ایک نکاح کے ہوتے ہوئے دوسرے نکاح کا حکم !
ایک نکاح کے ہوتے ہوئے دوسرے نکاح کا حکم !
السلام علیکم!
اُمید ہے کہ مزاج گرامی بخیروعافیت ہوں گے۔ عرض ہے کہ اس سوال کو میں تیسری مرتبہ ارسال کررہا ہوں،تقریباً مہینے سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہوگا کہ جواب نہیں آیا، ازراہِ کرم جواب جلدعنایت فرمائیں چوں کہ مسئلہ کی نوعیت بہت نازک ہے اور معاملہ کا فیصلہ بھی جلد ہوجائے اس کے لیے آپ سے عرض ہے کہ جواب میں جلدی فرمالیں گے تو سہولت ہوجائے گی۔
ایک صاحب کا نکاح تقریباً پانچ سال پہلے ایک لڑکی سے کیا گیا جس میں اہل محلہ کی ایک کثیر تعداد شریک ہوئی۔
نکاح کے وقت لڑکے کی عمر تقریبا 26 سال جبکہ لڑکی کی عمرتقریباً18 سال تھی۔ نکاح کے بعد رخصتی نہ ہوسکی جس کی وجہ مالی پریشانی اور مختلف اداروں میں بِل کلیئر نہ ہونے کی وجہ سے مکان کی تعمیر میں تاخیر تھی۔
ابھی کچھ عرصہ قبل یعنی 27جون 2009ء کو لڑکی اپنے گھر سے نکل کر کسی اور شخص کے ساتھ چلی گئی اور وہاں جاکر انہوں نے نکاح کرلیا، اور نکاح کرتے وقت انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ چوں کہ پہلے نکاح کو تین سال گزرچکے ہیں لہٰذا اب وہ نکاح ختم ہوچکا ہے اور انہوں نے دوبارہ نکاح کردیا ہے۔ اس سلسلہ میں شریعت مطہرہ کیا حکم دیتی ہے؟
1۔لڑکی کا اس طرح ایک نکاح کے قائم ہونے کے باوجود دوسرا نکاح کرنا کیسا ہے؟ نیزپیدا ہونے والی اولاد کا کیا حکم ہوگا؟
2۔ایک نکاح کے بعد رخصتی نہ ہونے کے بعد کب تک وہ نکاح قائم رہ سکتا ہے جبکہ لڑکے کی طرف سے طلاق وغیرہ کا معاملہ نہ ہوا ہو؟ نیز کیا عدالت سے خلع کی صورت میں جبکہ لڑکا بیوی کو آزاد نہ کرے، یکطرفہ طور پرعدالت خلع کا اختیار رکھتی ہے یا نہیں؟
3۔اس طرح کا نکاح منعقد کرنا کہ پہلے نکاح ہوچکا ہو اور اس پر دوسرا نکاح کرنے والوں کے متعلق کیا حکم ہے جو اس کو صحیح تسلیم اور اس میں شرکت کریں؟
4۔اس صورت میں جبکہ رخصتی نہ ہوئی ہو، طلاق کی نوبت آنے پرمہر کی ادائیگی کا کیا طریقہ کار ہوگا؟
ازراہِ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں مفصل جواب جلد ازجلد تحریر فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے ،علم وعمل میں برکت اور دین کی خدمت کو قبول فرمائے،آمین۔
اُمید ہے کہ مزاج گرامی بخیروعافیت ہوں گے۔ عرض ہے کہ اس سوال کو میں تیسری مرتبہ ارسال کررہا ہوں،تقریباً مہینے سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہوگا کہ جواب نہیں آیا، ازراہِ کرم جواب جلدعنایت فرمائیں چوں کہ مسئلہ کی نوعیت بہت نازک ہے اور معاملہ کا فیصلہ بھی جلد ہوجائے اس کے لیے آپ سے عرض ہے کہ جواب میں جلدی فرمالیں گے تو سہولت ہوجائے گی۔
ایک صاحب کا نکاح تقریباً پانچ سال پہلے ایک لڑکی سے کیا گیا جس میں اہل محلہ کی ایک کثیر تعداد شریک ہوئی۔
نکاح کے وقت لڑکے کی عمر تقریبا 26 سال جبکہ لڑکی کی عمرتقریباً18 سال تھی۔ نکاح کے بعد رخصتی نہ ہوسکی جس کی وجہ مالی پریشانی اور مختلف اداروں میں بِل کلیئر نہ ہونے کی وجہ سے مکان کی تعمیر میں تاخیر تھی۔
ابھی کچھ عرصہ قبل یعنی 27جون 2009ء کو لڑکی اپنے گھر سے نکل کر کسی اور شخص کے ساتھ چلی گئی اور وہاں جاکر انہوں نے نکاح کرلیا، اور نکاح کرتے وقت انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ چوں کہ پہلے نکاح کو تین سال گزرچکے ہیں لہٰذا اب وہ نکاح ختم ہوچکا ہے اور انہوں نے دوبارہ نکاح کردیا ہے۔ اس سلسلہ میں شریعت مطہرہ کیا حکم دیتی ہے؟
1۔لڑکی کا اس طرح ایک نکاح کے قائم ہونے کے باوجود دوسرا نکاح کرنا کیسا ہے؟ نیزپیدا ہونے والی اولاد کا کیا حکم ہوگا؟
2۔ایک نکاح کے بعد رخصتی نہ ہونے کے بعد کب تک وہ نکاح قائم رہ سکتا ہے جبکہ لڑکے کی طرف سے طلاق وغیرہ کا معاملہ نہ ہوا ہو؟ نیز کیا عدالت سے خلع کی صورت میں جبکہ لڑکا بیوی کو آزاد نہ کرے، یکطرفہ طور پرعدالت خلع کا اختیار رکھتی ہے یا نہیں؟
3۔اس طرح کا نکاح منعقد کرنا کہ پہلے نکاح ہوچکا ہو اور اس پر دوسرا نکاح کرنے والوں کے متعلق کیا حکم ہے جو اس کو صحیح تسلیم اور اس میں شرکت کریں؟
4۔اس صورت میں جبکہ رخصتی نہ ہوئی ہو، طلاق کی نوبت آنے پرمہر کی ادائیگی کا کیا طریقہ کار ہوگا؟
ازراہِ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں مفصل جواب جلد ازجلد تحریر فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے ،علم وعمل میں برکت اور دین کی خدمت کو قبول فرمائے،آمین۔
جزاک اللہ
سائل : عبداللہ سرحدی



