زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰۱۰ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

عبرانی و فارسی زبانوں کے نام رکھنے کا حکم !

nomansultan پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
عبرانی اور فارسی نام بچوں کے رکھنا صحیح ہے یا نہیں ؟
اور لڑکوں کے نام احسن ،آیان ،عیلیہ،عفان ،اذہان
لڑکیوں کے نام سے وریشہ ،ورشہ ،ام ہنی،عینہ کیا اوپر دئیے گئے نام  رکھنا صحیح ہے ان کے معانی کیا ہیں اور سب میں بہتر نام کون ساہے ؟

جزاک اللہ

سائل : نعمان سلطان

جواب

صورت مسئولہ میں ایسے نام رکھے جائیں جوعربی کے ہوں اور اچھا معنیٰ رکھتے ہوں ،اگر عبرانی یافارسی زبان کے نا م رکھے جائیں تو ایسی صورت میں جائز ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس کے معنی اچھے ہوں۔
احسن بمعنیٰ بہت اچھا،بہت نیک ، بہت خوبصورت
آیان ، یہ لفظ " ا یّان " ہے ،آیان نہیں بمعنی "کب" اس کو بطور نام رکھنا صحیح نہیں ہے ،بلکہ نام ہی نہیں بنے گا۔
عیلیہ بمعنی درویشی۔ عفان بمعنی بہت معاف کرنے والا۔ اذہان،ذہن کی جمع ہے بمعنی عقل،سمجھ،ادراک ، یہ بھی نام نہیں ہے۔
وریشہ بمعنیٰ چست وچالاک لڑکی۔ ام ہانی بمعنی ٰ خادم ۔ عینہ بمعنیٰ اچھی آنکھوں والی ،ان سب میں بہتر نام احسن ہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں