میاں بیوی کے حقوق
ازدواجی حقوق کی ادائیگی !
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے تمام حقوق ادا کرے لیکن ازدواجی حقوق نہ ادا کرے تو اس کے لیے کیا حکم ہے اور اس شخص کو اس سلسلے میں کیا کرنا چاہئے ؟
السلام علیکم !
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے تمام حقوق ادا کرے لیکن ازدواجی حقوق نہ ادا کرے تو اس کے لیے کیا حکم ہے اور اس شخص کو اس سلسلے میں کیا کرنا چاہئے ؟
جزاک اللہ
سائل :سلیمان
میاں بیوی کے حقوق
محترم جناب مفتی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اُمید ہے کہ آپ حضرات بخیروعافیت ہوں گے۔
انٹرنیٹ کی مدد سے فتوی کا حصول ہمارے لیے کافی سہولت کا باعث ہے اور ٹائم کی کمی اور دیگر مصروفیات کی بناء پر دارالافتاء میں حاضری نہیں ہوتی اسی بناء پر آن لائن فتوی کے حصول میں آسانی پیش آرہی ہے۔
میری شادی ۲۰۰۱ء میں ہوئی لیکن پانچ یا چھ مہینے کے بعد میری بیوی نے الگ گھر کے حصول کے لیے اپنا انداز بدلا میں نے دارلافتاء سے رجوع کیا کہ اس صورت میں کیا کیا جائے کیوں کہ وہ اپنے والد کے گھر جاکر کبھی چار ماہ، کبھی دس ماہ اور کبھی دو ماہ گزار جاتی اور ہم پھر لے آتے کیوں کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ رشتہ ختم ہوجائے ۔
پھر تحفہ دلہن کتاب میں انہوں نے پڑھا کہ بیوی کے اوپر شوہر کے والدین بہن بھائیوں اور اس کے گھر کے دیگر افراد کی خدمت کرنا واجب نہیں، بندہ نے یہ بھی مان لیا اور کہا کہ ٹھیک ہے کہ آپ کے ذمہ نہیں لیکن یہ ایک معاشرتی تعلق ہے جو کہ کبھی ختم نہیں ہوتا اور ضرورت کے پیش نظر انسان ایک دوسرے کے کام آتا ہے، لیکن وہ اپنی ضد پر اڑی رہی۔
میں نے الگ مکان میں رکھا جو کہ ہمارے گھر کی آخری منزل پر ہے لیکن نہ بچوں کی ٹھیک دیکھ بھال نہ میرے ساتھ کوئی اچھا رویہ رکھتی ہے بلکہ ہر وقت ایک ذہنی پریشانی میں خود بھی مبتلا رہتی ہے اور مجھے بھی پریشان کردیا ہے۔
کچھ دن قبل بیمار ہوئی میں نے اپنی استطاعت کے مطابق خوب خدمت کی ہے اللہ کا فضل ہے کہ اب طبیعت ٹھیک ہے لیکن دوا نو ماہ تک جاری رہے گی ۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ کوئی تکلیف اس کو نہ ہو کھانا باہر سے لانا اور پھر اس کو راضی کرنا کہ کھالے اور دوا کا بار بار پوچھنا کہ کھائی یا نہیں، ایک عجیب حالت ہے۔ لیکن پھر بھی خوش نہیں اور اپنے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں لارہی۔ مجھے یہ بتائیں کہ جب اس کے ذمہ میرے والدین کی خدمت کرنا واجب نہیں، میرے بچوں کو کھلانا پلانا واجب نہیں، میرے کپڑے دھونا اور میرے لیے کھانا پکانا واجب نہیں تو پھر کیا حق رہ جاتا ہے کیا صرف ہمبستری کرنا میرا حق ہے؟
میں نے اس کے کھانے پینے میں کبھی کوئی کوتا ہی کرنے کی کوشش نہیں کی (الاماشاء اللہ)،وہ ایک محفوظ گھر میں موجود ہے جہاں اس کی عزت اور آبرو محفوظ ہے، اور اس کا بدن ڈھکا ہوا ہے ۔ اب آپ بتائیں کہ بندہ کیا کرے اور بندہ کا حق کتنا ہے اگر بندہ اس کے علاج معالجہ پر خرچ نہ کرے تو کیا عند اللہ گناہ گار ہوگا یا نہیں؟ کیوں کہ ابھی علاج پر تقریبا ۳۰۰۰۰ہزار روپے خرچ ہوئے جو کہ بندہ نے ادھار لے کر خرچ کیے ہیں اگر میرا حق نہیں بنتا تو پھر کیا ضرورت ہے اپنے آپ کو قرض کے بوجھ تلے دبانے کی۔
ازراہ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب دے کر مشکور فرمائیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اُمید ہے کہ آپ حضرات بخیروعافیت ہوں گے۔
انٹرنیٹ کی مدد سے فتوی کا حصول ہمارے لیے کافی سہولت کا باعث ہے اور ٹائم کی کمی اور دیگر مصروفیات کی بناء پر دارالافتاء میں حاضری نہیں ہوتی اسی بناء پر آن لائن فتوی کے حصول میں آسانی پیش آرہی ہے۔
میری شادی ۲۰۰۱ء میں ہوئی لیکن پانچ یا چھ مہینے کے بعد میری بیوی نے الگ گھر کے حصول کے لیے اپنا انداز بدلا میں نے دارلافتاء سے رجوع کیا کہ اس صورت میں کیا کیا جائے کیوں کہ وہ اپنے والد کے گھر جاکر کبھی چار ماہ، کبھی دس ماہ اور کبھی دو ماہ گزار جاتی اور ہم پھر لے آتے کیوں کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ رشتہ ختم ہوجائے ۔
پھر تحفہ دلہن کتاب میں انہوں نے پڑھا کہ بیوی کے اوپر شوہر کے والدین بہن بھائیوں اور اس کے گھر کے دیگر افراد کی خدمت کرنا واجب نہیں، بندہ نے یہ بھی مان لیا اور کہا کہ ٹھیک ہے کہ آپ کے ذمہ نہیں لیکن یہ ایک معاشرتی تعلق ہے جو کہ کبھی ختم نہیں ہوتا اور ضرورت کے پیش نظر انسان ایک دوسرے کے کام آتا ہے، لیکن وہ اپنی ضد پر اڑی رہی۔
میں نے الگ مکان میں رکھا جو کہ ہمارے گھر کی آخری منزل پر ہے لیکن نہ بچوں کی ٹھیک دیکھ بھال نہ میرے ساتھ کوئی اچھا رویہ رکھتی ہے بلکہ ہر وقت ایک ذہنی پریشانی میں خود بھی مبتلا رہتی ہے اور مجھے بھی پریشان کردیا ہے۔
کچھ دن قبل بیمار ہوئی میں نے اپنی استطاعت کے مطابق خوب خدمت کی ہے اللہ کا فضل ہے کہ اب طبیعت ٹھیک ہے لیکن دوا نو ماہ تک جاری رہے گی ۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ کوئی تکلیف اس کو نہ ہو کھانا باہر سے لانا اور پھر اس کو راضی کرنا کہ کھالے اور دوا کا بار بار پوچھنا کہ کھائی یا نہیں، ایک عجیب حالت ہے۔ لیکن پھر بھی خوش نہیں اور اپنے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں لارہی۔ مجھے یہ بتائیں کہ جب اس کے ذمہ میرے والدین کی خدمت کرنا واجب نہیں، میرے بچوں کو کھلانا پلانا واجب نہیں، میرے کپڑے دھونا اور میرے لیے کھانا پکانا واجب نہیں تو پھر کیا حق رہ جاتا ہے کیا صرف ہمبستری کرنا میرا حق ہے؟
میں نے اس کے کھانے پینے میں کبھی کوئی کوتا ہی کرنے کی کوشش نہیں کی (الاماشاء اللہ)،وہ ایک محفوظ گھر میں موجود ہے جہاں اس کی عزت اور آبرو محفوظ ہے، اور اس کا بدن ڈھکا ہوا ہے ۔ اب آپ بتائیں کہ بندہ کیا کرے اور بندہ کا حق کتنا ہے اگر بندہ اس کے علاج معالجہ پر خرچ نہ کرے تو کیا عند اللہ گناہ گار ہوگا یا نہیں؟ کیوں کہ ابھی علاج پر تقریبا ۳۰۰۰۰ہزار روپے خرچ ہوئے جو کہ بندہ نے ادھار لے کر خرچ کیے ہیں اگر میرا حق نہیں بنتا تو پھر کیا ضرورت ہے اپنے آپ کو قرض کے بوجھ تلے دبانے کی۔
ازراہ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب دے کر مشکور فرمائیں
المستفتی :حفیظ اللہ



