فرقِ باطلہ
الہدیٰ انٹر نیشنل اور اس کی بانیہ کا فکری مسلک
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
الہدیٰ انٹرنیشنل اور ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے عقائد کے بارےمیں معلوم کرناتھا۔
اس آرگنائزیشن کے بارے میں آپ کے پاس کوئی تفصیلات ہوں تو برائے مہربانی بتادیں۔
کیا ڈاکٹر فرحت ہاشمی اہل حدیث مسلک سے تعلق رکھتی ہیں؟
السلام علیکم !
الہدیٰ انٹرنیشنل اور ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے عقائد کے بارےمیں معلوم کرناتھا۔
اس آرگنائزیشن کے بارے میں آپ کے پاس کوئی تفصیلات ہوں تو برائے مہربانی بتادیں۔
کیا ڈاکٹر فرحت ہاشمی اہل حدیث مسلک سے تعلق رکھتی ہیں؟
جزاک اللہ
سائل :سید کاشف مشہر
بابر چوہدری اور محمد شیخ کےمتعلق
جناب مفتی صاحب!
السلام علیکم !
بعد از سلام عرض یہ ہے کہ آج کل جو بابر چودہری اور محمد شیخ کا تقابلی مسئلہ چل رہا ہے، آپ حضرات سے یہ التماس ہے کہ آپ ہم عوام کو سمجھائیں کہ ان دونوںمیں کون حق پر ہے اور کون ناحق ہے اور ان دونوں کا عقیدہ کیا ہے ؟
تفصیل سے جواب دیکر عند اللہ ماجور ہوں۔
السلام علیکم !
بعد از سلام عرض یہ ہے کہ آج کل جو بابر چودہری اور محمد شیخ کا تقابلی مسئلہ چل رہا ہے، آپ حضرات سے یہ التماس ہے کہ آپ ہم عوام کو سمجھائیں کہ ان دونوںمیں کون حق پر ہے اور کون ناحق ہے اور ان دونوں کا عقیدہ کیا ہے ؟
تفصیل سے جواب دیکر عند اللہ ماجور ہوں۔
والسلام
سائل :منیر احمد
اسلام کے منافی عقائد رکھنے والے شخص یا ادارے کا حکم
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
میرا بیٹا کراچی میں رہتا ہے وہ محمد شیخ نامی شخص کے ادارے میں اسلامک پروپگیشن سینٹر میں جاتا ہے۔
میں نے اس ادارے کی ویب سائٹ وزٹ کی تو مجھے معلوم ہوا کہ اس شخص (محمدشیخ) کے عقائد یہ ہیں۔
1۔احادیث نبوی کو نہیں مانتا۔
2۔ وہ خود قرآن کی تشریح کرتا ہے جبکہ وہ کوئی عالمِ دین بھی نہیں ہے۔
3۔ واقعہ معراج کو نہیں مانتا۔
4۔ وہ کہتا ہے کہ خواتین کو نمازکے دوران دوپٹہ لینے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔
5۔ وہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام واپس نہیں آئیں گے، میرے بیٹے نے بتایاکہ وہاںپرمشہور ٹی وی آرٹسٹ علی افضل خان بھی آتا ہے اور محمد شیخ کے عقائد کی تبلیغ بھی کرتا ہے ۔
اس کے علاوہ میرا ایک پرانا جاننے والا جس کو میں دبئی سے جانتا ہوں ،سلیم اختر وہ بھی وہاں آتا ہے ۔
وہ لوگ میرے بیٹے کو گمراہ کررہے ہیں ،علماء کر ام کی رھنمائی چاہتاہوں کہ کیا ایسے شخص کے ادارے میں جانا صحیح ہے اور شریعت ایسے عقائد رکھنے والوں سے تعلق کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
السلام علیکم !
میرا بیٹا کراچی میں رہتا ہے وہ محمد شیخ نامی شخص کے ادارے میں اسلامک پروپگیشن سینٹر میں جاتا ہے۔
میں نے اس ادارے کی ویب سائٹ وزٹ کی تو مجھے معلوم ہوا کہ اس شخص (محمدشیخ) کے عقائد یہ ہیں۔
1۔احادیث نبوی کو نہیں مانتا۔
2۔ وہ خود قرآن کی تشریح کرتا ہے جبکہ وہ کوئی عالمِ دین بھی نہیں ہے۔
3۔ واقعہ معراج کو نہیں مانتا۔
4۔ وہ کہتا ہے کہ خواتین کو نمازکے دوران دوپٹہ لینے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔
5۔ وہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام واپس نہیں آئیں گے، میرے بیٹے نے بتایاکہ وہاںپرمشہور ٹی وی آرٹسٹ علی افضل خان بھی آتا ہے اور محمد شیخ کے عقائد کی تبلیغ بھی کرتا ہے ۔
اس کے علاوہ میرا ایک پرانا جاننے والا جس کو میں دبئی سے جانتا ہوں ،سلیم اختر وہ بھی وہاں آتا ہے ۔
وہ لوگ میرے بیٹے کو گمراہ کررہے ہیں ،علماء کر ام کی رھنمائی چاہتاہوں کہ کیا ایسے شخص کے ادارے میں جانا صحیح ہے اور شریعت ایسے عقائد رکھنے والوں سے تعلق کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
جزاک اللہ
سائل : عبدالغفور ،امریکا
سود کی حرمت کا انکار کرنے والے شخص سے تعلق رکھنے کا حکم
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
میرا ایک رشتے دار جس کانام حسان فیصل ہے اور وہ پاکستان نیوی میں کام کرتا ہے،وہ ہمیں تبلیغ کرتاہے اور کہتا ہے کہ قرآن کی رو سے سود حلال ہے اور مزید یہ کہ قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے حدیث کی ضرورت نہیں ہے۔
تھوڑی تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ ایک مذہبی اسکالر محمد شیخ نام کا جو اسلامک پروپگیشن سینٹر کا بڑا ہے،طارق روڈ کے پاس رہتا ہے کراچی میں،اس کے پاس جاتا ہے اور یہ عقائد اس نے محمد شیخ سے سیکھے ہیں۔
برائے مہربانی میری مدد فرمائیں کہ کیا شریعت محمد شیخ اور حسان فیصل جیسے لوگوں کے عقائد اور ان سے تعلق رکھنے کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
کیا ایسے لوگوں کے ساتھ تعلق رکھنا صحیح ہے یا نہیں ؟
السلام علیکم !
میرا ایک رشتے دار جس کانام حسان فیصل ہے اور وہ پاکستان نیوی میں کام کرتا ہے،وہ ہمیں تبلیغ کرتاہے اور کہتا ہے کہ قرآن کی رو سے سود حلال ہے اور مزید یہ کہ قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے حدیث کی ضرورت نہیں ہے۔
تھوڑی تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ ایک مذہبی اسکالر محمد شیخ نام کا جو اسلامک پروپگیشن سینٹر کا بڑا ہے،طارق روڈ کے پاس رہتا ہے کراچی میں،اس کے پاس جاتا ہے اور یہ عقائد اس نے محمد شیخ سے سیکھے ہیں۔
برائے مہربانی میری مدد فرمائیں کہ کیا شریعت محمد شیخ اور حسان فیصل جیسے لوگوں کے عقائد اور ان سے تعلق رکھنے کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
کیا ایسے لوگوں کے ساتھ تعلق رکھنا صحیح ہے یا نہیں ؟
جزاک اللہ
سائل : جبار باقی
باطل عقائد رکھنے والے شخص اور اس کی اتباع کا حکم
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
میرا ریل اسٹیٹ کا کاروبار ہے ڈیفینس کراچی میں، ایک دن میرے پارٹنر نے اپنے ایک دوست جس کا نام غلام نبی تھا اس سے ملوایا۔غلام نبی سیگریٹ نوشی کررہا تھا اوربغل میں قرآن مجید تھا،انتہائی بےحرمتی سے۔
اس نے مجھے بتایاکہ وہ انٹر نیشنل اسلامک پرپیگیشن سینٹر جو کےطارق روڈ پر قبرستان کے ساتھ ہے وہاں تعلیم قرآن کے لیے جاتا ہے،اور وہاں پر محمد شیخ ان کو تعلیم قرآن دیتے ہیں۔
پھر اس نے مجھے تبلیغ شروع کی اور کہنے لگا کہ قرآن کی روشنی میں عورت کو پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے،یہاں تک کہ نماز کے دوران بھی عورت کو پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
پھر اس نے ایک حیرت انگیزبات کہی کہ ختنہ کروانا سنت نہیں ہے اورختنہ کروانا یہودیوں کا رواج ہےاس سے مسلمانوں کا کچھ لینا دینا نہیں ہےاور انتہائی بے حرمتی کے ساتھ مجھے قرآن کی آیات دکھانے لگا۔
اس پر میں نے اس کو روک دیا اور میرے آفس سے چلے جانے کا کہا۔ اس کے بعد مجھے محمد شیخ کے عقائد کے بارے میں ایک سی ڈی ملی ، میں اس کو دیکھ کر حیرا ن رہ گیااور میری غیرت طیش میں آگئی کہ کس طرح سے وہ نبی کریم ﷺ کی نعوذ بااللہ توہین کر رہا تھا ،اور کفریہ کلمات بک رہا تھا ۔وہ حدیث کو بھی نہیں مانتا اور کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام واپس نہیں آئیں گے ۔
اس سے زیاد ہ مجھ سے دیکھا نہیں گیا مجھے علماء کرام کی ہدایات چاہئیں غلام نبی اور اس کے استاد محمد شیخ کے بارے میں کہ اس طرح کے ایمان رکھنے والوں کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟
اور اس طرح کے لوگوں سے تعلق رکھنا کہاں تک صحیح ہے ؟
اور کیا یہ ہمارا فرض نہیں بنتا کہ اس طرح کے کفریہ عقید ہ رکھنے والوں کو تبلیغ کے نام پر کفریہ عقائد پھیلانے سے روکیں ؟
السلام علیکم !
میرا ریل اسٹیٹ کا کاروبار ہے ڈیفینس کراچی میں، ایک دن میرے پارٹنر نے اپنے ایک دوست جس کا نام غلام نبی تھا اس سے ملوایا۔غلام نبی سیگریٹ نوشی کررہا تھا اوربغل میں قرآن مجید تھا،انتہائی بےحرمتی سے۔
اس نے مجھے بتایاکہ وہ انٹر نیشنل اسلامک پرپیگیشن سینٹر جو کےطارق روڈ پر قبرستان کے ساتھ ہے وہاں تعلیم قرآن کے لیے جاتا ہے،اور وہاں پر محمد شیخ ان کو تعلیم قرآن دیتے ہیں۔
پھر اس نے مجھے تبلیغ شروع کی اور کہنے لگا کہ قرآن کی روشنی میں عورت کو پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے،یہاں تک کہ نماز کے دوران بھی عورت کو پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
پھر اس نے ایک حیرت انگیزبات کہی کہ ختنہ کروانا سنت نہیں ہے اورختنہ کروانا یہودیوں کا رواج ہےاس سے مسلمانوں کا کچھ لینا دینا نہیں ہےاور انتہائی بے حرمتی کے ساتھ مجھے قرآن کی آیات دکھانے لگا۔
اس پر میں نے اس کو روک دیا اور میرے آفس سے چلے جانے کا کہا۔ اس کے بعد مجھے محمد شیخ کے عقائد کے بارے میں ایک سی ڈی ملی ، میں اس کو دیکھ کر حیرا ن رہ گیااور میری غیرت طیش میں آگئی کہ کس طرح سے وہ نبی کریم ﷺ کی نعوذ بااللہ توہین کر رہا تھا ،اور کفریہ کلمات بک رہا تھا ۔وہ حدیث کو بھی نہیں مانتا اور کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام واپس نہیں آئیں گے ۔
اس سے زیاد ہ مجھ سے دیکھا نہیں گیا مجھے علماء کرام کی ہدایات چاہئیں غلام نبی اور اس کے استاد محمد شیخ کے بارے میں کہ اس طرح کے ایمان رکھنے والوں کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟
اور اس طرح کے لوگوں سے تعلق رکھنا کہاں تک صحیح ہے ؟
اور کیا یہ ہمارا فرض نہیں بنتا کہ اس طرح کے کفریہ عقید ہ رکھنے والوں کو تبلیغ کے نام پر کفریہ عقائد پھیلانے سے روکیں ؟
جزاک اللہ
سائل : سلیم قریشی ،کراچی
اہل حدیث کےمسلک کی حیثیت
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم ورحمتہ اللہ
میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ
1- اہلحدیث مسلک جن کو غیر مقلد بھی کہتے ہیں ، کے تمام لوگ (علماء اور عوام ) بھی کیا اہل سنت والجماعۃ میں شامل ہیں جیسا کہ امت کے چاروں معتبر و مستند مذاہب اربعہ مل کر ایک ہی "اہل سنت والجماعت" بناتے ہیں۔
2- کیا مسلک اہلحدیث بھی دوسرے مذاہب اربعہ کی طرح ایک معتبر اور امت کا ایک مشہور "فروعی مسلک" رہا ہے یا یا یہ کوئی موجودہ زمانہ کا نیا فرقہ ہے اور مذاہب اربعہ سے ان کا اختلاف " اصول و عقیدہ" کا اختلاف ہے یا صرف "فروعی" اختلاف ہے۔
3- امام داؤد ظاہری رحمہ اللہ اور امام ابن حزم رحمہ اللہ اندلسی کے مسلک کو اپنانے والے یعنی "ظاہری مسلک" کیا اہل سنت والجماعت میں شامل ہیں ۔اور کیا "ظاہری مسلک" بھی (جو قیاس کے ماخذ شریعت ہونے کا بالکلیہ انکار کرتے ہیں اور ادلہ شرعیہ میں سے تین کے قائل ہیں قرآن، حدیث، اور اجماع امت) امت کا مشہور اور معتبر مسلک حق رہا ہے (جیسا کہ چار مشہور مذاہب اربعہ ہیں) یا یہ اہل سنت والجماعت سے خارج ہیں۔
4- میرا خیال ہے کہ برصغیر کے اہلحدیث بھی عملا "اہل الظاہر" کے مسلک پر ہیں کیوں کہ یہ بھی دین کے ماخذ صرف تین چیزوں قرآن ، حدیث اور اجماع امت کو ہی حجت شرعیہ مانتے ہیں اور قیاس کا مطلقا انکار کرتے ہیں۔ مجھے بتلائیے کہ میرا خیال کہاں تک درست ہے۔ ایک بات ملحوظ خاطر رہے کہ مسلک اہلحدیث کا علمائے خواص و عام تمام کہ تمام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ،امام ابن قیم رحمہ اللہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ یا ماضی قریب میں شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ وغیرہ کو اپنے "مسلک اہلحدیث" کے اکابر اور مستند و معتبر ائمہ اہلسنت کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔
جبکہ ان مذکورہ ائمہ کرام کا "اہل سنت" میں شامل ہونا اور بعض کا متفقہ امام اہل سنت ہونا مشہور ہے۔
مجھے امید ہے کہ آپ مجھے جامع و مفصل جواب عنایت فرمائیں گے یا کم از کم بھی مجھے آپ سے "تشفی آمیز" اور مسکت جواب کی توقع ہے۔اللہ تعالی میرے اور آپ کے علم و عمل میں اضافہ فرمائے۔آمین
السلام علیکم ورحمتہ اللہ
میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ
1- اہلحدیث مسلک جن کو غیر مقلد بھی کہتے ہیں ، کے تمام لوگ (علماء اور عوام ) بھی کیا اہل سنت والجماعۃ میں شامل ہیں جیسا کہ امت کے چاروں معتبر و مستند مذاہب اربعہ مل کر ایک ہی "اہل سنت والجماعت" بناتے ہیں۔
2- کیا مسلک اہلحدیث بھی دوسرے مذاہب اربعہ کی طرح ایک معتبر اور امت کا ایک مشہور "فروعی مسلک" رہا ہے یا یا یہ کوئی موجودہ زمانہ کا نیا فرقہ ہے اور مذاہب اربعہ سے ان کا اختلاف " اصول و عقیدہ" کا اختلاف ہے یا صرف "فروعی" اختلاف ہے۔
3- امام داؤد ظاہری رحمہ اللہ اور امام ابن حزم رحمہ اللہ اندلسی کے مسلک کو اپنانے والے یعنی "ظاہری مسلک" کیا اہل سنت والجماعت میں شامل ہیں ۔اور کیا "ظاہری مسلک" بھی (جو قیاس کے ماخذ شریعت ہونے کا بالکلیہ انکار کرتے ہیں اور ادلہ شرعیہ میں سے تین کے قائل ہیں قرآن، حدیث، اور اجماع امت) امت کا مشہور اور معتبر مسلک حق رہا ہے (جیسا کہ چار مشہور مذاہب اربعہ ہیں) یا یہ اہل سنت والجماعت سے خارج ہیں۔
4- میرا خیال ہے کہ برصغیر کے اہلحدیث بھی عملا "اہل الظاہر" کے مسلک پر ہیں کیوں کہ یہ بھی دین کے ماخذ صرف تین چیزوں قرآن ، حدیث اور اجماع امت کو ہی حجت شرعیہ مانتے ہیں اور قیاس کا مطلقا انکار کرتے ہیں۔ مجھے بتلائیے کہ میرا خیال کہاں تک درست ہے۔ ایک بات ملحوظ خاطر رہے کہ مسلک اہلحدیث کا علمائے خواص و عام تمام کہ تمام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ،امام ابن قیم رحمہ اللہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ یا ماضی قریب میں شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ وغیرہ کو اپنے "مسلک اہلحدیث" کے اکابر اور مستند و معتبر ائمہ اہلسنت کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔
جبکہ ان مذکورہ ائمہ کرام کا "اہل سنت" میں شامل ہونا اور بعض کا متفقہ امام اہل سنت ہونا مشہور ہے۔
مجھے امید ہے کہ آپ مجھے جامع و مفصل جواب عنایت فرمائیں گے یا کم از کم بھی مجھے آپ سے "تشفی آمیز" اور مسکت جواب کی توقع ہے۔اللہ تعالی میرے اور آپ کے علم و عمل میں اضافہ فرمائے۔آمین
والسلام
المستفتی : ناصر الدین



