زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰١۲ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

کمپنی کے حصص کی شرعی حیثیت اوران پر زکوٰة کا حکم !

Munir Ahmed پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
گورنمنٹ کی ایک پالیسی کے مطابق سرکاری اورنجی کمپنی کو اس بات کی جانب راغب کیاگیا کہ وہ اپنے ملازمین میں شئیر تقسیم کریں۔شئیر کی تقسیم کے ساتھ چند پابندیاں لگائی گئیں۔
1۔شئیر ملنے کے بعد 5سال تک ملازمت کرنا لازمی ہے ( یہ اس لیے کیا گیا تاکہ لوگ کمپنی چھوڑ نہ دیں )۔
2۔5سال کے بعد استعفیٰ دینے کی صورت میں کمپنی شئیر کی جو قیمت اس وقت بازارمیں ہوگی وہی ملازمین کو اداکرکے شئیر اس سے خریدلے گی۔ 3۔ایک ٹرسٹ بھی قائم کیاگیا ہے،شئیرپرجومنافع ملےگااس کا نصف ملازم کو اور نصف ٹرسٹ کو جائے گا۔
4۔اگرکسی شخص کا انتقال 5سال سے قبل ہوجاتا ہے یا بیماری کی وجہ سے وہ ریٹائرمنٹ لے لیتا ہے یا مدت رٹائرمنٹ کی عمر پوری ہونے کی وجہ سے ریٹائر ہوجاتاہے، ان تمام صورتوں میں اس کو شئیر ملیں گے۔
5۔شئیر کی تقسیم ملازمت کی مدت کے مطابق کی گئی ہے، جیسے جس کی 20سال سروس ہے اس کو20 سال کے حساب سے اور 10سال والے کو 10سال کے حساب سے شئیر ملیں گے۔
1۔ان تمام حالات کے بعد پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ شئیر جائز ہیں۔
2۔ یہ شئیر نہ ملازم دورانِ ملازمت بیچ سکتا ہے اور نہ ان پر کوئی کاروبارکرسکتاہے۔ صرف منافع ملے گااور نوکری چھوڑنے کے بعد کمپنی وہ شئیر اس سے بازار کی قیمت پر خرید لے گی۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کیا صرف منافع پر ہوگی یا پورے شئیر پر؟
اوراگر پورے شئیر پر ہوگی توکیا زکوٰۃ ہر سال ادا کی جائے گی یا جب نوکری کے ختم ہونے پررقم ملے گی تب ادا کی جائے گی؟
اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ،جواب اگر مجھے میل پر بھی ارسال کردیں تونوازش ہوگی ۔

جزاک اللہ

سائل : منیر احمد

جواب

صورت مسئولہ میں سائل نے کمپنی کے حصص خریدنے کے لیے کمپنی کی طرف سے جو شرائط لکھے ہیں ان شرائط میں اول،سوم اور اسی طریقے سے آخری شرط کے دورانِ ملازمت نہ ہی وہ شئیرز فروخت کرسکتاہے اور نہ ہی اس سے کاروبار کرسکتاہے تو چونکہ یہ شرائط خلافٕ شرع ہیں اس لیے ان شرائط کے تحت حصص کی خرید وفرخت جائز نہیں ہے۔
2۔زکوٰة اصل اور منافع دونوں پر ہوگی اور یہ ہرسال اداء ہوگی ۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں