زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰١۲ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

اسلام میں شاتم رسول ﷺکی سزا

اسلام میں شاتم رسول ﷺکی سزا

محترم مفتی صاحب ! السلام و علیکم ! ائمہ کرام سے اس مسئلہ کے بارے میں فتویٰ حاصل کرنا ہے کہ ”جوشخص بلحاظ اسم مسلمان ہو اور خدا تعالیٰ اور اس کے برگزیدہ پیغمبروں اور نبی آخر الزماں فخر موجودات اور محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسی اُڑاتا ہو ان کے بارے میں استہزائیہ انداز اختیار کرتا ہو۔ جو ازواج مطہرات کی شان میں گستاخی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں نازیبا الفاظ کا استعمال کرتا ہو اورقرآن مجیدکے بارے میں یہ کہتا ہو کہ یہ کوئی تاریخ نہیں فقط ناول ہے ،اور اک دیوانے شخص کا خواب ہے، جسے کہانی کا رنگ دیا گیا ہے تو ایسے شخص یعنی سلمان رشدی ملعون کے لئے علماء کرام کا کیا فتویٰ ہے؟ عام مسلمانوں کے لئے، علماء کرام کے لئے، حکّام وقت اور حکومت وقت کے لئے، ازراہِ کرم بتائیے ایسے مسلمانوں کے لئے کیا حکم ہے جو ایسے گستاخ کو قتل کرنا چاہتے ہوں ،جبکہ وہ ایک غیر اسلامی ملک (برطانیہ یا امریکا) میں موجود ہو۔ کیا اس ملک کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات قائم رکھے جاسکتے ہیں جبکہ وہ ملک اس ملعون کتاب کی اشاعت کی پشت پناہی بھی کررہا ہو۔ اور ایسے ملعون شخص کو اپنے ہاں پناہ بھی دے رکھی ہو۔

جزاک اللہ

سائل : سعید احمد (کراچی)

جواب پڑھیں۔
Syndicate content