زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰١۲ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

مردوں کابلاعذرعورتوں کی طرف سے رمی کرنے کا حکم !

ِِAbdulHafeez Khandwalla پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
حج میں کچھ عورتوں نے تینوں دن رمی نہیں کی، ان کے مردوں نے ان کی طرف سے اداء کی، کیا ان عورتوں کی طرف سے ادا ہوگئی؟
 اگرنہیں تو دم واجب ہوگا ؟ اورکتنا واجب ہوگا ؟

جزاک اللہ

سائل : عبدالحفیظ خاندوالا،ممباسا کینیا

جواب

صورت مسئولہ میں اگرمذکورہ عورتیں بوقت رمی معذور نہیں تھیں کہ خودہی رمی کرسکتی تھیں۔اس کے باوجوددوسروں نے ان کی طرف سے رمی کی تو ایسی صورت میں ان کی رمی اداء نہیں ہوئی ،ان پر دم واجب ہے ۔
حدودحرم میں ہر ایک اپنی طرف سے ایک بکری بطور دم اداء کریں ،فتاویٰ عالمگیری میں ہے :
ولوترک الجمار کلھا  اٴو رمی واحدة اٴو جمرة العقبة یوم الفخر فعلیہ شاة ۔(ص:247۔ج1،ط،رشیدیہ )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں