زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰١۲ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

تجارتی بلیوں پر زکوٰة !

Nabeeluddin پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
بعد ازسلام عرض یہ ہے کہ میرے پاس 4 فارسی النسل بلیاں ہیں جو کہ میں نے پہلے تو صرف پالتو جانور کے طور پر رکھی تھیں مگر اب نیت یہ ہے کہ ان سےکاروبارکروں گایعنی جوبلی کے بچے پیداہوں گے انہیں فروخت کردوں گا،اب پوچھنا یہ ہےکہ کیا ان بلیوں پرزکوٰةۃ واجب ہے ؟
میری ایک بلی 4 سال سے میرے پاس ہے 2 بلیوں کو ڈیڑھ سال ہوگیا ہے اور ایک بلی کو چار مہینے پہلے خریدا ہے ان سب کی مالیت اندازاً 50،000 روپے بنتی ہے۔

جزاک اللہ

سائل : نبیل الدین

جواب

صورت مسئولہ میں جو بلیاں پہلے سے پالتو جانورکے طورپر رکھی ہوئی ہیں ان میں تجارت کی نیت کرلینے سے قیمت پرزکوٰةۃ نہیں آئے گی ، ہاں فروخت کرنے کے بعد جو رقم ہاتھ آئے تو حساب کرتے وقت وہ شمارہوگی اگرچہ اس پر سال نہ گزراہو باقی جو بلی تجارت کی نیت سے لی ہے اس کی قیمت پر زکوٰةۃ ہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی جامع ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں