زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰١۲ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

ٹائی پہننے کا حکم !

farhanumer پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
ٹائی کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
میں نے سنا ہے کہ عیسائی  ٹائی اپنے عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی دی گئی تھی اس وجہ سے پہنتے ہیں؟

جزاک اللہ

سائل : فرحان عمر

جواب

واضح رہے کہ یہ بات ابھی تک متحقق نہیں ہوئی کہ عیسائی اپنے مذہبی شعار یا عقیدہ صلیب کی بناء پر ٹائی کا استعمال کرتے ہیں.
فتاویٰ محمودیہ میں ہے :
‘‘ ٹائی ایک وقت میں نصاریٰ کا شعار تھا اس وقت اس کا حکم بھی سخت تھا اب غیر نصاریٰ بھی بکثرت استعمال کرتے ہیں اب اس کے حکم میں تخفیف ہے اس کو شرک یا حرام نہیں کہا جاسکتا ، کراہت سے خالی اب بھی نہیں ہے’’۔(ج،19،ص،289،ط،فاروقیہ)
تاہم چونکہ ٹائی کا استعمال کرنا صلحاء،شرفاء کے لبا س کا حصہ نہیں بلکہ فساق و فجاریا ان سے مرعوب لوگوں کے لباس کا حصہ ہی سمجھا جاتا ہے اور جو لبا س فساق و فجار کا شعار ہویا اس میں فساق و فجار سے مشابہت نظر آتی ہو اس کو استعمال کرنا صحیح نہیں ہے ۔
احادیثِ مبارکہ میں کفار و فسا ق کی مشابہت سے صراحتاً منع کیا گیا ہے ۔ لہٰذا ٹائی کا استعمال کراہت سے خالی نہیں اس کو پہننے سے اجتناب ضروری ہے ۔
حدیث شریف میں ہے :
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا اس کا شمار اسی قوم میں ہوگا ۔
مرقاہ المفاتیح میں ہے :
ای من تشبہ نفسہ بالکفار مثلا فی للباس وغیرہ او بالفساق اولفجار۔(ج،4،ص،431،ط،مکتبہ اسلامیہ )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں