زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰١۲ ماہنامہ بینات

بسم الله الرحمٰن الرحیم

اہلیہ کے زیورات کی زکوٰة

اہلیہ کے زیورات کی زکوٰة

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ !
میری شادی ۲۰۰۱ء میں ہوئی اور شادی کے موقع پر بنائے جانے والے زیورات میری اہلیہ کو بطور مہر کے دیے گئے۔
بندہ وقتا فوقتا اہلیہ سے سے تذکرہ کرتا رہا ہے کہ اس کی زکوۃ اور قربانی کرنا آپ کے ذمہ ہے، قربانی تو میں کرلیا کرتا تھا ، لیکن زکوۃ ادا نہیں کی میں نے اور نہ ہی اہلیہ نے کبھی اس طرف توجہ کی، اب کچھ عرصہ سے بندہ بہت زیادہ پریشان ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی زکوۃ میں خود سے ادا کروں۔ ۲۰۰۱ء سے اب تک اس کی زکوۃ ادا نہیں کی گئی۔
شریعت مطہرہ کی روشنی میں چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
1.اگر میری استطاعت نہ ہو تو کیا میں زکوۃ پھر بھی ادا کروں؟ یا میرے ذمہ نہیں ہے؟
2.اگر میری اہلیہ کہے کہ میں زیور آپ کی ملکیت میں دیتی ہوں اب اس کے مالک آپ ہیں اور میں چند روز سوچ کر اس کو لینے سے انکار کروں تو کیا یہ میری ملکیت میںرہیں گے یا اسی کی ملکیت میں ہیں اور اس کی زکوۃ کس کو دینی پڑے گی؟
3.زکوۃ کی ادائیگی کی صورت کیا ہوگی؟
۲۰۰۱ء سے اب تک کی زکوۃ کو کس طرح ادا کیا جائے گا؟
اُمید ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرمائیں گے۔

فجزاک اللہ احسن الجزاء

المستفتی :حفیظ اللہ

جواب پڑھیں۔
Syndicate content