زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰١۲ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

رشوت کے پیسوں سے خریدی گئی چیز کے لینے کا حکم !

muhammad umair khan پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
میرا ایک شیعہ دوست ہے میں نے اس سے ایک چیز لی تھی وہ بھی مجھ سے اکثر چیز لیتا رہتاتھا اس کے والد کوئی کاروبار کرتے ہیں اور شاید کبھی کبھی اس میں رشوت بھی لیتے اور دیتے ہیں تو مجھے وہ چیز استعمال کرنا جائز ہے کہ نہیں اور اس کو بیچ کر اس کی قیمت استعمال میں لانا یا اس رقم سے مسجد کے لیے کوئی چیز خریدنا جائز ہے کہ نہیں ؟

جزاک اللہ

سائل : محمد عمیر خان

جواب

جو چیز سائل کودی گئی ہے اگر وہی چیز رشوت میں لی گئی ہے یا رشوت کے پیسوں سے خریدی گئی ہے تو سائل کے لیے اس چیز کا لینا ناجائز ہے۔
اسی طرح مسجد میں دینا جائزنہیں ،اگر کبھی کبھی رشوت کا ارتکاب کرتا ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ جو چیز دی جارہی ہے وہ رشوت کی ہے یا رشوت سے حاصل شدہ آمدنی کی ہے تو لینا جائز ہے ،البتہ بہتر یہ ہے کہ نہ لے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی جامع ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں