صرف زبانی کہنے سے کوئی شخص مالک نہیں بنتا !
huzaifashah پوچھتے ہیں:
سوال
محترم مفتی صاحب !السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اپنے بھائیوں کے ساتھ کاروبار میں شریک تھا ، بعد میں پارٹنر شپ ختم ہوئی تو زید کےک بھائیوں کے ذمہ کچھ پیسے نکلتے تھے ، زید نے کہا کہ میرے پیسے جو میرے بھائیوں کے ذمہ ہیں وہ میری بیوی لینے کی مجاز ہے یعنی وہ ان پیسوں کی مالک ہے ، لیکن پیسوں کی ادائگی سے قبل ہی زید کا انتقال ہو گیا ، اب سوال یہ ہے کہ وہ رقم اب زید کی بیوی پوری کی پوری لے گی یا وہ رقم تما م ورثا میں تقسیم ہوگی ۔جبکہ ورثا میں اس کے بھائی بھی ہیں جن کے ذمہ زید کی رقم ہے ۔
جزاک اللہ
سائل : حذیفہ شاہ
جواب
صورت مسئولہ میں محض زید کا یہ کہنا کہ اب اس رقم کی مالک میری بیوی ہے وہ لینے کی مجاز ہے تو زید کی بیوی مالک نہیں بنی ہے بلکہ مالک بدستور زید ہے اب فوت ہونے کے بعد مذکورہ رقم زید کے ترکہ میں شمار ہوگی اور تما م ورثاء میں بقدر حصہ تقسیم ہو گی ۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



