زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰١۲ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

آڈٹ کمپنی میں ملازمت اختیار کرنے کا حکم !

Munir پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
مفتی صاحب ! میں حسابات کی جانچ پڑتال کی تربیت حاصل کررہاہوں۔ میری کمپنی (جس کی نگرانی میں ،میں تربیت حاصل کررہاہوں )کا اکثر معاملہ ان کمپنیوں سے ہوتا ہے جن کا تعلق معیشیت سے ہے اور ان میں بینک والے بھی شامل ہیں۔
ہمیں 6500کا مقرر وظیفہ ملتاہے ،قطع نظر اس سے کہ ہمیں کس کمپنی میں بھیجا جائے،اس میں کوئی شک نہیں کہ سب سے اچھی تربیت انہی کمپنیوں میں کام کرنے سے ملتی ہے۔(کیونکہ معیشیت سے متعلق کمپنیوں میں ہمیں زیادہ مواقع ملتے ہیں )لہٰذا سب سے زیادہ  فائدہ ہمیں بینک ہی میں ملتا ہے،توکیا ہمارے لیے حلال ہے کہ ہم بینک جیسے سودی اداروں کے ہاں تربیت حاصل کریں ؟
2۔ میری تقرری " سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک" میں ہوئی ہے اور ہماری حسابدانی کے پیشے میں شام تک ہمیں بیٹھنا پڑتا ہے ،اس دوران بینک والے ہمیں کھانا (عیشائیہ) فراہم کرتے ہیں تو کیا بینک کا فراہم شدہ کھانا ،کھانا حلال ہے ؟
3۔تربیت مکمل کرنے کے بعد ہمارے لیے اس کمپنی کے یہاں ملازمت کرنا حلال ہے یا نہیں ؟
حالانکہ ان کی زیادہ ترآمدنی اسی معیشیت سے متعلق کمپنیوں سے ( جن میں بینک بھی شامل ہیں) حاصل ہوتی ہے۔
معیشیت پر آپ کی عمیق نظر سے امید ہے کہ آپ ہمارے مسائل حل فرمادیں گے ۔

جزاک اللہ

سائل : منیرمحمد شفیع

جواب

1۔صورت مسئولہ میں محض حساب دانی (آڈٹ) کا کام سیکھنا جائز ہے،اس کے سیکھنے میں کوئی قباحت نہیں ،البتہ بینک اور دیگر سودی اداروں میں جاکر ان حساب کتاب کرنا گناہ کے کام میں تعاون کرنا ہے جوجائز نہیں ہے۔قرآن کریم میں اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے " نیکی اور بھلائی کے کام میں تعاون کرو،گناہ اور زیادتی کے کا م میں تعاون نہ کرو"۔
2۔کام کے دوران بینک کی طرف سے جو کھانا ،پینا وغیرہ دیا جاتاہے وہ بھی سود ی آمدنی سے دیا جاتاہے اس لیے اس کا لینا جائز نہیں۔
3۔وہ آڈٹ کمپنی جس میں سائل کام کررہے ہیں اگر اس کی آمدنی کا زیادہ ترحصہ بینک اور دیگر سودی اداروں سے حاصل شدہ ہے تو چونکہ یہ آمدنی حرام ہے اس لیے اس طرح کی آڈٹ  کمپنیوں میں ملازمت جائز نہیں۔اور اگر زیادہ آمدنی سودی کمپنیوں سے نہیں تو ملازمت کرنا جائز ہوگا۔البتہ بینک جاکر خود ان کاحساب دیکھنا جائز نہیں ہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی جامع ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں