زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰١۲ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

بشریت انبیاء علیہم السلام

بشریت انبیاء علیہم السلام

جناب مکرمی مولانا صاحب!
السلام علیکم
بعدہ عرض ہے کہ آپ کا رسالہ” بینات“شاید پچھلے سال یعنی ۱۹۸۰ئئکا ہے اس کا مطالعہ کیا جس میں چند جگہ کچھ اس قسم کی باتیں دیکھنے میں آئیں کہ جن کی وضاحت ضروری ہے کیونکہ میں نے اوردیگر حضرات کی کتابوں کا مطالعہ بھی کیا ہے جس سے آپ کی بات اوران حضرات کی بات میں بڑا فرق ہے یا تو آپ ان کے خلاف ہیں ؟ یا ان کی تحریروں کو نظر انداز کررہے ہیں ۔
مثلا: نمبر۱،ص۳۵:
”آپ صلی الله علیہ وسلم اپنی ذات کے لحاظ سے نہ صرف نوع بشر میں داخل ہیں ،افضل البشر ہیں ،نوع انسان کے سردار ہیں۔ آدم کی نسل سے ہیں ،بشر اور انسان دونوں ہم معنی لفظ ہیں “۔
لیکن جب میں دوسرے حضرات کی تصنیف کو سامنے رکھتا ہوں تو زمین آسمان کافرق محسوس ہوتا ہے آخر اس کی کیا وجہ ،حالانکہ شاہ ولی الله صاحب محدث دہلوی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ:
”اصل عبارت“ امت نے اتفاق کیا ہے کہ وہ معرفتِ شریعت میں سلف پر اعتماد کریں گے ،چنانچہ تابعین نے صحابہ پر، تبع تابعین نے تابعین اور اسی طرح ہر طبقہ کے علماء نے اپنے سے پہلوں پر اعتماد کیا ہے۔(۱)
امید ہیکہ اگر دین کا سمجھ دار طبقہ یا کم از کم جو حضرات تبلیغ دین میں قدم رکھتے ہیں وہ تو اس طریقہ کو اختیار کریں تاکہ دین میں تواتر قائم رہے اب مندرجہ بالا مسئلہ میں آپ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم صرف بشر ہیں مگر افضل ہیں انسانوں کے سردار اور آدم  کی نسل میں سے ہیں یعنی حضورصلی الله علیہ وسلم کی حقیقت بشر ہے ۔
مگر حکیم الامت جناب مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نے اپنی تصنیف ”نشرالطیب فی ذکر النبی الحبیب “میں پہلا باب ہی نور محمدی صلی الله علیہ وسلم پر لکھا ہے جس میں حضورصلی الله علیہ وسلم کی پیدائش الله تعالیٰ کے نور سے اور حضورصلی الله علیہ وسلم کے نور سے ساری کائنات کی پیدائش کا اظہار کیا ہے اور اس ضمن میں چند احادیث بھی روایت کی ہیں جن میں یہ ذکر بھی ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم آدم علیہ السلام کے پیدا ہونے سے چودہ ہزار برس پہلے اپنے رب کے پاس نور تھے ۔اور یہ بھی ہے کہ میں اس وقت نبی تھا جبکہ آدم  ابھی پانی اور مٹی کے درمیان تھے ۔(۲)
اور جناب رشید احمد گنگوہی فرماتے ہیں ”امدادلسلوک ”میں :
”اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم سایہ نہ رکھتے تھے اور ظاہر ہے کہ نور کے سوا تمام اجسام سایہ رکھتے ہیں “۔(۳)
حضرت مجدد الف ثانی  نے (دفتر سوم مکتوب نمبر ۱۰۰میں)فرمایا جس سے چند باتوں کا اظہار ہوتا ہے :
۱: حضورصلی الله علیہ وسلم ایک نور ہیں کیونکہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : خلقت من نور الله،”میں الله کے نور سے پیدا ہواہوں ۔“
۲: آپ نور ہیں اور آپ کا سایہ نہ تھا۔
۳: آپ نور ہیں جس کو الله تعالیٰ نے حکمت و مصلحت کے پیش نظر بصورت انسان ظہور فرمایا ۔(۴)
مطلب یہ کہ مجدد صاحب بھی آپ کی حقیقت کو نور ہی مانتے ہیں لیکن قدرت خداوندی نے مصلحت کے تحت شکل انسانی میں ظہور کیا۔
رسالہ ”التوسل“جو مولوی مشتاق احمد صاحب دیوبندی کی تصنیف ہے اور مولوی محمودالحسن صاحب ، مفتی کفایت الله صاحب ،اور مفتی محمد شفیع صاحب علماء دیوبند کی تصدیقات سے موٴیّد ہے ،اس میں لکھا ہے کہ :
قد جاء کم من الله نور وکتاب مبین ،میں نور سے مرادد حضرت رسول اکرم ا ہیں اور کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔نور اور سراج منیر کا اطلاق حضور اکی ذات پر اسی وجہ سے ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نور مجسم اور روشن چراغ ہیں۔
نور اور چراغ ہمیشہ ذریعہ وسیلہ صراط مستقیم کے دیکھنے اور خوفناک طریق سے حالت حیات میں بھی وسیلہ ہے اور بعد وفات بھی وسیلہ ہیں بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے سے پہلے آپ کے جد امجد عبد المطلب کو قریش مصیبت کے وقت اسی نور کے سبب حل مشکلات کا وسیلہ بنایا کرتے تھے (التوسل ص۲۲)(۵)
تفسیر کبیرمیں ہے:
قد جا ء کم من الله نور وکتاب مبین ،ان المراد بالنور محمد -صلی الله علیہ وسلم - وبالکتب القران،(۶)
آپ سے عرض ہے کہ آپ بتائیں کہ یہ عقائد درست ہیں ؟
نوٹ: ان حضرات کے عقائد سے حضورصلی الله علیہ وسلم کی حقیقت نور ثابت ہے جو آدم  سے پہلے پیدا ہوئی ۔

فقط محمد عالمگیر

جواب پڑھیں۔
Syndicate content