زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰۱۰ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

قسم کاکفارہ !

Omair Ahmed پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
اگر کوئی شخص گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوجائے اور پھر اس پر نادم ہوکر قسم کھائے اور سچے دل سے توبہ کرلے پھر کچھ عرصے بعد دوبارہ وہی گناہ کر بیٹھے اور اللہ سے معافی کا طلبگار ہو تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟

جزاک اللہ

سائل : عمیر احمد

جواب

اگر گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے کسی بندے کا حق ضائع نہیں ہواہےاور اس گناہ سے وہ سچے دل سے توبہ کرلیتا ہے تواللہ تعالیٰ معاف کردیتے ہیں۔
آپ ﷺ کا ارشادہے کہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے گویا اس نے گناہ ہی نہ کیا ہو۔ چونکہ گناہ نہ کرنے کاحلف اٹھایا تھا اس کے بعد گناہ کا ارتکاب کرکے حلف کی خلاف ورزی کی ہے اب اس کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو صبح شام دووقت کا کھانا کھلائیں۔ اس کی استطاعت نہیں تو مسلسل تین دن روزے رکھیں۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی جامع ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں