کتاب النکاح
کورٹ میرج کی شرعی حیثیت !
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم!
مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ لوگ کورٹ میں شادی کرتے ہیں جب کے نبی پاک ﷺ نے یہ کہا ہے اور بہت سی حدیث سے پتہ چلا کہ ولی کے بغیر نکا ح نہیں۔وہ پھر کیوں کیا جاتا ہے نکاح ۔دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر نکاح کرنے کے لیے کوئی پروا نہیں کرتے ۔جب طلاق ہو جائے حلالہ پھر کیوں کہا جاتا ہے کہ حلالہ حرام ہے یہ ہے وہ ہے پھر بھی کیا جاتا ہے ۔ میرے ساتھ بھی یہ مسئلہ ہے کورٹ میں شادی کی اب طلاق بھی دی مگرشادی پر نیت یہ تھی کہ مہر 1 روپے بھی نہیں دوں گا جو کہ 10 لاکھ طے ہوا تھا۔
اب میں چاہتاہوں کہ ہم پھر سے ایک ہوں ، والدین کی مرضی سے ہم نے طے کر لیا نیا نکاح کیونکہ وہ ہمارا نکاح ہی نہیں تھا پھر طلاق کس طرح ہوئی ؟
براہ کرم جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں۔
السلام علیکم!
مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ لوگ کورٹ میں شادی کرتے ہیں جب کے نبی پاک ﷺ نے یہ کہا ہے اور بہت سی حدیث سے پتہ چلا کہ ولی کے بغیر نکا ح نہیں۔وہ پھر کیوں کیا جاتا ہے نکاح ۔دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر نکاح کرنے کے لیے کوئی پروا نہیں کرتے ۔جب طلاق ہو جائے حلالہ پھر کیوں کہا جاتا ہے کہ حلالہ حرام ہے یہ ہے وہ ہے پھر بھی کیا جاتا ہے ۔ میرے ساتھ بھی یہ مسئلہ ہے کورٹ میں شادی کی اب طلاق بھی دی مگرشادی پر نیت یہ تھی کہ مہر 1 روپے بھی نہیں دوں گا جو کہ 10 لاکھ طے ہوا تھا۔
اب میں چاہتاہوں کہ ہم پھر سے ایک ہوں ، والدین کی مرضی سے ہم نے طے کر لیا نیا نکاح کیونکہ وہ ہمارا نکاح ہی نہیں تھا پھر طلاق کس طرح ہوئی ؟
براہ کرم جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں۔
جزاک اللہ
سائل : افرا ز احمد
بوقت نکاح ایجاب و قبول اور گواہ لازمی ہیں !
محترم مفتی صاحب!
السلام علیکم !
میرا ایک وکیل دوست تھا، اس سے میں نے نکاح کی بات کی کورٹ میں، اس نے مجھے کہا میں کروا دوں گا۔ نکاح کاسب کام وکیل نے کیا، میںنے اس کو پیسے دیدئیے تھے ۔
ہم نےتاریخ طے کی اورکورٹ میں اس کے آفس گئے جہاں اس نے سب کچھ تیار کیا ہوا تھا بس فارم بھرا اور خطبہ ہوا نکاح خواں نے مجھ سے ایک کلمہ پڑھوایاجومیں نے پڑھا پھر میںنے اورلڑکی نے دستخط کیے نکاح فارم پر، پھر نکاح خوان چلا گیا اور میں نے وکیل کو جو پیسے باقی تھے ادا کیے اور ہم گھر کو آگئے۔ جو گواہ تھے جن کے نکاح فارم پر نام ہیں وہ گواہ کرائے کے تھے 1 ہزار1 ہزار پر، وکیل نے کہا تھا کہ گواہ کو دوںگامگر نکاح کے وقت وہ گواہ موجود نہیں تھے ان کو نہیں پتہ کہ کس کانکاح ہوا وہ موجود نہیںتھے نکاح کے وقت۔
میں نے پوچھا گواہ ؟ وکیل نے کہا اُن سے سائن بعد میں لوں گا وہ ابھی موجود نہیں ،خیر نکاح اس طرح ہوا جب نکاح ہو رہا تھا تب وکیل اور اُس کا منشی موجود تھے اتنا کچھ یا دہے۔ اور یہ تھا نکاح کادن ۔
اب لڑکی کی تفصیل یہ ہےکہ BA پاس ہے اور اس کےوالدکاانتقال ہو چکا ہے صرف بھائی ہیں جو اس کے کفیل ہیں والدہ حیات ہیں۔
ہمارا رشتہ نہ ہونے کی وجہ صرف آپس کےخاندان کا الگ ہونا تھا، لڑکی کاخاندان سردار قبیلے سدوزئی سےہے اور میرا اعوان ملک، ان کے نزدیک اعوان ایک نیچی ذات کو کہتے ہیں اور سردار ایک اچھی قوم اور قبیلہ ہے۔ میں اس وقت کوئی ملازمت نہیں کرتا تھا مگر نکاح اس لیئے کیا کہ میںدبی آرہا تھا اس نیت سے کہ ہم دونوںکو یقین ہوجائےکہ ہم ایک ہی ہیں کبھی جدا نہیں ہوںگے۔ ماں باپ نے مانلیا تو نیا نکاح کریں گے اس نیت سے نکاح کیا تھا۔
نکا ح سے پہلے اور نکاح کے بعد جنسی تعلق بھی قائم کیا ،جس کی وجہ سے مجبور ہوئے کہ نکاح کریں مگر حمل نہیں تھا ،ہم نےیہ گناہ کیا جس پرذلیل ہوئے۔ اب اللہ سے معافی مانگی ہے، مجھے دبئی آئے ہوئے 16 مہنے گزر گئے مگر وہ اپنے بھائی کو راضی نہیں کر سکی پھر مجھ پربھی ماں باپ کا دباؤ تھا، تنگ آکر میںنے 3 سے زیادہ طلاق کہہ دیں مگر اب اس کے گھر والے مانتے ہیں کہ شادی کروا دیں مجھ سے مگر اب یہ سب ہوچکا ہے، کیا کروں؟ کیا اب شادی ہو سکتی ہے؟ کر سکتا ہوںنکاح کر کے کیونکہ کچھ احادیث ملیں کہ بغیر ولی نکاح نہیں، دبئی میں فتویٰ سینٹر سے پوچھا کہتے ہیں یہ نکاح ہی نیں ہوا طلاق پھر کیسی۔ مگر انہوں نے کہا پاکستان سے رابطہ کرو اسلامی نظر سے نکاح باطل ہے ۔
اب مسلہ یہ ہے کہ نکاح سے پہلے میں کوئی کام نہیں کرتا تھا لڑکی بھی کوئی کام نہیں کرتی تھی ، گھر پر تھی ۔کیااب کوئی صورت بن سکتی ہے؟
اس کے خاندان میں یہ بات ہے کہ میرا خاندان نیچی ذات کاہے کیا کریں اب وہ لوگ کہتے ہیںکہ نہیں ٹھیک ہے رشتہ دیدو مگرلڑکی نہیں مانتی ،ان کو نہیں پتا کہ ہم نےکورٹ میرج کرلی ہے ۔ اب اس مسلے پر کیا کروں ، اپنی زندگی بھی خراب،لڑکی کی بھی، کدھر جاؤں؟
مفتی صاحب ! مہربانی کر کے جلد سے جلد جواب دیںتاکہ مسئلہ خراب ہونے سے بچایا جائے جتنا لیٹ ہورہاہے اتنی ہی زیادہ مصیبت ہو رہی ہے۔
مفتی صاحب ایک لازمی بات کہ مہر جو تھا 10 لاکھ روپےپاکستانی تھا، جو لڑکی کی مرضی سے طے ہوا تھامگر میں اسمہر پر خوش نہیںتھا، دل میںیہ سوچا تھا میںنے اس کو مہر کبھی نہیںدینا ،میری مہر دینےکی نیت نہیں تھی اور نہ ہی مجھے اتنا پتہ تھا کہ مہر کس طرح ادا کیا جاتا ہے میرے دل میں یہ بات تھی کہ لڑکی جتنا مہر رکھے میںنے دیناکب ہے اور میں نے نکاح کے بعد ایک پیپر پر سائن بھی کروائے تھے اس کے کہ مہر معاف ،مگر وہ بھی ایک چکر دے کر کیا یہ جائز ہے؟
السلام علیکم !
میرا ایک وکیل دوست تھا، اس سے میں نے نکاح کی بات کی کورٹ میں، اس نے مجھے کہا میں کروا دوں گا۔ نکاح کاسب کام وکیل نے کیا، میںنے اس کو پیسے دیدئیے تھے ۔
ہم نےتاریخ طے کی اورکورٹ میں اس کے آفس گئے جہاں اس نے سب کچھ تیار کیا ہوا تھا بس فارم بھرا اور خطبہ ہوا نکاح خواں نے مجھ سے ایک کلمہ پڑھوایاجومیں نے پڑھا پھر میںنے اورلڑکی نے دستخط کیے نکاح فارم پر، پھر نکاح خوان چلا گیا اور میں نے وکیل کو جو پیسے باقی تھے ادا کیے اور ہم گھر کو آگئے۔ جو گواہ تھے جن کے نکاح فارم پر نام ہیں وہ گواہ کرائے کے تھے 1 ہزار1 ہزار پر، وکیل نے کہا تھا کہ گواہ کو دوںگامگر نکاح کے وقت وہ گواہ موجود نہیں تھے ان کو نہیں پتہ کہ کس کانکاح ہوا وہ موجود نہیںتھے نکاح کے وقت۔
میں نے پوچھا گواہ ؟ وکیل نے کہا اُن سے سائن بعد میں لوں گا وہ ابھی موجود نہیں ،خیر نکاح اس طرح ہوا جب نکاح ہو رہا تھا تب وکیل اور اُس کا منشی موجود تھے اتنا کچھ یا دہے۔ اور یہ تھا نکاح کادن ۔
اب لڑکی کی تفصیل یہ ہےکہ BA پاس ہے اور اس کےوالدکاانتقال ہو چکا ہے صرف بھائی ہیں جو اس کے کفیل ہیں والدہ حیات ہیں۔
ہمارا رشتہ نہ ہونے کی وجہ صرف آپس کےخاندان کا الگ ہونا تھا، لڑکی کاخاندان سردار قبیلے سدوزئی سےہے اور میرا اعوان ملک، ان کے نزدیک اعوان ایک نیچی ذات کو کہتے ہیں اور سردار ایک اچھی قوم اور قبیلہ ہے۔ میں اس وقت کوئی ملازمت نہیں کرتا تھا مگر نکاح اس لیئے کیا کہ میںدبی آرہا تھا اس نیت سے کہ ہم دونوںکو یقین ہوجائےکہ ہم ایک ہی ہیں کبھی جدا نہیں ہوںگے۔ ماں باپ نے مانلیا تو نیا نکاح کریں گے اس نیت سے نکاح کیا تھا۔
نکا ح سے پہلے اور نکاح کے بعد جنسی تعلق بھی قائم کیا ،جس کی وجہ سے مجبور ہوئے کہ نکاح کریں مگر حمل نہیں تھا ،ہم نےیہ گناہ کیا جس پرذلیل ہوئے۔ اب اللہ سے معافی مانگی ہے، مجھے دبئی آئے ہوئے 16 مہنے گزر گئے مگر وہ اپنے بھائی کو راضی نہیں کر سکی پھر مجھ پربھی ماں باپ کا دباؤ تھا، تنگ آکر میںنے 3 سے زیادہ طلاق کہہ دیں مگر اب اس کے گھر والے مانتے ہیں کہ شادی کروا دیں مجھ سے مگر اب یہ سب ہوچکا ہے، کیا کروں؟ کیا اب شادی ہو سکتی ہے؟ کر سکتا ہوںنکاح کر کے کیونکہ کچھ احادیث ملیں کہ بغیر ولی نکاح نہیں، دبئی میں فتویٰ سینٹر سے پوچھا کہتے ہیں یہ نکاح ہی نیں ہوا طلاق پھر کیسی۔ مگر انہوں نے کہا پاکستان سے رابطہ کرو اسلامی نظر سے نکاح باطل ہے ۔
اب مسلہ یہ ہے کہ نکاح سے پہلے میں کوئی کام نہیں کرتا تھا لڑکی بھی کوئی کام نہیں کرتی تھی ، گھر پر تھی ۔کیااب کوئی صورت بن سکتی ہے؟
اس کے خاندان میں یہ بات ہے کہ میرا خاندان نیچی ذات کاہے کیا کریں اب وہ لوگ کہتے ہیںکہ نہیں ٹھیک ہے رشتہ دیدو مگرلڑکی نہیں مانتی ،ان کو نہیں پتا کہ ہم نےکورٹ میرج کرلی ہے ۔ اب اس مسلے پر کیا کروں ، اپنی زندگی بھی خراب،لڑکی کی بھی، کدھر جاؤں؟
مفتی صاحب ! مہربانی کر کے جلد سے جلد جواب دیںتاکہ مسئلہ خراب ہونے سے بچایا جائے جتنا لیٹ ہورہاہے اتنی ہی زیادہ مصیبت ہو رہی ہے۔
مفتی صاحب ایک لازمی بات کہ مہر جو تھا 10 لاکھ روپےپاکستانی تھا، جو لڑکی کی مرضی سے طے ہوا تھامگر میں اسمہر پر خوش نہیںتھا، دل میںیہ سوچا تھا میںنے اس کو مہر کبھی نہیںدینا ،میری مہر دینےکی نیت نہیں تھی اور نہ ہی مجھے اتنا پتہ تھا کہ مہر کس طرح ادا کیا جاتا ہے میرے دل میں یہ بات تھی کہ لڑکی جتنا مہر رکھے میںنے دیناکب ہے اور میں نے نکاح کے بعد ایک پیپر پر سائن بھی کروائے تھے اس کے کہ مہر معاف ،مگر وہ بھی ایک چکر دے کر کیا یہ جائز ہے؟
جزاک اللہ
سائل :افرازاحمد
نکا ح کے وقت حضرت فاطمہؓ اور حضرت علیؓ کی عمر اور رخصتی کا مسنون طریقہ !
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
نکاح کے وقت حضر ت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عمر کتنی تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کیا عمر تھی ؟
رخصتی کب ہوئی اور رخصتی کا سنت طریقہ کیا ہے ؟
السلام علیکم !
نکاح کے وقت حضر ت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عمر کتنی تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کیا عمر تھی ؟
رخصتی کب ہوئی اور رخصتی کا سنت طریقہ کیا ہے ؟
جزاک اللہ
سائل :ابوانس
ایک نکاح کے ہوتے ہوئے دوسرے نکاح کا حکم !
السلام علیکم!
اُمید ہے کہ مزاج گرامی بخیروعافیت ہوں گے۔ عرض ہے کہ اس سوال کو میں تیسری مرتبہ ارسال کررہا ہوں،تقریباً مہینے سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہوگا کہ جواب نہیں آیا، ازراہِ کرم جواب جلدعنایت فرمائیں چوں کہ مسئلہ کی نوعیت بہت نازک ہے اور معاملہ کا فیصلہ بھی جلد ہوجائے اس کے لیے آپ سے عرض ہے کہ جواب میں جلدی فرمالیں گے تو سہولت ہوجائے گی۔
ایک صاحب کا نکاح تقریباً پانچ سال پہلے ایک لڑکی سے کیا گیا جس میں اہل محلہ کی ایک کثیر تعداد شریک ہوئی۔
نکاح کے وقت لڑکے کی عمر تقریبا 26 سال جبکہ لڑکی کی عمرتقریباً18 سال تھی۔ نکاح کے بعد رخصتی نہ ہوسکی جس کی وجہ مالی پریشانی اور مختلف اداروں میں بِل کلیئر نہ ہونے کی وجہ سے مکان کی تعمیر میں تاخیر تھی۔
ابھی کچھ عرصہ قبل یعنی 27جون 2009ء کو لڑکی اپنے گھر سے نکل کر کسی اور شخص کے ساتھ چلی گئی اور وہاں جاکر انہوں نے نکاح کرلیا، اور نکاح کرتے وقت انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ چوں کہ پہلے نکاح کو تین سال گزرچکے ہیں لہٰذا اب وہ نکاح ختم ہوچکا ہے اور انہوں نے دوبارہ نکاح کردیا ہے۔ اس سلسلہ میں شریعت مطہرہ کیا حکم دیتی ہے؟
1۔لڑکی کا اس طرح ایک نکاح کے قائم ہونے کے باوجود دوسرا نکاح کرنا کیسا ہے؟ نیزپیدا ہونے والی اولاد کا کیا حکم ہوگا؟
2۔ایک نکاح کے بعد رخصتی نہ ہونے کے بعد کب تک وہ نکاح قائم رہ سکتا ہے جبکہ لڑکے کی طرف سے طلاق وغیرہ کا معاملہ نہ ہوا ہو؟ نیز کیا عدالت سے خلع کی صورت میں جبکہ لڑکا بیوی کو آزاد نہ کرے، یکطرفہ طور پرعدالت خلع کا اختیار رکھتی ہے یا نہیں؟
3۔اس طرح کا نکاح منعقد کرنا کہ پہلے نکاح ہوچکا ہو اور اس پر دوسرا نکاح کرنے والوں کے متعلق کیا حکم ہے جو اس کو صحیح تسلیم اور اس میں شرکت کریں؟
4۔اس صورت میں جبکہ رخصتی نہ ہوئی ہو، طلاق کی نوبت آنے پرمہر کی ادائیگی کا کیا طریقہ کار ہوگا؟
ازراہِ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں مفصل جواب جلد ازجلد تحریر فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے ،علم وعمل میں برکت اور دین کی خدمت کو قبول فرمائے،آمین۔
اُمید ہے کہ مزاج گرامی بخیروعافیت ہوں گے۔ عرض ہے کہ اس سوال کو میں تیسری مرتبہ ارسال کررہا ہوں،تقریباً مہینے سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہوگا کہ جواب نہیں آیا، ازراہِ کرم جواب جلدعنایت فرمائیں چوں کہ مسئلہ کی نوعیت بہت نازک ہے اور معاملہ کا فیصلہ بھی جلد ہوجائے اس کے لیے آپ سے عرض ہے کہ جواب میں جلدی فرمالیں گے تو سہولت ہوجائے گی۔
ایک صاحب کا نکاح تقریباً پانچ سال پہلے ایک لڑکی سے کیا گیا جس میں اہل محلہ کی ایک کثیر تعداد شریک ہوئی۔
نکاح کے وقت لڑکے کی عمر تقریبا 26 سال جبکہ لڑکی کی عمرتقریباً18 سال تھی۔ نکاح کے بعد رخصتی نہ ہوسکی جس کی وجہ مالی پریشانی اور مختلف اداروں میں بِل کلیئر نہ ہونے کی وجہ سے مکان کی تعمیر میں تاخیر تھی۔
ابھی کچھ عرصہ قبل یعنی 27جون 2009ء کو لڑکی اپنے گھر سے نکل کر کسی اور شخص کے ساتھ چلی گئی اور وہاں جاکر انہوں نے نکاح کرلیا، اور نکاح کرتے وقت انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ چوں کہ پہلے نکاح کو تین سال گزرچکے ہیں لہٰذا اب وہ نکاح ختم ہوچکا ہے اور انہوں نے دوبارہ نکاح کردیا ہے۔ اس سلسلہ میں شریعت مطہرہ کیا حکم دیتی ہے؟
1۔لڑکی کا اس طرح ایک نکاح کے قائم ہونے کے باوجود دوسرا نکاح کرنا کیسا ہے؟ نیزپیدا ہونے والی اولاد کا کیا حکم ہوگا؟
2۔ایک نکاح کے بعد رخصتی نہ ہونے کے بعد کب تک وہ نکاح قائم رہ سکتا ہے جبکہ لڑکے کی طرف سے طلاق وغیرہ کا معاملہ نہ ہوا ہو؟ نیز کیا عدالت سے خلع کی صورت میں جبکہ لڑکا بیوی کو آزاد نہ کرے، یکطرفہ طور پرعدالت خلع کا اختیار رکھتی ہے یا نہیں؟
3۔اس طرح کا نکاح منعقد کرنا کہ پہلے نکاح ہوچکا ہو اور اس پر دوسرا نکاح کرنے والوں کے متعلق کیا حکم ہے جو اس کو صحیح تسلیم اور اس میں شرکت کریں؟
4۔اس صورت میں جبکہ رخصتی نہ ہوئی ہو، طلاق کی نوبت آنے پرمہر کی ادائیگی کا کیا طریقہ کار ہوگا؟
ازراہِ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں مفصل جواب جلد ازجلد تحریر فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے ،علم وعمل میں برکت اور دین کی خدمت کو قبول فرمائے،آمین۔
جزاک اللہ
سائل : عبداللہ سرحدی
غیر مقلد سے نکا ح کا حکم
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
غیر مقلدین حضرات کے عقائد ومسائل آپ حضرات سے پوشیدہ نہیں ہیں اور مسائل فقہ میں ان کا ائمہ حضرات سے اختلاف واضح ہے، نیز بہت سارے مسائل میں جمہور علماء کے اختلاف کی وجہ سے خدشہ ہے کہ کہیں وہ شریعت مطہرہ کی حدود کو پامال نہ کررہے ہوں۔ لہٰذا آپ حضرات سے عرض ہے کہ ان کے ساتھ تعلقات قائم کرنا، جیسے کہ نکاح وغیرہ کرنا ازروئے شریعت مطہرہ کیسا ہے؟ نیز اگر ایک حنفی المسلک لڑکی جو شریعت مطہرہ کے علوم سے واقفیت رکھتی ہو کا نکاح کسی غیر مقلد ایسے لڑکے کے ساتھ کرنا جو اپنے علوم میں مہارت رکھتا ہو کیسا ہے؟ کیا یہ مستقبل کی زندگی میں تعارض اور لڑائی کا سبب نہیں بنے گا؟ ازراہِ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں مفصل جواب تحریر فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔ ادعیہ صالحہ میں یاد رکھیں
السلام علیکم !
غیر مقلدین حضرات کے عقائد ومسائل آپ حضرات سے پوشیدہ نہیں ہیں اور مسائل فقہ میں ان کا ائمہ حضرات سے اختلاف واضح ہے، نیز بہت سارے مسائل میں جمہور علماء کے اختلاف کی وجہ سے خدشہ ہے کہ کہیں وہ شریعت مطہرہ کی حدود کو پامال نہ کررہے ہوں۔ لہٰذا آپ حضرات سے عرض ہے کہ ان کے ساتھ تعلقات قائم کرنا، جیسے کہ نکاح وغیرہ کرنا ازروئے شریعت مطہرہ کیسا ہے؟ نیز اگر ایک حنفی المسلک لڑکی جو شریعت مطہرہ کے علوم سے واقفیت رکھتی ہو کا نکاح کسی غیر مقلد ایسے لڑکے کے ساتھ کرنا جو اپنے علوم میں مہارت رکھتا ہو کیسا ہے؟ کیا یہ مستقبل کی زندگی میں تعارض اور لڑائی کا سبب نہیں بنے گا؟ ازراہِ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں مفصل جواب تحریر فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔ ادعیہ صالحہ میں یاد رکھیں
والسلام
سائل :حفیظ اللہ
اثنا عشری شیعہ سے نکاح کا حکم
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
جناب عالی سوال یہ ہے کہ کیا سنی العقیدہ لڑکی کا کسی شیعہ لڑکے سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟
اگر نہیں تو اس شادی،نکاح میں شرکت کرنے والوں کے بارے میں ہمارا دین اسلام کیا کہتا ہے؟
اور کیا ایسی لوگوں سے کوئی لین دین رکھنا یا تحائف کا تبادلہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
السلام علیکم !
جناب عالی سوال یہ ہے کہ کیا سنی العقیدہ لڑکی کا کسی شیعہ لڑکے سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟
اگر نہیں تو اس شادی،نکاح میں شرکت کرنے والوں کے بارے میں ہمارا دین اسلام کیا کہتا ہے؟
اور کیا ایسی لوگوں سے کوئی لین دین رکھنا یا تحائف کا تبادلہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جزاک اللہ
سائل :خاوربیگ
نکاحِ مسیار!
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
نکاح مسیار کیا ہوتا ہے ؟
السلام علیکم !
نکاح مسیار کیا ہوتا ہے ؟
جزاک اللہ
سائل : نعاس 75350
آداب مباشرت !
محترم مفتی صاحب!
السلام علیکم !
مجھ کو ازدواجی تعلقات کے بارے میں تفصیل معلوم کرنا تھی کہ صحیح طریقہ کیا ہے ؟
اور کبھی غلطی سے یا جان بوجھ کر پچھلے راستے سے تعلق قائم ہوجائے تو نکاح پر کیا اثر پڑے گا ؟
اس کا کفارہ کیا ہے؟
السلام علیکم !
مجھ کو ازدواجی تعلقات کے بارے میں تفصیل معلوم کرنا تھی کہ صحیح طریقہ کیا ہے ؟
اور کبھی غلطی سے یا جان بوجھ کر پچھلے راستے سے تعلق قائم ہوجائے تو نکاح پر کیا اثر پڑے گا ؟
اس کا کفارہ کیا ہے؟
جزاک اللہ
سائل : شفیعS.Q.
سنت کی توہین کے مرتکب کے نکاح کا حکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
محترم جناب مفتی صاحب !
فتاوی عالمگیری میں لکھا ہے کہ "اگر کوئی شخص کسی ادنی سنت کی توہین کرتا ہے تو اس کے اس عمل سے اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا اور تمام اعمال صالحہ ضائع ہوجائیں گے،غرض حج ،عمرہ، نماز وغیرہ سب کچھ ضائع ہوجائے گا" اب اگر کوئی شخص اپنے عمر کے کسی حصے میں جب کہ اس کی داڑھی میں سفید بال آچکے ہوں اور دوسری شادی کے بعد اپنی داڑھی منڈوادے اور اس پر شرمندگی کے بجائے اس فعل کو اچھا جانے تو کیا درج بالا فتوی کی رو سے اس کا نکاح باطل ہوگا؟ کیا از سرنو نکاح کرنا پڑے گا؟ نیز اس کی صورت کیا ہوگی۔ نیز اس کا یہ اعتراض کہ سنت کی توہین پر نکاح ٹوٹ جاتا ہے تو پھر داڑھی کو منڈوانے والے اتنے سارے لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہوگا، کا کیا جواب ہے؟
ازراہ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں مفصل جواب دے کر مشکور فرمائیں۔
جزاک اللہ احسن الجزاء
محترم جناب مفتی صاحب !
فتاوی عالمگیری میں لکھا ہے کہ "اگر کوئی شخص کسی ادنی سنت کی توہین کرتا ہے تو اس کے اس عمل سے اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا اور تمام اعمال صالحہ ضائع ہوجائیں گے،غرض حج ،عمرہ، نماز وغیرہ سب کچھ ضائع ہوجائے گا" اب اگر کوئی شخص اپنے عمر کے کسی حصے میں جب کہ اس کی داڑھی میں سفید بال آچکے ہوں اور دوسری شادی کے بعد اپنی داڑھی منڈوادے اور اس پر شرمندگی کے بجائے اس فعل کو اچھا جانے تو کیا درج بالا فتوی کی رو سے اس کا نکاح باطل ہوگا؟ کیا از سرنو نکاح کرنا پڑے گا؟ نیز اس کی صورت کیا ہوگی۔ نیز اس کا یہ اعتراض کہ سنت کی توہین پر نکاح ٹوٹ جاتا ہے تو پھر داڑھی کو منڈوانے والے اتنے سارے لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہوگا، کا کیا جواب ہے؟
ازراہ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں مفصل جواب دے کر مشکور فرمائیں۔
جزاک اللہ احسن الجزاء
واالسلام
المستفتی
حفیظ اللہ خان کراچی



