حج وعمرہ ٹریول ایجنٹس کے ساتھ درپیش مسائل کا حکم
حج وعمرہ ٹریول ایجنٹس کے ساتھ درپیش مسائل کا حکم
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
گزارش آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں جس کا جواب شریعت مطہرہ کے مطابق درکارہے
ہم ٹریول ایجنٹس حضرات جو حج و عمرہ کا کام کرتے ہیں اکثر اوقات مسائل ہمیں درپیش ہوتے ہیں جن کا شرعی حل ہمارے سامنے نہیں ہوتا جو درجہ ذیل ہیں:
۱: سعودی حکومت اور ہر عمرہ پر جانے والے کے درمیان ایک عہد نامہ (ویزہ) ہو تا ہے جس کی شرائط میں یہ شامل ہو تا ہے کہ عمرہ ویزہ پر آنے والا نہ تو نوکری کرسکتا ہے اور نہ ہی حج کے لئے رک سکتا ہے۔عہد شکنی کی صورت میں کیا اس کا حج اللہ کے ہاں قابل قبول ہو گا۔
اگر نوکری کرے گا تو کیا وہ رزق حلال ہو گا؟ نوکری کرنے یا حج کے ارادے سے رکنے پر یہاں ٹریول ایجنٹس پر سعودی حکومت جرمانہ عائد کرتی ہے جو کہ ایک بھاری رقم ہے، اس جرمانے کا ذمے دار کسے ہو نا چاہئے؟
۲:۔ جو خواتین کسی غیر محرم کو محرم بناکر سفر عمرہ ادا کرتی ہیں کیا یہ شرعا جائز ہے؟ کیا ان کا یہ عمل اللہ کے ہاں قابل قبول ہے؟
السلام علیکم !
گزارش آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں جس کا جواب شریعت مطہرہ کے مطابق درکارہے
ہم ٹریول ایجنٹس حضرات جو حج و عمرہ کا کام کرتے ہیں اکثر اوقات مسائل ہمیں درپیش ہوتے ہیں جن کا شرعی حل ہمارے سامنے نہیں ہوتا جو درجہ ذیل ہیں:
۱: سعودی حکومت اور ہر عمرہ پر جانے والے کے درمیان ایک عہد نامہ (ویزہ) ہو تا ہے جس کی شرائط میں یہ شامل ہو تا ہے کہ عمرہ ویزہ پر آنے والا نہ تو نوکری کرسکتا ہے اور نہ ہی حج کے لئے رک سکتا ہے۔عہد شکنی کی صورت میں کیا اس کا حج اللہ کے ہاں قابل قبول ہو گا۔
اگر نوکری کرے گا تو کیا وہ رزق حلال ہو گا؟ نوکری کرنے یا حج کے ارادے سے رکنے پر یہاں ٹریول ایجنٹس پر سعودی حکومت جرمانہ عائد کرتی ہے جو کہ ایک بھاری رقم ہے، اس جرمانے کا ذمے دار کسے ہو نا چاہئے؟
۲:۔ جو خواتین کسی غیر محرم کو محرم بناکر سفر عمرہ ادا کرتی ہیں کیا یہ شرعا جائز ہے؟ کیا ان کا یہ عمل اللہ کے ہاں قابل قبول ہے؟
جزاک اللہ
سائل :City Travels



