مہر معجل ومعجل اوراس کی تعیین سے متعلق حکم !
Abduttawwab پوچھتے ہیں:
سوال
محترم مفتی صاحب !السلام علیکم!
نکاح کے مہر کے سلسلے میں لڑکے اورلڑکی کے ولی کے درمیان یہ طےپاتاہےکہ مہرکی رقم ,00050 ہےاور لڑکے کی مرضی کہ اتنی رقم نقد دے یا اس قیمت کا کوئی تحفہ یعنی زیور وغیرہ۔
مزید یہ کہ نکاح اورلڑکی کی رخصتی میں ۳، ۴ ماہ کا وقفہ ہے رہنمائی فرمائیے کہ
۱۔ مہر اگر رخصتی کےفورا بعد ادا کیا جائے تو یہ معجل کہلائے گا یا مؤجل؟
۲۔ نکاح کے موقع پر ایجاب کےالفاظ میں مہر کی رقم بولنا کافی ہوگا یا اس شے کا نام لینا ضروری ہوگا جو مہر کےطور پر دی جارہی ہے؟
جزاک اللہ
سائل : عبدالتواب
جواب
1۔صورت مسئولہ میں رخصتی کے فوراً بعد مہرادا کیا جائے تو یہ معجل (نقد)مہر کہلائے گا۔2۔ بوقتِ نکاح مہر کے تعیین کی جائے اگر مہربصورت رقم دی جارہی ہے تو رقم کی مقدار اور نوعیت مثلاً دس ہزار پاکستانی روپے ،واضح کیاجائے اور اشیاء کی صورت میں چیز کو واضح کیا جائے۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی جامع ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



