بینک ملازم کی آمدنی کاحکم !
abdur rafay پوچھتے ہیں:
سوال
محترم مفتی صاحب !السلام علیکم!
میرے ابو بینک میں نوکری کرتے ہیں، میں اسلامیہ یونیورسٹی بھاولپورمیں بی ایس سی کا طالب علم ہوں ۔کیامیں اپنے والد صاحب کی رقم استعمال کرسکتا ہوں ؟
میراکوئی اور ذریعۂ معاش بھی نہیں ہے ،کیا میں دینی تعلیم حاصل کرسکتا ہوں؟ جبکہ میرے والدین اس کوپسند نہیں کرتے ؟
جزاک اللہ
سائل : عبدالرافع
جواب
صورت مسؤلہ میں بینک ایک سودی ادارہ ہے اورسود کی آ مدنی سے ملازم کو تنخواہ دی جاتی ہے جو ناجائز ہے اس لیے اس آمدنی کا استعمال سائل کے لیے جائز نہیں۔بقدر ضرورت علم دین کا حصول ہر مسلمان پرفرض ہے بحیثیت مسلمان والدین کو اس پر خوش ہونا چاہیے کہ بچہ علم دین حاصل کرنے میں شوق ورغبت رکھ رہاہے،سائل علم دین حاصل کرنے میں لگ سکتاہے بلکہ بہتر ہے۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی جامع ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



