ULOAN سروس اوراس کا حکم !
Samz پوچھتے ہیں:
سوال
محترم مفتی صاحبالسلام علیکم
! آپ کا یوفون کی لون سروس کے فتویٰ کے بعد کچھ لوگوں کو یہ اعتراض ہے کہ یہ تو سروس جارجز ہیں نہ کہ سود… مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ برائے مہربانی یہ وضاحت کے ساتھ تو بتادیں کہ یہ کس طرح سود ہے؟
برائے مہربانی مفاد عامہ کے متعلق مدلل جواب دیں کیوں کہ یہ مسئلہ دلچسپ ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا ” وکیپیڈیا“ کی ویب سائٹ میں بھی اسلامک بینکنگ کے موضوع کے تحت لکھا ہے کہ اسلامک مار کیج کے عقد میں بجائے یہ کہ بینک مشتری کو قرض دے کہ کوئی چیز خرید لے بینک بذات خود وہ چیز خرید لیتا ہے اور مشتری کو کچھ منافع کے ساتھ قسط وار فروخت کر لیتا ہے مذکورہ ویب سائٹ میں دیگر بہت سی صورتیں بھی موجود ہیں۔
اب فرض کریں کہ ٹیلی نار نے ۱۵/ روپے کا ” ائر ٹائم“ آپ کے لئے خریدا اور آپ اس کو اپنے ہاتھوں ساٹھ پیسوں کے عوض فروخت کر لیتا ہے ( بغیر وقت کی تعین کیے) تو یہ کس طرح سود ہے؟
جو اس کو سود قرار دیتے ہیں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ دلیل پیش کریں اور یہ بھی واضح کریں کہ نفع سے کوئی چیز فروخت کر نا اگر سود ہے تو اسلامک بینکنگ سود کیوں نہیں ہے۔
جزاک اللہ
سائل : Samz
جواب
کمپنی خود صارف کو ائیر ٹائم فروخت کرے یا کسی سے خرید کر صارف کو فروخت کرے بہر دو صورت صارف کمپنی کا پندرہ روپے کا مدیون ( مقروض ،صارف کے ذمے واجب الادا) ہو جاتا ہے جبکہ مقروض سے قرضے کی مقدار سے زائد وصولی سود کہلاتی ہے۔ اس لیے کمپنی جو زائد ساٹھ پیسے کاٹتی ہے وہ سود ہے البتہ اگر کمپنی پندرہ روپے لون دے کر اوپر ساٹھ پیسے وصول نہ کرے بلکہ شروع ہی سے پندرہ روپے ساٹھ پیسے کا پیکج رکھے صارف کو پندرہ روپے کے بقدر خدمت وسہولت فراہم کرے اور پندرہ روپے ساٹھ پیسے اس کے عوض وصول کرے تو جائز ہو گا۔ جیسا کہ پندرہ روپے کی چیز خرید کر پندرہ روپے ساٹھ پیسے پر فرخت کرنا جائزہے مگر پندرہ روپے کی فروخت کرکے پندرہ روپے خریدار کے ذمہ لازم ہونے کے بعد پندرہ روپے کے بجائے پندرہ روپے ساٹھ پیسے وصول کرنا جائز نہیں ہوگا۔اس تفصیل سے دونوں صورتوں کا فرق بھی واضح ہو گیا۔ پہلی صورت میں واجب الاداء رقم سے زائد کی وصولی ہے جبکہ دوسری صورت میں حسب معاہدہ واعلان اجرت کی وصولی ہے۔
جواز کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کمپنی ساٹھ پیسے *456#پر میسج بھیجنے کی اجرت وصول کرلے اور اتنی اجرت وصول کرے جتنی عام طور پر ایک میسج کی وصول کرتی ہے ۔پندرہ روپے قرض دینے کی بناء پر زیادہ وصول نہ کرے ۔نیز صارف کے سامنے وضاحت بھی کردے کہ ساٹھ پیسے لون (خدمات) منگوانے کے لئے بھیجے گئے مسیج کے بدلے میں کاٹے گئے ہیں۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی جامع ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



