شرکیہ عقائد رکھنے والے امام کی اقتداء کا حکم !
hamza nadeem پوچھتے ہیں:
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس بارے میں کہ بریلوی کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے یا نہیں ؟براہِ کرم جلد جواب دیں۔
جزاک اللہ
سائل : حمزہ ندیم
جواب
صورت مسئولہ میں اگر کوئی بھی شخص شرکیہ عقائد رکھتا ہو،یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے کسی بھی صفت میں کسی کو شریک ٹھرائے جیسے کہ حضور اکرمﷺ کے حاضر و ناظر ہونے کا یا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے عالم الغیب ہونے کا عقیدہ وغیرہ تو ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں ہوگی اوراگر شرکیہ عقائد تو نہ رکھتا ہومگر بدعات میں مبتلاء ہو تو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے ۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی جامع ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



