امام صاحب کے ساتھ تکبیرات کہنے کا حکم !
ziaulhaq پوچھتے ہیں:
سوال
محترم مفتی صاحب !السلام علیکم !
جناب میرا سوال یہ کہ کیا نمازباجماعت میں امام صاحب کے ساتھ تکبیر کہنا ضروری ہے یعنی جب امام رکوع میں اللہ اکبر کرجائیں تو کیا مقتدی بھی اللہ اکبر کہے اورسلام پڑھتے وقت بھی وہی امام کے ساتھ السلام علیکم ورحمة اللہ کہہ کر سلام پھیریں کیا یہ ضروری ہے ؟
اوراگر ضروری ہے تو تکبیرکب کہنا چاہئے امام کے ساتھ یا امام کے بعد ؟
جزاک اللہ
سائل : ضیاء الحق
جواب
باجماعت نمازپڑھتے ہوئے امام صاحب جب ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف منتقل ہوتے ہیں تووہ تکبیر کہتے جاتے ہیں شریعت کی اصطلاح میں ان کو تکبیراتِ انتقال کہتے ہیں یہ امام اور مقتدی دونوں کے لیے مسنون ہیں۔ مقتدی امام کے تکبیرشروع کرنے کے ساتھ اپنی تکبیر شروع کردیں اورامام کے ساتھ ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف منتقل ہوں اسی طریقہ پرامام صاحب کے ساتھ سلام کہنے کےساتھ اپناسلام شروع کردیں۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



