زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰۱۰ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

عقیدے کے مسائل

منکر حیات النبی اہل سنت والجماعت سے خارج ہے

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
ہمارے پاکستان میں ایک گروہ پایا جاتا ہے جو اپنے آپ کو مماتی دیوبندی کہتے ہیں ۔۔ اور اپنا تعلق ایک جماعت اشاعت توحید و السنہ سے جوڑتے ہیں ۔۔ لیکن وہ حیات النبی کے عقیدے کے منکر ہیں ، وہ لوگ اعادہ روح کو بھی نہیں مانتے ۔۔۔ اور سماع موتہ کو بھی نہیں مانتے بلکہ سماع کا عقیدہ رکھنے والوں کو مشرک کہتے ہیں ۔۔۔ اور سماع موتہ کے عقیدہ کو شرک کی جڑ کہتے ہیں ۔۔۔ یہ لوگ وسیلہ کے بھی منکر ہیں ۔۔ اور بات کرتے وقت ایسا محسوس ہو رتا ہے کہ کسی دیوبندی کی بجاے کسی متشدد غیر مقلد سے بات کی جا رہی ہے ۔۔۔ میرے پاس ایک دوست کے زریعے انکے ایک عالم مولانا یونس نعمانی کی ریکارڈنگ پہنچی ہے جس میں وہ مولانا سرفراز خاں صفدر صاحب رحمت اللہ علیہ اور مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمت اللہ کا نام لے کر انکو کافر مشرک وغیرہ پتا نہیں کیا کیا کہتے ہیں اور بیان کرتے ہوے کہتے ہیں کہ " اب بتاو اس مولوی کی بات مانو گے یا قرآن کی " یعنی مولانا یوسف لدھیناوی رحمت اللہ اور مولانا سرفراز خاں صفدر صاحب رحمت اللہ کی باتیں قرآن کے خلاف ہیں ۔۔۔ جبکہ سب جانتے ہیں کہ مولانا یوسف رحمت اللہ اور مولونا سرفراز خاں صفدر رحمت اللہ کا عقیدہ وہ ہی ہے جو المہند میں ہے۔۔۔ میں نے انکے ایک اور عالم مولانا عبد القدوس صاحب کی ویڈیو دیکھی ہے جس میں وہ پاکستان کے بڑے عالم اور مناظر مولانا امین صفدر اوکاڑوی رحمت اللہ علیہ جنکے کتاب تجلیات صفدر کو بڑے بڑے علما فائدہ اٹھاتے ہیں غیر مقلدوں کا رد کرنے میں انکو بڑے توہین آمیز انداز میں ماسٹر اوکاڑوی کہا ( حضرت کو غیر مقلد بھی اسی طرح بلاتے ہیں پاکستان میں )۔۔۔ یہ لوگ علما کی کتابوں میں اکثر دھوکے کرتے ہیں اور کسی نہ کسی طریقہ سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمام علما دیوبند سماع موتہ کو نہیں مانتے تھے ۔۔۔ یہ لوگ مولانا سرفراز خاں صفدر صاحب ( جنکا نام آپ کے دارلافتا سے شایع ہونے والے فتاوٰی میں ہوتا ہے کہ مزید تفصیل کے لیے انکی فلاں کتاب کی طرف رجوع فرمائیں ) پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی کتاب سماع موتا کی طبع اول صفحہ 382 میں امی عایشہ کی شان میں گستاخی کی ہے اور وہ گستاخ رسول ہے ۔۔۔۔ میرا سوال انکے بارے میں یہ ہے کہ کیا ان لوگوں کو دیوبندی کہنا جائز ہے موجودہ دور میں دارالعلوم دیوبند کا حیات النبی کے بارے میں کیا عقیدہ ہے منکر حیات النبی اور ایسا عقیدہ رکھنے والوں کو مشرک کہنے والوں کے بارے میں دارلعلوم کے مفتیان کرام کی کیا راے ہے جو شخص یہ کہتا ہو کہ سماع موتہ کا عقیدہ شرک اور شرک کی جڑ ہے ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے کیا مولانا سرفراز خاں صفدر صاحب نے اپنی کتاب میں امی عایشہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کی ہے گستاخ علما دیوبند کے بارے میں دارلعلوم کیا کہتا ہے مولانا یوسف لدھیانوی اور مولانا سرفراز خاں صفدر اور مولانا امین صفدر اوکاڑوی وغیرہ کے بارے میں دارلعلوم کی رائے کیا ہے یہ لوگ بڑے زور شور سے اپنے آپ کو دیوبندی کہتے ہیں اور کم علم لوگوں کو گمراہ کہتے ہیں ۔۔۔ میں نے اکثر ایسے لوگ دیکھے ہیں جو اسی عقیدہ کے مماتی تھے اور بعد میں غیر مقلد بن گئے امید کرتا ہوں مجھے تفصلا” جواب سے نوازیں گے ۔

والسلام

سائل :ملنگ

جواب پڑھیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے رسیوں کی سانپ بننے کی حقیقت اور حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ !

  محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
گزا رش یہ ہے کہ پچھلے دنوں انٹر نیٹ کی مشہور ویب سائٹ یو ٹیوب(YOUTUBE.COM) پرجناب جاوید احمد غامدی صاحب کے بارے میں معلومات حاصل کررہا تھا ،اس لیے کہ آج کل وہ ٹی وی پر بہت زیادہ نظر آتے ہیں اور عقلی و نقلی دلیلوں کے ذریعے سے دین کو سمجھا نے کی کوششو ں میں مصروف نظر آتے ہیں ،آپ حضرات سے ان کی کچھ باتوں کے حوالے سے راہنمائی درکار ہے ۔
۱.غامدی صاحب کے مطابق حضرت موسی ٰکا جوواقعہ قرآن میں ذکر ہے اس میں حضرت موسیٰکو مغالطہ ہوا تھا ان رسیوں کو دیکھ کر جو سانپ بن گئیں تھیں ،غامدی صاحب کے بقول وہ رسیاں حقیقت میں سانپ نہیں بنی تھیں بلکہ حضر ت موسیٰکو ایسا محسو س ہو اکہ وہ رسیاں سانپ کی شکل اختیار کرگئیں اور چل رہی تھیں درحقیقت وہ رسیا ں ہی تھیں اور سانپ نہیں بنی تھیں البتہ حضرت موسی ٰ کو ایسا لگا، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا واقعی حضرت موسی ٰ کو مغالطہ ہوا تھا جیسا کہ غامدی صاحب کہتے ہیں ؟
۲۔غامدی صاحب کے بقول علماء کی اکثریت ہاروت ماروت کے علم کو جادو ذکر کرتاہے ،معلوم یہ کرناہے کہ ہاروت ماروت کا علم جادو تھا ،یا کوئی علم جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطاکیا تھا ؟
۳.غامدی صاحب کے بقول جنوں کی جماعت نے آپ ﷺ کے ہاتھوں اسلام قبول نہیں کیا تھابلکہ اس جماعت نے صرف آپ ﷺ کی تحسین کی تھی ۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا غامدی صاحب کا یہ کہنا درست ہے؟
۴. انٹر نیٹ کی اسی ویب سائٹ پر ایک اورویڈیو دیکھنے کااتفاق ہوا ،جس ویڈیو کو قادیانیوں نے اپنےحق میں لگایا ہوا تھا ،جس کا عنوان تھا :معروف غیر احمدی عالم دین جنا ب جاوید احمد غامدی کا اعتراف کہ عیسی ٰ فوت ہو چکے ہیں اور ازروئے قرآن دوبارہ دنیا میں تشریف نہیں لا سکتے ۔
اس ویڈیو میں غامدی صاحب صاف الفا ظ میں کہہ رہے ہیں کہ حضرت عیسی ٰ فوت ہوچکے ہیں اوروہ واپس دنیا میں تشریف نہیں لائیں گے ۔اس ویڈیو کا لنک یہ ہے :
http://www.youtube.com/watch?v=bovdmD24u90
معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دنیا میں واپس تشریف لانا قرآن وسنت سے ثابت ہے یا نہیں؟
ازراہِ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں جاوید احمد غامدی صاحب کی ان باتوں کا تفصیلی جواب قرآن وسنت کی روشنی میں عنایت فرمائیں۔

جزاک اللہ

سائل : یوسف،کراچی
 

جواب پڑھیں۔

الہدیٰ انٹرنیشنل میں تعلیم حاصل کرنا

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !

مجھے اس با ت کا فتویٰ چاہئے کہ عورتوں کے لیے "الہدیٰ انٹر نیشنل "جانااور فرحت ہاشمی سے علم و عقائد سیکھنا کیا ناجائز ہے ؟ آپ کی بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ میرےاس سوال کا جواب دیدیں ۔

سائل : عمران احمد

جواب پڑھیں۔

حضرت عباس اور حضرت علی مرتضی کے بارے میں چند شبہات کا ازالہ (مطبوعہ)

محترم مفتی صاحب
! السلام علیکم ورحمةالله وبرکاتہ
قاضی ابوبکر ابن العربی ۴۶۸ھ تا ۵۴۳ھ اپنی کتاب ”العواصم من القواصم“ کے ایک باب میں رقم طرازہیں۔
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ایک کمر توڑ حادثہ تھا۔ اور عمر بھر کی مصیبت۔ کیونکہ حضرت علی حضرت فاطمہ کے گھر میں چھپ کر بیٹھ گئے“،
”اور حضرت علی اور حضرت عباس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران اپنی الجھن میں پڑگئے۔ حضرت عباس نے حضرت علی سے کہا کہ موت کے وقت بنی عبد المطلب کے چہروں کی جو کیفیت ہوتی ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی دیکھ رہا ہوں۔ سو آؤ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں اور معاملہ ہمارے سپرد ہوتو ہمیں معلوم ہوجائے گا“۔
”پھراس کے بعد حضرت عباس اور حضرت علی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ میں اُلجھ گئے وہ فدک، بنی نضیر اورخیبر کے ترکہ میں میراث چاہتے تھے“۔
ائمہ حدیث کی روایت کے مطابق حضرت عباس رضی الله عنہ نے حضرت علی(رضی الله عنہ)کے متعلق کہا تھا کہ جب حضرت عباس رضی الله عنہ اور علی رضی الله عنہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوقاف کے بارے میں حضرت عمررضی الله عنہ کے پاس اپنا جھگڑا لے کر آئے تو حضرت عباس رضی الله عنہ نے حضرت عمر رضی الله عنہ سے کہا: ”اے امیر المومنین میرے اور اس………… کے درمیان فیصلہ کرادیں“۔
دیگر جگہ پر ہے کہ آپس میں گالی گلوچ کی……“۔(ابن حجر،فتح الباری)
”حضرت علی بن ابی طالب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری بیماری میں مبتلا تھے لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ اے ابوالحسن!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کیسی ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ اب آپ پہلے سے اچھی حالت میں ہیں۔ تو حضرت عباس نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:”خدا کی قسم تین روز کے بعد آپ پر لاٹھی کی حکومت ہوگی۔ مجھے معلوم ہورہاہے کہ اس بیماری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات عنقریب ہونے والی ہے۔ کیونکہ بنی عبد المطلب کے چہروں کی جو کیفیت موت کے وقت ہوتی ہے وہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معلوم ہورہی ہے۔ آؤ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اور آپ سے پوچھ لیں کہ آپ کے بعد خلیفہ کون ہوگا؟ آپ ہمیں خلافت دے جائیں توبھی ہمیں معلوم ہوجائے اور اگر آپ کسی اور کو خلافت دے دیں تو پھر ہمارے متعلق اس کو وصیت کرجائیں“توحضرت علی نے کہا ”خدا کی قسم اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کریں اور آپ ہم کو نہ دیں تو پھر لوگ ہم کو کبھی نہ دیں گے اور میں تو خدا کی قسم اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہرگز سوال نہ کروں گایہ حدیث صحیح بخاری کتاب المغازی اور” البدایہ والنہایہ“ میں ابن عباس سے مروی ہے اور امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیاہے۔
سوالات:
۱…حضرت علی(رضی الله عنہ)چھپ کر کیوں بیٹھ گئے تھے؟
۲…کیا ان دونوں کو مال و دولت کی اس قدر حرص تھی کہ بار بار ترکہ مانگتے تھے جبکہ ان کو حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے علم کرادیا تھا کہ اس مال کی حیثیت ترکے کی نہیں۔ تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔
۳…یہ جھگڑا ان دونوں کو نہ صرف مال ودولت کا حریص ثابت کرتاہے بلکہ اخلاقی پستی کی طرف بھی اشارہ ملتاہے کیونکہ گالی گلوچ شرفاء کا وطیرہ نہیں……………“۔
۴…”تین روز کے بعد آپ پر لاٹھی کی حکومت ہوگی“۔ اس عبارت کو واضح کریں۔
۵…حضرت عباس کو کیسی فکر پڑی ہے کہ خلافت ملے، نہ ملے تو وصیت ہی ہوجائے کہ ان کے مفادات محفوظ ہوجائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور وفات کا صدمہ اگر غالب ہوتا تو یہ خیالات اور یہ کاروائیاں کہاں ہوتیں؟
۶…خط کشیدہ الفاظ سے تو حضرت علی کاارادہ یہی ظاہر ہوتاہے کہ خواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انکار ہی کیوں نہ کردیں ،انہیں خلافت درکار ہے اور یہ بھی کہ انہیں احتمال یہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرمادیں گے اسی لئے کہتے ہیں کہ میں نہ سوال کروں گا(اور بعد میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس خلافت کو حاصل کرونگا) خط کشیدہ الفاظ اگر یہ مفہوم ظاہر نہیں کرتے تو پھر کیا ظاہر کرتے ہیں؟ امید ہے کہ جواب جلد ارسال فرمائیں گے .

فقط والسلام

محمد ظہور الاسلام

جواب پڑھیں۔

معیارحق۔ عصمت و حفاظت۔ تنقید صحاب

۱۔ معیار حق کی تعریف و تشریح کیجئے۔
۲۔کیا صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین معیار حق ہیں؟ اگر معیار حق ہیں تو ان کے درمیان جو اختلاف آتاہے اس وقت ایک رائے کو لینے اور دوسری رائے کو چھوڑنے سے کیامعیار حق پر اثر نہیں پڑے گا؟
۳۔کیا رضاء الہٰی کی وجہ سے گناہوں سے حفاظت ہوتی ہے جیسا کہ عصمت سے ہوتی ہے؟
۴۔کیا صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کرنا جائزہے؟ اگر ہے تو کسی نے کسی صحابی پر تنقید کی ہے؟
۵۔اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید جائز سمجھی جائے توکیا اس آیت کریمہ پر اثر نہیں پڑے گا؟
”واعلموا أن فیکم رسول اللّٰہ لو یطیعکم فی کثیر من الأمر لعنتم ولکن الله حبب الیکم الإیمان وزیّنہ فی قلوبکم وکرّہ الیکم الکفر والفسوق والعصیان“۔ آلایة (الحجرات :۷)
۶۔کیا ایسی بھی کوئی جگہ ہے کہ صحابہ کی رائے ہوتے ہوئے کسی نے اپنی رائے پر عمل کیا ہو اور صحابی کی رائے کو چھوڑ دیا ہو۔؟
جواب پڑھیں۔

تنقید اور حق تنقید ایک صالح عزیز کے نام

زیر نظر مقالہ اگرچہ باقاعدہ استفتاء کے جواب کے طور پر شائع نہیں ہوا لیکن اپنی نوعیت ،وقیع علمی اور اصولی مسئلہ ہے اس لئے فتاویٰ کے ساتھ شامل کیاجارہا ہے بلکہ بہت سارے مسائل کے اصولی حل کیلئے رہنمابھی ہے۔ مرتب
جواب پڑھیں۔

انبیاء کے کرداروں پر مشتمل فلم کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمأ کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
میں نے بازار سے چند سی ڈیز خریدیں جو بظاہر حضرات انبیأ کرام علیہم السلام کی معلومات پر بنی تھیں، لیکن جب میں نے انہیں دیکھا تو ان میں باقاعدہ اردو زبان میں ترجمے کے ساتھ مختلف افراد کو انبیأعلیہم السلام کی شکل میں دکھاکر ان کی زندگی کے مختلف واقعات قلم بند کئے گئے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام پر بنائی گئی فلم میں انہیں بازار میں فروخت ہوتے ہوئے‘ زلیخا کی جانب سے آپ سے جنسی تعلق قائم کرنے کی کوشش کرنے کے علاوہ حضرت یعقوب علیہ السلام سمیت ان کے تمام دس بیٹوں کو بھی دکھا یا گیا‘ فلم کے بعض مناظر میں حضرت یعقوب علیہ السلام کو (معاذ اللہ) اپنی حاملہ بیوی سے بوس وکنار کرتے‘ حضرت یعقوب علیہ السلام کی صاحبزادی کو شراب پیتے ہوئے بتایا گیا‘ بعد ازاں ان کے ساتھ زیادتی کا واقعہ بھی بنایاگیا۔
حضرت سارہ کو نیم برہنہ حالت‘ حضرت یعقوب علیہ السلام کے اپنی خادمہ ہاجرہ کے ساتھ تعلقات اور اس کے نتیجے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش بھی اسی فلم کا حصہ ہیں۔
پردہ کے پیچھے سے آنے والی انسانی آواز کو اللہ کی آواز قرار دے کر حضرت یعقوب علیہ السلام کو ختنہ کے احکامات دئیے گئے ہیں‘ جبکہ ایک بڑی سی چادر اوڑھے شخص کو اللہ کہہ کر (معاذ اللہ) اس کے ہمراہ دو انسانوں کو فرشتوں کے روپ میں بھی دکھایا گیا ہے جو حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی خوشخبری دیتے ہیں۔
فلم میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو قربان گاہ لے جانے اور مینڈھے کے آنے کے مناظر بھی موجود ہیں ”کلام مقدس“ کے نام سے بنائی گئی فلم میں زمین کی تخلیق کے مراحل‘ کلین شیو شخص کو مکمل برہنہ حالت میں حضرت آدم علیہ السلام اور مکمل برہنہ عورت کو حضرت حوا کے روپ میں پیش کرکے جنت سے پھل کھانے کے بعد دنیا میں بھیجے جانے کی تفصیلات موجود ہیں۔ اس تمام تفصیل کی روشنی میں سوال ہے کہ:
الف: اس قسم کی سی ڈیز کی کھلے عام فروخت‘ اس کے بنانے والوں کے بارے میں شرعی حکم اور سزا کیا ہے؟ نیز حکومت اس کی روک تھام کی کس حد تک ذمہ دار ہے‘ اور اگر حکومت ایسی سی ڈیز کی روک تھام نہیں کرتی تو ایک عام مسلمان کس حد میں رہتے ہوئے ان سی ڈیز کے پھیلاؤ کو روک سکتا ہے؟
ب: ان سی ڈیز کو کیبل نیٹ ورک پر چلانے والے کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ اور کیا ایسے کیبل نیٹ ورک کو مسلمان بزور قوت اس عمل سے باز رکھ سکتے ہیں؟

سائل : عارف محمود

گلشن ظہور ،جیکب لائن کراچی

جواب پڑھیں۔

کیا کنفیوشس نبی تھا؟

کیا فرماتے ہیں علمأ کرام ومفتیان عظام عقیدہٴ نبوت ورسالت سے متعلق کہ:
کیا کسی غیر پیغمبر کو اس کی اخلاقی تعلیم وتربیت کے اعتبار سے نبی یا رسول کہہ سکتے ہیں؟مثلاً چینی مذہب کی تاریخ میں ایک شخص ”ہو“گزرے ہیں جن کا اصل نام کنگ چیو (King Chio)تھا جو کنفیوشس کے نام سے مشہور تھا۔ جو اندازاً ۵۵ قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ محکمہ مال اور پولیس میں ملازم رہا‘ وزیر عدالت بھی رہا‘ شادی کی اور بیوی کو طلاق دی‘ شاعری اور موسیقی سے شد وشغف تھا‘ اپنے رسوم ورواج کا سخت پابند تھا‘ والدہ کی وفات پر ۲۷ برس تک مسلسل سوگ منایا‘ وغیرہ وغیرہ۔ کنفیوشس سے متعلق یہ تمام معلومات غیر مستند اور تاریخی ہیں۔اب معلوم یہ کرناہے کہ:
۱:۔ کیا فقط کوئی بھی شخص اچھے اخلاق کی بنا پر پیغمبر ہوسکتاہے؟
۲:۔ کیا شاعری اور موسیقی پیغمبر انہ صفات سے متصادم نہیں؟
۳: ۔کیا گو تم بدھ‘ زرتشت اور کنفیوشس کو نبی یا رسول کہا جاسکتا ہے؟
۴: ۔کیا حضرت محمد ا کی تعلیمات اور کنفیوشس کی تعلیمات کا موازنہ کرنا درست ہے؟
۵: ۔کیا اس قسم کے من گھڑت یا ظنیات پر مبنی عقیدے سے انسان توہینِ رسالت کا مرتکب نہیں ہوتا؟
۶: ۔ایسے شخص کی شریعت میں کیا سزا مقرر ہے جو کسی عام انسان کو نبی یا رسول ثابت کرنے کی کوشش کرکے مراعات حاصل کرے؟
آپ حضرات سے ہمدردانہ درخواست ہے کہ آیا اس عنوان ”کنفیوشس اور رسول اکرم ا کی سیرت اور تعلیمات وافکار کا تقابلی جائزہ“ پر تحقیق اور ثابت کرنا کہ واقعی کنفیوشس نبی تھا‘ کس حد تک درست ہے۔ کیونکہ بعض بزعم خویش و بشمول خود روشن خیال ودانشور صرف اور صرف چند ٹکوں کے لئے صحیح عقیدہٴ نبوت کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ قرآن وسنت اور قانونِ شرعیہ کی روشنی میں اس اہم مسئلہ میں میری راہنمائی فرمایئے۔

والسلام

سائلہ :سارینہ خان

ریسرچ طالبہ ‘لالہ زار کالونی پشاور یونیورسٹی کیمپس پشاور

جواب پڑھیں۔

اسلام میں شاتم رسول ﷺکی سزا

بعد تمام تعریفوں کے جو خدا جل شانہ کے لئے ہیں ،ائمہ کرام سے اس مسئلہ کے بارے میں فتوی حاصل کرنا ہے کہ ”جوشخص بلحاظ اسم مسلمان ہو اور خدا تعالیٰ اور اس کے برگزیدہ پیغمبروں اور نبی آخر الزمان فخر موجودات اور محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسی اُڑاتا ہو ان کے بارے میں استہزائیہ انداز اختیار کرتا ہو۔ جو ازواج مطہرات کی شان میں گستاخی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں نازیبا الفاظ کا استعمال کرتا ہو اورقرآن مجیدکے بارے میں یہ کہتا ہو کہ یہ کوئی تاریخ نہیں فقط ناول ہے ،اور اک دیوانے شخص کا خواب ہے، جسے کہانی کا رنگ دیا گیا ہے تو ایسے شخص یعنی سلمان رشدی ملعون کے لئے علماء کرام کا کیا فتویٰ ہے؟ عام مسلمانوں کے لئے، علماء کرام کے لئے، حکّام وقت اور حکومت وقت کے لئے، ازراہِ کرم بتائیے ایسے مسلمانوں کے لئے کیا حکم ہے جو ایسے گستاخ کو قتل کرنا چاہتے ہوں ،جبکہ وہ ایک غیر اسلامی ملک (برطانیہ یا امریکا) میں موجود ہو۔ کیا اس ملک کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات قائم رکھے جاسکتے ہیں جبکہ وہ ملک اس ملعون کتاب کی اشاعت کی پشت پناہی بھی کررہا ہو۔ اور ایسے ملعون شخص کو اپنے ہاں پناہ بھی دے رکھی ہو۔

سائل : سعید احمد (کراچی)

جواب پڑھیں۔

بشریت انبیاء علیہم السلام

جناب مکرمی مولانا صاحب!
السلام علیکم
بعدہ عرض ہے کہ آپ کا رسالہ” بینات“شاید پچھلے سال یعنی ۱۹۸۰ئئکا ہے اس کا مطالعہ کیا جس میں چند جگہ کچھ اس قسم کی باتیں دیکھنے میں آئیں کہ جن کی وضاحت ضروری ہے کیونکہ میں نے اوردیگر حضرات کی کتابوں کا مطالعہ بھی کیا ہے جس سے آپ کی بات اوران حضرات کی بات میں بڑا فرق ہے یا تو آپ ان کے خلاف ہیں ؟ یا ان کی تحریروں کو نظر انداز کررہے ہیں ۔
مثلا: نمبر۱،ص۳۵:
”آپ صلی الله علیہ وسلم اپنی ذات کے لحاظ سے نہ صرف نوع بشر میں داخل ہیں ،افضل البشر ہیں ،نوع انسان کے سردار ہیں۔ آدم کی نسل سے ہیں ،بشر اور انسان دونوں ہم معنی لفظ ہیں “۔
لیکن جب میں دوسرے حضرات کی تصنیف کو سامنے رکھتا ہوں تو زمین آسمان کافرق محسوس ہوتا ہے آخر اس کی کیا وجہ ،حالانکہ شاہ ولی الله صاحب محدث دہلوی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ:
”اصل عبارت“ امت نے اتفاق کیا ہے کہ وہ معرفتِ شریعت میں سلف پر اعتماد کریں گے ،چنانچہ تابعین نے صحابہ پر، تبع تابعین نے تابعین اور اسی طرح ہر طبقہ کے علماء نے اپنے سے پہلوں پر اعتماد کیا ہے۔(۱)
امید ہیکہ اگر دین کا سمجھ دار طبقہ یا کم از کم جو حضرات تبلیغ دین میں قدم رکھتے ہیں وہ تو اس طریقہ کو اختیار کریں تاکہ دین میں تواتر قائم رہے اب مندرجہ بالا مسئلہ میں آپ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم صرف بشر ہیں مگر افضل ہیں انسانوں کے سردار اور آدم  کی نسل میں سے ہیں یعنی حضورصلی الله علیہ وسلم کی حقیقت بشر ہے ۔
مگر حکیم الامت جناب مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نے اپنی تصنیف ”نشرالطیب فی ذکر النبی الحبیب “میں پہلا باب ہی نور محمدی صلی الله علیہ وسلم پر لکھا ہے جس میں حضورصلی الله علیہ وسلم کی پیدائش الله تعالیٰ کے نور سے اور حضورصلی الله علیہ وسلم کے نور سے ساری کائنات کی پیدائش کا اظہار کیا ہے اور اس ضمن میں چند احادیث بھی روایت کی ہیں جن میں یہ ذکر بھی ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم آدم علیہ السلام کے پیدا ہونے سے چودہ ہزار برس پہلے اپنے رب کے پاس نور تھے ۔اور یہ بھی ہے کہ میں اس وقت نبی تھا جبکہ آدم  ابھی پانی اور مٹی کے درمیان تھے ۔(۲)
اور جناب رشید احمد گنگوہی فرماتے ہیں ”امدادلسلوک ”میں :
”اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم سایہ نہ رکھتے تھے اور ظاہر ہے کہ نور کے سوا تمام اجسام سایہ رکھتے ہیں “۔(۳)
حضرت مجدد الف ثانی  نے (دفتر سوم مکتوب نمبر ۱۰۰میں)فرمایا جس سے چند باتوں کا اظہار ہوتا ہے :
۱: حضورصلی الله علیہ وسلم ایک نور ہیں کیونکہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : خلقت من نور الله،”میں الله کے نور سے پیدا ہواہوں ۔“
۲: آپ نور ہیں اور آپ کا سایہ نہ تھا۔
۳: آپ نور ہیں جس کو الله تعالیٰ نے حکمت و مصلحت کے پیش نظر بصورت انسان ظہور فرمایا ۔(۴)
مطلب یہ کہ مجدد صاحب بھی آپ کی حقیقت کو نور ہی مانتے ہیں لیکن قدرت خداوندی نے مصلحت کے تحت شکل انسانی میں ظہور کیا۔
رسالہ ”التوسل“جو مولوی مشتاق احمد صاحب دیوبندی کی تصنیف ہے اور مولوی محمودالحسن صاحب ، مفتی کفایت الله صاحب ،اور مفتی محمد شفیع صاحب علماء دیوبند کی تصدیقات سے موٴیّد ہے ،اس میں لکھا ہے کہ :
قد جاء کم من الله نور وکتاب مبین ،میں نور سے مرادد حضرت رسول اکرم ا ہیں اور کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔نور اور سراج منیر کا اطلاق حضور اکی ذات پر اسی وجہ سے ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نور مجسم اور روشن چراغ ہیں۔
نور اور چراغ ہمیشہ ذریعہ وسیلہ صراط مستقیم کے دیکھنے اور خوفناک طریق سے حالت حیات میں بھی وسیلہ ہے اور بعد وفات بھی وسیلہ ہیں بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے سے پہلے آپ کے جد امجد عبد المطلب کو قریش مصیبت کے وقت اسی نور کے سبب حل مشکلات کا وسیلہ بنایا کرتے تھے (التوسل ص۲۲)(۵)
تفسیر کبیرمیں ہے:
قد جا ء کم من الله نور وکتاب مبین ،ان المراد بالنور محمد -صلی الله علیہ وسلم - وبالکتب القران،(۶)
آپ سے عرض ہے کہ آپ بتائیں کہ یہ عقائد درست ہیں ؟
نوٹ: ان حضرات کے عقائد سے حضورصلی الله علیہ وسلم کی حقیقت نور ثابت ہے جو آدم  سے پہلے پیدا ہوئی ۔

فقط محمد عالمگیر

جواب پڑھیں۔
Syndicate content