زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰۱۰ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

سنت اورحديث ميں فرق

سنت اور حدیث میں فرق

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم ورحمتہ اللہ !
میں نے ایک دیوبندی اہلسنت عالم ڈاکٹر علامہ خالد محمود حفظہ اللہ صاحب کا درس سنا، انہوں نے فرمایا کہ" ہر حدیث قابل اتباع یا قابل عمل نہیں ہوتی جو حدیث سنت کے درجے کو نہ پہنچے اس پر عمل جائز نہیں"۔انہوں نے کہا کہ" حدیث کبھی ضعیف بھی ہوتی ہے مگر سنت کبھی ضعیف نہیں ہوتی"۔ نیز فرمایا کہ "نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث علم کا ذخیرہ ہیں اور ان کے اندر "سنت" کی تلاش یہ علم اور فقہ کا کام ہے"۔کیا مذکورہ عالم صاحب کا حدیث اور سنت میں یہ فرق کرنا درست ہے ؟ مجھے چند مثالوں سے سمجھا دیجیے۔ کیا آئمہ سلف یعنی حضرات صحابہ کرام ؓ اور تابعینؒ و تبع تابعین ؒ وغیرہ بھی حدیث اور سنت میں اس طرح کا فرق کیا کرتے تھے۔کیا صرف اہلسنت دیوبند ہی حدیث اور سنت میں مذکورہ فرق کرتے ہیں یا تمام متقدمین محدیثین اور ائمہ اہلسنت اور عصر حضر میں اہل سنت کے دوسرے مسالک بھی اس فرق کو تسلیم کرتے اور بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کی کونسی بات سنت ہے یہ حدیث مبارکہ ہی سے پتہ چلے گی ۔ ایک عمل کو نبی اکرم ﷺ کی سنت کہا جائے مگر وہ حدیث سے ثابت نہ ہو ، یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے ؟؟؟ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔

المستفتی : ناصر الدین

جواب پڑھیں۔
Syndicate content