امامت اور مؤذنی پر اجرت لینے کا حکم !
امامت اور مؤذنی پر اجرت لینے کا حکم !
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
عرض یہ ہے کہ بینک کا نظام سودی ہونے کے باعث اس کا حرام ہونا روز روشن کی طرح عیاں ہے لیکن کچھ دنوں سے شیطانی وسوسہ یہ آیا ہوا ہے کہ نماز پڑھانے اور اذان دینے کی تنخواہ کو تو چاروں اماموں نے بالاتفاق حرام قرار دیا ہے اور اس ضمن میں احادیث نبوی بھی موجود ہے۔
کچھ حضرات سے رابطہ کیا تو جواب موصول ہوا کہ ان اماموں اور موذنوں کا بھی گھر بار ہے ان کو بھی اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنا ہے لیکن میرے نزدیک تو یہ کمزور سی تاویل ہے کیونکہ نماز تو ہر مسلمان پر فرض ہے سو اس میں بیوی بواں کا پیٹ پالنا کس طرح درست ہے اور اس کے علاوہ بینکار بھی تو یہی عذر پیش کرتے ہیں لیکن ان کا عذر آج تک قبول نہیں کیا گیا حتی اسلامی بینکاری میں بھی نہیں جس کے حلال ہونے پر بڑی بڑی شخصیات نے فتوی دیا ہے۔
اس کے علاوہ آج کل جو بے روزگاری ہے اس صورت میں بندہ کہاں جائے اس سیاق میں ایک بریلوی مفتی کا فتوی پڑھا جس میں لکھا تھا کہ اگرچہ حدیث کی رو بینکاری کا حرام ہونا ثابت ہے لیکن قاعدہ کہ تغیر وقت کے ساتھ فتوی تبدیل ہوجاتا ہے لہذا اس بےروزگاری کے دور میں بینک میں کام کرنا جائز ہےلیکن اس میں سودی اکاونٹ نہ کھلوایاجائےیہ تاویل کس حد تک درست ہے؟
نیز یہ بینک کی طرف سے دی جانے والی سہولیات استعمال کرنا کیسا ہے حالانکہ عام بینک کاکرنٹ اکاونٹ بھی سودی ہوتا ہے کہ اس میں موجود پیسہ بینک سودی کاموں میں استعمال کرتا ہے؟ برائے کرم ان الجھنوں کو دور فرماکر میری رہنمائی فرمائیں۔
السلام علیکم !
عرض یہ ہے کہ بینک کا نظام سودی ہونے کے باعث اس کا حرام ہونا روز روشن کی طرح عیاں ہے لیکن کچھ دنوں سے شیطانی وسوسہ یہ آیا ہوا ہے کہ نماز پڑھانے اور اذان دینے کی تنخواہ کو تو چاروں اماموں نے بالاتفاق حرام قرار دیا ہے اور اس ضمن میں احادیث نبوی بھی موجود ہے۔
کچھ حضرات سے رابطہ کیا تو جواب موصول ہوا کہ ان اماموں اور موذنوں کا بھی گھر بار ہے ان کو بھی اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنا ہے لیکن میرے نزدیک تو یہ کمزور سی تاویل ہے کیونکہ نماز تو ہر مسلمان پر فرض ہے سو اس میں بیوی بواں کا پیٹ پالنا کس طرح درست ہے اور اس کے علاوہ بینکار بھی تو یہی عذر پیش کرتے ہیں لیکن ان کا عذر آج تک قبول نہیں کیا گیا حتی اسلامی بینکاری میں بھی نہیں جس کے حلال ہونے پر بڑی بڑی شخصیات نے فتوی دیا ہے۔
اس کے علاوہ آج کل جو بے روزگاری ہے اس صورت میں بندہ کہاں جائے اس سیاق میں ایک بریلوی مفتی کا فتوی پڑھا جس میں لکھا تھا کہ اگرچہ حدیث کی رو بینکاری کا حرام ہونا ثابت ہے لیکن قاعدہ کہ تغیر وقت کے ساتھ فتوی تبدیل ہوجاتا ہے لہذا اس بےروزگاری کے دور میں بینک میں کام کرنا جائز ہےلیکن اس میں سودی اکاونٹ نہ کھلوایاجائےیہ تاویل کس حد تک درست ہے؟
نیز یہ بینک کی طرف سے دی جانے والی سہولیات استعمال کرنا کیسا ہے حالانکہ عام بینک کاکرنٹ اکاونٹ بھی سودی ہوتا ہے کہ اس میں موجود پیسہ بینک سودی کاموں میں استعمال کرتا ہے؟ برائے کرم ان الجھنوں کو دور فرماکر میری رہنمائی فرمائیں۔
جزاک اللہ
سائل : علی احمد



