میراث
صرف زبانی کہنے سے کوئی شخص مالک نہیں بنتا !
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اپنے بھائیوں کے ساتھ کاروبار میں شریک تھا ، بعد میں پارٹنر شپ ختم ہوئی تو زید کےک بھائیوں کے ذمہ کچھ پیسے نکلتے تھے ، زید نے کہا کہ میرے پیسے جو میرے بھائیوں کے ذمہ ہیں وہ میری بیوی لینے کی مجاز ہے یعنی وہ ان پیسوں کی مالک ہے ، لیکن پیسوں کی ادائگی سے قبل ہی زید کا انتقال ہو گیا ، اب سوال یہ ہے کہ وہ رقم اب زید کی بیوی پوری کی پوری لے گی یا وہ رقم تما م ورثا میں تقسیم ہوگی ۔جبکہ ورثا میں اس کے بھائی بھی ہیں جن کے ذمہ زید کی رقم ہے ۔
السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اپنے بھائیوں کے ساتھ کاروبار میں شریک تھا ، بعد میں پارٹنر شپ ختم ہوئی تو زید کےک بھائیوں کے ذمہ کچھ پیسے نکلتے تھے ، زید نے کہا کہ میرے پیسے جو میرے بھائیوں کے ذمہ ہیں وہ میری بیوی لینے کی مجاز ہے یعنی وہ ان پیسوں کی مالک ہے ، لیکن پیسوں کی ادائگی سے قبل ہی زید کا انتقال ہو گیا ، اب سوال یہ ہے کہ وہ رقم اب زید کی بیوی پوری کی پوری لے گی یا وہ رقم تما م ورثا میں تقسیم ہوگی ۔جبکہ ورثا میں اس کے بھائی بھی ہیں جن کے ذمہ زید کی رقم ہے ۔
جزاک اللہ
سائل : حذیفہ شاہ
بیوہ کے عقدِ ثانی کرلینے سے ترکہ کا حصہ ختم نہیں ہوتا !
محترم جناب مفتی صاحب
! السلام علیکم
! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں ضیاء محمد خان نامی ایک شخص فوت ہوگیا۔
اس نے پیچھے 2بیویاں چھوڑیں ۔ان دو بیویوں میں سے ایک نے بعد میں دوسری شادی کرلی۔لیکن اس عورت نے تین ماہ بعد اس سے طلاق لےلی۔ اب وہ اپنے سابق شوہر کے گھر اپنے بچوں کے ساتھ رہائش پزیر ہے۔ اب سوال یہ ہیکہ یہ عورت بعد از نکاح ثانی مندرجہ ذیل باتوں کا شرعی حق رکھتی ہے؟
1فوت شدہ پہلے خاوند کی آمدنی میں اس کا حق ہے؟
2۔فوت شدہ خاوندایک سرکاری ملازم تھا اس کے آئندہ آنے والے فندس میں اس عورت کا کوئی حق ہے؟
3۔اپنے خاوند کی جو پنشن حاصل کر رہی تھی اس پے اب کیا اس کا کوئی حق ہے؟
4۔ کیا فوت شدہ خاوند کے گھر پہ اسکا کوئی حق ہے جہاں وہ بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہے؟
! السلام علیکم
! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں ضیاء محمد خان نامی ایک شخص فوت ہوگیا۔
اس نے پیچھے 2بیویاں چھوڑیں ۔ان دو بیویوں میں سے ایک نے بعد میں دوسری شادی کرلی۔لیکن اس عورت نے تین ماہ بعد اس سے طلاق لےلی۔ اب وہ اپنے سابق شوہر کے گھر اپنے بچوں کے ساتھ رہائش پزیر ہے۔ اب سوال یہ ہیکہ یہ عورت بعد از نکاح ثانی مندرجہ ذیل باتوں کا شرعی حق رکھتی ہے؟
1فوت شدہ پہلے خاوند کی آمدنی میں اس کا حق ہے؟
2۔فوت شدہ خاوندایک سرکاری ملازم تھا اس کے آئندہ آنے والے فندس میں اس عورت کا کوئی حق ہے؟
3۔اپنے خاوند کی جو پنشن حاصل کر رہی تھی اس پے اب کیا اس کا کوئی حق ہے؟
4۔ کیا فوت شدہ خاوند کے گھر پہ اسکا کوئی حق ہے جہاں وہ بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہے؟
والسلام
ملک فدا محمد خان
یتیم پوتے کے لیے وراثت کا حکم !
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم!
کیا بچوں کے والد اگردادا کی موجودگی میں انتقال فرماجائیں توکیا بچوں کا وراثت میں حصہ ختم ہوجاتا ہے یادادا کو اجازت ہے کہ یتیم پوتوں کو حصہ دے یا نہ دے ۔
مہربانی فرماکر جواب عنایت فرمائیں۔
السلام علیکم!
کیا بچوں کے والد اگردادا کی موجودگی میں انتقال فرماجائیں توکیا بچوں کا وراثت میں حصہ ختم ہوجاتا ہے یادادا کو اجازت ہے کہ یتیم پوتوں کو حصہ دے یا نہ دے ۔
مہربانی فرماکر جواب عنایت فرمائیں۔
جزاک اللہ
سائل : نور حسن
شرعی ہبہ کے بعد میراث کا حکم !
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ میرے نانانے دو شادیا ں کیں ،پہلی بیوی سے ایک بیٹی پیدا ہوئی جب کہ دوسری بیوی سے پانچ اولاد پیدا ہوئیں ، میرے نانانے اپنی پہلی بیوی کوگھر کا ایک حصہ لے کر دیا اور کہا کہ یہ آپ کا ہو احق مہر میں ۔ اس کے بعد میری نانی نے اپنا حصہ اپنی بیٹی کو لکھ کر دیدیاتو کیا اس حصہ میں دوسری بیوی کی اولاد حق دار ہوسکتی ہے کہ نہیں؟ جب کہ میرے نانااورنانی وفات پاگئے ہیں،اس سوال کا جواب دے کر شفقت فرمائیں۔
السلام علیکم !
میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ میرے نانانے دو شادیا ں کیں ،پہلی بیوی سے ایک بیٹی پیدا ہوئی جب کہ دوسری بیوی سے پانچ اولاد پیدا ہوئیں ، میرے نانانے اپنی پہلی بیوی کوگھر کا ایک حصہ لے کر دیا اور کہا کہ یہ آپ کا ہو احق مہر میں ۔ اس کے بعد میری نانی نے اپنا حصہ اپنی بیٹی کو لکھ کر دیدیاتو کیا اس حصہ میں دوسری بیوی کی اولاد حق دار ہوسکتی ہے کہ نہیں؟ جب کہ میرے نانااورنانی وفات پاگئے ہیں،اس سوال کا جواب دے کر شفقت فرمائیں۔
جزاک اللہ
سائل : آصف جہانزیب
وارث کے لئے وصیت کرنے کا حکم
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان دین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں: ایک صاحب نے اپنی زندگی ہی میں اپنی وراثت تقسیم کردی تھی، انتقال ہونے کے 10 سال بعد وصیت کے مطابق جو کہ فی حصہ 3 لاکھ بن رہا تھا دگنا کرکے 6،6 لاکھ ادا کردئیے گئے۔ اس ادائیگی کے بعد مذکورہ حصہ وارثوں نے استعمال کرلیا ہے۔ اب تقریبا چار سال بعد ایک وارث نے یہ کہا ہے کہ یہ وراثت شرعی تقاضو کے مطابق تقسیم نہیں ہوئی۔ آپ حضرات کیا فرماتے ہیں کہ وراثت کو تقسیم کرنے کے بعد جبکہ تمام وارثوں نے متفقہ طور پر اسے منظور کرلیا تھا اور وراثت کے حصہ کو اپنے استعمال میں بھی لاچکے ہیں اب جاکر کسی کو اعتراض کا حق ہے یا نہیں؟ نیز مطالبہ کرنے والے کے مطالبہ کے مطابق کیا دوبارہ اس مسئلہ (وراثت کی تقسیم) پر غور کرنا پڑے گا یا جو تقسیم ہوچکی ہے وہی کافی ہے؟؟ ازراہِ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں مفصل جواب تحریر فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کی محنت کو قبول فرمائے اور علم وعمل میں برکت واخلاص عطا فرمائے۔
السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان دین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں: ایک صاحب نے اپنی زندگی ہی میں اپنی وراثت تقسیم کردی تھی، انتقال ہونے کے 10 سال بعد وصیت کے مطابق جو کہ فی حصہ 3 لاکھ بن رہا تھا دگنا کرکے 6،6 لاکھ ادا کردئیے گئے۔ اس ادائیگی کے بعد مذکورہ حصہ وارثوں نے استعمال کرلیا ہے۔ اب تقریبا چار سال بعد ایک وارث نے یہ کہا ہے کہ یہ وراثت شرعی تقاضو کے مطابق تقسیم نہیں ہوئی۔ آپ حضرات کیا فرماتے ہیں کہ وراثت کو تقسیم کرنے کے بعد جبکہ تمام وارثوں نے متفقہ طور پر اسے منظور کرلیا تھا اور وراثت کے حصہ کو اپنے استعمال میں بھی لاچکے ہیں اب جاکر کسی کو اعتراض کا حق ہے یا نہیں؟ نیز مطالبہ کرنے والے کے مطالبہ کے مطابق کیا دوبارہ اس مسئلہ (وراثت کی تقسیم) پر غور کرنا پڑے گا یا جو تقسیم ہوچکی ہے وہی کافی ہے؟؟ ازراہِ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں مفصل جواب تحریر فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کی محنت کو قبول فرمائے اور علم وعمل میں برکت واخلاص عطا فرمائے۔
شکریہ
سائل :عبد اللہ سرحدی
بغیر اجازت والد کے مال کو استعمال کرنا
اگر کوئی شخص اپنے والد کی حیات میں اسکے کاروبار میں سے بغیر اسکی اجازت کے پیسے لیتا ہو اور والد کو معلوم بھی نہ ہو اور پھر والد کا انتقال ہو جائے اور اس شخص کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئیے؟
جزاک اللہ
سائل :عبد اللہ
اولاد کا سوتیلی ماں کے ترکے میں حصہ
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ میرے نانا نے دو شادیاں کی پہلی بیوی سے ایک بیٹی پیدا ہوئی جب کہ دوسری بیوی سے پانچ بچے پیدا ہوئے میرے نانا نے اپنے پہلے بیوی کو گھر کا ایک حصہ لیکر دے دیا اور کہا کہ یہ آپ کا ہوا حق مہر میں۔ اس کے بعد میری نانی نے اپنا حصہ اپنی بیٹی کو لکھ کر دے دیا تو کیا اس حصہ میں دوسری بیوی کے اولاد حق دار ہو سکتے ہیں کہ نہیں جب کہ میرے نانا اور نانی وفات پاگئے ہیں اس سوال کا جواب دیکر شفقت فرمائیں جزاک اللہ؟۔
السلام علیکم !
میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ میرے نانا نے دو شادیاں کی پہلی بیوی سے ایک بیٹی پیدا ہوئی جب کہ دوسری بیوی سے پانچ بچے پیدا ہوئے میرے نانا نے اپنے پہلے بیوی کو گھر کا ایک حصہ لیکر دے دیا اور کہا کہ یہ آپ کا ہوا حق مہر میں۔ اس کے بعد میری نانی نے اپنا حصہ اپنی بیٹی کو لکھ کر دے دیا تو کیا اس حصہ میں دوسری بیوی کے اولاد حق دار ہو سکتے ہیں کہ نہیں جب کہ میرے نانا اور نانی وفات پاگئے ہیں اس سوال کا جواب دیکر شفقت فرمائیں جزاک اللہ؟۔
جزاک اللہ
سائل :آصف جہانزیب
وراثت کی غیر شرعی تقسیم کا ذمہ دار کون ؟
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
معلوم یہ کرنا ہے کہ میری والدہ کے دو بھائی ہیں جن میں سےایک میری والدہ سےبڑے ہیں اور دوسرے میری والدہ سے چھوٹے ہیں یعنی تین بھائی بہن ہیں ۔میرےنانانےاپنی وراثت میں دوپلاٹ میری نانی کے نام کردئیے تھےجنہیں میری نانی نے اپنے انتقال سے پہلے اپنے دوبیٹوں(یعنی میرے ماموں) کے نام کردیاتھا ۔
ان دوپلاٹوں میں سے ایک پلاٹ 400گز پر مشتمل ہے جبکہ دوسرا پلاٹ 80 گز پر مشتمل ہے، جن میں سے ایک پلاٹ (80گز والا)میرے ماموں نے فروخت کردیا تھا آج سے 7سال پہلے 8لاکھ روپے میں ، جس کی رقم انہوں نے دوسری جگہ پراپرٹی میں لگادی ۔
جبکہ دوسرا پلاٹ جو کہ 400گز پر مشتمل تھا اس پر میرے ماموں نے ڈبل اسٹوری گھر بنالیاجس میں ان کی فیملی رہائش پذیر ہے ،جس کی موجودہ قیمت 50لاکھ سے 65لاکھ روپے ہے۔
اب میرےدونوں ماموں چاہتے ہیں کہ میری والدہ کو وراثت میں سے حصہ دیا جائے ، جو کہ میری والدہ کا حق بنتا ہے۔لیکن میرے ماموں تقسیم کی مالیت آج سے 40/30 سال پرانی لگا رہے ہیں جس وقت یہ پلاٹ ان کے نام کیے گئے تھے جس حساب سے اس کی قیمت بہت کم بنتی ہے ۔
میری گزارش یہ ہے کہ ازراہِ کرم قرآن و سنت کی رشنی میں اس کا حل بتائیں کہ میری والدہ کا جو حصہ بنتا ہے وہ موجود ہ قیمت کے حساب سے لگایا جائے گا یا اس وقت کے حساب سے لگا یا جائے گا جس وقت یہ پلاٹ میری نانی نے میرے ماموؤں کے نام کیا تھا ؟
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے ،آمین۔
السلام علیکم !
معلوم یہ کرنا ہے کہ میری والدہ کے دو بھائی ہیں جن میں سےایک میری والدہ سےبڑے ہیں اور دوسرے میری والدہ سے چھوٹے ہیں یعنی تین بھائی بہن ہیں ۔میرےنانانےاپنی وراثت میں دوپلاٹ میری نانی کے نام کردئیے تھےجنہیں میری نانی نے اپنے انتقال سے پہلے اپنے دوبیٹوں(یعنی میرے ماموں) کے نام کردیاتھا ۔
ان دوپلاٹوں میں سے ایک پلاٹ 400گز پر مشتمل ہے جبکہ دوسرا پلاٹ 80 گز پر مشتمل ہے، جن میں سے ایک پلاٹ (80گز والا)میرے ماموں نے فروخت کردیا تھا آج سے 7سال پہلے 8لاکھ روپے میں ، جس کی رقم انہوں نے دوسری جگہ پراپرٹی میں لگادی ۔
جبکہ دوسرا پلاٹ جو کہ 400گز پر مشتمل تھا اس پر میرے ماموں نے ڈبل اسٹوری گھر بنالیاجس میں ان کی فیملی رہائش پذیر ہے ،جس کی موجودہ قیمت 50لاکھ سے 65لاکھ روپے ہے۔
اب میرےدونوں ماموں چاہتے ہیں کہ میری والدہ کو وراثت میں سے حصہ دیا جائے ، جو کہ میری والدہ کا حق بنتا ہے۔لیکن میرے ماموں تقسیم کی مالیت آج سے 40/30 سال پرانی لگا رہے ہیں جس وقت یہ پلاٹ ان کے نام کیے گئے تھے جس حساب سے اس کی قیمت بہت کم بنتی ہے ۔
میری گزارش یہ ہے کہ ازراہِ کرم قرآن و سنت کی رشنی میں اس کا حل بتائیں کہ میری والدہ کا جو حصہ بنتا ہے وہ موجود ہ قیمت کے حساب سے لگایا جائے گا یا اس وقت کے حساب سے لگا یا جائے گا جس وقت یہ پلاٹ میری نانی نے میرے ماموؤں کے نام کیا تھا ؟
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے ،آمین۔
جزاک اللہ
سائل :عبدالموئید خان
وراثت کے احکام !
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
میرے ابو اور پھوپھی کی خالہ خالو نے ان کی پرورش کی ہے کیونکہ ان کی کوئی اولاد نہیں ہے۔
ابو کی خالہ کا ایک مکان ہے جس میں وہ رہتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم لوگ جب مرجائیں گے تو یہ مکان میرے ابواورپھوپھی کا آدھا آدھا ہوجائے گا۔ میری پھوپھی ابھی انہی کے ساتھ رہتی ہیں۔ سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ انہوں نے کاغذات میں ابو اور پھوپھی کے نام کردیاہے ۔
لیکن اس ڈر سے کہ وہ بے اولاد ہیں اور کہیں ابو انہیں گھر سے نہ نکال دیں وہ کاغذات اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔
میں نے انہیں بہت سمجھا یا کہ ابو وارث نہیں ہیں اور آپ نے اگر دینا ہے تو کاغذات اور قبضہ دیدیں ورنہ سب گناہ گار ہوجائیں گے لیکن ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔
ابو اور فیملی ملک سے باہر رہتے ہیں اس لیے ہم لوگ اس مکان میں نہیں رہتے ،اگر وہ کاغذات دیدیں لیکن یہ شرط رکھیں کہ تم موت تک اس مکان سے نہیں نکال سکتے تو کیا حکم ہو گا؟
اور اگر کاغذات ان کے مرنے کے بعد ہمارے ہاتھ لگیں تو کیا حکم ہوگا ؟
اگر انہوں نے صرف وصیت نامہ لکھا ہو کہ یہ گھر ابو اور پھوپھی کو دیتی ہوں تو کیا حکم ہے ؟
خالہ خالو کے بہن بھائی زندہ ہیں برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں ۔
السلام علیکم !
میرے ابو اور پھوپھی کی خالہ خالو نے ان کی پرورش کی ہے کیونکہ ان کی کوئی اولاد نہیں ہے۔
ابو کی خالہ کا ایک مکان ہے جس میں وہ رہتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم لوگ جب مرجائیں گے تو یہ مکان میرے ابواورپھوپھی کا آدھا آدھا ہوجائے گا۔ میری پھوپھی ابھی انہی کے ساتھ رہتی ہیں۔ سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ انہوں نے کاغذات میں ابو اور پھوپھی کے نام کردیاہے ۔
لیکن اس ڈر سے کہ وہ بے اولاد ہیں اور کہیں ابو انہیں گھر سے نہ نکال دیں وہ کاغذات اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔
میں نے انہیں بہت سمجھا یا کہ ابو وارث نہیں ہیں اور آپ نے اگر دینا ہے تو کاغذات اور قبضہ دیدیں ورنہ سب گناہ گار ہوجائیں گے لیکن ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔
ابو اور فیملی ملک سے باہر رہتے ہیں اس لیے ہم لوگ اس مکان میں نہیں رہتے ،اگر وہ کاغذات دیدیں لیکن یہ شرط رکھیں کہ تم موت تک اس مکان سے نہیں نکال سکتے تو کیا حکم ہو گا؟
اور اگر کاغذات ان کے مرنے کے بعد ہمارے ہاتھ لگیں تو کیا حکم ہوگا ؟
اگر انہوں نے صرف وصیت نامہ لکھا ہو کہ یہ گھر ابو اور پھوپھی کو دیتی ہوں تو کیا حکم ہے ؟
خالہ خالو کے بہن بھائی زندہ ہیں برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں ۔
جزاک اللہ
سائل : محمد امین
چار لڑکے تین لڑکیاں اور ایک بیوہ میں میراث کی تقسیم کا حکم
مفتی صاحب !
میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اسلامی طریقے سے میرے والد کی میراث کیسے تقسیم ہو گی ؟
میرے والد نے اپنے انتقال کے بعد اپنے پیچھے ایک بیوہ چار لڑکے اور تین لڑکیاں چھوڑیں ہیں ۔
انہوں نے اپنی وفات سے چند ماہ قبل اپنی ڈائری میں چند چیزیں لکھی تھیں۔
1۔ میرے پاس کچھ رقم ہے جو کہ مذکورہ بالا افراد میں تقسیم کردی جائے ۔
2۔ میرے والد کے نام پر ایک گاڑی ہے ۔
3۔میرے والد کی ایک دکان ہے جو انہوں نے اپنی ڈائری میں صرف میری والدہ کے نام کی ہے صراحت کے ساتھ۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے والد کا یہ طریقہ کار درست ہے ؟
کیا میری والدہ کا میرے والد کی تمام پراپرٹی (جائیداد) میں حصہ موجود ہے ؟
میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اسلامی طریقے سے میرے والد کی میراث کیسے تقسیم ہو گی ؟
میرے والد نے اپنے انتقال کے بعد اپنے پیچھے ایک بیوہ چار لڑکے اور تین لڑکیاں چھوڑیں ہیں ۔
انہوں نے اپنی وفات سے چند ماہ قبل اپنی ڈائری میں چند چیزیں لکھی تھیں۔
1۔ میرے پاس کچھ رقم ہے جو کہ مذکورہ بالا افراد میں تقسیم کردی جائے ۔
2۔ میرے والد کے نام پر ایک گاڑی ہے ۔
3۔میرے والد کی ایک دکان ہے جو انہوں نے اپنی ڈائری میں صرف میری والدہ کے نام کی ہے صراحت کے ساتھ۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے والد کا یہ طریقہ کار درست ہے ؟
کیا میری والدہ کا میرے والد کی تمام پراپرٹی (جائیداد) میں حصہ موجود ہے ؟
جزاک اللہ
المستفتی : حسیب الغنی



