰة ہوگی یا نہیں؟
3۔کچھ مال ادھار پر یعنی کریڈٹ پر دیا ہواہے جس کی رقم آنی ہےاس پرزکوٰة دینی ہوگی اگرہاں کیسے ؟
4۔ کچھ لوگوں پر کئی سالوں سے رقم واجب الاداء ہے مگر وہ ادا نہیں کررہے ہیں اور نہ ہی انکار کرتے ہیں اس پرزکوٰة دینی ہوگی، اور کیسے ؟
جزاک اللہ
سائل : Qcbcopier
مالِ تجارت پرزکوٰة کا حکم!
محترم مفتی صاحب !
السلام عیکم !
خالص مالِ تجارت پرزکوٰة ہوگی یا صرف منافع پر ؟
السلام عیکم !
خالص مالِ تجارت پرزکوٰة ہوگی یا صرف منافع پر ؟
جزاک اللہ
سائل
qcbcopier
مصارف زکوٰہ
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
میرا سوال یہ ہے کہ یہ جو حج پر خدام جاتے ہیں ان کو وہاں پر اپنی تنخوا ملتی ہیں اس کے علاوہکیا وہ وہاں پر زکواۃ فطرہ صدقات واجبہ لے سکتے ہیں اور کیا کسیکیا کسی سے خود مانگ سکتے ہیں کوئی اس لئےمانگے کہ اس سے اپنے یتیم رشتہ داروں کی مدد کرے گے تو کیا یہ مانگنا ٹھیک ہو گا۔
السلام علیکم !
میرا سوال یہ ہے کہ یہ جو حج پر خدام جاتے ہیں ان کو وہاں پر اپنی تنخوا ملتی ہیں اس کے علاوہکیا وہ وہاں پر زکواۃ فطرہ صدقات واجبہ لے سکتے ہیں اور کیا کسیکیا کسی سے خود مانگ سکتے ہیں کوئی اس لئےمانگے کہ اس سے اپنے یتیم رشتہ داروں کی مدد کرے گے تو کیا یہ مانگنا ٹھیک ہو گا۔
شکریہ
سائل :آصف جہانزیب
زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے سال مکمل ہو نے کا مطلب
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
میر اسوال یہ ہے کہ مجھے ایک مولانا صاحب سے یہ پتہ چلا ہے کہ زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے چاند کی ایک تاریخ منتخب کرنا ضروری ہے جس پر آپ ہر سال زکوٰۃ دیا کریں اور اس تاریخ پر آپ کے پاس جتنا مال ہو اس پر زکوٰۃ کا حساب کریں مال کو ایک سال ہو نا ضروری نہیں ہے برائے مہربانی مجھے بتائین کہ اس قسم کا کوئی طریقہ حدیث اور سنت میں موجود ہیں؟
السلام علیکم !
میر اسوال یہ ہے کہ مجھے ایک مولانا صاحب سے یہ پتہ چلا ہے کہ زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے چاند کی ایک تاریخ منتخب کرنا ضروری ہے جس پر آپ ہر سال زکوٰۃ دیا کریں اور اس تاریخ پر آپ کے پاس جتنا مال ہو اس پر زکوٰۃ کا حساب کریں مال کو ایک سال ہو نا ضروری نہیں ہے برائے مہربانی مجھے بتائین کہ اس قسم کا کوئی طریقہ حدیث اور سنت میں موجود ہیں؟
شکریہ
سائل :ظل سبحان ملک
وراثت پر زکوٰ ۃ کا حکم
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
را سوال یہ ہے کہ ہم کو باپ کا3لا کھ 19 ہزار روپے جی پی فنڈ ملا ہے والد اب وفات پا چکے ہیں ہم 6 بھائی اود اور بہن ہیں اور ایک والدہ ہے تو کیا اس پر زکوٰۃ لگے گا یا نہیں؟
السلام علیکم !
را سوال یہ ہے کہ ہم کو باپ کا3لا کھ 19 ہزار روپے جی پی فنڈ ملا ہے والد اب وفات پا چکے ہیں ہم 6 بھائی اود اور بہن ہیں اور ایک والدہ ہے تو کیا اس پر زکوٰۃ لگے گا یا نہیں؟
جزاک اللہ
سائل :آصف جہانزیب



