قضاء نمازوں میں ترتیب کا مسئلہ
قضاء نمازوں میں ترتیب کا مسئلہ
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیان دین ومتین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں:
۱)کسی شخص کے ذمہ اگر بہت ساری نمازیں باقی ہوں اور وہ اس کو ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوتو کیا قضاء نمازوں میں شروع میں ثناء چھوڑ دینا، رکوع و سجود میں ایک مرتبہ تسبیح پڑھنا، اور تشہد کے بعد (درود شریف ودعا پڑھے بغیر)سلام پھیرلینا درست ہوگا یا نہیں؟
۲)اگر ایک دن میں صرف فجر کی ہی قضاء نمازیں دس ، پندرہ دن کی پڑھ لے اور باقی نمازیں جیسے ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نہ پڑھے تو کیا اس ترتیب کے ساتھ کہ جب فجر کی قضاء نمازیں مکمل ہوں گی اس کے بعد باقی ظہر، پھر عصرپھر مغرب اور پھر عشاء کی قضاء پڑھوں گا، درست ہوگا یا نہیں؟یا پہلے صرف عشاء کی قضاء نمازیں بمع وتر پڑھے اور اسی ترتیب سے بعد میں ظہر، پھر مغرب اور پھر فجر یعنی بے ترتیب پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟
۳)نیز اکابرین اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ بہتر طریقہ کون سا ہوگا جس پر قضاء نمازوں کی ادائیگی سہولت کے ساتھ ہوجائے اور وقت بھی کم سے کم لگے، کیوں کہ بعض حضرات زندگی کی بے ثباتی کی بناء پر جلد سے جلد اس ذمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں اور ایک نشست میں کئی قضاء نمازیں ادا کرنا چاہتے ہیں جس میں کافی وقت صرف ہوگا۔ ازراہِ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرماکر ممنون فرمائیں۔
السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیان دین ومتین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں:
۱)کسی شخص کے ذمہ اگر بہت ساری نمازیں باقی ہوں اور وہ اس کو ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوتو کیا قضاء نمازوں میں شروع میں ثناء چھوڑ دینا، رکوع و سجود میں ایک مرتبہ تسبیح پڑھنا، اور تشہد کے بعد (درود شریف ودعا پڑھے بغیر)سلام پھیرلینا درست ہوگا یا نہیں؟
۲)اگر ایک دن میں صرف فجر کی ہی قضاء نمازیں دس ، پندرہ دن کی پڑھ لے اور باقی نمازیں جیسے ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نہ پڑھے تو کیا اس ترتیب کے ساتھ کہ جب فجر کی قضاء نمازیں مکمل ہوں گی اس کے بعد باقی ظہر، پھر عصرپھر مغرب اور پھر عشاء کی قضاء پڑھوں گا، درست ہوگا یا نہیں؟یا پہلے صرف عشاء کی قضاء نمازیں بمع وتر پڑھے اور اسی ترتیب سے بعد میں ظہر، پھر مغرب اور پھر فجر یعنی بے ترتیب پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟
۳)نیز اکابرین اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ بہتر طریقہ کون سا ہوگا جس پر قضاء نمازوں کی ادائیگی سہولت کے ساتھ ہوجائے اور وقت بھی کم سے کم لگے، کیوں کہ بعض حضرات زندگی کی بے ثباتی کی بناء پر جلد سے جلد اس ذمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں اور ایک نشست میں کئی قضاء نمازیں ادا کرنا چاہتے ہیں جس میں کافی وقت صرف ہوگا۔ ازراہِ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرماکر ممنون فرمائیں۔
جزاک اللہ
سائل :عبداللہ سرحدی



