زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰١۲ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

گاڑی کابیمہ کرانے کا حکم !

MUHAMMAD DANSIH پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
میرے دوست نے موٹرسائیکل خریدی تھی وہ انشورڈ بھی تھی اب وہ چوری ہوگئی ہے تو کیا میں کمپنی سے پیسے لے سکتا ہوں پورے 35000 اور کمپنی مجھے پیسے دے بھی رہی ہے لیکن میں سمجھ رہا ہوں کہ یہ لینا ناجائز ہے۔
برائے مہربانی آپ بتائیں میں کیا کروں ؟

جزاک اللہ

سائل : محمد دانش

جواب

صورت مسئولہ میں بیمہ (انشورنس) سوداورسٹےکا مجموعہ ہے۔ سوداورسٹہ دونوں اسلام میں ناجائزوحرام ہے لہٰذا کسی بھی چیزکا بیمہ کراناحرام ہے اب جبکہ سائل کےدوست نے موٹرسائیکل کا بیمہ کرایا ہے توگناہ کبیرہ کاارتکاب کیا ہے توبہ واستغفارکیا جائے البتہ موٹرسائیکل گم ہونےیاچوری ہونےکی صورت میں اپنی اصل جمع شدہ رقم لے سکتاہے اس سے زیادہ نہیں۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں