دورانِ نمازپائینچوں کو موڑنا !
atif پوچھتے ہیں:
سوال
محترم مفتی صاحب !السلام علیکم !
نماز میں ناف سے کپڑے فولڈ (موڑنے) کرنا یا پائینچے اوپر کرنا کیسا ہے ؟
کسی مستند کتاب سے حوالہ دیں۔
جزاک اللہ
سائل : عاطف
جواب
شلوار کے پائینچے یا ازار وغیرہ کا وہ حصہ جوٹخنوں سے نیچے رہتا ہے ،شرعاً منع ہے،احادیثِ رسول میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں آنحضرت ﷺکا ارشاد مبارکہ ہے کہ ازار کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے رہے گا ،جہنم میں جائے گا۔ چونکہ یہ تکبر کی علامت ہے اور تکبر اللہ تعالیٰ کو کسی بھی حالت میں پسندیدہ نہیں،خصوصاً نماز کی حالت میں جہاں انسان اپنی ناک کو سجدہ کی حالت میں رگڑ کر عاجزی ظاہر کرتاہےتواسی حالت میں ٹخنوں سے پائینچے یا ازار نیچے رہنے دینا اور سخت گناہ ہے اس لیے اگر ایک آدمی عام حالت میں شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھ کرگناہ کا ارتکاب کررہاہے اور نمازکی حالت میں پائینچے ناف کی طرف سے موڑکر اوپر کرلیتا ہے یا نیچے سے پائینچے موڑ لیتا ہےتو نماز کی حالت میں گناہ سے کم از کم بچ گیا ہے ، لہٰذا نمازکی حالت میں پائینچے موڑنا ناجائز نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی جامع ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



