بیوہ کے عقدِ ثانی کرلینے سے ترکہ کا حصہ ختم نہیں ہوتا !
Yousuf پوچھتے ہیں:
سوال
محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم
! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں ضیاء محمد خان نامی ایک شخص فوت ہوگیا۔
اس نے پیچھے 2بیویاں چھوڑیں ۔ان دو بیویوں میں سے ایک نے بعد میں دوسری شادی کرلی۔لیکن اس عورت نے تین ماہ بعد اس سے طلاق لےلی۔ اب وہ اپنے سابق شوہر کے گھر اپنے بچوں کے ساتھ رہائش پزیر ہے۔ اب سوال یہ ہیکہ یہ عورت بعد از نکاح ثانی مندرجہ ذیل باتوں کا شرعی حق رکھتی ہے؟
1فوت شدہ پہلے خاوند کی آمدنی میں اس کا حق ہے؟
2۔فوت شدہ خاوندایک سرکاری ملازم تھا اس کے آئندہ آنے والے فندس میں اس عورت کا کوئی حق ہے؟
3۔اپنے خاوند کی جو پنشن حاصل کر رہی تھی اس پے اب کیا اس کا کوئی حق ہے؟
4۔ کیا فوت شدہ خاوند کے گھر پہ اسکا کوئی حق ہے جہاں وہ بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہے؟
والسلام
ملک فدا محمد خان
جواب
صورت مسئولہ میں چونکہ مرحوم نے دو بیوہ اور دو اولاد کو چھوڑا ہے اس لیے دونوں بیوہ کو مرحوم کے کل ترکہ میں آٹھواں حصہ ملے گا جو دونوں آپس میں آدھے آدھے کی بنیاد پر تقسیم کریں گے۔ اس طرح ہر ایک کو سوالہواں حصہ ملے گا۔کسی بیوہ کے شادی کرنے سے اس کاحصہ میراث میں سے ختم نہیں ہوگا۔1۔ مرحوم نے کاروبار چھوڑا ہے یا دیگر ترکہ سے آمدنی آرہی ہے جو مندرجہ بالا طریقہ کے مطابق بیوہ کا حصہ ملے اور لینے کی حقدار ہے۔
2۔سروس فنڈمیں یہی اصول جاری ہوگا۔
3۔ پینشن تنخواہ کا حصہ نہیں عطیہ ہے ،ادارہ جس کو دے وہ حقدار ہے ،ہاں حکومتِ وقت کے قانون کے مطابق بیوہ شادی کرلینے کے بعد پینشن کا استحقاق نہیں رکھتی۔
4۔ بقد روراثت حقدار ہے اور رہائش اختیار کرسکتی ہے۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



