نقدونظر !
تبصرے کے لیے ہر کتاب کے دونسخوں کا آنا ضروری ہے
(ادارہ)
جیساکہ نام سے ظاہر ہے، یہ کتاب بطل حریت ، نامور دینی راہ نما اور کامیاب سیاست دان حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی قدس سرہ کی دینی، علمی شخصیت، ان کی حیات وکارناموں اور مذہبی وسیاسی خدمات پر مشتمل تحقیقی دستاویز ہے، کتاب پر متعدد اہل علم اور اکابر کی تقاریظ ہیں۔
کتاب کو پانچ حصوں اور سولہ ابواب پر تقسیم کیا گیا ہے، چنانچہ مولف موصوف نے کتاب کے مضامین کا اجمالی تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے:
”زیر نظر کتاب پانچ بڑے حصوں اور سولہ ابواب پر مشتمل ہے، تعارف کے بعد پہلے حصہ میں مولانا غلام غوث ہزاروی کا خاندانی پس منظر، جائے پیدائش، ابتدائی تعلیم، ابتدائی سماجی ومذہبی خدمات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ دوسرے حصہ میں مولانا ہزاروی کی سیاسی زندگی ۱۹۱۹ء تا ۱۹۴۷ء کا بیان ہے ۔ تیسرا حصہ ۱۹۴۷ء تا ۱۹۸۱ء پر محیط ہے ۔ چوتھے حصے میں مولانا کی اپنی خدمات اور عقائد باطلہ کے خلاف جہاد کو واضح کیا گیا ہے ۔ پانچویں حصہ میں مولانا کے افکار وخیالات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ پانچویں حصے کے بعد حرف آخر اور اس کے خاتمہ پر کتابیات ترتیب دی گئی ہیں، جبکہ کتاب کے ٹائٹل آخر میں بعض ضروری ضمیمہ جات ہیں،،۔ (ص:۲۰)
قطع نظر اس کے کہ آخر میں جمعیت کے دو بڑے اکابر حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی اور حضرت مولانا مفتی محمود میں سیاسی اور فکری اختلاف ہوگیا تھا اور لوگوں نے اس کو خوب ہوادی، بہرحال مولانا ہزاروی اپنی جگہ اکابر کی نشانی اور ان کی فکر وتحقیق کی یادگار تھے اور مولانا کا خلوص واخلاص مسلم تھا اور ان کا ہر قول وفعل ذاتی اغراض سے ماورا تھا، اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس کی جاتی تھی کہ مولانا کی حیات وخدمات پر جیساکچھ کام ہونا چاہئے تھا، نہیں ہوا، تاہم مقام شکر ہے کہ پیش نظر کتاب میں حضرت مرحوم کی شخصیت کے اوجھل گوشوں کو منظر عام پر لانے کی اچھی کوشش کی گئی ہے۔
عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور یہ عقیدہ قرآن ،حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے، جو اس کا انکار کرے وہ نہ صرف کافر ومرتد اور زندیق ہے بلکہ تعلیمات نبوی کے اعتبار سے واجب القتل ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کے اثبات اور ثبوت کے لئے اکابرین امت نے ہر دور میں مختلف انداز میں مختصر ومطول کتب تحریر فرماکر اپنا نام ناموس رسالت کے محافظین میں لکھوایا۔
بلاشبہ جس قدر یہ بنیادی اور اہم عقیدہ ہے ،اسی مناسبت سے اکابر امت نے اس موضوع پر زیادہ توجہ فرمائی ہے۔
پیش نظر کتاب بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے، جس میں مصنف موصوف نے ایک نئے اور اچھوتے انداز میں عقیدہ ختم نبوت کو قرآن کریم کی مختلف آیات اور سورتوں سے ثابت کرکے ایک لاجواب خدمت انجام دی ہے۔
اس کتاب کا انداز دوسری کتابوں سے کسی قدر انوکھا اور اچھوتا ہے، چنانچہ مصنف موصوف نے پورے قرآن پر غور وفکر کرکے ایسی تمام آیات کو جمع کردیا ہے، جس سے کسی بھی انداز سے ختم نبوت کا مسئلہ ثابت ہوسکتا تھا ۔ پوری کتاب میں موجود آیات اور سور کے مضامین کو اس مختصر تبصرہ میں نہیں سمویا جاسکتا ہے تاہم ان میں سے چند ایک مثالیں پیش کرکے اس کتاب کے انداز اور ختم نبوت پر طرز استدلال کو واضح کیا جاتا ہے، لیجئے! اس سلسلہ کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
۱:…سورہ تکویر کی آیت ”وما ہو علی الغیب بضنین… اور وہ (رسول اکرم ا ) غیب کی باتوں پر بخیل نہیں ہے… سے واضح ہوا کہ اللہ کے نبی حضرت محمد غیب پر بخیل نہیں، یعنی اللہ کی طرف سے آپ کو جو وحی کی جاتی ہے آپ اس کو پہنچا دیتے ہیں، اگر آپ کو آنے والے کسی نئے نبی کا پتہ ہوتا تو آپ ا امت کو اس کی ضرور اطلاع دیتے، لہذا آپ کا کسی نئے نبی کی اطلاع نہ دینا دلیل ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
۲:…اسی طرح اسی سورة میں ”فاین تذہبون،، … پس تم کہاں چلے جارہے ہو… سے بھی آپ کی ختم نبوت کا ثبوت ملتا ہے، اس لئے کہ نبی اکرم ا اللہ کے آخری نبی ہیں، جب ہی تو انسانیت کو کسی دوسری جانب جانے سے منع کیا گیا ہے۔
۳:…سورہ تکویر سے ختم نبوت کی تیسری دلیل کا ثبوت یوں پیش کیا گیا ہے کہ ”ان ہو الا ذکر للعالمین لمن شاء منکم ان یستقیم،، … یہ تو جہاں بھر کے لئے نصیحت ہی نصیحت ہے، اس کے لئے جو تم میں سے سیدھا چلنا چاہے۔ اس سے ختم نبوت کی دلیل کی وضاحت کرتے ہوئے یوں استدلال کیا گیا ہے کہ: قرآن ساری انسانیت کے لئے ہی نہیں، عالمین کے لئے نصیحت ہے، لیکن فائدہ وہی حاصل کرے گا جو استقامت کے ساتھ اس دین پر قائم رہے گا، اس استقامت کی ضرورت ہے کسی اور نبی کی حاجت نہیں وغیرہ ۔ الغرض اس کتاب میں قرآن مجید کی مختلف سورتوں اور آیات سے ختم نبوت کے دلائل کو جدید انداز سے جمع کیا گیا ہے۔ نیز سیرت نبوی، آیات اور احادیث سے اپنے موقف کو خوب خوب مبرہن کیا گیاہے۔ اس کے علاوہ جگہ جگہ حضرت نانوتوی کی کتاب تحذیر الناس سے استفادہ کرکے مسئلہ ختم نبوت کو مبرہن کیا گیا ہے اور مرزا قادیانی کیا، تمام مدعیان نبوت کے کفر کو قرآن، حدیث، اجماع امت اور اکابرین کی کتب کی روشنی میں آشکارا کیا گیا ہے ۔ الغرض کتاب خاصی دل چسپ اور لائق مطالعہ ہے۔
حضرت مولانا عبد المعبود کی شخصیت اور ان کے علمی شہ پارے اہل علم کے لئے کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔
پیش نظر کتاب بھی ان کے قلم کی زکوٰة ہے جس میں موصوف نے قربانی کے موضوع پر داد تحسین دی ہے، چنانچہ کتاب کا تعارف خود اس کے ٹائٹل میں یوں موجود ہے:
”قربانی کی تاریخی وشرعی حیثیت، ایام قربانی، احکام قربانی اور ذبح کے جدید آلات، قرآن وحدیث ، آثار صحابہ اور جمہور فقہاء کرام کے زرین اقوال کی روشنی میں محققانہ، منصفانہ مفصل ومدلل بحث ،،۔
کتاب پر مشہور صاحب قلم جناب مولانا عبد القیوم حقانی کا پیش لفظ اس کے تعارف پر مشتمل ہے، الغرض کتاب ہراعتبار سے جاذب نظر ہے، امید ہے اہل ذوق اس کی پذیرائی میں مسابقت سے کام لیں گے۔
صحیح بخاری کو اللہ تعالیٰ نے صحاح ستہ میں جو مقام عطا فرمایا ہے وہ اہل علم سے مخفی نہیں ہے، اسی طرح دورہ حدیث کے سال صحیح بخاری کی اختتامی تقریب کی اہمیت سے بھی ہر خاص وعام آشنا ہے، چنانچہ اس کی اسی اہمیت کی خاطر صحیح بخاری کی اختتامی تقریبات پر صحیح بخاری کی آخری حدیث پڑھانے اور اس کا آخری درس دینے کے لئے اکابر کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔
پیش نظر کتاب بھی اس سلسلہ کے صحیح بخاری کے آخری درس یا آخری حدیث کی علمی تحقیقات پر مشتمل ایک گوہر گراں مایہ ہے جو در اصل دار العلم لندن یو کے۔ کے جواں سال شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی عمر فاروق موہادوی دامت برکاتہم کی فن حدیث اور علم وتحقیق پر گہری نظر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
کتاب کیا ہے، نہایت ہی گراں مایہ جواہر وموتیوں کی مالا ہے، کتاب پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ماشاء اللہ حضرت مفتی صاحب باوجود جواں عمری کے علم وتحقیق کے بحر ذخار کے خوب خوب شناور ہیں۔
چنانچہ اس کتاب کے شروع میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کی تقریظ اور ان کا خراج تحسین اس کی اہمیت وعظمت پر بجائے خود دلیل ہے۔کتاب دراصل حضرت مفتی صاحب کے مختلف مقامات اور اوقات میں دیئے گئے دروس کا مجموعہ ہے، جن میں سے مکررات کے حذف کے بعدمتفرق اوقات میں کی گئی تقاریر میں سے اہم عنوانات کو یکجا کرکے اسے مرتب انداز سے جوڑا گیا ہے کہ وہ مسلسل تقریر محسوس ہوتی ہے ۔ اور یہ خدمت مولانا الیاس موہاروی دامت برکاتہم استاذ حدیث جامعہ تعلیم الدین ڈھابیل سملک گجرات انڈیا نے نہایت سلیقہ سے انجام دی ہے۔الغرض کتاب ہر اعتبار سے لائق قدر اور باعث مطالعہ ہے۔خدا تعالیٰ مرتب اور ناشرین کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور حضرت مفتی صاحب کے علوم کی اشاعت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
جیساکہ نام سے ظاہر ہے، یہ کتاب بچوں کے حقوق واحکام پر مشتمل ایک خالص فقہی دستاویز ہے، جس میں پیدائش سے بالغ ہونے تک بچوں کی زندگی میں پیش آنے والے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے، اسی طرح عبادات، معاملات اور دوسرے ابواب میں نابالغوں سے متعلق احکام اور حقوق میں ایک جامع کتاب ہے جو آسان اور عام فہم زبان میں مستند حوالوں سے مرتب کی گئی ہے۔
چنانچہ کتاب ہذا نومولود سے متعلق چند بنیادی حقوق واحکام، نام، ختنہ، عقیقہ، ایمان، پاکی، ناپاکی، جنازہ، تدفین، زکوٰة، نابالغ اور صدقہ فطر ، حج، نکاح، روزہ، اولیاء وسرپرستان، کفائت، وکالت نکاح، مہر، طلاق، ایلاء، خلع، ظہار، لعان، عنین ومجبوب، تفریق بوجہ ارتداد، عدت، اسلامی سزائیں اور زنا، شراب نوشی، قذف، تعزیر، چوری، جہاد، لاوارث (لقیط) لقطہ، گرا پڑا سامان، وقف، خرید وفروخت کے احکام، قضاء وافتاء، گواہی، قسم، اقرار، ودیعت، عاریت، ہبہ، اکراہ (زبردستی) اجارہ، حجر اختیارات کے استعمال پر پابندی، ماذون (معاملات میں اجازت یا فقدان، علامات بلوغ، ذبح، قربانی، حلال وحرام (متفرقات) شکار، جنابت، وصیت، وراثت، بچوں کے حقوق اور نسب وغیرہ، حق رضاعت، پرورش، حق نفقہ اور تعلیم وتربیت کی ذمہ داری وغیرہ عنوانات اور بہت عمدہ ابحاث پر مشتمل ہے، الغرض کتاب اپنے موضوع پر کامل ومکمل علمی اور تحقیقی دستاویز ہے۔
(ادارہ)
مولانا غلام غوث ہزاروی، مذہبی وسیاسی خدمات ایک تحقیقی دستاویز:
جناب سہیل احمد اعوان، صفحات: ۴۳۷، قیمت: ۳۵۰ روپے، پتہ: مکتبہ جمال تیسری منزل، حسن مارکیٹ اردو بازار، لاہور۔جیساکہ نام سے ظاہر ہے، یہ کتاب بطل حریت ، نامور دینی راہ نما اور کامیاب سیاست دان حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی قدس سرہ کی دینی، علمی شخصیت، ان کی حیات وکارناموں اور مذہبی وسیاسی خدمات پر مشتمل تحقیقی دستاویز ہے، کتاب پر متعدد اہل علم اور اکابر کی تقاریظ ہیں۔
کتاب کو پانچ حصوں اور سولہ ابواب پر تقسیم کیا گیا ہے، چنانچہ مولف موصوف نے کتاب کے مضامین کا اجمالی تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے:
”زیر نظر کتاب پانچ بڑے حصوں اور سولہ ابواب پر مشتمل ہے، تعارف کے بعد پہلے حصہ میں مولانا غلام غوث ہزاروی کا خاندانی پس منظر، جائے پیدائش، ابتدائی تعلیم، ابتدائی سماجی ومذہبی خدمات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ دوسرے حصہ میں مولانا ہزاروی کی سیاسی زندگی ۱۹۱۹ء تا ۱۹۴۷ء کا بیان ہے ۔ تیسرا حصہ ۱۹۴۷ء تا ۱۹۸۱ء پر محیط ہے ۔ چوتھے حصے میں مولانا کی اپنی خدمات اور عقائد باطلہ کے خلاف جہاد کو واضح کیا گیا ہے ۔ پانچویں حصہ میں مولانا کے افکار وخیالات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ پانچویں حصے کے بعد حرف آخر اور اس کے خاتمہ پر کتابیات ترتیب دی گئی ہیں، جبکہ کتاب کے ٹائٹل آخر میں بعض ضروری ضمیمہ جات ہیں،،۔ (ص:۲۰)
قطع نظر اس کے کہ آخر میں جمعیت کے دو بڑے اکابر حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی اور حضرت مولانا مفتی محمود میں سیاسی اور فکری اختلاف ہوگیا تھا اور لوگوں نے اس کو خوب ہوادی، بہرحال مولانا ہزاروی اپنی جگہ اکابر کی نشانی اور ان کی فکر وتحقیق کی یادگار تھے اور مولانا کا خلوص واخلاص مسلم تھا اور ان کا ہر قول وفعل ذاتی اغراض سے ماورا تھا، اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس کی جاتی تھی کہ مولانا کی حیات وخدمات پر جیساکچھ کام ہونا چاہئے تھا، نہیں ہوا، تاہم مقام شکر ہے کہ پیش نظر کتاب میں حضرت مرحوم کی شخصیت کے اوجھل گوشوں کو منظر عام پر لانے کی اچھی کوشش کی گئی ہے۔
آیات ختم نبوت
مولانا محمد سیف الرحمن قاسم، فاضل مدرسہ نصرة العلوم گوجرانوالہ وجامعہ مکہ مکرمہ۔ صفحات: ۹۱۲، قیمت: درج نہیں، پتہ:جامعة الطیبات للبنات الصالحات گلی نمبر۴ محلہ کنوا گڑھ کالج روڈ گوجرانوالہ۔عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور یہ عقیدہ قرآن ،حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے، جو اس کا انکار کرے وہ نہ صرف کافر ومرتد اور زندیق ہے بلکہ تعلیمات نبوی کے اعتبار سے واجب القتل ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کے اثبات اور ثبوت کے لئے اکابرین امت نے ہر دور میں مختلف انداز میں مختصر ومطول کتب تحریر فرماکر اپنا نام ناموس رسالت کے محافظین میں لکھوایا۔
بلاشبہ جس قدر یہ بنیادی اور اہم عقیدہ ہے ،اسی مناسبت سے اکابر امت نے اس موضوع پر زیادہ توجہ فرمائی ہے۔
پیش نظر کتاب بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے، جس میں مصنف موصوف نے ایک نئے اور اچھوتے انداز میں عقیدہ ختم نبوت کو قرآن کریم کی مختلف آیات اور سورتوں سے ثابت کرکے ایک لاجواب خدمت انجام دی ہے۔
اس کتاب کا انداز دوسری کتابوں سے کسی قدر انوکھا اور اچھوتا ہے، چنانچہ مصنف موصوف نے پورے قرآن پر غور وفکر کرکے ایسی تمام آیات کو جمع کردیا ہے، جس سے کسی بھی انداز سے ختم نبوت کا مسئلہ ثابت ہوسکتا تھا ۔ پوری کتاب میں موجود آیات اور سور کے مضامین کو اس مختصر تبصرہ میں نہیں سمویا جاسکتا ہے تاہم ان میں سے چند ایک مثالیں پیش کرکے اس کتاب کے انداز اور ختم نبوت پر طرز استدلال کو واضح کیا جاتا ہے، لیجئے! اس سلسلہ کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
۱:…سورہ تکویر کی آیت ”وما ہو علی الغیب بضنین… اور وہ (رسول اکرم ا ) غیب کی باتوں پر بخیل نہیں ہے… سے واضح ہوا کہ اللہ کے نبی حضرت محمد غیب پر بخیل نہیں، یعنی اللہ کی طرف سے آپ کو جو وحی کی جاتی ہے آپ اس کو پہنچا دیتے ہیں، اگر آپ کو آنے والے کسی نئے نبی کا پتہ ہوتا تو آپ ا امت کو اس کی ضرور اطلاع دیتے، لہذا آپ کا کسی نئے نبی کی اطلاع نہ دینا دلیل ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
۲:…اسی طرح اسی سورة میں ”فاین تذہبون،، … پس تم کہاں چلے جارہے ہو… سے بھی آپ کی ختم نبوت کا ثبوت ملتا ہے، اس لئے کہ نبی اکرم ا اللہ کے آخری نبی ہیں، جب ہی تو انسانیت کو کسی دوسری جانب جانے سے منع کیا گیا ہے۔
۳:…سورہ تکویر سے ختم نبوت کی تیسری دلیل کا ثبوت یوں پیش کیا گیا ہے کہ ”ان ہو الا ذکر للعالمین لمن شاء منکم ان یستقیم،، … یہ تو جہاں بھر کے لئے نصیحت ہی نصیحت ہے، اس کے لئے جو تم میں سے سیدھا چلنا چاہے۔ اس سے ختم نبوت کی دلیل کی وضاحت کرتے ہوئے یوں استدلال کیا گیا ہے کہ: قرآن ساری انسانیت کے لئے ہی نہیں، عالمین کے لئے نصیحت ہے، لیکن فائدہ وہی حاصل کرے گا جو استقامت کے ساتھ اس دین پر قائم رہے گا، اس استقامت کی ضرورت ہے کسی اور نبی کی حاجت نہیں وغیرہ ۔ الغرض اس کتاب میں قرآن مجید کی مختلف سورتوں اور آیات سے ختم نبوت کے دلائل کو جدید انداز سے جمع کیا گیا ہے۔ نیز سیرت نبوی، آیات اور احادیث سے اپنے موقف کو خوب خوب مبرہن کیا گیاہے۔ اس کے علاوہ جگہ جگہ حضرت نانوتوی کی کتاب تحذیر الناس سے استفادہ کرکے مسئلہ ختم نبوت کو مبرہن کیا گیا ہے اور مرزا قادیانی کیا، تمام مدعیان نبوت کے کفر کو قرآن، حدیث، اجماع امت اور اکابرین کی کتب کی روشنی میں آشکارا کیا گیا ہے ۔ الغرض کتاب خاصی دل چسپ اور لائق مطالعہ ہے۔
مسائل قربانی
مولانا عبد المعبود، صفحات ۲۳۰، قیمت: درج نہیں، پتہ: القاسم اکیڈمی جامعہ ابو ہریرہ برانچ پوسٹ آفس خالق آباد ضلع نوشہرہ۔حضرت مولانا عبد المعبود کی شخصیت اور ان کے علمی شہ پارے اہل علم کے لئے کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔
پیش نظر کتاب بھی ان کے قلم کی زکوٰة ہے جس میں موصوف نے قربانی کے موضوع پر داد تحسین دی ہے، چنانچہ کتاب کا تعارف خود اس کے ٹائٹل میں یوں موجود ہے:
”قربانی کی تاریخی وشرعی حیثیت، ایام قربانی، احکام قربانی اور ذبح کے جدید آلات، قرآن وحدیث ، آثار صحابہ اور جمہور فقہاء کرام کے زرین اقوال کی روشنی میں محققانہ، منصفانہ مفصل ومدلل بحث ،،۔
کتاب پر مشہور صاحب قلم جناب مولانا عبد القیوم حقانی کا پیش لفظ اس کے تعارف پر مشتمل ہے، الغرض کتاب ہراعتبار سے جاذب نظر ہے، امید ہے اہل ذوق اس کی پذیرائی میں مسابقت سے کام لیں گے۔
صحیح بخاری شریف کا آخری درس:
افادات: حضرت مولانا مفتی عمر فاروق دامت برکاتہم، شیخ الحدیث دار العلوم لندن، یوکے، صفحات:۱۲۳، قیمت: درج نہیں، پتہ: جامعہ ابو ہریرہ شیخ اجمیری پارک کوسبھا افلح گجرات، انڈیا۔صحیح بخاری کو اللہ تعالیٰ نے صحاح ستہ میں جو مقام عطا فرمایا ہے وہ اہل علم سے مخفی نہیں ہے، اسی طرح دورہ حدیث کے سال صحیح بخاری کی اختتامی تقریب کی اہمیت سے بھی ہر خاص وعام آشنا ہے، چنانچہ اس کی اسی اہمیت کی خاطر صحیح بخاری کی اختتامی تقریبات پر صحیح بخاری کی آخری حدیث پڑھانے اور اس کا آخری درس دینے کے لئے اکابر کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔
پیش نظر کتاب بھی اس سلسلہ کے صحیح بخاری کے آخری درس یا آخری حدیث کی علمی تحقیقات پر مشتمل ایک گوہر گراں مایہ ہے جو در اصل دار العلم لندن یو کے۔ کے جواں سال شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی عمر فاروق موہادوی دامت برکاتہم کی فن حدیث اور علم وتحقیق پر گہری نظر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
کتاب کیا ہے، نہایت ہی گراں مایہ جواہر وموتیوں کی مالا ہے، کتاب پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ماشاء اللہ حضرت مفتی صاحب باوجود جواں عمری کے علم وتحقیق کے بحر ذخار کے خوب خوب شناور ہیں۔
چنانچہ اس کتاب کے شروع میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کی تقریظ اور ان کا خراج تحسین اس کی اہمیت وعظمت پر بجائے خود دلیل ہے۔کتاب دراصل حضرت مفتی صاحب کے مختلف مقامات اور اوقات میں دیئے گئے دروس کا مجموعہ ہے، جن میں سے مکررات کے حذف کے بعدمتفرق اوقات میں کی گئی تقاریر میں سے اہم عنوانات کو یکجا کرکے اسے مرتب انداز سے جوڑا گیا ہے کہ وہ مسلسل تقریر محسوس ہوتی ہے ۔ اور یہ خدمت مولانا الیاس موہاروی دامت برکاتہم استاذ حدیث جامعہ تعلیم الدین ڈھابیل سملک گجرات انڈیا نے نہایت سلیقہ سے انجام دی ہے۔الغرض کتاب ہر اعتبار سے لائق قدر اور باعث مطالعہ ہے۔خدا تعالیٰ مرتب اور ناشرین کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور حضرت مفتی صاحب کے علوم کی اشاعت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
بچے۔حقوق واحکام:
مولانا محمد نعمت اللہ قاسمی، صفحات: ۳۹۶، قیمت: ۲۰۰ روپے پتہ: زمزم پبلشرز، شاہ زیب سینٹر نزد مقدس مسجد اردو بازار کراچی۔جیساکہ نام سے ظاہر ہے، یہ کتاب بچوں کے حقوق واحکام پر مشتمل ایک خالص فقہی دستاویز ہے، جس میں پیدائش سے بالغ ہونے تک بچوں کی زندگی میں پیش آنے والے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے، اسی طرح عبادات، معاملات اور دوسرے ابواب میں نابالغوں سے متعلق احکام اور حقوق میں ایک جامع کتاب ہے جو آسان اور عام فہم زبان میں مستند حوالوں سے مرتب کی گئی ہے۔
چنانچہ کتاب ہذا نومولود سے متعلق چند بنیادی حقوق واحکام، نام، ختنہ، عقیقہ، ایمان، پاکی، ناپاکی، جنازہ، تدفین، زکوٰة، نابالغ اور صدقہ فطر ، حج، نکاح، روزہ، اولیاء وسرپرستان، کفائت، وکالت نکاح، مہر، طلاق، ایلاء، خلع، ظہار، لعان، عنین ومجبوب، تفریق بوجہ ارتداد، عدت، اسلامی سزائیں اور زنا، شراب نوشی، قذف، تعزیر، چوری، جہاد، لاوارث (لقیط) لقطہ، گرا پڑا سامان، وقف، خرید وفروخت کے احکام، قضاء وافتاء، گواہی، قسم، اقرار، ودیعت، عاریت، ہبہ، اکراہ (زبردستی) اجارہ، حجر اختیارات کے استعمال پر پابندی، ماذون (معاملات میں اجازت یا فقدان، علامات بلوغ، ذبح، قربانی، حلال وحرام (متفرقات) شکار، جنابت، وصیت، وراثت، بچوں کے حقوق اور نسب وغیرہ، حق رضاعت، پرورش، حق نفقہ اور تعلیم وتربیت کی ذمہ داری وغیرہ عنوانات اور بہت عمدہ ابحاث پر مشتمل ہے، الغرض کتاب اپنے موضوع پر کامل ومکمل علمی اور تحقیقی دستاویز ہے۔



