بینک کا آڈٹ کرنے کاحکم!
Hassan Hanif پوچھتے ہیں:
سوال
محترم مفتی صاحب !السلام علیکم !
حضرت میں آڈٹ فرم ( حسابات کی جانچ پڑتال کرنے والی کمپنی)میں کام کرتاہوں۔ میراآپ سے یہ سوال ہے کہ آڈٹ فرم کے زیرتربیت رہنا کیسا ہے؟
اور کیا میں دوران تربیت مزید تجربہ حاصل کرنے کے لیے کسی بینک کاآڈٹ کرسکتاہوں؟ کیونکہ سب سے زیادہ تجربہ بینک کے آڈٹ میں ہوتاہے۔
برائے کرم سوال کاجواب عنایت فرمائیں۔
جزاک اللہ
سائل : حسن حنیف
جواب
صورت مسئولہ میں محض آڈٹ کا سیکھنا کوئی منع نہیں ہے، اس کی تعلیم وتربیت حاصل کرسکتے ہیں۔البتہ اس کا استعمال ناجائزامورمیں ممنوع ہے۔ بینک چونکہ سودی ادارے ہیں ان کی بنیادسود پرہے اس لیے بینک کا حساب کرناناجائز کام میں تعاون ہے اس لیے بینک کاحساب کرنا ناجائز ہے۔
امدادالفتاویٰ میں ہے : جن کی آمدنی بالکل حرام خالص ہے جیسے مے فروش یا سود خوروغیرہ ان کی نوکری کرنا ناجائز ہے اور جو تنخواہ اس میں سے ملتی ہو وہ حلال نہیں ہے ۔(امدادالفتاویٰ ۔ج:3،ص:377)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی جامع ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



